Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کچھ قوتیں مسلسل حقیقی دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار


کچھ قوتیں مسلسل حقیقی دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 5/27/2016
کچھ قوتیں مسلسل حقیقی دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی اور خاص طور پر ملیر میں حقیقی دہشت گردوں کو اشتعال انگیزی ، شرانگیزی ، فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا کھلا لائسنس دیکر ایم کیوایم کے کارکنوں اور حامیوں کو گھات لگا کرقتل اور زخمی کیاجارہا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
کور کمانڈر سندھ کی یقین دہانی کے باوجود ملیر میں حقیقی دہشت گردوں نے مزید دو کارکنوں کو قتل کردیا ، ڈاکٹر فاروق ستار
حقیقی دہشت گردو ں کی قتل و غارتگری امن کو قائم رکھنے والوں کیلئے امتحان اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
حقیقی دہشت گرد کارکنوں کے گھروں پر نشانات لگا کر گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار
وزیراعظم ، وفاقی وزیرداخلہ ، وزیر اعلیٰ سندھ ، ، وزیر داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ ، ڈی جی رینجرز بلال اکبراور کور کمانڈ کراچی نوید مختار حقیقی دہشت گردوں کی قتل و غارتگری کا سلسلہ بند کرائیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پر یس کانفرنس سے خطاب
کر اچی ۔۔۔27مئی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہا ہے کہ لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی اور خاص طور پر ملیر میں حقیقی دہشت گردوں کو اشتعال انگیزی ، شرانگیزی ، فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا کھلا لائسنس دیکر ایم کیوایم کے کارکنوں اور حامیوں کو گھات لگا کرقتل اور زخمی کیاجارہا ہے اور کچھ قوتیں مسلسل حقیقی دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملیر میں ایک ہفتہ قبل فہد ذکی کی حقیقی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت اور آفتاب احمد شہید کی شہادت کے اگلے روز میری کور کمانڈ سندھ جنرل نوید مختار سے فون پر بعد ہوئی تھی جس کے بعد انتظامی مشینری تھوڑی سی حرکت میں آئی اور دو حقیقی دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا جس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور سمجھے کہ اب حقیقی دہشت گردوں کی جانب سے قتل کے واقعات نہیں رونما نہیں ہوں گے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی بڑی اتھارٹی جنرل نوید مختار سے بات ہوجانے کے بعد بھی ملیر میں حقیقی دہشت گردوں نے مزید ایم کیوایم کے دو کارکنوں کو کھلے عام فائرنگ کرکے شہید کردیا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین شبیر قائم خانی ، رضوان بابر ، زاہد منصور ی اور ارشد حسن کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاورق ستار نے کہاکہ کچھ قوتیں مسلسل دہشت گردوں کی سرپرستی کرکے مسلسل ہمارے صبر کا امتحان لے رہی ہیں اور تواتر کے ساتھ کراچی کے کچھ علاقوں میں شرانگیزی ، اشتعال انگیزی اور فتنہ گیری کی جارہی ہے ۔ گزشتہ روز ایک اور ہمارا پیارا کارکن اور ایک پیاراحامی ہم سے چھین لیا گیا ہے ،کل شام دیر گئے ملیر جعفر طیار سوسائٹی میں نادے علی امام بارگاہ کے باہر کارکن سید عاصم حسین ولد انوار احمد ایم کیوایم کے ایک حامی امیر حیدر کے ساتھ امام بارگاہ کے باہر بیٹھے تھے اور تین موٹر سائیکل پر چھ سواردہشت گردوں کو شناخت کیا گیا ہے اور ان کا تعلق حقیقی دہشت گرد ٹولے سے ہے انہوں نے ان دنوں کارکنوں پر گولیاں برسائیں جس کے نتیجے میں سید عاصم حسین کے سر میں دو گولیاں لگیں ، دو گولیاں گردن میں لگیں اسی طرح امیر حیدر کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔اس طرح کا سنگین دہشت گردی کا دوسرا واقعہ ملیر ہی میں ایک ہفتہ قبل ہوا تھا ، واقعہ کے مطابق ملیر کے علاقہ سعود آباد کھوکھراپار یوسی 5میں ہمارے ایک اور کارکن فہد ذکی کو بھی اسی طرح گھات لگا کر شہید کیا گیا تھا، ایک ہفتہ پہلے ہونے والا واقعہ بھی ٹارگٹ کلنگ تھی اور گزشتہ روز کا واقعہ بھی ٹارگٹ کلنگ ہے ، یہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ دو بڑے واقعات ہیں جن میں ایم کیوایم کے کارکنوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنا کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن کے قیام کی دن رات کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی جارہی ہے اورصرف مئی کے مہینے میں لانڈھی ، کورنگی ملیر اور شاہ فیصل میں حقیقی دہشت گردوں کے چھوٹے بڑے دہشت گردی کے حوالے سے بیس واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔،مارچ اور اپریل میں چھاپے و گرفتاریاں عروج پر تھیں ، اس میں کمی آئی توایم کیوایم کو دہشت گردی کا نشانہ بنا کر انگیج رکھاجارہا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ہمارے بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کرکے چھاپے گرفتاریوں کے معاملات میں الجھایاجارہا ہے اور ہمیں پانی بجلی ، نکاسی آب ، غربت کے خاتمے ، تعمیر و ترقی ، بے روزگاری کے خاتمے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل سے دور رکھاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اشتعال انگیزی کرکے مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ ہمارے کارکن بھی حقیقی دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ محاذ بنا لیں اور ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ملیر ، شاہ فیصل کالونی ، لانڈھی کو میدان جنگ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ حقیقی دہشت گردو ں کی قتل و غارتگری امن کو قائم رکھنے والوں کیلئے امتحان بھی ہے اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج ہے کیونکہ ان علاقوں کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایاجارہا ہے ۔ ملیر سعودآباد کھوکھرا پار اور جعفر طیار سوسائٹی کے علاقے پی ایس 127کے انتخابی حلقہ میں آتے ہیں ،رکن اسمبلی کے منحرف ہوجانے کے بعد اور صوبائی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے کے بعد وہاں ضمنی الیکشن ہورہا ہے ، ضمنی الیکشن کو خراب کرنے اور ضمنی الیکشن میں لوگوں کو انتخابی مہم قائم کرنے اور اس میں حصہ لینے اور انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے روکنے کیلئے بھی دہشت گردی کی جارہی ہے اور ایک تیر سے کئی شکار کئے جارہے ہیں ، ایک طرف قانون نافذ کرنے والوں کی کوششوں کو سبوتاژ کیاجارہا ہے اور امن کیلئے خطرہ پیدا کیاجارہا ہے اور دہشت گردی کرکے گھات لگا کر لوگوں قتل کرکے پرامن ماحول خراب کیاجارہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقی دہشت گرد رینجرز اور پولیس کے امن و امان کے دعووؤں کو کھلے عام جھٹلا رہے ہیں، ان کے پاس اسلحہ ہے وہ جب چاہے اپنی مرضی سے جائے وقوعہ کا انتخاب کرتے ہیں ، وقت اورجگہ کا تعین کرتے ہیں اور کارکنان کو قتل کرتے ہیں اس طرح کرکے حقیقی دہشت گردحکومت کی عملداری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے امن و امان کے دعوؤں اور حکومت کی آئینی و جمہوری رٹ کو بھی چیلنج کررہے ہیں اوریہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں۔انہوں نے کہاکہ حقیقی دہشت گردوں نے ملیر میں کارکنوں اور حامیوں کے گھروں پر نشانات لگا کر انہیں خط کے ذریعے بارآور کررہے ہیں کہ جلد اپنے گھروں کو چھوڑ دیں کیونکہ حقیقی دہشت گرد کارکنوں اور حامیوں کے گھروں پر قبضہ کرناچاہتے ہیں ،ایک طرف ایم کیوایم کے کارکنان کو شہید کیاجارہا ہے اور دوسری جانب ان کے گھر خالی کرائے جارہے ہیں اور گھر خالی نہ کرنے کی صورت میں انہیں بھی قتل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو بھی سنگین نوعیت اور انسانی زندگیوں کے حوالے سے ہونے والے معاملے میں ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ انہوں نے وزیراعظم ، وفاقی وزیرداخلہ ، وزیر اعلیٰ سندھ ، ، وزیر داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ ، ڈی جی رینجرز بلال اکبراور کور کمانڈ کراچی نورید مختار سے اپیل کی کہ وہ ان سازشوں کے سلسلے کو بند کرائیں، ملیر کے انتخابی ماحول کو تباہ وبرباد کرنے کی سازش کا نوٹس لیں ، حکومت کی آئینی و جمہوری اور قانون عملداری کی دھجیاں اڑانے والے حقیقی دہشت گردوں کی گرفت کریں اور سازش کرنے والوں کو بے نقاب کریں ۔انہوں نے کہا کہ حقیقی دہشت گردوں کی طاقت ریاستی طاقت سے بھی بڑی ہے وہ ریاست کو کھلے عام چیلنج کررہے ہیں اور مجھے کور کمانڈ سندھ جنرل نوید مختار نے یقین دلایا ہے کہ ہم اس معاملے کو دیکھتے ہیں لیکن اس کے بعد پھر ہمارے کارکنوں کو قتل کرنے کے واقعات ہوئے ، اس کا مطلب ہے کہ وہاں اسلحہ بردار لوگ موجود ہیں ، اگر انٹیلی جنس اداروں کو اسکی پیشگی اطلاع نہیں تو جائزہ لینا ہوگا کہ امن کیلئے کن کن عناصر سے خطرہ ہے ۔ ہم انٹیلی جنس معلومات میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں ، امن کو ہر حال میں برقرا ررکھنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں، وسائل اور کوششیں وقف کررہے ہیں تو پھر قانون نافذکرنے والے اداروں کو جو کراچی میں ایسے عناصر ہیں جن سے امن کو خطرہ ہے انہیں بھی لگام دینی چاہئے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارے شہداء کے لواحقین ہم سے کہتے ہیں کہ آپ حقیقی دہشت گردوں کے آگے سر نگوں ہوجائیں ، حقیقی دہشت گردوں کی طاقت کو تسلیم کرلیں کیونکہ ہم اپنے کارکنان کی قتل و غارتگری کا سلسلہ نہیں رکوا پارہے ہیں اور قانون نافذ کرنے ادارے اور حکومت بے بس ہیں ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیر اعظم نواز شریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، کور کمانڈر کراچی جنرل نوید مختار کور کمانڈ ر اور ڈی جی رینجرز بلال اکبر کہا کہ وہ ہمیں کھل کر بتا دیں ہم اپنے کارکنوں کو کہہ دیں کہ گھروں کو چھورڑدیں اور علاقے حقیقی کے حوالے کردیں تو ہم خدا کی قسم کردیں گے ۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب ہمیں انصاف دینے کی بات ہو تو فوری قانون حرکت میں نہیں آتااور کوئی ایسی چیز ہو جس میں ہمیں فٹ کرنا ہے قانون فورا حرکت میں آجاتا ہے ، خود بخودایف آئی آر درج ہوجاتی ہے یہ قانون نافذ کرنے والوں کی دو عملی ہے اور ہمیں انصاف اور تحفظ دینے میں بھی امتیازی سلوک کیاجارہا ہے۔ 

12/9/2016 9:04:45 PM