Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پونے تین سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے، ڈاکٹر فارو ق ستار


پونے تین سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے، ڈاکٹر فارو ق ستار
 Posted on: 6/19/2016
پونے تین سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے، ڈاکٹر فارو ق ستار 
19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف پہلا باقاعدہ ریاستی آپریشن ،جبر اور تشدد کا سلسلہ شروع ہواتھا ، ڈاکٹر فاروق ستار 
کل جب باہمی اتحاد سے رینجرز کے اختیارات واپس لئے جائیں گے توکیا سندھ پولیس اس کیلئے تیار ہے ،اس پر کوئی کام نہیں کررہا ہے ، کپتان بھی سو رہے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں 19جون 1992ء کے شہداء کی 24ویں برسی کے موقع پر منعقدہ قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کے اجتماع کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ 
کراچی ۔۔۔19، جون 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہا ہے کہ 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف پہلا باقاعدہ ریاستی آپریشن ،جبر اور تشدد کا سلسلہ شروع ہواتھا اور اس کا مقصد ایم کیوایم کو تقسیم کرنا ، کمزور کرنا اور دیوار سے لگانا تھا ، اس مقصد کیلئے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، جھوٹے مقدمات بنائے گئے ، 19جون کے بعد ہزاروں کارکنوں کوحقیقی دہشت گردوں اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے قتل کیا ۔انہوں نے کہاکہ پونے تین سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینے کیلئے ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے ۔ انہو ں نے کہاکہ کراچی آپریشن کو پونے تین سال ہوگئے ہیں اتنے عرصے کے بعد ہمارا بھی یہ سوال ہے کہ مطلوب سے مطلوب اور غیر مطلوب سے مطلوب کیسے ہوجاتے ہیں ۔انہو ں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جناب الطاف حسین اور ان کے نظریاتی ساتھی ہی اصلی ہیں باقی سب نقلی ہیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کو لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں 19جون 1992ء کے شہداء کی 24ویں برسی کے موقع پر منعقدہ قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کے اجتماع کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین امین الحق ، محفوظ یار خان ، زاہد منصوری ، محمدکمال ملک بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ 19جون 92ء میں بھی ایم کیوایم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی اور ایم کیوایم سے ہی نکالے گئے افراد کواصلی اور جناب الطاف حسین کو نقلی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وقت آج بھی ثابت کررہا ہے کہ جناب الطاف حسین اور ان کے نظریاتی ساتھی ہی اصلی ہیں اور باقی سب نقلی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2016ء میں بھی اصلی اور نقلی کا ڈرامہ رچایاجارہا ہے اور یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ الطاف حسین اور ان کے کارکنان و حامی سب نقلی ہیں اور ضمیر فروشوں اور منحرفین کا ٹولہ اصلی ہے ۔ ، ان تمام تر الزامات ، دعوؤں ، میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈے کے باوجود جب انتخابات ہوتے ہیں اور عوام کی رائے لی جاتی ہے تو بیلٹ میں سے صرف پتنگ اور پتنگ کے ہی ووٹ نکلتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جو لوگ آج بھی ایم کیوایم کو تقسیم کرنے کے تجربے کررہے ہیں انہیں اب دل سے الطاف حسین اور ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو تسلیم کرلینا چاہئے اور مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرکے اور سارے بگاڑ کا ذمہ دار ہمیں ٹہرا کر لوگوں کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونکی جاسکتی اور نہ ہی الطاف حسین سے گمراہ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اور