Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

منہاج قاضی کی ویڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد ہے اور توہین عدالت کا کھلا ارتکاب ہے، ڈاکٹر فاروق ستار


منہاج قاضی کی ویڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد ہے اور توہین عدالت کا کھلا ارتکاب ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 6/17/2016
منہاج قاضی کی ویڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد ہے اور توہین عدالت کا کھلا ارتکاب ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
منہاج قاضی کے ریکارڈ شدہ بیان اور اس میں ایم کیوایم پر عائد الزامات کی مذمت ، اس پر شدید احتجاج اور جھوٹے الزامات کو مسترد کرتے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
منہاج قاضی کے مبینہ ریکارڈ شدہ جاری کئے گئے اعترافی بیان میں حکیم محمدسعیدقتل کیس میں جن لوگوں کو نام ظاہر کئے گئے ہیں وہ سب سپریم کورٹ سے بری ہوچکے ہیں، ڈاکٹر فارو ق ستار 
ایم کیوایم کے کارکنان کی باعزت بریت کے بعد حکیم سعید قتل کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے لیکن پھر سے اسی الزام کو ایم کیوایم کے سر پر تھوپنے کا عمل غیر آئینی اورغیر قانونی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
منہاج قاضی کے ویڈیو بیان نما پیغام کے منظر عام پرلائے جانے اور اس میں دوبارہ سے ایم کیوایم کو حکیم سعید قتل میں ملوث کئے جانے کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے، چیف آف آرمی اسٹاف اوروزیراعظم سے ڈاکٹر فاروق ستار کی اپیل 
ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں،وکلاء تنظیمیں، کراچی بار، سندھ ہائی کورٹ بار، پاکستان بار کونسل ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران ایک مرتبہ پھر حکیم سعید قتل کیس میں ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی سازش خلاف آواز احتجاج بلند کریں، ڈاکٹر فاروق ستار 
قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیل کی تردید کرتے ہیں اور یہ بھی عوام کو گمراہ 
کرنے اور ایم کیوایم کے میڈیا ٹرائل کی کڑی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ یار خان ایڈووکیٹ ، سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے ارکان ساتھی اسحاق ، کرم چند اور لیگل ایڈ کمیٹی کے رکن عبد المجید کاروائی کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔17، جون 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے نائن زیرو کے مبینہ سیکورٹی انچارج منہاج قاضی کے ریکارڈ شدہ ویڈیو بیان اور اس میں ایم کیوایم کے کارکنان کو ایک بار پھر حکیم سعید قتل کیس میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کی ہے ، اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے جھوٹے الزامات کو مکمل طو رپر مسترد کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ منہاج قاضی کا مبینہ ریکارڈ شدہ جاری کئے گئے اعترافی بیان میں حکیم محمدسعیدقتل کیس میں جن لوگوں کو نام ظاہر کئے گئے ہیں وہ سب سپریم کورٹ سے بری ہوچکے ہیں ، شاہد حامد کا کیس ہو حکیم سعید قتل کیس ہو انہی پرانے مقدمے کو لیکر ایم کیوایم کے خلاف مختلف طرح سے میڈیا ٹرائل کیاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ منہاج قاضی کی یہ ویڈیو ریکارڈ نگ غالباً اس وقت لی گئی جب وہ رینجرز کی تحویل میں تھے اورظاہر ہے کہ نوے دن کے ریمانڈ پر کوئی بھی شخص ہوگا اس سے ایسا بیان لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے ، جو لوگ یہ کام روایتی طور پرکرتے چلے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکیم سعید قتل کیس میں عامر اللہ مرکزی ملزم تھا اور عامر اللہ سمیت جتنے بھی دیگر ایم کیوایم کے کارکنان تھے وہ باعزت طو رپر سپریم کورٹ کے حکم پر بری ہوچکے ہیں اور بریت کے بعد حکیم سعید قتل کیس میں اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے لیکن پھر سے اسی الزام کو ایم کیوایم کے سر پر تھوپنے کا عمل غیر