Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

منہاج قاضی کو جبر و تشدد کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کرمنلائزیشن کی مذموم پالیسی کا حصہ ہے۔ متین یوسف


منہاج قاضی کو جبر و تشدد کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کرمنلائزیشن کی مذموم پالیسی کا حصہ ہے۔ متین یوسف
 Posted on: 5/19/2016
منہاج قاضی کو جبر و تشدد کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کرمنلائزیشن کی مذموم پالیسی کا حصہ ہے۔ متین یوسف
باربار کہہ رہے ہیں کہ بیگناہ کارکنان پر رینجرز حراست میں غیر انسانی تشدد اور وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ مگر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ، متین یوسف 
آرمی چیف اور چیف جسٹس انور ظہیر جمالی مظالم کے خلاف اپنی آئینی ذمہ داری پوری کریں، متین یوسف
اپنی قوم کا مقدمہ پوری دنیا بشمول عالمی عدالت، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے رکھنے کے ساتھ ریاستی اداروں 
کے ظلم و ستم سے آگاہ کرتے رہیں گے ، متین یوسف 
واشنگٹن۔۔۔ 19؍مئی 2016
متحدہ قومی موومنٹ امریکہ کے سینٹرل آرگنائزر متین یوسف نے اے پی ایم ایس او جامعہ کراچی اور ایم کیو ایم کے کارکن منہاج قاضی کو شاہد حامد کے قتل کے جھوٹے مقدمہ میں ملوث کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اطلاقی کیمیا میں ماسٹرز ڈگری کے حامل اعلی تعلیم یافتہ منہاج قاضی کو جبر وتشدد کے ذریعے جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا کرمنلائزیشن کی مذموم پالیسی کا حصہ ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم بار بار کہ رہے ہیں کے ریاستی اداروں بالخصوص رینجرز کی جانب سے غیر قانونی طور پر گرفتار کارکنان پر غیر انسانی تشدد کیا جارہا ہے، جبر و تشدد کے ذریعے ان سے من پسند بیانات حاصل کرکے انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث اور دھمکیوں کے ذریعے اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے مگر تاحال کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ہی زیرحراست تشدد کے نتیجے میں ایم کیو ایم کے سینئر کارکن آفتاب احمدسمیت کئی بے گناہوں کو ماوارئے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقتول شاہد حامد کی بیوہ کا منہاج قاضی کو بطور قاتل شناخت کرنا دراصل انکی جھوٹی گواہی پر دلالت کرتا ہے اس سے قبل بطور عینی شاہد وہ اپنے حلفیہ بیانات اور کئی ٹی وی پروگرامز میں اس بات کا اقرار کر چکی ہیں کہ انہوں نے کسی بھی شخص کو قتل کرتے نہیں دیکھا۔ جھوٹی گواہی یہ ثابت کرتی ہے کہ پہلے صولت علی خان عدالتی قتل کا شکار بنائے گئے اور اب منہاج قاضی کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آفتاب احمد قتل کے نوٹس لیا تھا اگر شفاف تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں تو آپ کو اصل حقائق اور قانون کی وردیوں میں موجود کالی بھیڑوں کا علم ہو چکا ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ روز حیدر آباد میں جس طرح رینجرز نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا ہے جس طرح ماؤں بہنوں کی بے حرمتی کی ہے وہ بھی آپ سے مخفی نہیں ہوگا ہمارا سوال ہے کہ ایسا کب تک ہوگا اور دادرسی کیلئے ہم کس سے سوال کریں، خدارا مہاجروں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کو اب بند کروایئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سے بھی اپیل کی وہ ان تمام واقعات کا فی الفور نوٹس لیکر بے گناہوں کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روا مہاجروں کے ساتھ ظلم و ستم کے خلاف ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور ہم اپنی قوم کا مقدمہ پوری دنیا بشمول عالمی عدالت، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے رکھنے کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے ظلم و ستم سے آگاہ کرتے رہیں گے ۔ 

12/7/2016 11:59:07 PM