Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عوامی حمایت سے محروم حقیقی دہشت گردوں اورضمیر فروشوں کے ٹولے کی سرکاری سرپرستی اور انہیں جبری طور پر عوام پر مسلط کرنے کے عمل کانوٹس لیاجائے، قائد حزب اختلاف سندھ خواجہ اظہار الحسن


عوامی حمایت سے محروم حقیقی دہشت گردوں اورضمیر فروشوں کے ٹولے کی سرکاری سرپرستی اور انہیں جبری طور پر عوام پر مسلط کرنے کے عمل کانوٹس لیاجائے، قائد حزب اختلاف سندھ خواجہ اظہار الحسن
 Posted on: 5/13/2016
عوامی حمایت سے محروم حقیقی دہشت گردوں اورضمیر فروشوں کے ٹولے کی سرکاری سرپرستی اور انہیں جبری طور پر عوام پر مسلط کرنے کے عمل کانوٹس لیاجائے، قائد حزب اختلاف سندھ خواجہ اظہار الحسن 
جرائم پیشہ حقیقی دہشت گر دسرکاری سرپرستی میں دن دیہاڑے ایم کیوایم کے ذمہ داران، کارکنان اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو گھروں، دکانوں اور راستوں میں روک کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، خواجہ اظہار الحسن 
ایم کیوایم کے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل ، 135سے زائد کارکنان کے لاپتہ ہونے ، حقیقی دہشت گرد اور ضمیر فروش ٹولہ کی کھلی غنڈہ گردی کے باوجود امن و امان کے قیام کے سہرے اپنے سروں پر سجائے جارہے ہیں، خواجہ اظہار الحسن 
اگر حقیقی دہشت گردوں کو لگام نہیں دی گئی تو عوام کے جذبات کو قابو میں رکھنا قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیوایم کے بس کی بھی بات نہیں ہوگی، خواجہ اظہار الحسن 
غیر جمہوری، غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کے خلاف ایم کیوایم احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے، خواجہ اظہار الحسن
ہمارے ہاتھ پیر باندھ کراور ہماری کردار کشی کرکے صرف متحدہ قومی موومنٹ کو مجرم ثابت کرنے اور باقیوں کو کھلی چھوٹ دینے کی ٹھان لی گئی ہے، خواجہ اظہار الحسن 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے رکن محمد حسین حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔13، مئی 2016ء 
سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ لانڈھی ، کورنگی ، شاہ فیصل کالونی ، لائنز ایریا میں جرائم پیشہ حقیقی دہشت گر سرکاری سرپرستی میں دن دیہاڑے ایم کیوایم کے ذمہ داران، کارکنان اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو گھروں ، دکانوں اور راستوں میں روک کر تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں ، چادر اور چار دیوری کا تقدس بری طرح سے ماپال کررہے ہیں ، ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں تک پر تشدد کرنے سے باز نہیں آیاجارہا ہے ، حقیقی دہشت گردوں کی دہشت گردی میڈیا سمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ باقاعدہ منصوبے کے تحت فیصلہ کرنے والوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال رکھی ہیں اور آنکھیں بند کرکے بیٹھ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایم کیوایم کے کارکنان کا اتنی بڑی تعداد میں ماورائے عدالت قتل ہوا ، 135سے زائد کارکنان لاپتہ ہیں ، حقیقی دہشت گرد اور ضمیر فروشوں کا ٹولہ کھلی غنڈہ گردی کررہا ہے اور دوسری جانب لوگ امن و امان کے قیام کے سہرے اپنے سروں پر سجارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ واضح کریں کہ وہ کراچی اور حیدرآباد کے بھی وزیراعلیٰ ہیں ، وزیر داخلہ سندھ وزیر ناعلم ہیں جنہیں کچھ پتا نہیں ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ کو مجرم ثابت کرکے پورے ملک میں تماشا کیاجارہا ہے ، ہم قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی ضمنی انتخابات اور حال ہی میں بلدیاتی انتخابات جیت کر آئے ہیں لہٰذا ایم کیوایم کو شہر اور منی پاکستان کیلئے اب کچھ کرنے دیاجائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے رکن محمد حسین ، حق پرست ارکان قومی اسمبلی ساجد احمد ، آصف حسنین ، حق پرست ارکان سندھ اسمبلی سید خالد افتخار ، سید وقار حسین شاہ اور عامر معین پیرزادہ کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ ایک جانب منظم سازشی منصوبے کے تحت ایم کیوایم ا ور جناب الطاف حسین کے خلاف منفی ، زہریلا اور اشتعال انگیز اور جھوٹا پروپیگنڈا کیاجارہا ہے اور دوسری جانب کراچی آپریشن کا رخ ایک بار پھر متحدہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے جس کے دوران ایم کیوایم کے 50سے زائد کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، 135کارکنان کو لاپتہ کردیا گیا اور ہزاروں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے تشدد کانشانہ بنایاجارہاہے ، بعض اسٹیبلشمنٹ کے عناصر کی جانب سے بنائی جانے والی نام نہاد ضمیر فروشوں کی جماعت جوائن کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے ، ایم کیوایم کو دیوار سے لگانے اور ختم کرنے کیلئے ان اوچھے ہتھکنڈوں کے پیچھے بلاشبہ وفاقی حکومت ، حکومت سندھ ، اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر اور بعض سیاسی جماعتوں کا گٹھ جوڑ شامل ہے اور یہ گٹھ جوڑ ان کے اپنے اپنے مفادات کے حصول کیلئے ہے اور اس کا قطعی طور پر ملک کی بقاء و سلامتی اور استحکام سے ذرہ برابر بھی تعلق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ 2016ء ہے میڈیا کی آنکھ سب کچھ ددکھا رہی ہے لانڈھی ، کورنگی میں دن دیہاڑے مسلح آزاد دہشت گردوں کی نقل و حرکت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ، اسی طرح سکھر میں ہونے ولی گرفتاریاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، حیدرآباد میں ایم پی اے راشد خلجی پر فائرنگ ، زونل آفس کے آگے توڑ پھوڑ اور شتعال انگیزی کو کیمروں کی آنکھ نے محفوظ کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس دہشت گردی کے ذریعے منصوبہ یہ ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں امن و امان بے قابو کرکے اس کی ذمہ داری ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ پر ہی ڈال دی جاے ، لانڈھی میں حقیقی دہشت گردوں کی دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، متعدد مرتبہ پریس کانفرنس کی گئی ، میڈیا اور ٹاک شوز کے ذریعے حقیقی دہشت گردوں کی دہشت گردی پر بات کی جارہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ باقاعدہ منصوبے اورسازش کے تحت فیصلہ کرنے والے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھے ہیں اور آنکھیں بند کئے ہوئے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایسے ہتھکنڈھے کرکے متحدہ قومی موومنٹ کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حقیقی دہشت گردو ں اور ضمیر فروشوں کے ٹولہ کی کھلی غندہ گردی کے واقعات سے وزیر داخلہ ، آئی جی ، متعلقہ ڈی آئی جی کو مطلع کیاکہ حقیقی دہشت گردوں کی دہشت گردی کے خلاف تھانے کے باہر عوامی مظاہرین کو حقیقی دہشت گرد فائرنگ کرکے اور ڈرا دھمکاتے رہے ، ایک ایسے موقع پر جب کراچی کے اندر امن وامان کیلئے آپریشن ہورہا ہے اور ایسی غنڈہ گردی حقیقی دہشت گرودں کی جانب سے تھانے کے باہر ہی کی جارہی ہو تو اس کا کیا مطلب لیاجائے گا ، اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنان گرفتار کیاجائے گا اور نوے روزہ ریمانڈ لیاجائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کراچی میں امن وامان کے لئے آپریشن پر حکومت سے تعاون کیا لیکن ہمارے ہاتھ پیر باندھ کراور ہماری کردار کشی کرکے صرف متحدہ قومی موومنٹ کو مجرم ثابت کرنے اور باقیوں کو کھلی چھوٹ دینے کی ٹھان لی گئی ہے ، حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروشوں نے محب وطن ہونے کے سرٹیفکٹ لے لئے ہیں او رمتحدہ کو مجرم ثابت کرکے پورے ملک میں تماشا کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ایم کیوایم صوبائی اسمبلی ، قومی اسمبلی اور بلدیاتی انتخابات نہیں جیتی ، ان انتخابات میں جو فوج اور رینجرز کی نگرانی میں سب