Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہم نے تمام نعرے بند کرکے اب ایک ہی نعرہ اپنالیا ہے اور وہ نعرہ صوبے کا قیام ہے۔ الطاف حسین


 Posted on: 5/15/2016
ہم نے تمام نعرے بند کرکے اب ایک ہی نعرہ اپنالیا ہے اور وہ نعرہ صوبے کا قیام ہے۔ الطاف حسین
ملک کی سلامتی و بقاء کیلئے پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں اور شہری عوام کو بھی ان کا علیحدہ صوبہ دیا جائے
اپنے صوبے کیلئے چاہے ہمیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑے ہم اس کیلئے تیار ہیں
مہاجروں کو ریاستی ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، مہاجروں کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا
آج پاکستان میں ان کی اولادوں کو غدار قرار دیکر ریاستی ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے
روزانہ ایم کیوایم کے رہنماؤں کے خلاف ریاست کی جانب سے غداری کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جارہی ہے
جب ایم کیوایم کی صفوں سے جرائم پیشہ عناصر کو نکالا جاتا ہے تو انہیں ایم کیوایم کے مقابل کھڑا کردیا جاتا ہے
ہمیں کوئی طشتری میں رکھ کر حقوق نہیں دے گا بلکہ ہمیں اس کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی اور قربانیاں دینی ہوں گی
ہم چاہتے ہیں ہماری آنے والی نسلیں عزت و آبرو کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور ریاستی طاقت کے بل پر کوئی انکے حقوق غصب نہ کرسکے
معروف دانشور اورعلمی شخصیت پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف کی ایم کیوایم میں شمولیت کے موقع پرنائن زیرو پر اجتماع سے خطاب
لندن۔۔۔15،مئی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہم نے تمام نعرے بند کرکے اب ایک ہی نعرہ اپنالیا ہے کہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں اور سندھ کے شہری عوام کو بھی ان کا علیحدہ صوبہ دیا جائے ۔ صوبے کیلئے چاہے ہمیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑے ہم اس کیلئے تیار ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں عزت وآبرو کے ساتھ زندگی گزارسکیں اورریاستی طاقت کے بل پر کوئی ان کے جائز حقوق غصب نہ کرسکے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ نائن زیروپر ایک بڑے اجتماع سے وڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرمعروف دانشوراورعلمی شخصیت اورجامعہ کراچی کے شعبہ فلاسفی کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفرعارف نے ایم کیوایم میں شمولیت کا اعلان بھی کیا۔ اجتماع میں ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکرنے والے معروف ڈائریکٹر حیدرامام رضوی، کہنہ مشق سیاسی کارکن ساتھی اسحاق، سابق جج صاحبان کرم چند کنگرانی، عظمت اللہ ، نیپا کے سابق ڈائریکٹر جاوید اقبال ،سیاسی کارکن امجداللہ خان کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور ایم کیوایم کے ذمہ داران وکارکنان بھی شریک تھے ۔ قبل ازیں ایم کیوایم کے کارکنان نے نائن زیروآمد پر ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکرنے والے پروفیسرڈاکٹر حسن ظفرعارف کا پرتپاک اوروالہانہ استقبال کیا ، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور پھولوں کے ہارپہنائے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے پروفیسر حسن ظفرکا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ پروفیسرصاحب ایک کہنہ مشق اور علمی شخصیت ہیں جن سے میری نظریاتی ہم آہنگی رہی ہے، وہ میرے مشفق استاد بھی ہیں اور میں نے انکی صحبت میں رہ کر بہت کچھ سیکھا ہے ۔ان جیسی شخصیت کا ایم کیوایم میں شامل ہونا باعث مسرت اور باعث برکت ہے، یہ میری خوش نصیبی ہے کہ آج وہ میرے غریب خانے پر تشریف لائے ہیں جس پر میں اپنی نشست سے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتا ہوں اور انہیں ایم کیوایم میں شمولیت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ضمیرفروش عناصر کی جانب سے حیدرآباد کو فتح کرنے کے دعوے کیے جارہے تھے لیکن جب شہر کے عوام نے انہیں مسترد کردیا اور اپنے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کرکے ثابت کردیا کہ حیدرآبادماضی کی طرح آج بھی الطاف حسین کے چاہنے والوں کا شہر ہے تو اس شہرکے عوام کو انتقام کا نشانہ بنایاگیا۔ گزشتہ رات گئے حیدرآباد میں رینجرز نے بغیرسرچ وارنٹ اور بغیر لیڈی سرچر ایم کیوایم کے سینئر رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارکر ایم کیوایم حیدرآباد کی زونل کمیٹی کے ارکان سید سہیل مشہدی، رفیق اجمیری اور راحیل فہیم کو گرفتار کرلیا۔ چھاپہ مار کارروائی کے دوران پیراملٹری فورس کے اہلکاروں نے چادروچہاردیواری کا تقدس پامال کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بانیان پاکستان نے 20 لاکھ جانوں کے نذرانے دیکر پاکستان قائم کیا لیکن آج پاکستان میں ان کی اولادوں کو غدارقراردیکرریاستی ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس سے قبل ضمیرفروشوں نے حیدرآبادزونل آفس پر حملہ کرکے منتخب عوامی نمائندوں اور خواتین سمیت متعدد کارکنان کو شدید زخمی کردیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور اللہ کے فضل وکرم سے میں نے دن رات محنت کرکے سندھ کے شہری علاقوں سے شیعہ سنی فسادات کا خاتمہ کرایا ، گزشتہ برسوں کے دوران شیعہ ڈاکٹروں اور سنی علمائے کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے حوالہ سے آنے والی تشویشناک اطلاعات کے بعد میں نے کارکنوں کا اجلاس کرکے صاف کہہ دیا کہ رابطہ کمیٹی اور کراچی تنظیمی کمیٹی کے بعض اراکین غیراخلاقی وغیرتنظیمی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر شہداء کے لہو کا سودا کررہے ہیں ،میں نے پوری رابطہ کمیٹی اور کے ٹی سی ختم کردی جس پر یہ عناصر بیرون ملک فرارہوگئے جہاں انہیں سرکاری ایجنسیوں نے پیسہ دیکر ایم کیوایم کے خلاف گروپ کی شکل دیدی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسران کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کررہے ہیں لیکن جب ایم کیوایم کی صفوں سے جرائم پیشہ عناصر کو نکالاجاتا ہے تو انہیں کبھی حقیقی دہشت گردوں کی شکل دیدی جاتی ہے اور کبھی ضمیرفروشوں کے ٹولے کی شکل میں ایم کیوایم کے مقابل کھڑا کردیا جاتا ہے تاکہ مہاجروں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیاجاسکے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ صورتحال یہ ہے کہ ایک جانب مہاجروں کو ریاستی ظلم وستم کانشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ دوسری جانب مہاجروں کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں مل رہا اور روزانہ ایم کیوایم کے رہنماؤں کے خلاف ریاست کی جانب سے غداری کی جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی جارہی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ روز میں نے گلستان جوہر میں دانشوروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ہم نے تمام نعرے بند کرکے ایک نعرہ اپنالیا ہے کہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں اورسندھ کے شہری علاقوں کے عوام کو بھی ان کا علیحدہ صوبہ دیا جائے ۔ اپنے صوبے کیلئے چاہے ہمیں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑے ہم اس کیلئے تیار ہیں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں عزت وآبرو کے ساتھ زندگی گزارسکیں اورریاستی طاقت کے بل پر کوئی ان کے جائز حقوق غصب نہ کرسکے ۔انہوں نے واضح کیاکہ ہمارے صوبے میں جوبھی ہوگا اس میں کسی کونہیں نکالاجائے گا اور سب کا مساوی حق ہوگا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجر قیام پاکستان کے بعد سے ظلم وستم کانشانہ بنائے گئے اورآج تک بنائے جارہے ہیں، ملک کے کرتا دھرتااورحکمراں وہ بن گئے جن کا قیام پاکستان کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمیں کوئی طشتری میں رکھ کر حقوق نہیں دے گا بلکہ ہمیں اس کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی اورقربانیاں دینی ہوں گی۔ ہمیں آج تک محروم رکھا گیا اور ہمیشہ تعصب کانشانہ بنایا گیا۔ ایک طرف ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ مہاجرنہیں بلکہ سندھی ہیں لیکن ہم نے سندھ میں جس کے ساتھ بھی مخلوط حکومت بنائی اس میں اکثریت میں ہونے کے باوجود ہمیں وزیراعلیٰ کامنصب نہیں دیاگیااوریہ کہاگیاکہ سندھ میں سندھی بولنے والاہی وزیراعلیٰ بنے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ تلخ حقائق ہیں اور دنیا میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جوحقائق کو تسلیم کرتی ہیں اوراس کے مطابق جدوجہد کرتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کواللہ ، رسولؐ اورپاکستان کے نام پر آپ سے اپیل کرتاہوں کہ آپ رینجرز کی جانب سے ایم کیوایم کے خلاف کی جانے والی زیادتیوں اور مظالم کو بندکروائیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے ساتھیوں، عہدیداروں پر بہت ظلم کئے گئے ، رابطہ کمیٹی کے ارکان قمرمنصور ، کہف الوریٰ، عامر خان، شاہد پاشا کو بھی گرفتار کیا گیا لیکن یہ سب ان مظالم کے باوجود ثابت قدم رہے جس پر میں اپنے ایک ایک ساتھی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں ان پنجابی، پختون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، گلگتی، بلتستانی اوردیگرقومیتوں کے نوجوانوں،ماؤں،بہنوں بزرگوں کوبھی سلام پیش کرتا ہوں جوتمام تر مظالم ، سازشوں اور پروپیگنڈوں کے باوجود میرے ساتھ ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پوراپاکستان جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور سرمایہ داروں کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے جنہوں نے اپنی اپنی ریاستیں قائم کی ہوئی ہیں جہاں کوئی بھی ہاری کسان ا پنی مرضی سے ووٹ تک نہیں ڈال سکتا جبکہ کراچی وہ شہر ہے جہاں لوگ آزادی سے اپناووٹ ڈالتے ہیں، کراچی سوچ وفکر کی آزادی کا شعور دیتا ہے، دوسرے لوگوں کو کراچی سے سیکھنا چاہیے۔ جناب الطاف حسین نے تمام ذمہ داروں، کارکنوں ، خواتین اوربزرگوں کوخراج تحسین پیش کیا۔ 

9/29/2016 11:56:20 PM