Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حقیقی دہشت گرد اور کمالو گروپ کا ٹولہ دھمکیوں کے باوجود ایم کیوایم نہ چھوڑنے کی پاداش میں کارکنان کو پولیس اور رینجرز کے ذریعے گرفتار کرارہا ہے ، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل


حقیقی دہشت گرد اور کمالو گروپ کا ٹولہ دھمکیوں کے باوجود ایم کیوایم نہ چھوڑنے کی پاداش میں کارکنان کو پولیس اور رینجرز کے ذریعے گرفتار کرارہا ہے ، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل
 Posted on: 5/31/2016
حقیقی دہشت گرد اور کمالو گروپ کا ٹولہ دھمکیوں کے باوجود ایم کیوایم نہ چھوڑنے کی پاداش میں کارکنان کو پولیس اور رینجرز کے ذریعے گرفتار کرارہا ہے ، ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل 
لانڈھی اور دیگر علاقوں میں حقیقی کی دہشت گردی کے باعث ایم کیوایم کے کئی کارکنان اپنی فیملیز کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور کردیئے گئے ہیں ، ڈپٹی کنوینر ایم کیوایم کنور نوید جمیل 
جرائم اور چائنا کٹنگ کی وجہ سے تنظیم سے خارج عناصر کومنظم کرکے ایک سیاسی جماعت کا نام دیکر ایم کیوایم کے مقابلے پر کھڑا کردیا گیا ہے ، کنور نویدجمیل 
عوامی حمایت سے محروم جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروشوں کے ٹولہ کو جبر ی طور پر عوام پر مسلط کرنے کا عمل فی الفور بندکرایاجائے ، کنورنوید جمیل 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس 
کراچی ۔۔۔31، مئی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر کنو ر نوید جمیل نے کہا ہے کہ جرائم پیشہ حقیقی دہشت گرد اور کمالو گروپ کے ضمیر فروش ایم کیوایم کے کارکنان کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر ایم کیوایم نہیں چھوڑی تو تمہیں رینجرز اور پولیس کے ذریعے گرفتار کرادیاجائے گا، یہ بات دھمکیوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایم کیوایم نہ چھوڑنے کی پاداش میں کئی کارکنان کو رینجرز اور پولیس کے ذریعے گرفتار کرواکر جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں قید کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لانڈھی ، کورنگی ، ملیر ، شاہ فیصل کالونی اور لائینز ایریا میں مختلف ایجنسیز کی سرپرستی میں جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں اور کمالو گروپ کے ضمیرفروشوں کی غنڈہ گردی میں بہت زیادہ شدت آگئی ہے ، ایک جانب کراچی آپریشن چل رہا ہے اور دوسری جانب حقیقی دہشت گردوں کے ٹولے کھلے عام اسلحہ لئے دندناتے پھر رہے ہیں ، لانڈھی اور دیگر علاقوں میں حقیقی کی دہشت گردی کے باعث ایم کیوایم کے کئی کارکنان اپنی فیملیز کے ہمراہ نقل مکانی پر مجبور کردیئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افسران ضرور ایسے ہیں جو اپنی من مانی اور اپنا سیاسی ایجنڈا لیکر چل رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں جمہوریت اور پاکستان کا امیج متاثر ہورہا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، رابطہ کمیٹی کے ارکان شبیر قائم خانی ، عبد القادر خانزادہ اور عارف خان ایڈووکیٹ بھی موجود تھے ۔ کنور نوید جمیل نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں حقیقی دہشت گردوں نے لائینز ایریا میں ایم کیوایم کے آفس کو جلایا جبکہ گزشتہ دنوں بھی لانڈھی میں ایم کیوایم کے آفس کو جلایا گیا جب عوامی نمائندے اور چیئرمین اس کی ایف آئی آر درج کرانے کیلئے لانڈھی تھانے پر پہنچے تو تھانے کے سامنے حقیقی دہشت گردوں نے نہ صرف ایم کیوایم کے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ایم کیوایم کے ایک کارکن کو پولیس کی موجودگی میں گولی ماری جس کی ایف آئی آر درج ہے اور دس دن گزر جانے کے باوجود کوئی گرفتاری نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ینجرز اور پولیس کو حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروشوں کی غنڈہ گردی سے آگاہ کرتے رہے ہیں لیکن ان کی غنڈہ گردی میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی ہے ، ایک جانب کراچی میں آپریشن چل رہا ہے لیکن اس کے باوجود ان علاقوں میں حقیقی دہشت گردوں کے بڑے بڑے ٹولے کھلے اسلحے کے ساتھ دندناتے پھرتے ہیں اور نہیں نہ پولیس گرفتار کرتی ہے اور نہ ہی رینجرز گرفتار کرتی ہے ۔ ا نہو ں نے پولیس اورر ینجرز کی جانب سے ہماری شکایات پر عدم توجہی اور تحفظ نہ دینے کے باعث ملیر ، شاہ فیصل ، لائینز ایریا اور خصوصاً لانڈھی سے ہمارے سینکڑوں کارکنان اور ان کی فیملیز نقل مکانی کرگئی ہیں ، ایم کیوایم نے متعدد بار رینجرز ، پولیس اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس بارے میں بتایا لیکن تاحال کسی جانب سے کوئی مثبت کاروائی اور اقدام نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں میں بڑا خوف و ہراس ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسا آپریشن ہے کہ جس میں صرف ایم کیوایم کو نشانہ بنایا گیا ہے ، ایم کیوایم کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کرکے اور ان پر جھوٹی ایف آئی آر بناکر انہیں پابند سلاسل کردیا گیا ہے ، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملیر میں دو واقعات ہوچکے ہیں جس میں ایم کیوایم ملیر کے دو کارکنان عاصم حسین ، فہد ذکی اور ایک ہمدرد امیر حیدر کو حقیقی دہشت گرد فائرنگ کرکے قتل کرچکے ہیں اور یہ سب کچھ انتظامیہ ، پولیس اورینجرز کی نظروں کے سامنے ہورہا ہے جس سے یہ بات نہ صرف پاکستان اوردنیا میں عیاں ہوتی جارہی ہے کہ کراچی آپریشن جانبدارانہ ہے جسکا مقصد کراچی میں امن و امان کا قیام قطعی طور پر نہیں ہے بلکہ اس کے مذموم سیاسی مقاصد ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم نے جنہیں مختلف جرائم ، چائنا کٹنگ کی وجہ سے تنظیم سے خارج کردیا تھا ان سب کو منظم کرکے ، ایک سیاسی جماعت کا نام دیکر ایم کیوایم کے مقابلے پر کھڑا کردیا گیا ہے اور ان کی مکمل سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ عناصر جب ایم کیوایم میں تھے تواسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الزم لگایا جاتا تھا کہ یہ بلوچستان میں را کی مدد سے ٹریننگ کیمپ چلا رہے ہیں ، ان پر پانچ سو جے آئی ٹیز ہیں اور سو قتل کے مقدمات ہیں آج جب وہ ایم کیوایم سے نکال دیئے گئے تو پورے کراچی میں دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں گرفتار کرنے والا کوئی نہیں ہے ، انہیں اسٹیبلشمنٹ کے بعض افسران کی جانب اگر اسی طرح سے تحفظ فراہم کیاجاتا رہا تو اس سے کراچی اور پاکستان میں کس طرح پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے؟ ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم سے نکالے ہوئے کمالو گروپ اور حقیقی دہشت گرد ایم کیوایم کے کارکنان کو برملا دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر تم نے ایم کیوایم کو نہیں چھوڑا اور ایم کیوایم سے نکالے گئے غداروں کو جوائن نہیں کیا توتمہیں رینجرز اور پولیس سے گرفتار کروا دیا جائے گااور ان کی دھمکیوں پرعمل کیاجارہا ہے ، کیونکہ جنہیں یہ کہاجارہا ہے انہیں بعد میں چھاپے مار کر گرفتار کیاجارہا ہے اور زبردرستی وفادریاں تبدیل کرائی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے دنوں حیدرآباد سے ایم کیوایم کے سابق سیکٹر انچارج ندیم قاضی کودوران ڈیوٹی سادہ لباس والوں نے گرفتار کیااورپولیس کہتی ہے کہ وہ ہمارے پاس نہیں ہیں ، سوال یہ ہے کہ دس دن سے زیادہ ہوگئے یہ کون لوگ ہیں جو عدالتی احکامات تک ماننے کیلئے تیا رنہیں ہیں ، یہ کن اداروں کے لوگ ہیں کہ جنہیں ہائی کورٹ سے نوٹس جارہے ہیں اور انہیں بازیاب نہیں کیاجارہا ہے ۔ اسی طرح سے ہمارے بے گناہ کارکنان جنہیں جھوٹی ایف آئی آر میں ملوث کرکے جیلوں میں بند کردیا ہے انہیں لالچ دی جارہی ہے کہ اگر آپ ایم کیوایم سے نکالے گئے غداروں کمالو گروپ کو جوائن کریں گے تو آپ کے مقدمات ختم اور جیل سے رہائی ممکن ہوجائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ اسطرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے سندھ کے لوگوں اور خاص طور سے مہاجروں کے دلوں سے جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم کی محبت کو ختم نہیں کیاجاسکتا ،اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے اداروں کوعوام کی نظر میں متنازعہ بنایاجارہا ہے اور ان کے غیرسنجیدہ ، غیر دانشمندانہ اور غیر پیشہ وارانہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان کے معزز اداروں پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں انگلی اٹھی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افسران یہ سمجھتے ہیں کہ جرائم پیشہ لوگ ان کے کہنے پر عمل کریں گے تو ایسا نہیں ہوگا وہ چند باتیں مان لیں گے لیکن جب ان کو موقع ملے گا تو پھر وہ کراچی میں دوبارہ سے جرائم کا بازار گرم کردیں گے ۔ ہم پہلے بھی ایم کیوایم میں سے مختلف جرائم پیشہ لوگوں ، چائنا کٹنگ کرنے والوں کو نکال چکے ہیں آج پھر کراچی میں دوبارہ سے چائنا کٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اگر اداروے اور حکومت ایسے لوگوں کی سرپرستی بند نہیں کریں گے تو کراچی اسی طرح سے ٹکڑوں میں بٹ کر تقسیم ہوتا رہے گا کراچی کے عوام کبھی بھی سکون کی نیند نہیں سو سکیں گے ۔ کنور نوید جمیل نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ، ڈی جی رینجرز بلال اکبر اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی حمایت سے محروم جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروشوں کے ٹولہ کو جبر ی طور پر عوام پر مسلط کرنے کا عمل فی الفور بندکرایاجائے ، ایم کیوایم کے کارکنان پر تشدد ، انہیں قتل کرنے اور وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے دھمکیاں دینے والے حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروشوں کے خلاف فی الفور کاروائی کی جائے اور ایم کیوایم کو انصاف کی فراہمی سے محروم رکھنے کا ناروا عمل فی الفور بند کرایاجائے ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن شبیر قائم خانی نے بتایا کہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ہی ایم کیوایم کے کارکنان ہراساں نہیں کیاجارہا ہے بلکہ پنجاب، خیبر پی کے اور بلوچستان میں بھی ایم کیوایم کے ذمہ داران کو نامعلوم نمبروں سے فون کرکے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ و ہ ایم کیوایم چھوڑ دیں ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ دنوں پہلے لاہو رمیں 37سے زائد ہائی کورٹ کے وکلاء نے ایم کیوایم میں شمولیت کا اعلان کیا اور الزامات کے باوجود ملک بھر سے لوگ ایم کیوایم میں شمولیت کررہے ہیں ، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ۔


12/3/2016 12:54:42 AM