Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

را سے تعلقات قائم کرنا نہ کبھی ایم کیوایم کی پالیسی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ الطاف حسین


را سے تعلقات قائم کرنا نہ کبھی ایم کیوایم کی پالیسی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ الطاف حسین
 Posted on: 5/18/2016
را سے تعلقات قائم کرنا نہ کبھی ایم کیوایم کی پالیسی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ الطاف حسین
خداراغلط فہمیوں یا جھوٹی سچی رپورٹوں کی بنیاد پر ایم کیوایم کو ملک دشمن جماعت نہ سمجھیں
ایم کیوایم ایک محب وطن جماعت ہے ، ہم پر بھارت سے تعلقات کے تمام ترالزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں 
خدارامہاجروں کی حب الوطنی پر شک کرکے انہیں دیوار سے نہ لگایاجائے ،مہاجروں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں
ایم کیوایم ،فوج یا کسی ادارے کے نہ کل خلاف تھی نہ آج خلاف ہے ، خدارا ایم کیوایم کے حوالہ سے پالیسی میں تبدیلی لائیں 
آرمی چیف،کورکمانڈرز،اداروں کے سربراہان اور مسلح افواج کی پوری قیادت سے کہتے ہیں آئیے ہم سے ہاتھملائیں اور بہترتعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کریں
اگر کسی ملک نے جارحیت کی تو ایم کیوایم کے کارکنان ،پاک فوج سے آگے بڑھ کر دشمنوں سے لڑنے کیلئے تیار ہیں
پانامہ لیکس کے معاملے پرسب مل کرفیصلہ کریں جس میں فوج اورعدلیہ کوبھی شامل کیاجائے، اگر ایم کیوایم کاکوئی پکڑاجاتاہے تواس کوبھی سزادیں، اگرالطاف حسین بھی آف شور کمپنی میں پکڑاجاتاہے تو الطاف حسین کوبھی سزادیں
ملک کی خاطر فوج اورعدلیہ کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیارہیں۔ پاکستان کوکرپشن سے پاک دیکھناچاہتے ہیں
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد کراچی سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔17،مئی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مسلح افواج اور سیکوریٹی اداروں کو غیرمشروط تعاون پیشکش کرتے ہوئے کہاہے کہ ایم کیوایم بھارت سمیت کسی بھی ملک کی ایجنٹ نہیں ہے ، ایم کیوایم اور مہاجر اگر ایجنٹ ہیں تو صرف اور صرف پاکستان کے ایجنٹ ہیں، ایم کیوایم ماضی کو بھول کر پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے کام کرناچاہتی ہے اور پاکستان کو مضبوط ، مستحکم بنانے کیلئے اپنی غیرمشروط خدمات پیش کرتی ہے۔ بخدا ’’را‘‘ سے تعلقات قائم کرنا ، نہ کبھی ایم کیوایم کی پالیسی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ خداراغلط فہمیوں یا جھوٹی سچی رپورٹوں کی بنیاد پر ایم کیوایم کو ملک دشمن جماعت نہ سمجھیں ۔ ایم کیوایم ، پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے آگے بڑھ کر افواج پاکستان کا ساتھ دیا،ہم کل بھی فوج اور تمام قومی اداروں کا دل سے احترام کرتے تھے،آج بھی کرتے ہیں ،ہم کل بھی اپنے اداروں کے ساتھ تھے اورآج بھی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ خدارامہاجروں کی حب الوطنی پر شک کرکے انہیں دیوار سے نہ لگایاجائے ،مہاجروں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں ،انہیں گلے لگایاجائے ،ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اورمہاجروں کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔انہوں نے مسلح افواج کی پوری قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئیے ہم سے ہاتھ ملائیں ،دل سے دل ملائیں اورآج سے بہترتعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کریں۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار منگل کی شب لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں ہنگامی بنیادوں پر منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان، منتخب عوامی