Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین کے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیااور انہیں اختیارات نہیں دیئے تو پورے کراچی میں دمادم مست قلندر ہوگا، رکن رابطہ کمیٹی عارف خان ایڈووکیٹ


میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین کے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیااور انہیں اختیارات نہیں دیئے تو پورے کراچی میں دمادم مست قلندر ہوگا، رکن رابطہ کمیٹی عارف خان ایڈووکیٹ
 Posted on: 6/16/2016
میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین کے انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیااور انہیں اختیارات نہیں دیئے تو پورے کراچی میں دمادم مست قلندر ہوگا، رکن رابطہ کمیٹی عارف خان ایڈووکیٹ 
الیکشن کمشنر کو فی الفور برطرف کیاجائے ، میئر ، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخابات کے التواء کا نوٹی فکیشن مسترد کرتے ہیں ، نامزد حق پرست میئر وسیم اختر 
میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخابات میں مزید حیل و حجت کی گئی تو تمام حق پرست منتخب بلدیاتی نمائندے پوری دنیا کو خطوط لکھ کر حقائق سے آگاہ کریں گے، نامزد ڈپٹی حق پرست میئر ارشد وہرا 
سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کی بیڈ گورننس کا نوٹس لے اور کاروائی عمل میں لائے ، نامزد چیئرمین ڈسٹرکٹ سینٹرل ریحان ہاشمی 
میئر، ڈپٹی میئر کا انتخابات نہ کرانے والے کراچی میں ترقی و خوشحالی سے اور اپنی سیاسی 
دکانداری بند ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں ، نامز د کونسلر برائے سٹی کونسل محترمہ شاہین شیردین
بلدیاتی نمائندوں کواختیارات سے محروم رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے ، حق پرستی یوسی چیئرپرسن محترمہ عابدہ 
میر ، ڈپٹی میئر ، ڈسٹرکٹ چیئرمین ، وائس چیئرمین کے انتخابات کے التواء کے خلاف الیکشن کمیشن کراچی کے دفتر کے سامنے منعقدہ 
پرامن احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب
کراچی ۔۔۔16، جون 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن عار ف خان ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین کے انتخابات کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیااور انہیں اختیارات نہیں دیئے تو پورے کراچی میں دھما دم مست قلندر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میئر ، ڈپٹی میئر اور ڈسٹرکٹ چیئرمین کے انتخابات کے غیر قانونی التواء پر سوموٹو ایکشن لے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بلدیاتی نمائندوں سے حلف لیکر اسے کینسل کیا گیا ، اب اس روایت کو دہرانا بند کیاجائے ورنہ اس احتجاج کا دئراہ وسیع کردیاجائے گا۔ان خیالات کااظہار نہوں نے جمعرات کے روز میر ، ڈپٹی میئر ، ڈسٹرکٹ چیئرمین ، وائس چیئرمین کے انتخابات کے التواء کے خلاف الیکشن کمیشن کراچی کے دفتر کے سامنے منعقدہ پرامن احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے میں نومنتخب ڈسٹرکٹ چیئرمینز ، وائس چیئرمینز نے بہت بڑ ی تعداد میں شرکت کی جن میں خواتین نمائندوں کی اکثریت بھی نمایاں تھی ۔مظاہرے کے شرکاء نے الیکشن کمیشن کے گیٹ کے سامنے زبردست نعرے بازی کی اور انتخابات کے التواء کے خلاف اپنا پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے رکن عارف خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ احتجاج رمضان کے مہینے میں الیکشن کمیشن کے سامنے ہورہا ہے لیکن وہ اندھے ، بہرے بنے ہوئے ہیں اگر انہوں نے عقل کے ناخن نہیں لئے اور میئر ، ڈپٹی میئر ، چیئرمین کے انتخابات کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا اور انہیں اختیارات نہیں دیئے تو پورے کراچی میں دھما دم مست قلندر ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی نظام کی شہر کو فوری ضرورت ہے ، عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانی ، بجلی کی فراہمی اور اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیا ہےاور بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہ دے کر عوام کاحق مارا جارہا ہے اور پیسہ کھایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حق پرست منتخب بلدیاتی نمائندے اب عوام کا پیسہ کھانے نہیں دیں گے اور الیکشن کمیشنر نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اسے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات جیتنے کے بعد بھی ہمیں طرح طرح کے حربے استعمال کرکے اختیارات سے محروم رکھاجارہا ہے ، عوام اب پوچھتے ہیں کہ آخر ہم نے جن نمائندوں کو منتخب کیا ہے انہیں اختیارات اور وسائل سے کیوں محروم رکھاجارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے کیونکہ اس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہورہا ہے اور پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ حلف لیکر بلدیاتی نمائندوں سے حلف کینسل کیا گیا ، اب اس روایت کو دہرانا بند کیاجائے ورنہ اس احتجاج کا دئراہ وسیع کردیاجائے گا اور کوئی بھی ہمیں حقوق حاصل کرنے سے نہیں روک سکے گا ۔