Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تحریر و تقریر کی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اقوام متحدہ کا چارٹر بھی دیتا ہے، الطاف حسین


تحریر و تقریر کی آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اقوام متحدہ کا چارٹر بھی دیتا ہے، الطاف حسین
 Posted on: 6/4/2016 1
تحریروتقریر کی آزادی ہرانسان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اقوام متحدہ کاچارٹر بھی دیتا ہے، الطاف حسین
الطاف حسین سچ بولتا ہے تو اس کی تقریراور تصویر کو نشروشائع کرنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے، الطاف حسین
تقریرسننے ، تقریرکے کسی جملے پر مسکرانے ، رونے یا تالیاں بجانے والوں پر بھی مقدمہ قائم کردیاجاتا ہے، الطاف حسین
پاکستان میں آئین اور قانون کتابی شکل میں تو موجود ہے لیکن عدالتوں میں اس کی عملداری دیکھنے میں نہیں آتی ،الطاف حسین
بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کی کتاب کا سہارا لیکر قومی دولت لوٹنے والوں کو جیلوں اورتھانوں سے رہا کرادیا جاتا ہے اور بے گناہ غریب عوام کو قید کرکے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں، الطاف حسین
ایسی پارلیمنٹ کا کیافائدہ جہاں ایسی قانون سازی کی جائے جس پر عملدرآمد نہ ہوسکے، الطاف حسین
حق پرست صوبائی وزیرتعلیم نے اندرون سندھ میں 400 اسکول قائم کیے جنہیں وڈیروں کی اوطاق میں تبدیل کردیاگیا، الطاف حسین
غریب ہاریوں،کسانوں اورمزدوروں کے بچے آج 69 برس گزرجانے کے باوجودبنیادی تعلیم سے محروم ہیں، الطاف حسین
سندھ میں 1973ء میں کوٹہ سسٹم دس سال کے لئے نافذ ہواتھالیکن آج تک رائج ہے، الطاف حسین
سندھ دھرتی ماں کے اردواورسندھی بولنے والے دوبیٹے ہیں، بیٹوں کے نام الگ الگ ہونے سے ماں تبدیل نہیں ہوتی، الطاف حسین
وقت آگیاہے کہ دونوں بیٹوں کے گھرالگ الگ کردیئے جائیں، الطاف حسین
اللہ تعالیٰ پاکستانی فوج میں ایسامجاہدپیداکردے جو ملک کولوٹنے والوں کاکڑااحتساب کرے،الطاف حسین
نواب شاہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔4، جون2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کتابی شکل میں تو موجود ہے لیکن عدالتوں میں اس کی عملداری دیکھنے میں نہیں آتی ، بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کی کتاب کا سہارا لیکر قومی دولت لوٹنے والوں کو جیلوں اورتھانوں سے رہا کرادیا جاتا ہے اور بے گناہ غریب عوام کو قید کرکے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں، انہوں نے کہاکہ ایسی پارلیمنٹ کا کیافائدہ جہاں ایسی قانون سازی کی جائے جس پر عملدرآمد نہ ہوسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواب شاہ پریس کلب کے سامنے ایم کیوایم کے کارکنان کی غیرقانونی گرفتاریوں اوران کی جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان ، سندھ تنظیمی کمیٹی کے اراکین، حق پرست ارکان سندھ اسمبلی ، نواب شاہ زونل کمیٹی کے ارکان ، سندھی بولنے والے کارکنان اورہمدردبزرگ، خواتین اورنوجوان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ حیدرآبادکے سابق ذمہ دار ندیم قاضی کو 14 روز قبل انکے دفتر سے گرفتارکیاگیا تھا لیکن آج تک انہیں کسی عدالت یا تھانے میں پیش نہیں کیاگیا، اب تک ہزاروں کارکنان کو گرفتارکرکے لاپتہ، معذور اورماورائے عدالت قتل کیاجاچکاہے جس کاسلسلہ آج تک جاری ہے ۔ پاکستان میں آئین اور قانون موجود ہے ، آئین اور قانون کے مطابق کسی بھی فرد کو گرفتارکرنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندراندر عدالت میں پیش کیاجانا چاہیے اورپھر عدالت پر منحصر ہے کہ وہ ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالہ کردے لیکن پوری دنیا میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ آپ کسی الزام میں کسی کوگرفتارکرنے کے بعد اسے سرے سے غائب کردیں اور گرفتارشدگان کو کسی عدالت، تھانے یا تحقیقاتی مرکز میں پیش نہ کریں۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا جاتا ہے اور کئی سال گزرجانے کے باوجود ان کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا ماردیئے گئے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں آئین اور قانون کتابی شکل میں تو موجود ہے لیکن عدالتوں میں اس کی عملداری دیکھنے میں نہیں آتی ، اگر ملک میں آئین وقانون کی عملداری ہے تو بتایاجائے کہ اب تک ندیم قاضی کو کسی عدالت یا تفتیشی مرکزمیں کیوں پیش نہیں کیاگیا؟ اوربتایاجائے کہ کیاآئین وقانون کی اس خلاف ورزی پر ندیم قاضی اور دیگرکارکنان کو گرفتارکرنے والے سرکاری اہلکاروں کو گرفتارکرکے جیل بھیجاجائے گا؟کیا ہم آئین اورقانون کی کتابوں کو الماریوں میں سجاکر رکھ دیں ؟ اگر آئین اور قانون کا یہی حشر کرنا ہے تو پھر ساری عدالتوں کو ختم کردیاجائے ، سینیٹ ، قومی وصوبائی اسمبلیاں جن پر قوم کااربوں کھربوں روپیہ خرچ کیاجاتا ہے انہیں بھی ختم کردیا جائے کیونکہ ایسی پارلیمنٹ کا کیافائدہ جہاں ایسی قانون سازی کی جائے جس پر عملدرآمد نہ ہوسکے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں قانون کی کتاب کا سہارا لیکر قومی دولت لوٹنے والوں کو جیلوں اورتھانوں سے رہا کرادیا جاتا ہے اور بے گناہ غریب عوام کو قید کرکے ان پر جھوٹے مقدمات قائم کردیئے جاتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریروتقریر کی آزادی ہرانسان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق اقوام متحدہ کاچارٹر بھی دیتا ہے، جب الطاف حسین سچ بولتا ہے تو نہ صرف اس کی تقریراور تصویر کو نشروشائع کرنے پر پابندی عائد کردی جاتی ہے بلکہ تقریرسننے ، تقریرکے کسی جملے پر مسکرانے ، رونے یا تالیاں بجانے والوں پر بھی مقدمہ قائم کردیاجاتا ہے۔ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ پاکستان میں برسوں سے فرسودہ جاگیردارانہ اورظالمانہ نظام مسلط ہے جس کے تحت غریب کسانوں، ہاریوں اورمحنت کشوں کومعمولی غلطی پر بھی گرفتارکرکے سزا دی جاتی ہے لیکن جن دولت مندوں نے قومی خزانے کی لوٹ مارکی ، اربوں روپے کے قرضے لیکرمعاف کرائے ، کمیشن اور رشوت کے ذریعہ دولت کمائی ان کے لئے بڑے سے بڑا جرم بھی قابل معافی قراردیاجاتا ہے اور قومی لٹیروں کو گرفتارکرنے کے بجائے باعزت شہریوں کی صف میں بٹھایاجاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ چند روزقبل نوشیروفیروز میں غریب ہاری دوبھائیوں کی گدھاگاڑی سے ایک وڈیرے کی گاڑی ٹکراگئی جس کی پاداش میں وڈیرے کے غنڈوں نے دونوں بھائیوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا پھر جرگہ بلاکر جرگے کے ذریعہ یہ انسانیت سوز فیصلہ کرایاکہ دونوں غریب ہاری اپنے منہ میں جوتا رکھ کر وڈیرے