آئینی اورغیر قانونی ہے ، جو الزامات لگائے گئے وہ بھونڈے ہیں یہ ماضی میں بھی بری طرح سے پٹ گئے اور آئندہ بھی پٹیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ یار خان ایڈووکیٹ ، ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے اراکین کرم چند ، ساتھی اسحاق ایڈووکیٹ اور عبد المجید کاروائی ایڈووکیٹ بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ روز سے ایک مرتبہ پھر ایم کیوایم کے میڈیا ٹرائل کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ، مبینہ طو رپر ایم کیوایم نائن زیرو سیکورٹی انچارج منہاج قاضی کے حوالے سے آج ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں حکیم سعید قتل کیس میں دوبارہ سے ایم کیوایم کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس کیس میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ ایم کیوایم کے تمام کارکنان کا باعزت بری کرچکی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکیم محمد سعید جو کہ ایک معروف تعلیم دان تھے ، علم و آگاہی سے محبت رکھتے تھے ، 1998اکتوبرکے مہینے میں انہیں شہید کیا گیا تھا اور ان کے قتل کا الزام ایم کیوایم پر لگایا گیا تھا ، حکیم سعید قتل کیس میں جتنے لوگ گرفتار ہوئے اللہ کے فضل اکرم وہ سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے باعزت بری ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ1998ء کے حکیم سعید کے اسی قتل کو لیکر پھر ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کیاجارہا ہے ، واضح رہے کہ 98ء میں جب گورنر راج لگا تھا اس وقت بھی اسی کیس کو لیکر ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل ہواتھا اور یہ دوسری مرتبہ ہورہاہے اور جتنی مرتبہ اس مقدمے کی سماعت ہوتی تھی اور گرفتار ہونے والوں کے اعترافی بیانات لے لئے جاتے تھے اور ان پر مقدمات چلائے جاتے تھے بالآخر وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بری ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ منہاج قاضی کا ریکارڈ بیان رینجرز کی تحویل میں لیا گیا اورظاہر ہے کہ نوے دن کے ریمانڈ پر کوئی بھی شخص ہوگا اس سے ایسا بیان لینا کوئی مشکل کام نہیں ہے ، جو لوگ یہ کام روایتی طور پرکرتے چلے آرہے ہیں یہ ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات جب چاہیں جس سے چاہے زور زبردستی ، زیر حراست ، جبر تشدد کے ذریعے اس طرح کا بیان لے لے ۔ انہوں نے کہا کہ منہاج قاضی کا ریکارڈڈ بیان بھی آیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر مقدمات اورالزامات ایم کیوایم کے کارکنان کے ساتھ جوڑے جانے ہیں تو یہ بات واضح رہے کہ 98ء سے 2016ء آگیا اور اس 18سال کے دوران کوئی نیا ہائی پروفائل مرڈر کیس ایسا نہیں ہے کہ جس میں جھوٹا الزام بھی ایم کیوایم کے کار یشن 92ء میں ہوا اور دوسرا گورنر راج کے بعد 98ء میں ہوا اور 2013ء سے یہ تیسر آپریشن ہورہاہے جس میں ایم کیوایم کو دیور سے لگایاجارہا ہے ، کارکنان کو گرفتار کیا گیا ، تشدد کیا گیا ، 60کارکنان کوماورائے عدالت قتل کیا گیا، 130کے قریب اب بھی کارکنان جبری طور پر لاپتہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ 98ء میں بھی ایم کیوایم کو تنہائی کا شکار کرنے کیلئے حکیم سعید کے قتل کا جھوٹا الزام لگایا گیا اور آج پھر ایم کیوایم کو آئسو لیشن میں بھیجنے کیلئے یہ الزام ایک مرتبہ پھر لگایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ زیر حراست ملزم کا میڈیا کیلئے لئے جانے والے اس طرح کے ویڈیو بیان کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہے اگر قانون نافذ کرنے والے دارے اپنے زیر حراست کسی مبینہ ملزم سے ایسا بیان لے تویہ پاکستان کے آئین کی دھجیاں بکھیرنے اور قانون کا مذاق اڑانے اور پاکستان کی عدلیہ کے وجود سے انکار کرنے کے مترادف ہے ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ حکیم سعید قتل کیس پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے ، منہاج قاضی کی ویڈیو