نامزد حق پرست میئر وسیم اختر نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کا یہ احتجاجی مظاہرہ حکومت پاکستان ، پاکستان الیکشن کمیشن اور خاص طور پر الیکشن کمشنر کے خلاف ہے ، یہ مظاہرہ وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں عوام نے مینڈیٹ دیا اور ووٹ ڈالے ہیں اور چیئرمین ، وائس چیئرمین اور کونسلر منتخب کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن ،حکومت پاکستان کے دباؤ میں آکر اسلام آباد میں بیٹھ کر غیر قانونی نوٹی فکیشن جاری رکرہا ہے ، چیف جسٹس سے اپیل ہے کہ آپ کے سامنے کراچی کی عوام سراپا احتجاج ہے ، کراچی کے عوام کا حق مارا جارہا ہے اور االیکشن کمشنر ایسا ناہل ہے جو حکومت کے دباؤ میں آکر اپنے قانون کو بھول کر ایک نوٹی فکیشن 14تاریخ کوجاری کرتا ہے جو بالکل غیر قانونی ہے اور اس نے اپنی خواہش پر یہ نوٹی فکیشن جاری کیا ہے اور اس کے پیچھے اس کے بڑے موجود ہیں تاکہ بلدیاتی نظام اورجمہوریت کی روح اور آرٹیکل 140-Aپر ملک میں عملدرآمد نہ کرایاجاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ میئر ، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخابات نہ کرانے کا نوٹی فکیشن 15تاریخ کو جاری ہوا تھا ارو اس سے قبل دو نوٹی فکیشن جاری ہوچکے ہیں اور اس وقت تک الیکشن کمیشن مکمل تھا ، 12تاریخ کو یہ ریٹائر ہوئے ہیں اور 15تاریخ کو متعصب الیکشن کمشن نے انتخابات نہ کرانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا ۔ چیف جسٹس پاکستان سے سوال ہے کہ الیکشن کمیشن کا فل کمیشن ایک نوٹی فکیشن جاری کرتا ہے تو الیکشن کمشنر کے پاس کیا یہ اختیار ہے کہ وہ پورے الیکشن کمیشن کے جاری نوٹی فکیشن کو کینسل کردے ، یہ غیر قانونی نوٹی فکیشن ہے اور اس کے اجراء سے آئین کو توڑا گیا ہے جس کو ہم نہیں ماتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمشنر غلامی کرنا چھوڑے اور عوام کو دیکھے، آپ نے غیر قانونی کام کیا ہے ، آپ کے غیر قانونی کام کو عدالت میں چیلنج کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی شخص ریٹائر ہوجائے تو کیا اس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ہے ؟ ۔انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ آپ تو انگلینڈ میں علاج کروارہے ہیں لیکن آپ کے حواری اس قسم کے فیصلے کروارہے ہیں جو عوامی خواہشات اور امنگوں کے خلاف ہے لہٰذا فی الفور الیکشن کمشنر کو برطرف کریں ۔ نامزد حق پرست ڈپٹی میئر ارشد وہرا نے کہاکہ پوری دنیا کو یہ بتانا چاہئے کہ 7مہینے بلدیاتی انتخابات کو ہوگئے ہیں اور وفاقی حکومت ہو ، صوبائی حکومت ہو یا الیکشن کمیشن ہو ان سب کی کوشش ہے کہ کراچی کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہ ملیں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی پر وہ لوگ حکومت کررہے ہیں جو اندرون سندھ اور دیگر علاقوں سے جیتے ہوئے ہیں جب کراچی کے اپنے منتخب نمائندوں خو حقوق ملیں گے تو ایسے لوگ کراچی اور اس کے عوام کا حق نہیں مار سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میئر ، ڈپٹی میئر اور چیئرمین کے انتخابات میں مزید حیل و حجت کی گئی تو اس تمام حق پرست منتخب بلدیاتی نمائندے پوری دنیا کو خطوط لکھ کر حقائق سے آگاہ کریں گے ۔ نامزد حق پرست چیئرمین ڈسٹرکٹ چیئرمین ریحان ہاشمی نے کہاکہ کراچی دشمنی کا کھلا ثبوت یہ ہے کہ ساتھ ماہ سے اہلیان کراچی جنہوں نے بھر پور انداز میں متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں کو منتخب کیا ہے انہیں عوام کی خدمت سے مسلسل محروم رکھاجارہاہے۔انہوں نے کہا کہ 9جون کو نوٹی فکیشن جاری ہوتا ہے ، 14جون کو حلف برادری ہوتی ہے اور 12جون کو ممبران کی ریٹائرمنٹ ہوجاتی ہے یہ بیڈ گورننس کی بد ترین مثال ہے جو تاریخ میں رقم ہوگی ۔انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی کہ الیکشن کمیشن کی بیڈ گورننس کا نوٹس لیاجائے اور اس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔ نامزد کونسلر برائے سٹی کونسل محترمہ شاہین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے یہ دھرنا اس لئے کہ متعصب حکومت سندھ نے کراچی کو اختیار دینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ 2005ء میں جب متحدہ قومی موومنٹ کو بلدیاتی انتخابات میں اختیارات حاصل ہوئے تو اس نے کراچی کا نقشہ بدل دیا تھا اور اب بلدیاتی میئر ، ڈپٹی میئر کا انتخابات نہ کرانے والے کراچی میں ترقی و خوشحالی سے اور اپنی سیاسی دکانداری بند ہونے کے خوف میں مبتلا ہیں ۔ حق پرست یوسی چیئر پرسن محترمہ عابدہ نے کہاکہ 5دسمبر 2015ء کو بلدیاتی انتخابات ہوئے لیکن عوام نے اپنے جن نمائندوں کو منتخب کیا انہیں اختیارات سے محروم رکھنا عوام کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے مئیر، ڈپٹی میئر اور چیئرمینوں کو اختیارات دینے کی راہ میں حائل قوتیں دراصل ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہیں چاہتی ہیں اور سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بھی بکھیر رہی ہیں ۔

12/10/2016 4:23:15 PM