سے شفاف ترین ہوئے تھے ایم کیوایم ملک کی بڑی جماعت بن کر ابھر ی ، ہم حکومت پر تنقید کررہے ہیں زیادتیوں کا ازالہ کرنے کی بات کررہے ہیں لیکن ہمیں دوسرے کام پر لگا دیا گیا ہے ، کیا امن وامان کا مقصد کراچی میں سیاسی سرگرمیاں نہیں ہیں ، پورے پاکستان کے علاوہ صرف کراچی میں سیاسی سرگرمیوں پرپابندی لگا نا جمہوریت اور آئین کے خلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا بھی جب ایم کیوایم پر ہونے مظالم پر اپنی آنکھیں بند کرلے ، ادارے خاموش ہوجائیں اور نظر یں پھیر لیں تو کیا احساس محرومی اور بیگانگی نہیں بڑھے گی ، احساس محرومی اور بیگانگی میں تبدیل ہوگی تو اس کی ذمہ داری تو متحدہ پر عائد نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم شکایت کریں تو جھوٹ اور دوسرا جھوٹ کہے تو اس پر کارروائی یہ کس قسم کی فضا بن چکی ہے ،ہم سچائی اور دوسرا مفافقت سے جھوٹ بولے اس کو تسلیم کرلیا جاتا ہے اور ہمارے موقف کو رد کردیا جاتا ہے ، وزیر داخلہ کو جب فون کرو وہ کہتے ہیں کہ اچھا ایسا ہوگیا ہے وہ وزیر داخلہ نہیں وزیر ناعلم ہیں ، پولیس اوررینجرز سے ہم نے درخواست کی ہے لانڈھی کورنگی میں حقیقی دہشت گردوں کو دہشت گردی کی کاروائیوں سے کو روکیں ، یہ صورتحال حق پرست عوام کیلئے انتہائی تشویش ناک ہے اگر حقیقی دہشت گردوں کو لگام نہیں دی گئی تو عوام کے جذبات کو قابو میں رکھنا قائد تحریک الطاف حسین اور ایم کیوایم کے بس کی بھی بات نہیں ہوگی ۔انہوں نے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے بعض عناصر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے غیر سیاسی اور غیر ہتھکنڈوں سے باز آجائیں ، انہیں ماضی کی طرح مایوسی اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، کراچی کی صورتحال کے بارے میں بین الاقوامی طور پر بھی کوئی اچھا نہیں لکھاجارہا ہے ، امن کی طرف جاتے شہر پر سوال اٹھ رہے ہیں ، اس شہر کے اندر اگر اتنی بڑی تعداد میں ماورائے عدالت قتل ہوں ، لوگ لاپتہ ہوں گے ، غنڈہ گردی ہو گی تو امن وامان کا کریڈٹ کیسے لیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ شہر کو اس قسم کی حرکت سے نقصان پہنچ رہا ہے تو اس کا نوٹس لینا ہوگا بصورت دیگر محنت خراب ہوجائے ، اور امن امان کی طرف جاتے ہوئے شہر پر بڑ ا سوال لگ رہا ہے ، اس سوالیہ نشان کو ہٹانے میں شہر کی نمائندہ جماعت کی مدد کریں، ہم منتخب جماعت ہیں ، شہر میں امن چاہتے ہیں اور ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کیاجائے ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ ہمارے زونل دفاترپر دہشت گردوں کو کیوں کھلی چھوٹ دی جارہی ہے ہم تو کسی کے آفس نہیں جارہے ہیں بلکہ وہ آرہے ہیں کھلی غندہ گردی کرنے اور ان کے پاس سرکاری سرپرستی بھی ہے ،اس غیر جمہوری عمل کے خلاف لوگ جمہوری ردعمل دیں گے ، اگر اس طریقے سے گالم گفتار اور الزام تراشیوں اور محب وطن اور وطن پرستی کے سرٹیفکیٹ بند نہیں ہوئے تو یہ شہر کے ساتھ زیادتی اور ناانصافی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سوال کیا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کیاکراچی اور حیدرآباد کے بھی وزیر اعلیٰ ہیں یا وہ کراچی اور حیدرآباد سے نظریں پھیر چکے ہیں تو بتا دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ کراچی اور حیدرآباد صوبہ سندھ کا حصہ ہے یا نہیں ہے ۔ خواجہ اظہار الحسن نے وزیراعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی حمایت سے محروم حقیقی دہشت گردوں اورضمیر فروشوں کے ٹولے کی سرکاری سرپرستی اور انہیں جبری طور پر عوام پر مسلط کرنے کے عمل کانوٹس لیں، ایم کیوایم کارکنان کے گھروں اور دفاتر پر حقیقی دہشت گردوں اور ضمیر فروش ٹولے کے حملے فی الفور بند کرائیں ورنہ اس غیر جمہوری ، غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کے خلاف ایم کیوایم احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے ۔ 

12/8/2016 5:53:45 AM