Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل راحیل شریف صاحب آپ کے ادارے کیا چاہتے ہیں؟ آخر پاکستان کے محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایا جارہا ہے؟ ڈاکٹر فاروق ستار


جنرل راحیل شریف صاحب آپ کے ادارے کیا چاہتے ہیں؟ آخر پاکستان کے محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایا جارہا ہے؟ ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 6/8/2016 1
جنرل راحیل شریف صاحب آپ کے ادارے کیا چاہتے ہیں؟ آخر پاکستان کے محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایا جارہا ہے؟ ڈاکٹر فاروق ستار 
جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈر کراچی ہمیں ملاقات کا وقت دیں۔ ڈاکٹر فارو ق ستار 
اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے، خدا کی قسم اگر الطاف حسین کی سخت ہدایات نہ ہوتیں تو مجھ سمیت رابطہ کمیٹی کے کسی ساتھی میں یہ صلاحیت نہیں تھی کہ ہم کارکنوں، حامیوں اور ووٹرز کو سڑکوں پر آنے سے روک سکیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
آفتاب احمد شہید کی انکوائری اور قاتلوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ڈاکٹر فاروق ستار 
فاروق ستار کی حیثیت، شخصیت، جمہوری خدمات اور سیاسی قد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، خواجہ اظہار الحسن 
ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر پر چھاپہ مار کر پاکستان کا مذاق اور پارلیمانی اور جمہوری رویات کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں، خوش بخت شجاعت 
کراچی پریس کلب کے باہر ڈاکٹر فاروق ستار کے گھر کے محاصرے کے خلاف حق پرست اراکین پارلیمنٹرین اور منتخب بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب 
کراچی ۔۔۔ 08، جون 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پی آئی بی کالونی میں رینجرز کی جانب سے میرے گھرکے محاصر ے کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ لوگوں کو عشاء کی نمازوں اور تروایح سے بھی محروم کردیا گیا، ہماری اطلاعات کے مطابق شمالی علاقوں میں رمضان میں سیز فائر ہوجاتا ہے ، لوگوں کو روزہ رکھنے ، نماز پڑھنے اور تروایح پڑھنے کی آزادی ہوتی ہے۔ انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ آپ کیاکررہے ہیں؟ آپ کے ادارے کیا چاہتے ہیں؟ آخر پاکستان کے ایک محب وطن اور سچے پاکستانی طبقے کو کیوں دیوار سے لگایاجارہا ہے؟ ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟ ہم نے کونسا پاکستان کا آئین توڑا ہے؟ ہم نے چار ہزارچھاپوں کو برداشت کیا ، چار ہزارلوگوں کی گرفتاریاں رضاکارانہ طور پر دیں اور ان کی گرفتاریوں میں کوئی مزاحمت نہیں کی اس کے باوجود ہر بار ہمارے اور صرف ہمارے ہی صبر کا امتحان لیا جارہا ہے؟ آخر ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب کے باہر اپنے گھر واقع پی آئی بی کالونی میں رینجرز کے چھاپے اور محاصرہ کے خلاف حق پرست سینیٹرز ، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کی جانب سے کئے جانے والے پرامن احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ احتجاجی مظاہرے میں سب نے کالی پٹیاں باندھی ہوئی ہیں ، کل میرے گھر اور گلیوں کا بلاجواز محاصر ہ کیا گیا ، وہاں خوف و ہراس کی فضا قائم کی گئی اور اس کے نتیجے میں لوگ پہلی افطار اور پہلے روزے میں عشاء کی نماز اور تروایح ادا کرنے سے قاصر رہے ، میرے گھر کا محاصرہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کیلئے کیا گیا، مملکت خدادا پاکستان میں جہاں ضرب عضب میں شمالی علاقوں میں طالبان کے ساتھ بھی آمنا سامنا اور جنگ جاری ہے تو یہ معلومات ہماری ہیں کہ وہاں رمضان میں سیز فائر ہوجاتا ہے ،جنگ بندی ہوجاتی ہے ، لوگوں کو روزہ رکھنے ، نماز پڑھنے ، تروایح پڑھنے کی آزادی ہوتی ہے ۔ لیکن پچھلے سال بھی الٹی سیدھی رپورٹوں پر رمضان میں محاصروں ، چھاپوں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا ہم بار بار یہ احتجاج کررہے ہیں لیکن اس کے ساتھ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اورکئی بار اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے کہہ رہے ہیں کہ یہ آپ کیاکررہے ہیں ؟ آپ کے ادارے کیا چاہتے ہیں ؟۔انہوں نے کہا کہ ہر انتخاب میں کراچی کا سب سے بڑا مینڈیٹ ہمارے پاس ہوتاہے ،ہم عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ،ہمیں ادھر ادھر الجھانے کی بجائے کراچی اور پاکستان کے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کا موقع اور اسپیس دیا جائے ، ہماری سیاسی اسپیس بند کی جارہی ہے ، ہم پرغیر اعلانیہ سیاسی پابندی لگائی جارہی ہے ، سیاسی آزادی کو سلب کیاجارہے ہے ، رمضان میں ہمیں احتجاج پر مجبور کیاجارہا ہے اور اداروں کی ساکھ کو داؤ پر لگایاجارہاہے انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرز کے سب کو آرڈی نیٹ جو فون پر میرے ساتھ رابطے میں تھے لیکن انہوں نے ڈی جی رینجرز سے میری بات نہیں کرائی ، خرم شہزاد سے میری بات نہیں کرائی گئی انہوں نے کہاکہ ڈی جی رینجرز اس بات کونہیں سمجھیں گے اسی لئے جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈکراچی سے کہتا ہوں کہ ہمیں ملاقات کا وقت دیں ، ہماری بات کو سنیں ،گزشتہ ایک ماہ سے ملاقات کا وقت مانگ رہے ہیں نہیں مل رہا ۔انہوں نے کہاکہ جب میرے گھر کا محاصرہ ہوا میں نے کہاکہ آئیں میرے گھرکی تلاشی لیں لیکن اچھا ہے میڈیا کے دو کیمرہ مین بھی ساتھ آجائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے ۔ انہوں نے کہاکہ رینجرز کودیکھناہوگا کہ اس کے پاس یہ رپورٹیں کہاں سے آتی ہے ؟ ایم کیوایم کے کتنے لوگ وانٹنڈ ہیں ، ایساتاثردیاجارہے کہ ایم کیوایم میں دوطرح کے افرادہیں ایک طبقہ خدانخواستہ جرائم میں ملوث ہے اوردوسرا تاثر یہ کہ باقی جو جو بچیں ہیں وہ مجرموں کی سرپرستی کررہے ہیں ان کو اپنے گھروں میں چھپا رہے ہیں تو پھر میں اداورں ، نواز شریف، جنرل راحیل شریف سے کہوں گا کہ بتایئے کہ جتنے بڑے دہشت گر د پکڑے گئے ہیں وہ کن کے گھروں سے پکڑے گئے ، کن کے گھروں پر پنا ہ لیتے ہیں ، ایم کیوایم پر زکوٰۃ فطرہ لینے پرپابندی ہے جبکہ کے کے ایف رجسٹر ادارہ ہے اور الخدمت اور ساری جماعتوں کے کیمپ لگے ہیں سب رسیدوں پر چندہ کررہے ہیں ، کالعدم تنظیمیں تک فطرہ وزکوۃ جمع کررہی ہے اگر کسی کو اجازت نہیں ہے تو کے کے ایف کو نہیں ہے ان سوالوں کے جواب کون دیگا ؟۔ اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے ، الطاف حسین نے ہم نے اب تک لوگوں کو صبر کی تلقین کی ہے ، میں بار بار کہتا ہوں کہ اپنے سسٹم کو دیکھئے کہ کہیں آپ کی رپورٹیں تعصب اور ہماری نفرت کی بنیاد پر تو نہیں آرہی ہیں،یہ بھی رپورٹ آپ کو غلط دی گئی کہ میرے گھر پر کوئی چھپا تھا تو محاصر ہ ختم نہیں ہونا چاہئے تھا ، میڈیا کی موجودگی میں میرے گھرکے ایک ایک کمرے کی تلاشی لینا تھی ، میڈیا نہیں آتا تو میرے اسٹاف کے کسی کو گرفتار کیا جاتا اور اگلے دن ٹی وی پر لاکر یہ کہلوایا جاتا کہ ہاں کوئی دہشت گرد فاروق ستار کے گھر چھپا ہوا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ جمہوری عملداری ویسے ہی فارغ ہے ، نواز شریف اور قائم علی شاہ کہہ دیں کہ ان کی کوئی حکومت نہیں ہے ہم بھی اب براہِ راست جنرل راحیل شریف سے بات کررہے ہیں ،کور کماندڑ ہمیں وقت دیں اس سے پہلے کہ ہم سب غیر موثر ہوجائیں،آپ کی امن کی کوششں اور ہماری محنت ضائع چلی جائے ۔