کے پاس جائیں اوران کے پیروں کو ہاتھ لگاکر اپنی غلطی کی معافی مانگیں لیکن اس ظالم وڈیرے کے خلاف کوئی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ صوبہ سندھ میں وڈیرے اورجاگیردار جرگے بلاکر کسی بھی لڑکی یالڑکے پرکاروکاری کی تہمت لگاکر قتل کردیتے ہیں اورپھر فخریہ کہتے ہیں کہ یہ عمل سندھ کی ثقافت کا حصہ ہے ، اسی صوبہ سندھ میں لڑکیوں کی جائیداد پرقبضہ کرنے کیلئے قرآن مجید سے ان کی شادی کرادی جاتی ہے اور یہ عمل آئے دن ہوتا ہے لیکن اس پر کیاآئین اورقانون حرکت میں آتے ہیں؟جناب الطاف حسین نے انسانی حقوق کی ملکی اوربین الاقومی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنے اپنے وفود پاکستان بھیجیں ، ہم انہیں ایک ایک شہید،لاپتہ اور اسیرکارکن کے گھرلے جانے یا ان کے اہل خانہ کو کسی ایک جگہ بلاکرانسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرانے کیلئے تیارہیں تاکہ ان کے سامنے دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی واضح ہوجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں 1990ء میں سندھ کی مخلوط حکومت میں وزارت تعلیم ملی تومیں نے ایم کیوایم سے تعلق رکھنے والے وزیرتعلیم ایم اے جلیل سے کہاکہ وہ سندھ کے شہروں کے لئے کچھ کریں یانہ کریں لیکن اندرون سندھ میں اسکولوں کاجال پھیلادیں، انہوں نے سندھ میں چارسو اسکول قائم کئے لیکن جب ایجوکیشن کاعملہ اندرون سندھ ان اسکولوں پر پہنچاتومعلوم ہواکہ ان اسکولوں پروڈیروں نے قبضہ کیاہواہے اوروہاں وڈیروں کے بندوق بردار تعینات تھے جنہوں نے ایجوکیشن کے عملے کویہ کہہ کربھگادیاکہ یہ وڈیروں کی اوطاق ہیں ، یہاں کوئی اسکول نہیں کھلے گا۔وڈیروں جاگیرداروں نے کوئی اسکول نہیں کھلنے دیا۔ انہوں نے کہاکہ وڈیروں کے بچے برطانیہ ،امریکہ میں پڑھتے ہیں اورجووہاں نہیں جاسکتے وہ پاکستان میں اولیول اسکولوں میں پڑھتے ہیں جبکہ غریب ہاریوں،کسانوں اورمزدوروں کے بچے آج 69 برس گزرجانے کے باوجودبنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 1973ء میں سندھ میں دیہی علاقوں کے عوام کوتعلیم اورروزگارکے میدان میں آگے لانے کے نام پر کوٹہ سسٹم کا کھیل کھیلاگیا اورشہری کے علاقوں کے لئے 40فیصداور دیہی علاقوں کے لئے 60فیصدکوٹہ مقررکیاگیالیکن دیہی سندھ کے کوٹے پربھی غریب سندھیوں کے بچوں کے بجائے وڈیروں جاگیرداروں نے فائدہ اٹھایا ، غریب سندھی آج بھی اعلیٰ تعلیم اورملازمتوں سے محروم ہیں۔ غریب ہاریوں کے بیٹے،مائیں،بہنیں آج بھی وڈیروں کی فصلوں پر کام کرتی ہیں اوراپناحق مانگنے کی پاداش میں انہیں نجی جیلوں میں پیروں میں بیڑیاں ڈال کرقیدمیں رکھاجاتاہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ وڈیروں جاگیرداروں نے سندھ میں ایسی نفرت پھیلائی کہ سندھی اوراردوبولنے والے آپس میں لڑتے رہیں، ایک دوسرے کی املاک کوجلاتے رہیں،ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہیں اور ایک دوسرے سے نفرت کرتے رہیں۔انہی نفرتوں کی وجہ سے سندھی اوراردوبولنے والے برسوں ایک دوسرے ے نہیں مل سکے ۔میں نے سندھ دھرتی کے دونوں بیٹوں کے درمیان آپس میں اتحادویکجہتی کے لئے کوششیں کیں، اپنے گھرعزیزآبادسے سندھی بولنے والوں کوٹکٹ دیکرانہیں اسمبلیوں میں پہنچایا۔ انہوں نے سوال کیاکہ آج تک پیپلزپارٹی یاکسی قوم پرست جماعت نے کسی اردوبولنے والے کولاڑکانہ یااندرون سندھ کے کسی علاقے سے الیکشن لڑاکر اسمبلی میں بھیجا؟ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ میں 1973ء میں کوٹہ سسٹم دس سال کے لئے نافذ ہواتھالیکن آج تک رائج ہے اورآج تک اردو بولنے والوں کاحق تسلیم نہیں کیاجاتا۔ انہوں نے کہاکہ سندھ دھرتی ماں ہے اوراس کے دوبیٹے ہیں، ایک سندھی بولنے والااوردوسرا اردوبولنے والا لیکن بیٹوں کے نام الگ الگ ہونے سے ماں تبدیل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ دونوں بیٹوں کے گھرالگ الگ کردیئے جائیں۔ایک گھرمیں غریب مہاجر، سندھی، بلوچ، پنجابی، پختون، ہزارے وال اوردیگرکمیونٹیز والے رہیں گے جبکہ دوسرے گھرمیں وڈیرے جاگیرداررہیں گے۔ ماں ایک ہی رہے گی، دونوں بیٹوں کے گھرالگ ہوں گے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں تاریخ کاعلم ہوناچاہیے اور یہ معلوم ہوناچاہیے کہ جب 1973ء میں کوٹہ سسٹم نافذ ہواتھاتواس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں نہیں تھا اورنہ ہی اس وقت اے پی ایم ایس اوبنی تھی۔ اسی طرح 1964ء میں جب جنرل ایوب خان کے دورمیں ان کے بیٹے گوہرایوب کی سربراہی میں جشن فتح کے نام پر کراچی کی مہاجربستیوں پر حملے کرائے گئے تھے تواس وقت بھی الطاف حسین میدان سیاست میں نہیں تھا۔جناب الطاف حسین نے دل گرفتہ لہجے میں سندھی عوام کومخاطب کرتے ہوئے کہامیرے سندھی بھائیو! میں آپ سے درخواست کرتاہوں الطاف حسین کے گلے لگ جاؤ، الطاف حسین کواپنابھائی بنالو،مجھ پر شاہ لطیفؒ ، سچل سرمست ؒ ، لال شہباز قلندر کاقرض ہے ، مجھے ان بزرگوں کی سرزمین پر خون بہنااچھانہیں لگتا بلکہ ایک ہی بات اچھی لگتی ہے کہ، سائم سدائیں کرے متھے سندھ سکار۔۔۔دوست مٹھادلدار عالم سب آبادکریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سندھ میں کوئی ڈاکولٹیرابننانہیں چاہتا، یہ سب وڈیروں اورجاگیرداروں کے بنائے ہوئے ہیں اورجولوگ سندھ کوڈاکوؤں کی دھرتی کہتے ہیں وہ سندھ کوبدنام کرتے ہیں،جولوگ ایساکہتے ہیں کیاان کے علاقوں میں سب فرشتے بستے ہیں؟انہوں نے کہاکہ آج قوم دیکھ رہی ہے کہ پانامہ لیکس میں کس کس کانام آرہاہے جنہوں نے قوم کی دولت ملک سے باہر منتقل کی لیکن کوئی ان کے خلاف کارروائی کرنے والانہیں ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک میں قانون کی عمل داری اسی وقت ہوگی جب تعلیم عام ہوگی، اورجب قانون کی عمل داری ہوگی توکسی گرفتارشخص کو لاپتہ نہیں کیاجاسکے گابلکہ گرفتاری کے دوسرے دن ہی عدالت میں پیش کرناہوگااورکوئی بھی جج کسی کے زیراثرآکرمقدمے کی تاریخیں دے دے کرانصاف میں تاخیرنہیں کرسکے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی فوج میں کوئی ایسامجاہدپیداکردے جوچند ایمانداراوربہادرساتھیوں کے ساتھ ملکر ملک کولوٹنے والوں کاکڑااحتساب کرے اورعوام کوان سے نجات دلائے۔ جناب الطا ف حسین نے مطالبہ کیاکہ حیدرآبادسے گرفتارکئے گئے ایم کیوایم کے سینئرکارکن ندیم قاضی کوفی الفوررہاکیاجائے ، اس پر دھرنے کے تمام شرکاء نے ہاتھ اٹھاکراس مطالبے کی تائید کی ۔ جناب الطاف حسین نے دھرنے کے تمام شرکاء کوزبردست خراج تحسین پیش کیااورکہاکہ یہاں تمام اردواورسندھی بولنے والے اوردیگربرادریوں کے لوگ ایک گلدستے کی طرح ایم کیوایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔





تصاویر

9/29/2016 11:56:10 PM