ریکارڈنگ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف عدم اعتماد ہے اور توہین عدالت کا کھلا ارتکاب ہے یہ کرنے والے تو اپنی مہم جوئی میں سیانے بن کر اس طرح کی کاروائیاں ڈالتے ہیں اور اپنی دانست میں بڑا باریک کام کرتے ہیں لیکن سارے باریک کام بعد میں انہی کے گلے میں پڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ منہاج قاضی کے ویڈیو بیان ، توہین عدالت کے ارتکاب کا ہی نوٹس نہ لے بلکہ اس سے پہلے بھی دو ویڈیو ایک خالدشمیم اور صولت مرزا کی آچکی ہیں ، صولت مرزا کے ساتھ گھناؤنا کھیل گیا ، اس کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا اسے زندگی کا لالچ دیکر اس کے ماضی کے دو بیانات لیکر تیسر نیا بیان لیا گیا جسے ثابت نے کیلئے ضروری تھا کہ کم از کم صولت مرزا کو اس وقت تک زندہ رکھاجاتا تو سوال یہ ہے کہ صولت مرزا کو پھانسی کیوں دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ منہاج قاضی کے ویڈیو بیان کا مقصد ایم کیوایم کو قومی اوربین الاقوامی سطح پربدنام کرنا ، لوگوں کو ایم کیوایم سے دور کرنا ہے اور ایم کیوایم کو کمزور کرکے کسی اور کیلئے یہاں پر اسپیس خالی کرانا ہے اور انہیں موقع دینا ہے کہ وہ قسمت آزمائی کریں کیونکہ ایم کیوایم کو دیور سے لگا دیاگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے ، تنہا کرنے ، کمزور کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ایم کیوایم کے خلاف یہ تیسری ویڈیوڈ ریکارڈ کرکے ریلیز اس ہی مقصد کیلئے کی گئی ۔ کسی ملزم کی ویڈیو ریکارڈ کرکے جاری کرنا غیر ئینی و غیر قانونی پہلو ہے ،خالد شمیم کے ویڈیو بیان کے بعد چوہدری نثار نے تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن تحقیقات کا آج تک معلوم نہیں ہوا ، تینوں ویڈیو بیانات زیر حراست لئے گئے ہیں تو اس کا جواب وزیراعظم پاکستان ، وفاقی حکومت ، وزیر داخلہ کو دینا ہوگا کہ کس کی اجازت اور حکم پر یہ ویڈیو بنائی گئی کون مجاز اتھارٹی ہے جبکہ یہ غیرآئینی اور غیر قانونی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ٹاک شوز میں ان کے جواب ڈھونڈنے میں امیدہے اینکر پرسنز اور میڈیا ہماری مدد کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ارباب اختیار و اقتدار کی ذمہ درای ہے انہیں ویڈیو بنانے اورجاری کرنے والوں کا تعین کرنا ہوگا اور قانونی چارہ جوئی کرنا ہوگی اور یہ کون لوگ ہیں جو پاکستا ن میں خود کو آئین و قانون سے بالاتر تصور کرتاہے ۔ انہوں نے ملکی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں ،وکلاء تنظیموں، کراچی بار، سندھ ہائی کورٹ بار، پاکستان بار کونسل ، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کو ایک مرتبہ پھر حکیم سعید قتل کیس میں باعزت بری کئے جانے کے باوجود دوبارہ ملوث کرنے کی سازش خلاف آواز احتجاج بلند کریں ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے خصوصی طور پر ایپل کی کہ وہ اس طرح کے عمل کو رکوائیں ، اس سے ریاستی اداروں کی ساکھ داؤ پر لگ رہی ہے ۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ منہاج قاضی کے ویڈیو بیان نما پیغام کے منظر عام پرلائے جانے اور اس میں دوبارہ سے ایم کیوایم کو حکیم سعید قتل میں ملوث کئے جانے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں ، ویڈیو بیان نما پیغاما ت کو منظر عام پر لاکر ایم کیوایم کے میڈیا ٹرائل کا سلسلہ بند کرایاجائے اور اس میں ملوچ ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں آئین وقانون کے مطابق سخت سزا دی جائے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیل کو بھی گمراہ کرنے کی کڑی قرار دیتے ہوئے بینک اکاؤنٹس کی کہانی کی واضح الفاظ میں تردید کی اور اسے بھی ایم کیوایم کے میڈیا ٹرائل کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ، قائد تحریک جناب الطاف حسین اورایم کیوایم کے ایک وقت میں ہمیشہ اتنے ہی بنک اکاؤنٹس رہے ہیں جتنے کسی عام شہری کے ہوتے ہیں ۔ مذکورہ خبر کے حوالے سے ایم کیوایم کے رہنما اپنے وکلاء سے مشاورت کررہے ہیں۔ 

12/9/2016 9:06:27 PM