Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

رمضان المبارک کے بعد پرامن دھرنا دیں گے، کراچی جیسے شہر کو سندھ کے موجودہ یزیدی حکمرانوں نے کربلا بنادیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار


رمضان المبارک کے بعد پرامن دھرنا دیں گے، کراچی جیسے شہر کو سندھ کے موجودہ یزیدی حکمرانوں نے کربلا بنادیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 6/5/2016 1
رمضان المبارک کے بعد پرامن دھرنا دیں گے، کراچی جیسے شہر کو سندھ کے موجودہ یزیدی حکمرانوں نے کربلا بنادیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی کیلئے شہریوں کو پانی نہیں دیا جائے گا تو بعد میں سود کے ساتھ پانی بھی لیں گے اور اپنا نیا صوبہ بھی لیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار 
سندھ حکومت کراچی کے جس پیسے سے پل رہی ہے پانی نہ ملنے کی صورت میں عوام یہ پیسہ بند کرنے والے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی 
سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کے کرپٹ حکمرانوں نے مہاجر اور کراچی دشمنی میں شہر کو تباہ و برباد کردیا ہے ، محمد حسین ، محمد کمال 
تمام سیاسی جماعتیں کراچی میں پانی کے سنگین مسئلے کے حل کیلئے ایم کیوایم کا ساتھ دیں، قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن 
ایم کیوایم سے لڑنا ہے تو الیکشن میں لڑا جائے لیکن کراچی کے عوام کے اختیارات ، وسائل اور حقوق پر ڈاکا نہ ڈالا جائے،نامز د میئر وسیم اختر 
کراچی میں پانی کے شدید بحران کے خلاف ایم کیوایم کے زیرا ہتما م کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دیئے جانے والے دھرنے کے شرکاء سے مقررین کا خطاب 
کراچی ۔۔۔5، جون 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں پانی کے شدید بحران پر آج ایم کیوایم کا کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک احتجاجی مظاہرہ ٹریلر ہے ، رمضان المبار ک کے بعد پرامن دھرنا کریں گے ، کراچی جیسے شہر کو سندھ کے موجودہ یزیدی حکمرانوں نے کربلا بنا دیا ہے ، آج وزیراعلیٰ ہاؤس تک وزیراعلیٰ سندھ کو خواب خرگوش سے جگانے کیلئے آئے ہیں ، کراچی کے شہریوں کو پانی نہیں دیاجائے گا تو بعد میں سود کے ساتھ پانی بھی لیں گے اور اپنا نیا صوبہ بھی لیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے اتوار کی شب کراچی میں پانی کے شدید بحران کے خلاف کراچی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک نکالے جانیو الے احتجاجی مظاہرے کے ہزاروں شرکاء سے وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے مقام پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء کراچی پریس کلب سے ایک بڑے جلوس کی شکل میں پیدل چلتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچے جہاں کنٹینر لگا کر آگے جانے کا راستہ بند کردیا گیا تھا جس پر احتجاجی مظاہرے کے شرکاء وہیں رک گئے اور اس دوران انہوں نے سندھ حکومت کے خلاف اور پانی کے حصول کے سلسلے میں زبردست نعرے بازی کی اور مٹکے بھی توڑے ۔ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ دنیا کے ماہرین پانی کو سفید سونا کہتے ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئندہ خانہ جنگی اور دنیا میں جنگیں پانی کے مسئلے پر ہی ہوں گی ، وزیراعلیٰ سندھ اور سندھ کابینہ نے کراچی کے عوام کو پانی کی بوند بوند کیلئے ترسا دیا ہے ، کراچی کے شہری صرف پانی مانگ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ پانی کی کمی پر فسادات کو روکنے کیلئے نکلے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ ہمارے زخموں پر مرہم رکھنے اور پیاس بجھانے کے بجائے نشتر چلا رہے ہیں اور ایسے بیان دے رہے ہیں کہ ایم کیوایم نے پانی کے مسئلے پر احتجاج کرکے اچھا نہیں کیا ہے ، ابھی تو ایم کیوایم نے پانی کے مسئلے پر سی ایم ہاؤس کے باہر صرف احتجاج ہی کیا ہے اور حکومت سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے ڈر اور خوف کا یہ عالم ہے کہ احتجاجی مظاہرے کو گھیراؤ کہہ رہے ہیں اگر وزیراعلیٰ سندھ کی یہ فرمائش ہے کہ گھیراؤ کریں تو جلد سی ایم ہاؤس کا گھیراؤ بھی کرکے دکھا دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ میئر کے الیکشن کرانے اور اختیارات دینے کے روادار نہیں ہیں اور پانی بھی دینے کو تیار نہیں ہیں اگر وزیراعلیٰ سندھ چیلنج دے رہے ہیں تو پورے کراچی کو رمضان المبارک کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر لاکر بٹھا دیں گے پھر مظاہرہ نہیں ہوگا بلکہ دھرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ منرل واٹر میں پانی آرہا ہے تو نلکوں اور مٹکوں میں بھی آنا چاہئے لیکن حکمرانوں کی آنکھوں میں شرم و حیاء کا پانی تک ختم ہوگیا ہے ۔ انہوں نے گورے انگریزوں نے ہمیں حقوق نہیں دیئے تو ہم نے متحدہ ہندوستان میں آزاد و خود مختار ریاستیں مانگیں تھی اور آزاد وطن نہیں مانگا تھا مگر جب انہوں نے خود مختار ریاستیں دینے سے انکار کیا تو ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دیں اور ملک حاصل کرلیا ۔ انہوں نے کہاکہ 8سال سے کے فور کے چھ ارب روپے کہاں جارہے ہیں ؟ پانی کہاں ہے؟، اکیلا کراچی 60فیصد اسلام آبادکو اور 90فیصد سندھ کو دے رہا ہے جب یہ دینا ہی ہے تو ہمارے صوبے کا وزیراعلیٰ ہونے میں کیا برائی ہے ؟ ۔انہوں نے کہاکہ جب ہماری کسی قربانی کا کوئی ذکر نہیں ہے تو ہمارے لئے نئے صوبے کی جدوجہد کے علاوہ کیا چارہ باقی رہ جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں وہ کراچی میں تحریکیں چلنے کی وجہ سے ہوتی ہیں اگر پانی سمیت ہمارے بنیادی مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو رمضان کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر میں تحریک چلائیں گے ۔ ایم کیوایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ کراچی کے عوام وزیراعلیٰ ہاؤس آئے تو وہ سو رہے تھے اور مظاہرے کے شرکاء کے شور سے اٹھے اور پوچھا کہ یہ لوگ کیا مانگ رہے ہیں انہیں بتایا گیا یہ پانی مانگ رہے ہیں تو وزیراعلیٰ سندھ نے فرمایا کہ پانی نہیں ہے تو بھنگ کیوں نہیں پی لیتے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت کراچی کے جس پیسے سے پل رہی ہے پانی نہ ملنے کی صورت میں شہر کراچی کے عوام وہ پیسہ بند کرنے والے ہیں ، آج کراچی کے عوام پانی کے حصول کیلئے وزیراعلیٰ ہاؤس آئے ہیں اور کل اپنے صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس کو خالی کرانے آئیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے آباؤ اجداد نے ہندوستان کا جغرافیہ تبدیل کردیا تھا اور سندھ کا جغرافیہ ان حکمرانوں کی وجہ سے تبدیل ہوگا ۔ رابطہ کمیٹی کے ارکان محمد حسین اور محمد کمال نے کہاکہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کے کرپٹ حکمرانوں نے مہاجر اور کراچی دشمنی میں شہر کو تباہ و برباد کردیا ہے اور 8برس سے کراچی کے شہریوں کو پانی کیلئے ترسایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آج احتجاجی مظاہرے کے شرکاء تمام رکاوٹوں کو پرامن طریقے سے عبور کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس تک پہنچے ہیں اور سندھ کی متعصب حکومت اور کنٹینر ز کراچی کے عوام کو روک نہیں سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کل جب دوبارہ مہاجروں کا ریلا آئے گا تو ان کنٹینروں کو گرا کر وزیر اعلیٰ ہاؤ س پہنچ جائے گا اورہم آج بھی ایسا کرسکتے تھے لیکن ہماری لیڈر شپ نے کہا کہ ہمیں یہاں پر ہی رکنا ہے ورنہ خدا کی قسم ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہی ہوتے ۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ کراچی سندھ اور وفاق کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے لیکن آج اسی شہر کے عوام کو پانی کیلئے بھیک مانگنی پڑ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ شہریوں کو پانی ، بجلی ، صحت سمیت تعمیر و ترقی بھی دیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری وکٹیں گرانے سے جمہوریت کی وکٹیں گررہی ہیں ، وزیراعلیٰ ہاؤس عوام کے ٹیکسوں سے بنا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کی جاگیر نہیں ہے اور وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں کرائے دار کی حیثیت سے رہ رہے ہیں اورمالک مکان ہم ہیں جو 2018میں یہ مکان وزیراعلیٰ سندھ سے خالی کرالیں گے ۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ کراچی میں سب جماعتوں کا مینڈیٹ ہے تو وہ اپنے مینڈیٹ کا ہی احترام کرتے ہوئے کراچی میں پانی کے سنگین مسئلے کے حل کیلئے ایم کیوایم کا ساتھ دیں ۔ 
نامزد حق پرست میئر کراچی وسیم اختر نے کہاکہ وزیراعلیٰ سندھ اور حکومت سندھ شہر کراچی کے عوام کو قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم سے پیار کرنے کی سزا دے رہے ہیں اور انہیں پانی جیسی بنیادی سہولت کیلئے ترسا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وزراء کے گھروں پر منرل واٹر پہنچ جاتے ہیں لیکن عوام کے گھروں پر پانی کی فراہمی کس کی ذمہ داری ہے ؟ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی سازشی ٹولہ ہے جو بلدیاتی حکومتوں کو اختیار تک نہیں دے رہا ہے اور کراچی کے لوگوں کی جانوں سے کھیل رہا ہے ، سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی نے اندرون سندھ کے تمام اضلاع تباہ کردیئے ہیں اور اب شہری علاقوں کے پیچھے پڑے ہیں ۔ وسیم اختر نے کور کمانڈ کراچی سے اپیل کی کہ وہ پانی کے بنیادی مسئلے پر کراچی کے عوام کی تکالیف کا احساس کریں اور اس سلسلے میں جاری سندھ حکومت کا ظلم بند کرائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم سے لڑنا ہے تو الیکشن میں لڑا جائے لیکن کراچی کے عوام کے اختیارات ، وسائل اور حقوق پر ڈاکا نہ ڈالا جائے
 

12/9/2016 5:08:15 PM