نمائندوں، ذمہ داروں اورکارکنوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں پر غداری کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، ماضی میں پختون رہنما باچا خان ، خان عبدالولی خان، سائیں جی ایم سیداوربلوچ رہنماؤں کوبھارتی ایجنٹ اور غدار قراردیا گیا، محترمہ بے نظیربھٹو شہید پر الزام عائد کیاگیا کہ انہوں نے پاکستان کے قومی راز اور سکھ علیحدگی پسندوں کی فہرست بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی کو پیش کرکے ملک دشمنی کا عمل کیا ، اسی طرح موجودہ وزیراعظم میاں نوازشریف نے پڑوسی ملک بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرناچاہے تو انہیں بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ غداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ خان لیاقت علی خان اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح پر بھی غداری کے الزامات لگائے گئے ، جب مہاجرطلباء تنظیم اے پی ایم ایس اواور مہاجروں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کاقیام عمل میں آیا تب سے آج کے دن تک ایم کیوایم اور مہاجروں پر ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہونے کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ،چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، مسلح افواج کے تمام کورکمانڈرز ، آئی ایس آئی ، ایم آئی ، پیراملٹری فورسز، ایف سی اور رینجرز کے اعلیٰ افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ، بانیان پاکستان کی اولادوں کی جماعت ہے ، یہ بھارت ، را، اسرائیل یا دنیا کے کسی بھی ملک کی ایجنٹ نہ تھی نہ ہے ۔ ایم کیوایم اورمہاجرعوام اگر ایجنٹ ہیں تو ماضی کی طرح آج بھی صرف اور صرف پاکستان کے ایجنٹ ہیں ۔جناب الطاف حسین نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف، آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر، ایم آئی کے چیف، مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت، کورکمانڈرز ، پیراملٹری فورسز ایف سی اور رینجرز بالخصوص ڈی جی رینجرز جنرل بلال اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ بخدا ’’را‘‘ سے تعلقات قائم کرنا ، نہ کبھی ایم کیوایم کی پالیسی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ غلط فہمیوں یا جھوٹی سچی رپورٹوں کی بنیاد پر ایم کیوایم کو ملک دشمن جماعت نہ سمجھیں ۔میں نے کبھی اپنے ساتھیوں کو سیکوریٹی فورسز سے لڑنے کا درس نہیں دیا بلکہ میں نے ہرکڑے اور آزمائش کے وقت ہمیشہ پاک فوج کو غیرمشروط تعاون کی پیشکش کی کہ اگر کسی ملک نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان ، پاک فوج کے جوانوں سے آگے بڑھ کر دشمنوں سے لڑنے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ میری مخلصانہ پیشکشوں کے باوجود چند بدکردار لوگوں کو سرپرستی فراہم کرکے کبھی حقیقی بنائی گئی اور کبھی ضمیرفروشوں کا ٹولہ تشکیل دیاگیا ، آخرایم کیوایم کے خلاف اس قسم کے گروپ بناکر اور ان پر اربوں روپے خرچ کرکے ملک وقوم کو کیافائدہ پہنچے گا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار اورسندھ کے دیگر شہری علاقوں کے عوام نے باربار ثابت کردیا ہے کہ وہ ایم کیوایم اور الطاف حسین کے ساتھ ہیں ۔ میں آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ ، پاک فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اورتمام کورکمانڈرز سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آپ کو اردوبولنے والوں میں جعلی گروپ چاہئیں یا ایم کیوایم جیسی عوامی جماعت میں شامل کروڑوں لوگوں کا قافلہ چاہیے ، میں فوج کے ذمہ داران کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ارباب اختیار کو چاہیے کہ وہ جعلی لوگوں پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے پانچ کروڑ مہاجروں ، لاکھوں سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، پنجابیوں ، سرائیکیوں ، کشمیریوں ، مسلم اور غیرمسلم محب وطن لوگوں کی جماعت ایم کیو ایم سے ہاتھ ملائیں ، انہیں غیرنہ سمجھیں اور انہیں برابر کا پاکستانی سمجھیں کیونکہ ایم کیوایم کے کارکنان وعوام کل بھی پاکستان کیلئے ہرقسم کی قربانی دینے کیلئے تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کوانتہائی نازک صورتحال کا سامنا ہے ، حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کرنے سے منع کردیا ، پاکستان کیلئے 440 ملین ڈالر کی امداد پرپابندی عائد کردی گئی، پاکستان کے خلاف دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں آرٹیکل شائع ہورہے ہیں کہ پاکستان ناقابل اعتبار دوست ہے اور پاکستان پوری دنیا میں دہشت گردوں کی تربیت کا مرکز ہے حتیٰ کہ چائنا بھی پاکستان کے حکمرانوں سے شکایت کررہا ہے کہ اس کے صوبے سنکیانگ میں موجود دہشت گردوں کی تربیت پاکستان میں ہوتی ہے ۔ان حالات میں پاکستان کو اندرونی استحکام اور اتحاد کی جتنی ضرورت آج ہے شائد پہلے کبھی نہیں تھی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ 19، جون1992ء سے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہا ہے ، اس کے دوران ایم کیوایم کے 20 ہزار سے زائد کارکنان کو شہید کیاجاچکا ہے ، ہزاروں کارکنان بہیمانہ تشدد کے باعث معذورہوچکے ہیں ، سینکڑوں کارکنان گرفتاری کے بعد سے آج تک لاپتہ ہیں لیکن اس کے باوجود ایم کیوایم اور مہاجرعوام پاکستان کی سلامتی وبقاء کیلئے اپنا کردارادا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ الطاف حسین ، پاکستان کاواحد رہنما ہے جس کا آج بھی کراچی میں 120 گزکا وہی گھر ہے جو اے پی ایم ایس او کے قیام سے قبل تھا ، ڈیفنس ،کلفٹن کراچی ، اسلام آباد یا لاہور سمیت پورے پاکستان میں الطاف حسین کا کوئی محل نہیں ہے ۔ میرے سینکڑوں سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اگرمیں چاہتا تو اپنے لئے پانچ پانچ ہزار گز کے مکانات پورے ملک میں بناسکتا تھا، اس کے بعد اگرمیرا نام پنامہ لیکس میں آتاتو آتا رہتا ،میں اپنی زندگی کے 40 برس عیش وعشرت سے گزارتا اور میراپورا خاندان مزے اڑاتا لیکن میں نے ایسانہیں کیاکیونکہ میری جدوجہداپنی ذات یااپنے خاندان کے مفادکے لئے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی حقوق کے حصول کیلئے ہے۔میری خوشی اورناراضگی بھی اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ عوام کیلئے ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن لوگوں کے پاس اقتدار ہوتا ہے ،طاقت ہوتی ہے ان کیلئے لازمی ہے کہ وہ کسی بھی عمل کو اس کے سیاق وسباق کے ساتھ دیکھیں ،پورے منظروپس منظر میں دیکھیں ،اس کے بغیرکسی بھی عمل کا تجزیہ کرنا انصاف نہیں ہے بلکہ کھلی ناانصافی ہے ۔صرف یہ نہ کہیں کہ الطاف حسین نے گالی دیدی، یہ بھی بتائیں کہ الطاف حسین نے اگرکوئی تلخ بات کی ہے توکیوں کی ہے ۔اگرمیرے لہجے میں تلخی آتی ہے تو خدارااس بات پربھی غور کریں کہ یہ تلخی کیوں آئی؟ جب میرے پیارے پیارے ساتھیوں کوجن کو میں اپنے چھوٹے بھائیوں اور بیٹوں کی طرح عزیز رکھتا ہوں ، گرفتارکرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجائے گا ،انکو لاپتہ کیا جائے گا ،ماورائے عدالت قتل کیاجائے گاتو کیا ان واقعات پر میرا غصہ ،میرادکھ فطری نہیں ہوگا؟کیا اپنے ساتھیوں کی زخموں سے چورچور لاشوں کی تصاویر دیکھ کر میرا دکھی ہونا فطری نہیں ہے ؟جب میرے ساتھیوں کا ماورائے عدالت قتل ہوگا، جب میرے بے گناہ ساتھیوں کو روز بلاجواز گرفتارکیاجائے گااوران پرتشددکیاجائے گا تو کیا یہ سب کچھ دیکھ کرمجھے خوشی ہوگی؟ جب ڈاکٹر فاروق ستاراور وسیم اختر سمیت تمام منتخب نمائندوں پرروز جھوٹے مقدمات قائم ہوں گے ،انہیں دھمکیاں ملیں گی توکیایہ سب جان کرمیرے لہجے میں تلخی نہیں آئے گی؟ جب ریاستی ادارے کھلم کھلا ایم کیوایم کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے، اس کے خلاف گروپ کھڑے کریں گے توتحریک کے قائد کی حیثیت سے میرااحتجاج جائزنہیں ہوگا؟انہوں نے مزیدکہاکہ پچھلے تین برسوں سے ہمارے خلاف بدترین آپریشن چل رہا ہے ، ایک ہزار سے زائد کارکن یا تو جیلوں میں اسیر ہیں یا 90 دن کے ریمانڈ پر ہیں ، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ کارکن لاپتہ ہیں ، 60 کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے ، میرے کارکنوں کوگرفتارکرکے ان کا میڈیا ٹرائل کیاجارہا ہے ،ہزاروں کارکن گھروں سے دربدر ہیں ،انہیں نوکریوں سے نکالاجارہا ہے ، لانڈھی،ملیراورلائنزایریا میں ہمارے کارکنوں کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنایاجارہا ہے ، کوئی اس ظلم کوروکنے والا نہیں ہے، ان سب مظالم کے بعد بھی کیاہمارے لہجہ میں تلخی نہیں آئے گی؟ انہوں نے کہاکہ یہ کہا جاتا ہے کہ الطاف حسین ، فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کرتا ہے ۔ میں آج اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میرا اختلاف کسی فرد واحد سے تو ہوسکتا ہے لیکن کسی ادارے سے ہرگز نہیں ہوسکتا ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارا کسی ادارے سے کوئی اختلاف نہیں ہے ،ہم اگر زیادتیوں کے واقعات پر جذبات میں آکر کوئی بات کرتے ہیں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم پورے ادارے کے خلاف بات کررہے ہیں، ہماری تنقید کسی فرد کے خلاف تو ہوسکتی ہے لیکن پورے ادارے کے خلاف ہرگز نہیں ہوتی ۔ پاکستان کے ادارے ہمارے ادارے ہیں اورہم اپنے اداروں کے خلاف بات کرنے کا تصور نہیں کرسکتے ،ہم کل بھی تمام اداروں کا احترام کرتے تھے آج بھی تمام اداروں کا دل سے احترام کرتے ہیں ہم کل بھی اپنے اداروں کے ساتھ تھے اورآج بھی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ ایم کیوایم ،فوج یا کسی ادارے کے نہ کل خلاف تھی نہ آج خلاف ہے ۔الطاف حسین نہ کل فوج کے خلاف تھا نہ آج خلاف ہے ۔جناب الطاف حسین نے مسلح افواج اور سیکوریٹی اداروں کے سربراہان کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ میں آپ کو پاکستان اور اس کی سلامتی کا واسطہ دیتا ہوں کہ خدارا ایم کیوایم کے حوالہ سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیں ، میں بھی انسان ہوں، مجھ سے بھی غلطی ہوسکتی ہے، میں اپنے پیارے پیارے ساتھیوں کی شہادت اور حراست کے دوران ان پر وحشیانہ مظالم کے واقعات دیکھ کر اپنے جذبات پرقابونہ رکھ سکا ، اگر کہیں میرے منہ سے تلخ جملے نکل گئے ہیں تو میں اس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں، خدارا اس کی سزا میری قوم کو مت دیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے دیگر لیڈروں کی جانب سے بھی فوج پر تنقید کی گئی لیکن کسی کے خلاف وہ سلوک نہیں کیاگیا جو ایم کیوایم کے بانی وقائد الطاف حسین کے ساتھ روا رکھا جارہا ہے ، پاکستان میں الطاف حسین کے سوا کسی بھی لیڈر کے خطاب پر پابندی عائد نہیں کی گئی جبکہ میری تقریر، تحریراور تصویر کو نشر وشائع کرنے پر آج تک پابندی عائد ہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ صرف ہمیں نشانہ کیوں بنایاجاتا ہے ؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پر راسے تعلق کاالزام لگایاجاتاہے لیکن میں ایک مرتبہ پھر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ایم کیوایم ایک محب وطن جماعت تھی اور محب وطن جماعت ہے ، ہم پر بھارت سے تعلقات کے تمام ترالزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں ،چند لوگوں پرالزامات کی بنیادپرپوری جماعت یا