Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنرل راحیل شریف پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ پر سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کریں۔ الطاف حسین


جنرل راحیل شریف پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ پر سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کریں۔ الطاف حسین
 Posted on: 5/24/2016
جنرل راحیل شریف پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ پر سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کریں۔ الطاف حسین
کانفرنس میں قومی اتفاق رائے قائم کیاجائے ،جذباتیت کے بجائے غیرت وحمیت پر مبنی فیصلے کیے جائیں
کرپشن ملک کی سب سے بڑی بیماری ہے لیکن اس بیماری کاعلاج کون کرے گا؟
جولوگ کرپشن میں ملوث ہیں ان کااحتساب ہوناچاہیے لیکن سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ احتساب کون کرے گا ؟
عدلیہ بحیثیت ادارہ بہت ہی قابل احترام ہوتاہے لیکن ہمارے ملک میں بدقسمتی سے عدلیہ بھی کرپشن سے محفوظ نہیں ہے
فوج کاادارہ بھی کرپشن سے پاک نہیں ہے اورنہ صرف نچلی سطح بلکہ جرنیلوں تک کی سطح کے لوگ کرپشن میں ملوث پائے گئے
جس طرح اوپرکی منزل تک پہنچنے کیلئے سیڑھی یالفٹ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیرکوئی بھی ملک ترقی کی منزلیں طے نہیں کرسکتا
پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کوپنپنے نہیں دیاجاتا،ملک کاسب سے بڑاشہرکراچی آج بھی بلدیاتی نظام سے محروم ہے
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام اتناہی ضروری ہے جتنا کسی جاں بلب مریض کیلئے وینٹی لیٹر ضروری ہے
بہتر نظام حکومت کیلئے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائیں جائیں اورانتظامی بنیاد پر سندھ میں ہمارا بھی صوبہ بنایاجائے
تمام تر مصائب ومشکلات کے باوجودفرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایم کیوایم کی پرامن جدوجہد جاری ر ہے گی، 
ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ امن اوردوستی چاہتے ہیں، ہم بات چیت کے ذریعے مسئلے کاحل چاہتے ہیں
نائن زیروپررابطہ کمیٹی، ارکان پارلیمنٹ اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب
لندن۔۔۔ 24 مئی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی حدود میں امریکی حملہ پر قومی اتفاق رائے قائم کی جائے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کرکے وہاں جذباتیت کے بجائے غیرت وحمیت پر مبنی فیصلے کیے جائیں۔انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپررابطہ کمیٹی، ارکان پارلیمنٹ اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اپنی پریس کانفرنس میں امریکی حملہ کو بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ اگر ان کے بقول یہ حملہ ، پاکستان کی غیرت وحمیت پر حملہ ہے تو انہیں آج ہی یہ اعلان کردینا چاہیے کہ ہم بھوکے مرجائیں گے لیکن امداد کے نام پر امریکہ سے ایک پیسہ بھی نہیں لیں گے ، اگر ارباب اقتدار باضمیر ہیں تو کھل کرکہیں کہ ہم کاغذ کے جہازبنالیں گے لیکن ہمیں امریکہ کے F-16 طیاروں اور ڈرون طیاروں کی کوئی ضرورت نہیں ہے اورہم اپنے علاقوں میں تیارکیے گئے آتش بازی کے سامان سے آتش بازی کرلیں گے، ہمیں آسمان کی بلندی کی چھونے والی امریکی آتش بازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حدود میں امریکی حملہ پر قومی اتفاق رائے قائم کی جائے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کرکے وہاں جذباتیت کے بجائے غیرت وحمیت پر مبنی فیصلے کیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ امریکہ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی تو حکمرانوں کی جانب سے کہاگیا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے اور ہم صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں ، حکمراں ، امریکہ کے سامنے نہیں بول سکتے لیکن جب الطاف حسین نے کہاکہ آپ ایم کیوایم کے ساتھ ظلم کررہے ہیں ، غریبوں کو پکڑ کرقتل کررہے ہیں تو میری باتوں پرغورکرنے کے بجائے میری تقریراور تصویر پر پابندی عائد کردی گئی۔ میں حسینیت ؑ کا پیروکار ہوں ، حسینی سر کٹ تو سکتا ہے لیکن یزیدیت کے آگے جھک نہیں سکتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ آج کرپشن ملک کاسب سے بڑا مسئلہ ہے، کرپشن ملک کی سب سے بڑی بیماری ہے، اس بیماری کاعلاج ہوناچاہیے اورجولوگ کرپشن میں ملوث ہیں ان کااحتساب ہوناچاہیے لیکن اس کیلئے سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ اس بیماری کاعلاج کون کرے گا؟ احتساب کس سے کرایا جائے گااور کون کرے گا ؟کیااحتساب کرنے کیلئے آسمان سے فرشتے آئیں گے؟یقیناًفرشتے نہیں آئیں گے توکیامفتی اعظم احتساب کریں گے؟