سندھ کے شہری اتحاد اور یکجہتی کو کسی طور توڑا نہیں جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ این اے 246 این اے 245کے ضمنی الیکشن ، بلدیاتی انتخابات اور حالیہ ضمنی انتخابات برائے 106اور 117میں کامیابی الطاف حسین کے ہی امیدواروں کو ہورہی ہے اور ہر بار دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے لیکن کیاجائے کہ کچھ ایسی سوچ پاکستان میں موجود ہے جو آج بھی 19جون 1992ء کے ہمارے زخموں کو بھرنے نہیں دیتی ، ہمارے زخموں کو کھرچ کھرچ کر تازہ رکھاجاتا ہے ، ان پر نمک پاشی کی جارہی ہے اور ہمارا ہی کثرت کے ساتھ میڈیا ٹرائل اور پروپیگنڈا کیاجاتا ہے اور ہماری ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اسی وجہ سے ہماری قومی پرواز میں رکاوٹ آتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم بڑی اور قومی سطح کی جماعت شاید اسی طرز عمل کی وجہ سے نہیں بن سکے ہیں ، 19جون پر محلاتی سازشوں کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور ہمارے زخم ہرے ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 19جون 92ء کے بعد 15ہزار کارکنان شہید کئے جاتے ہیں اور 2013ء کے ریاستی آپریشن میں 2ہزار کارکنان کو شہید کیا گیا جبکہ کراچی آپریشن میں ہمارے تعاون کا یہ عالم ہے کہ پانچ ہزار چھاپوں کے دوران کہیں کوئی ایک جوابی گولی نہیں چلی اور رضاکارانہ طور پر گرفتاریاں دیں ، یہ ہمارا صبر ، ضبط برداشت اور تعاون ہے جو آج بھی جاری ہے لیکن آج بھی 60کے قریب لوگ ماورائے عدالت قتل ہوچکے ہیں اور 130کارکنان جبری لاپتہ ہوں ، لوگوں کی وفاداریاں کو زبردستی تبدیل کرایاجارہا ہو ، جو خیابان سحر میں جانے کیلئے تیار نہیں انہیں وانٹڈبنایاجارہا ہے اور جو ہماری صفوں میں وانٹڈ تھے وہ خیابات سحر میں جانے کے بعد ان وانٹڈ ہوجاتے ہیں اس سے قومی اداروں کی ساکھ داؤ پر لگ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ خالد شمیم،منہاج قاضی ، صولت مرزا اورڈاکٹر عاصم کی جو ویڈیو آرہی ہے اس سے کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا نہ ہی جناب الطاف حسین سے عوام کو گمراہ کیاجاسکے گا اور اس میں نقصان ان کا ہوگا جنہوں نے زبردستی ویڈیو بنائی ہیں ، یہ دوستانہ مشورہ ہے کہ ایسے کاموں سے ہمارے اداروں ، وفاقی حکومت ، آئی بی کو اجتناب کرنا چاہئے ، وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہئے کہ ویڈیو ریکارڈبیان کہاں سے آئے ، کس نے بنائے کیونکہ یہ غیر قانونی اور غیرآئینی قدم ہے جن لوگوں نے یہ اقدام کیا ہے ان کی انکوائری کی جائے اور تادیبی کاروائی کی جائے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ کراچی آپریشن کو پونے تین سال ہوگئے ہیں ، اتنے عرصے کے بعد ہمارا بھی یہ سوال ہے کہ مطلوب سے مطلوب اور غیر مطلوب سے مطلوب کیسے ہوجاتے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ یا کوئی نہ کوئی اس کا جواب تلاش کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی آپریشن کے بعد آل پارٹی کانفرنس میں یہ طے ہوا تھا کہ اس کی اونر شپ عوام کو دی جائے گی تو کیا کوئی کمیونٹی کو شامل کرنے کی کوئی بات ہوئی ، سندھ پولیس کو سیاست سے باہر لانے کی بات جو کی گئی تھی اس پر عمل کیا گیا ، اس پر ٹاک شوز میں بات ہونا چاہئے اور حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کو ان سوالوں کے جواب دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ کل جب باہمی اتحاد سے رینجرز کے اختیارات واپس لئے جائیں گے تو کیا سندھ پولیس اس کیلئے تیار ہے اس کیلئے اس پر کوئی کام نہیں کرہا ہے ، کپتان بھی سو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک اے پی سی ضرور ہونی چاہئے اور پونے سالہ کراچی آپریشن کا جائزہ لینا چاہئے کہ لوگوں میں اس سے محبتیں پیدا ہوئی ہیں یا نفرتیں پیدا ہوئی ہیں۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

9/29/2016 3:24:13 PM