Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

۲۰۱۸ء میں انشاء اللہ ایم کیو ایم شیڈو نہیں بلکہ اصل بجٹ پیش کرے گی،خواجہ اظہار الحسن


۲۰۱۸ء میں انشاء اللہ ایم کیو ایم شیڈو نہیں بلکہ اصل بجٹ پیش کرے گی،خواجہ اظہار الحسن
 Posted on: 6/6/2016 1
2018 میں انشاء اللہ ایم کیو ایم شیڈو نہیں بلکہ اصل بجٹ پیش کرے گی،خواجہ اظہار الحسن 
شیڈوبجٹ میں ایم کیو ایم نے کوئی نیا مطالبہ نہیں کیا ہے ، سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن 
شیڈو بجٹ میں NFCکے طرز پر مقامی حکومتوں کو 57.5فیصد کی شرح سے وسائل دینے کا مطالبہ کیا گیا 
ایم کیو ایم سندھ میں کسی بھی قسم کے نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز کو مسترد کردتی ہے، خواجہ اظہار الحسن
سندھ حکومت کی 38انتظامی محکموں نے 9ماہ کے دوران 53ارب روپے سبسڈی کے نام پر خرچ کردی
جس کی تحقیقات انٹی کرپشن یا کسی اور ادارے سے کرائی جائے ۔، سید سردار احمد ، پارلیمانی لیڈر ایم کیوا یم 
ایم کیوا یم نے صوبائی اسمبلی میں 2016-17ء کا بجٹ تجاویز کی صورت میں سندھ اسمبلی میں شیڈو بجٹ پیش کیا 
شیڈو بجٹ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن اور ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے پیش کیا 
کراچی :۔6؍ جون 2016ء 
پیر کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم نے صوبہ سندھ 2016-17ء کی بجٹ تجاویز کی صورت سندھ اسمبلی میں شیڈو بجٹ پیش کیا ۔ شیڈو بجٹ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن اور سندھ اسمبلی میں ایم کیوا یم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے پیش کیا ۔شیڈو بجٹ کا اہم ترین نقطہ کرپشن کا خاتمہ تھا اور بجٹ کے مسودے کے ہر صفحے پرSay No To Corruption تحریر تھا۔شیڈوبجٹ پیش کرنے سے قبل خواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ 2018ء میں ایم کیو ایم انشاء اللہ شیڈو نہیں سندھ اسمبلی میں اصل بجٹ پیش کرے گی۔ایم کیو ایم کا سندھ کا شیڈو بجٹ 689ار ب روپے کا پیش کیا گیا اور جس میں اخراجات کا تخمینہ 650ارب روپے دیکھائے گئے ہیں اسی طرح 39ارب روپے کا سرپلس بجٹ پیش کیا ۔ ایم کیو ایم نے بجٹ میں زرعی آمدنی پرٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے ،زراعت کے منافع پر ٹیکس کی مدمیں20ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کی مدمیں 400 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں ۔اسی طرح ترقیاتی کاموں کی مد میں 180ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے ازالے کے لئے 70ارب روپے رکھنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ شیڈو بجٹ میں وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے اخراجات کو بھی محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ شیڈو بجٹ میں سندھ حکومت کے رواں مالی سال کے کیے گئے اخراجات کی تفصیل بھی بتائی گئی جس میں سندھ حکومت تقریباً 200ارب روپے خرچ نہیں کرسکی جس میں ترقیاتی مد میں 162ارب روپے میں سے سندھ حکومت نے صرف 65ارب روپے 10 مہینے میں خرچ کیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت میں حکومت صرف 5فیصد رقم خرچ کرسکی ، اسی طرح بہبود آبادی کے اخراجات میں صرف 3فیصد رقم خرچ کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں 52فیصد ان ڈائریکٹ ٹیکس لگایا جاچکا ہے جو اس وقت شہری آبادی سے وصول کیا جارہا ہے ۔ لہٰذا ایم کیو ایم بجٹ میں کسی بھی نئے ٹیکس لگانے کی تجاویز کو مسترد کردتی ہے ۔گرانٹس ، قرضے معاف کرانے کی مدمیں 53ارب روپے سے زائد خرچ کی گئی رقم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بیجا اخراجات کی تفصیلات سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے اور اراکین سندھ اسمبلی کو مطمئن کیا جائے۔
رواں مالی سال کے 9ماہ میں سندھ حکومت 754ارب روپے کے بجٹ سے صرف ساڑھے چار کھرب خرچ کرسکی ہے ۔سندھ حکومت کی 38انتظامی محکموں نے 9ماہ کے دوران 53ارب روپے سبسڈی کے نام پر خرچ کردی۔ انہوں نے کہا کہ 53ارب روپے کی بیجا اخراجات کی انٹی کرپشن یا کسی اور ادارے سے تحقیقات کرائی جائے ۔ایم کیو ایم نے سندھ حکوم کے زائد اخراجات کو بنانا لیکس کا نام دیدیا ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140کے تحت زرعی ٹیکس کی وصولی کا اختیارات مقامی حکومتوں کو دیا جائے ۔ اس سلسلے میں NFCکے طرز پر صوبائی مالیاتی کمیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ۔سندھ حکومت اپنے ہی 8سالہ دور حکومت میں کیے گئے وعدے پر عملدرآمد کردے تو سندھ کے عوام پر احسان ہوگا ۔ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ حکومت اپنے مطالبے پورے کرے ۔ ایم کیو ایم کے ارکان کا کوئی مطالبہ نہیں ہے ، سندھ حکومت صرف قانون بناکر بھول جاتی ہے ، 2008ء سے آج تک بنائے قوانین کے قواعد نہیں بنائے گئے ، فری ایجوکیشن کے قانون پر عملدرآمد نہیں ہوا ، فری ایجوکیشن کا صرف جھوٹا نعرہ ہے سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے ۔18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں سے بھی اضلاع کو فنڈ اور اختیارات ملنے چائے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی سے اس حوالے سے متفقہ قرارداد بھی منظور کراچکے ہیں ۔ رواں مالی سال میں سندھ اسمبلی کے بجٹ اخراجات میں بلاول بھٹو کا اعلان کردہ کراچی پیکج کہاں ہے ۔ سندھ حکومت نے بلاول بھٹو کے کراچی لئے ڈیڑھ کھرب روپے کا کوئی حساب نہیں دیا ۔رواں سال وزیراعلیٰ ہاؤس کے لئے 5ارب روپے مختص کیے گئے اور 9ماہ میں صرف پونے تین ارب روپے خرچ کیے گئے ، سوا دو ارب روپے کہاں خرچ کیے جائیں گے ؟انہوں نے کہا کہ صوبائی اخراجات کا تخمینہ 4کھرب روپے لگایا گیا ہے ترقیاتی بجٹ کا حجم ایک کھرب 80ارب روپے ہے ۔ایم کیو ایم کے شیڈو بجٹ کا حجم 7کھر 26کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ کا ہے ۔آئندہ مالی سال کے شیڈو بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے ۔آخر میں خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ایم کیو ایم2018ء میں انشاء اللہ شیڈو نہیں سندھ اسمبلی میں اصل بجٹ پیش کرے گی ۔





12/9/2016 7:06:07 PM