انہوں نے کہاکہ عدلیہ بحیثیت ادارہ بہت ہی قابل احترام ہوتاہے اور ججزبھی قابل احترام ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بدقسمتی سے عدلیہ بھی کرپشن سے محفوظ نہیں ہے ، سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس جن کی برطرفی پر پورے ملک میں ہنگامہ برپاکیاگیااورجنہیں فرشتہ بناکرپیش کیاوہ بھی کرپشن میں ملوث پائے گئے، اگراحتساب کیلئے فوج کوذمہ داری دی جائے تو فوج کا ادارہ بھی کرپشن سے پاک نہیں ہے اورنہ صرف نچلی سطح بلکہ جرنیلوں تک کی سطح کے لوگ کرپشن میں ملوث پائے گئے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ سب میرے خلاف اسی لئے ہیں کہ میں حق اورسچ کی بات کرتا ہوں، میں مذہبی انتہاپسندوں کے خلاف ہوں، میرے گھرسے ڈینئل پرل کاقاتل خالدشیخ محمداور القاعدہ اورطالبان کے دیگربڑے بڑے دہشت گردنہیں پکڑے گئے ، اسی لئے میرے گھر نائن زیروپر چھاپے مارے گئے اورمیرے گھرسے کرمنلز پکڑے جانے کے الزامات لگائے گئے جو سراسرجھوٹ ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ کرپشن ملک کودیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ، کسی بھی ملک کی ترقی ، خوشحالی، سلامتی، مضبوطی، استحکام، امن وامان کی بہترصورتحال، صاف ستھراماحول، صاف غذا، ملاوٹ سے پاک غذا اسی وقت ہوسکتی ہے جب ملک میں کرپشن نہ ہو،جب ملک سے کرپشن کاخاتمہ ہوگاتوملک میں تعلیم کانظام بھی بہترہوگااورنقل کارجحان ختم ہوگا۔ ملک میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ضرورت پر ذور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جس طرح کالج اوریونیورسٹی کی تعلیم کے لئے پرائمری اورسیکنڈری کی تعلیم ضروری ہے اسی طرح لوکل گورنمنٹ سسٹم بھی جمہوریت کی نرسری ہے ،جس طرح اوپرکی منزل تک پہنچنے کے لئے سیڑھی یالفٹ کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیرکوئی بھی ملک ترقی کی منزلیں طے نہیں کرسکتا۔آج ایشیاہویاافریقہ ، یورپی ممالک ہوںیاامریکہ ، دنیاکاکوئی بھی ملک ایسا نہیں کہ جہاں لوکل گورنمنٹ سسٹم نہ ہولیکن بدقسمتی سے پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کوپنپنے نہیں دیاجاتااورملک کاسب سے بڑاشہرکراچی آج بھی بلدیاتی نظام سے محروم ہے ۔
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پرذوردیتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب بچے بڑے ہوجائیں ، ان کی شادیاں ہوں اور انکے بچے ہوں تو سب کاایک ساتھ اس گھر میں رہنا مشکل ہوجاتا ہے تویاتوگھرمیں گنجائش ہوتو مزیدکمرے بنائے جاتے ہیں یاپھرسب اپنی رہائش کا علیحدہ علیحدہ انتظام کرلیتے ہیں اسی طرح جب ممالک میں آبادی بڑھتی ہے تو وہاں نئے نئے صوبے قائم کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کی آبادی 20کروڑ تک پہنچ گئی ہے لیکن آج بھی پاکستان میں وہی چار صوبے ہیں ، نئے صوبوں کا قیام ، پاکستان کیلئے اتناہی ضروری ہے جتنا کے کسی جاں بلب مریض کیلئے وینٹی لیٹر ضروری ہے ۔ ہم نہیں کہتے کہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم کیے جائیں لیکن اچھی طرز حکومت اور بہتر نظام حکومت کیلئے انتظامی بنیادوں پر نئے نئے صوبے بنائیں جائیں اورانتظامی بنیاد پرصوبہ سندھ میں ہمارا بھی صوبہ بنایاجائے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور زندگی کے ہر شعبہ میں ناانصافیوں اورزیادتیوں کے مسلسل عمل نے سندھ کے شہری عوام کے احساس محرومی کی شدت میں اضافہ کردیا ہے اور یہ احساس ہرگزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیارکرتا جارہا ہے ، کوئی مانے یا نہ مانے اردوبولنے والے مہاجروں کیلئے علیحدہ صوبہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنا صوبہ ضرور بنائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے ارباب اختیارمسلح افواج اورتمام پالیسی ساز اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم میں پروفیسر حسن ظفر عارف جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ ، باصلاحیت اور ایماندار افراد موجود ہیں ، ان جیسے لوگوں کے ہاتھ میں انتظام حکومت دیاجائے تو پاکستان کرپشن سے پاک ملک بن جائے گا۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار دیا جائے جو عزت وغیرت پر مرمٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور دولت کو اپنے پیرکی دھول سمجھتے ہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ تمام تر مصائب ومشکلات کے باوجودفرسودہ جاگیردارانہ اورظالمانہ نظام کے خلاف ایم کیوایم کی پرامن جدوجہد جاری ہے اورجاری ر ہے گی، ہم کسی سے لڑنانہیں چاہتے بلکہ امن اوردوستی چاہتے ہیں، ہم بات چیت کے ذریعے مسئلے کاحل چاہتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ لڑائی میں کسی کابھی خون بہتاہووہ انسان کاہی خون ہوتاہے اورسارے انسانوں کا خون ایک ہی جیساہوتاہے ،لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم خون خرابہ کے بجائے پرامن طریقے سے مسائل کوحل کریں۔ 



9/25/2016 12:27:23 AM