پورے طبقہ آبادی کوقصوروارٹھہرانا، ان کی حب الوطنی پر شک کرنا، بانیان پاکستا ن اور انکی لازوال قربانیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے انکی قربانیوں پر خط تنسیخ پھیرنے کے مترادف ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اورفوج کی تمام ایجنسیوں کے سربراہان کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ خدارامہاجروں اور ایم کیوایم کو اپنا دوست سمجھیں،مہاجروں نے ہمیشہ غیرمشروط طورپر پاکستان کا ساتھ دیا ہے ،پاکستان بنانے والوں میں وہ سب سے آگے تھے ،1971ء میں پاکستان بچانے میں سب سے آگے تھے ۔موجودہ دورمیں دہشت گردی کے خلاف جاری ضرب عضب میں بھی ایم کیوایم ، پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس نے سب سے آگے بڑھ کر افواج پاکستان کا ساتھ دیا لہٰذاخدارامہاجروں کی حب الوطنی پر شک کرکے انہیں دیوار سے نہ لگایاجائے ،مہاجروں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں ،انہیں گلے لگایاجائے ،ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اورمہاجروں کے ساتھ انصاف کیاجائے ۔انہوں نے مسلح افواج کی پوری قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آئیے ہم سے ہاتھ ملائیں ،دل سے دل ملائیں اورآج سے بہترتعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز کریں۔ پاکستان کو آج بے پناہ خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے ،آئیے مل کر ان کا مقابلہ کریں پاکستان کو مضبوط ، مستحکم بنانے کیلئے ایم کیوایم اپنی خدمات پیش کرتی ہے ۔آئیے ہم سے نفرت کرنے کے بجائے ہمارے سروں پر دست شفقت رکھئے ، ہم ماضی کو بھول کر پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں ، ہم پاکستان کی خدمت کرناچاہتے ہیں،اپنے شہروں ، قصبوں ، دیہاتوں کو ترقی دینا چاہتے ہیں ، چادروچہاردیواری کا تقدس چاہتے ہیں ، خواتین اورغیرمسلم پاکستانیوں سمیت تمام شہریوں کیلئے مساوی حقوق چاہتے ہیں اورپاکستان کو کرپشن سے پاک بنانا چاہتے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پانامہ لیکس کے حوالہ سے ایم کیوایم ، متحدہ اپوزیشن کا حصہ بنی لیکن جب یہ دیکھا گیا کہ وزیراعظم میاں نوازشریف کے خاندان پر جو الزامات عائد ہوئے وہی الزامات اپوزیشن کے دیگررہنماؤں پر بھی عائد ہورہے ہیں تو ایم کیوایم نے اس معاملہ پر متحدہ اپوزیشن سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے معاملے پرسب مل کرفیصلہ کریں جس میں فوج اورعدلیہ کوبھی شامل کیاجائے، اگر ایم کیوایم کاکوئی پکڑاجاتاہے تواس کوبھی سزادیں، اگرالطاف حسین بھی آف شور کمپنی میں پکڑاجاتاہے تو الطاف حسین کوبھی سزادیں، کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے ۔ انہوں نے فوج اورعدلیہ کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ملک کی خاطر آپ کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیارہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کے زمانے میں 60/40 کے تناسب کے تحت صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذکیاگیا تھا جسے اردوبولنے والوں نے فراخدلی سے مان لیاتھا لیکن آج کے دن تک اس فارمولے پرعمل درآمدنہیں کیاگیااور سندھ کے شہری عوام کو ان کا حق نہیں دیا گیا۔ حال ہی میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے محکمہ پولیس میں دس ہزار اہلکاروں کوبھرتی کیا لیکن ان میں ایک فیصد بھی اردوبولنے والوں کو نہیں لیاگیا۔ اگرہم مہاجروں کے ساتھ ان ناانصافیوں کا تذکرہ کریں تو خدارا اسے غداری کا نام نہ دیا جائے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج مہاجروں کے ساتھ سیاسی ، معاشی ، تعلیمی میدانوں میں جو سلوک کیاجارہا ہے وہ کیا فوج اور اسکے اداروں سے ڈھکا چھپا ہے ؟ آج مہاجروں کو نہ تو پولیس میں لیاجاتا ہے اور نہ ہی فوج میں لیاجاتاہے ۔سندھ سیکریٹریٹ میں آج مہاجردیکھنے کو بھی نہیں ملتے ،کیا اس سے مہاجروں میں پائے جانے والے احساس محرومی میں اضافہ نہیں ہوگا ؟ 