انہوں نے کہاکہ سیاست کیلئے یہ بات نہیں کررہا، یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ قانون نافذکرنیو الا ادار ہ ایک سیاسی جماعت بن رہا ر ہے ۔ پورے ایک ادارے کو اس طرح سیاست میں مت ڈالیں ، سیاسی طریقے سے مسائل کو حل کریں ، دو ڈھائی سال سے آپ آپریشن کررہے ہیں ہر طرح کا الزام ہم پر لگایا گیا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ جو بھی برا اس شہر میں ہوا وہ ایم کیوایم نے کیا اور جو اچھا وہ کسی اور نے کیا ۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان بچانے کی جنگ میں ہراول دستہ ہیں ، آج آپ کو احساس نہیں ،ہماری قدر نہیں کل ہماری قدر بھی ہوگی اور احساس بھی ہوگا کہ ہم پاکستان بچانے والے، بنانے والے ہیں ،ہم بار بار یہ کہہ رہے ہیں اس کے باوجود ہم پر ہر معاملے میں شک کیاجاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد کو شہید کیا گیا پہلے آفتاب کا انصاف کریں ،جنرل راحیل شریف صاحب نے کہاکہ انصاف ہوگا، ایک مہینے سے ہم قطعی لاعلم ہیں ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انکوائری رپورٹ سے آگاہ کریں گے ، ہمیں صرف ایک خبر دی گئی کہ انکوارئی کمیٹی بن گئی ہے ، چار یا پانچ اہلکاروں کو معطل کیا ہے لیکن ان کے نام آنا چاہئیں ، کیا میڈیا والے نہیں جاننا چاہتے ؟جب عام لوگوں کے نام آجاتے ہیں قتل کیا ہو یا نہ کیا ہوتویہاں تو ثابت ہے کہ رینجرز کی تحویل میں قتل ہوا ہے پھر تو شک کی گنجائش نہیں ہے ، یہاں سے انکوائری شروع کریں ، عوام کو اعتماد میں لیں تاکہ ہمارے کلیجے کو بھی ٹھنڈک پڑے ، آفتاب احمد شہید کی انکوائری جلد مکمل اورقاتلوں کو جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔حق پرست سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہاکہ ڈاکٹر فارو ق ستار کے گھر کا محاصرہ کرکے پاکستان کا مذاق اڑایا گیا اور پارلیمانی وجمہوری روایت کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں اور انصاف کے تقاضے دیکھے بغیر ایسی ہستی کے گھر کا محاصر ہ کیا گیا جو مقبول ہے ، لوگوں نے ڈر و خوف سے اپنے آپ کو گھروں میں بند کرلیا ، تروایح تک نہیں پڑی۔ انہوں نے کہا کہ شہر پر خوف طاری ہے ، پریشانیاں ، مجبوریاں ہیں اس پر نہ صرف چھاپے مار ے جارہے ہیں، تشدد کیاجارہا ہے اور ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے ۔ اتنی بڑی ناانصافی ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر کے ساتھ کی گئی ہے اس عمل سے پارٹی اور عوام کی توہین کی گئی ہے ہم اس کا حساب لینا جانتے ہیں، ہمارے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہزاروں قربانیاں دیں تو یہ ملک حاصل کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جو ادارے انصاف کے تقاضو ں کو پورا کرنے کے ذمہ دار ہیں وہ آگے آئیں اور اپنا فرض پورا کریں ۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ رینجرز کا فاروق ستار کے گھر پر چھاپہ انتہائی افسوسناک ہے ، پانچ چھ گلیوں کا محاصرہ فاروق ستار کے گھر کیلئے ہوا تھا اور ان کے گھر کیلئے ہی یہ پورا تماشہ کیا گیا ،فاروق ستار کی حیثیت ، شخصیت ، جمہوری خدمات اور سیاسی قد کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔ انہو ں نے دعوی ٰ کیا کہ پاکستان میں ڈاکٹر فاروق ستار جیسی قد آور کسی اور جماعت کے لیڈر کے گھر پر چھاپہ مارنے کی کسی میں جرات نہیں ہے ،وہ کسی وڈیرے کے گھر کا گھیراؤنہیں کرسکتے کیونکہ اس پرسندھ، پنجاب اور کے پی کے میں روایت کے نام پر خون کی ندیاں بہا دی جاتی ہیں ، صرف کراچی ہے جو تہذیب یافتہ اور باشعور لوگوں کا شہر ہے ۔

9/26/2016 7:12:55 PM