Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ حکومت نے تعلیم کیلئے بجٹ میں کچھ نہ رکھ کر نئے صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے ، چیئرمین اے پی ایم ایس او سرفراز احمد صدیقی


سندھ حکومت نے تعلیم کیلئے بجٹ میں کچھ نہ رکھ کر نئے صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے ، چیئرمین اے پی ایم ایس او سرفراز احمد صدیقی
 Posted on: 6/11/2016
سندھ حکومت نے تعلیم کیلئے بجٹ میں کچھ نہ رکھ کر نئے صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے ، چیئرمین اے پی ایم ایس او سرفراز احمد صدیقی 
2015ء کے آپریشن میں ثابت ہوگیا کہ 1992ء کے آپریشن میں مہاجروں کے ساتھ ظلم وزیادتی ہوئی وہ ایک کھلی حقیقت ہے ، وائس چیئرمین اے پی ایم ایس او وجیہہ رؤف 
ہمیں حقوق دیئے جائیں یا تو ہمیں ہمارا صوبہ دیاجائے ورنہ بات بہت آگے نکل جائے گی، جوائنٹ سیکریٹری اے پی ایم ایس او احمد 
کراچی ۔۔۔ 11، جون 2016ء 
اے پی ایم ایس او کے چیئرمین سرفراز احمد صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی نے تعلیم کیلئے بجٹ میں کچھ نہ رکھ کر آج صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے ، یہ بجٹ تعصب کی عینک پہن کرپیش کیا گیا ہے جسے مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایس او جناب الطاف حسین کے ساتھ آخری دم تک کھڑی رہے گی ۔ انہوں نے جناب الطاف حسین اور اے پی ایم ایس او کے تمام کارکنان کو 38ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد بھی پیش کی ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کولال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقدہ اے پی ایم ایس او کے 38ویں یوم تاسیس کے مرکزی اجتماع کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سرفراز احمد صدیقی نے کہاکہ آج 38سالہ جدوجہد کا دن منایا جارہا ہے یہ وہ دن ہے جب مظلوم طبقے کی نمائندگی کا علم جناب الطاف حسین نے جامعہ کراچی میں بلند کیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی کا ایک ایک بچہ جو مظلوم ہے اور حقوق سے محروم ہے وہ جناب الطاف حسین کے ساتھ کھڑا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ اسمبلی نے تعلیم کیلئے بجٹ میں کچھ نہ رکھ کر آج صوبے کی بنیاد رکھ دی ہے ، تعصب کی عینک پہن بجٹ پیش کیا گیا ہے جسے مسترد کرتے ہیں اور آج سے انشاء اللہ تعالیٰ نئے صوبے کے قیام کی جدوجہد کو تیز کردیا جائے گا ۔ انہوں نے 1992ء میں گلی گلی میں خون بہایا ، نوجوانوں کو ماوارئے عدالت قتل کیا ، مظلوم نوجوانوں کو زمین کے نیچے دبا دیا لیکن پھر بھی یہی آواز بلند ہوتی رہی ہے کہ ہمیں منزل نہیں رہنما چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ اے پی ایم ایس او یہ پیغام ہے کہ ہم جناب الطاف حسین کے ساتھ آخری دم تک ساتھ کھڑے رہیں گے ۔ انہوں نے اجتماع کے شرکاء کو اے پی ایم ایس او کے 38ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد بھی پیش کی۔ وائس چیئرپرسن اے پی ایم ایس او وجیہہ رؤف نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی تو یہ دیکھا کہ حقوق ضبط کرنے کا سلسلہ جامعہ کراچی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ ہر مظلوم کے ساتھ جاری ہے اور اسی لئے جناب الطاف حسین نے ملک کے مظلوم عوام کی نمائندگی کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر ظلم و ستم اورجبر کے باوجود جناب الطاف حسین آج بھی حقوق کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں اور جناب الطاف حسین کے ساتھ ان کی مظلوم قوم بھی تمام تر منفی پروپیگنڈوں کے باوجود شانہ ب شانہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم پر ماضی میں 1992ء کا آپریشن ہم نے نہیں دیکھا تھا لیکن آج 2015ء میں جاری آپریشن کے دوران ہم نے اے پی ایم ایس او کے نوجوان کا لاشہ اٹھایا اور اب یقین ہوگیا کہ 19جون 1992ء میں مہاجروں کے ساتھ جو ظلم و زیادتی ہوئی وہ ایک کھلی حقیقت ہے اور اس کا سامنا 2016ء میں بھی کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ میں نوجوان طالب علم کی حیثیت سے جناب الطاف حسین کے ساتھ کھڑی ہوں اور میرے بعد آنے والی بھی نسلیں جناب الطاف حسین کے ساتھ کھڑی ہونگی اور جئے الطاف حسین کا نعرہ ہی لگائیں گی۔ اے پی ایم ایس او کے جوائنٹ سیکریٹری احمد نے کہاکہ اے پی ایم ایس او کا پودا قائد تحریک جناب الطاف حسین نے جامعہ کراچی میں 38سال قبل لگایا تاکہ بانیان پاکستان کی اولاودوں کو ان کے جائز حقوق مل سکیں ، بد قسمتی سے جب پاکستان بنا تو قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا کہ جب ان کی طبیعت خراب ہوگئی تو یہ بہانہ بنایا گیا کہ ایمبولینس خراب ہوگئی اور اس کی آج تک تحقیقات نہ ہوسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا بانیان پاکستان کی اولادوں کی تذلیل پر آواز کیوں بلند نہیں کرتا آخر تعصب کی یہ عینک کب اترے گی ؟ پھر کہا جاتا ہے کہ جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم نے تعصب کی بنیاد رکھی تھی جبکہ ہمارے آباؤ اجداد نے تو یہ ملک اس لئے بنایا تھا تاکہ اس ملک کے تمام رہنے والوں کو برابر کی بنیاد پر حقوق حاصل ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے میں تماشہ کرنے والے لیڈر کی تو گھنٹوں میڈیا کوریج کی جاتی ہے لیکن جناب الطاف حسین کے اظہار رائے کی آزادی سلب کرلی گئی ہے ، جناب الطاف حسین پر پابندی ملک کے مستقبل پر پابندی ہے اور جب اس کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے تو را کے ایجنٹ اور ملک دشمن ہونے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یا تو اپنے حقوق دیئے جائیں یا تو ہمیں ہمارا صوبہ دیاجائے ورنہ بات بہت آگے نکل جائے گی ۔ 

12/8/2016 5:50:42 AM