آج بلدیاتی اداروں سے تمام اختیارات چھین کر انہیں مفلوج کردیاگیاہے ،کراچی ،کچرے کا ڈھیر بن چکا ہے ۔حیدرآباد، میرپورخاص، نواب شاہ ، سکھر، سانگھڑ، ٹنڈوالہیار شہر تباہ ہورہے ہیں،ان شہروں کی قیمتی زمین پر قبضہ کرکے اسے بیچ کر اربوں روپے ذاتی جیبوں میں جارہے ہیں ،اور کوئی پرسان حال نہیں ہے ،ان حالات میں میرا دکھی ہونا فطری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے کراچی کے مسائل کواٹھایا تووزیراعلیٰ سند ھ قائم علی شاہ کہتے ہیں کہ کراچی میں مسائل کے حل کیلئے کے ایم سی کو کہنا میری ذمہ داری نہیں ،یہ سراسر بے حسی اورکراچی دشمنی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج کراچی موئنجو دڑوکانقشہ پیش کررہاہے ، جگہ جگہ کچرے اور گندے پانی کے ڈھیرہیں،سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔انہوں نے سوال کیاکہ آخرکراچی کاترقیاتی بجٹ کہاں خرچ ہوا؟ حیدرآبادکاترقیاتی فنڈکہاں ہے؟ لاڑکانہ کافنڈکہاں ہے؟ آج سندھ کے اسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہیں اورغریب بچے مررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی صورتحال یہ ہے کہ ملک میں پانی نہیں، بجلی نہیں، روزگارنہیں ہے، لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، اپنے بچوں کوفروخت کررہے ہیں،پورے ملک میں بھوک، غربت وافلاس،بیروزگاری ہے ، ملک کی صورتحال تباہ ہے، اشرافیہ لوگوں کوبیوقوف بنارہی ہے، چندخاندان مضبوط ہورہے ہیں جبکہ ملک کمزور ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے علاوہ ملک کے غریبوں کی کوئی ہمدردجماعت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جاگیردارانہ نظام اوروڈیرانہ نظام کے خلاف ایم کیوایم کے علاوہ کوئی جماعت نہیں ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم کے علاوہ ملک میں کوئی اورجماعت نہیں ہے جوعوام میں فرقہ وارانہ تقسیم اورفسادات کے خلاف ہو، جوتمام فقہوں، مسلکوں کے ماننے والوں کااحترام کرتی ہو ، جوہندؤں، عیسائیوں، سکھوں، احمدیوں اورتمام مذاہب کے ماننے والوں کوبرابرکاشہری تصورکرتی ہے اورانہیں مساوی حقوق اوراپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کاحق فراہم کرنے پریقین رکھتی ہے ۔ایم کیوایم ، پاکستان کی واحد جماعت ہے جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت متعارف کرائی اور ایسے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت افراد کو سینیٹ، قومی وصوبائی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں میں بھیجا جو انتخابات میں حصہ لینے کا تصورتک نہیں کرسکتے تھے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے اوردنیا بھر کے دانشور کہہ رہے ہیں کہ بہترانتظام حکومت کیلئے نئے صوبوں کاقیام ضروری ہے لہٰذا ایم کیوایم کامطالبہ ہے کہ احساس محرومی کے معاملے کوحل کرنے اوربہترانتظام حکومت کے لئے ملک میں کم ازکم 20 نئے صوبے قائم کیے جائیں اور کراچی سمیت سندھ میں بھی مزید صوبے بنائے جائیں،ایم کیوایم کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کایہ مطالبہ غیرآئینی نہیں بلکہ وقت کی اشدضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد ملک اورملک کے عوام کیلئے ہے اورانشاء اللہ یہ جدوجہدجاری رہے گی۔ انہوں نے تمام ترمظالم اورمصائب ومشکلات کے باوجودثابت قدمی اورمستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے اورتحریک سے جڑے رہنے پر تمام ذمہ داروں، منتخب نمائندوں، کارکنوں، ماؤں، بہنوں،بزرگوں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ 
Part-1
 
Part-2
 

9/25/2016 3:48:46 PM