Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کے لاپتہ لوگ کیا پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ انجینئر ناصر جمال


کراچی کے لاپتہ لوگ کیا پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ انجینئر ناصر جمال
 Posted on: 9/8/2013 1
کراچی کے لاپتہ لوگ کیا پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ انجینئر ناصر جمال
چیف جسٹس لاپتہ کارکنوں کے لواحقین کے دکھ اور درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کی بازیابی کیلئے فوری اقدامات کریں، عامر خان
پاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے قائد تحریک الطاف حسین کے چاہنے والوں نے پاکستان کیلئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں، خواجہ اظہار الحسن
ایم کیوایم کے زیر اہتمام کراچی پریس کلب کے سامنے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے پرامن احتجاجی مظاہرے سے خطاب
کراچی ۔۔۔8، ستمبر2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام اتوار کے روز قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے اہلکاروں کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر مارچ 2013ء سے گرفتاری کے بعد ایم کیوایم کے مزید5لاپتہ کارکنان اور اس سے قبل 1992ء سے 1996ء کے درمیان 28لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے کراچی پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس میں لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ ،حق پرست شہداء کے لواحقین اور اسیر کارکنان کے اہل خانہ سمیت ایم کیوایم کے ذمہ داران ، کارکنان اور حق پرست عوام نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سے اب تک لاپتہ کارکنان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں جبکہ ان کی جانب سے وقفے وقفے سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے پرجوش نعرے بھی لگائے جارہے تھے۔ مظاہرے میں موجود لاپتہ کارکنان کے والدین، بہنیں، بچے اور سہاگنیں غم کی تصویر بنے دکھائی دیئے اور ان کی آنکھیں اپنے پیاروں کو یاد یاد کرکے سوج چکی تھیں اور وہ سپریم کورٹ ، صدر مملکت ، وزیراعظم ، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سے جھولی پھیلا پھیلا کر اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے اپیلیں کرتے رہے ۔ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انجینئر ناصر جمال ،رکن رابطہ کمیٹی عامرخان ،سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن اور ایم کیوایم لاپتہ کمیٹی کے ذمہ دار بابر انیس نے خطاب کیا ۔اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان واسع جلیل اورسیدامین الحق بھی موجودتھے جبکہ لاپتہ کارکنان کے والدین نے اپنے پیاروں کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اور اس کے عینی شاہدین ہونے کی کربناک داستانیں بھی بیان کیں ۔احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انجینئر ناصر جمال نے کہا کہ آج کل پاکستان میں آئین کا چرچہ ہے اور قانون کی عملدراری کی بات کی جاتی ہے تاہم جب اس آئین کی عملداری کراچی میں ہونے لگتی ہے تو یہاں آکر آئین ختم ہوجاتا ہے ، تجزیہ کار خاموش ہوجاتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے آئین کو اپنے بوٹوں تلے روندتے ہوئے چلے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس ملک کی عوام ملک کے اداروں سے پوچھتی نہیں ہے کہ وہ کیوں جب چاہتے ہیں کسی کے گھر میں گھس جاتے ہیں اور اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اس کے بعد پتہ نہیں چلتا کہ جنہیں گرفتار کیا گیا ہے وہ کہاں ہیں ؟ انہوں نے کہاکہ گرفتاری کے بعدلاپتہ کئے جانے والے کارکنان کے لواحقین اپنے پیاروں کی راہیں تکتے رہتے ہیں مگر ان کی نگاہیں مایوس ہوکر لوٹ آتی ہیں کیونکہ ملک میں مظلوموں کی فریاد کوئی سننے والا نہیں ہے۔ انہوں نے مظاہرے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پاکستان میں وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دیگر صوبوں کے لوگوں کو حاصل ہیں ، بلوچستان کے لوگوں سے ہمدردی ہے مگر میں واضح کہنا چاہتا ہوں کہ کراچی کے لاپتہ لوگ کیا پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ ، یہ کیسا قانون اور عدلیہ ہے جو صرف دوسرے شہروں اور صوبو ں کیلئے نوٹس لیتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ وقت فریاد کرنے کا نہیں ہے بلکہ حسین کے نام کو بلند کرنے کا وقت ہے اور فریاد کرتے کرتے آپ کی زبانیں تھک گئیں ہیں۔ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن عامر خان نے کہا کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے لواحقین کی تڑپ کو بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں، آج ہم پرامن احتجاج کے ذریعے ارباب اختیار سے مطالبہ اور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایاجائے اور لاپتہ ساتھیوں کے لواحقین کے دکھ اور درد کا احساس کیاجائے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ہمارے لاپتہ کارکنان کواگرقانون نافذکرنے والے اداروں نے شہیدبھی کردیاہے توہمیں بتایاجائے تاکہ ان کے گھروالے ان کے زندہ واپسی گھرلوٹنے کی امیدچھوڑدیں بصورت دیگران کی بازیابی فوری عمل میں لاکرلواحقین کی بے چینی اوراضطرابی کوختم کریں۔انہوں نے کہا کہ تعصب رکھنے والے لوگو ں نے ایم کیوایم کے خلاف اتحاد بنایا اور اس کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کرادیا گیا اس دوران ایم کیوایم کے 18ہزار کارکنان کو چھین لیا گیا ، 28کارکنان لاپتہ کردیئے گئے،ہم نے عدالتوں اور ایوان اقتدارکے ہر دروازے پر صدابلند کی مگر کچھ نہیں ہوا ۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ وہ لاپتہ کارکنوں کے لواحقین کے دکھ اور درد کو سمجھیں ، لاپتہ کارکنان کی بازیابی کیلئے ایم کیوایم نے پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اس پٹیشن کی سماعت فوری بنیاد پرکی جائے اور قانون نافذ کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ یہ لاپتہ افراد کہاں گئے اگر وہ مجرم ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کیاجائے اورقانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن یہ کیسا ظلم ہے کہ ماں کے بیٹے ، سہاگنوں کے سہاگ ، بہنوں کے بھائی ، بچوں کے باپ اتنے عرصہ سے لاپتہ ہیں لیکن کسی کو یہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم صدر ، وزیراعظم ، گورنر سندھ اوروزیراعلیٰ سندھ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ کارکنوں کی جلدبازیابی کیلئے اقدامات کریں اوراگر لاپتہ کارکنوں کے ساتھ کچھ کر بھی دیا گیا ہے توہمیں بتا دیاجائے ورنہ لاپتہ کارکنان کی بازیابی تک ہمارااحتجاج جاری رہے گا۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان کیلئے کسی نے قربانی دی ہے تو وہیں قائد تحریک الطاف حسین کے چاہنے والوں نے پاکستان کیلئے بیش بہاقربانیاں دی ہیں ، میڈیا ، عدلیہ کی آزادی میں ہمارا کردار کسی سے ڈھکا چھپا ہے ، سینکڑوں کارکنوں کی لاشیں ، سینکڑوں ایف آئی آر اور 28لاپتہ ساتھیوں کے علاوہ 2013ء میں 5مزید کارکنان لاپتہ کردیئے گئے ہیں جبکہ تین حق پرست اراکین سندھ اسمبلی کاخون بھی جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے دیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب قربانیاں رائیگاں چلی گئیں ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے شہید کارکنان ، اسیر اور لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ اور لواحقین کا غم وغصہ وارننگ ہے اور اس غم و غصہ اور فریادوں کو در گزر نہ کیاجائے ۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کو سرکاری حراست سے فی الفور بازیاب کرایاجائے ، لاپتہ کارکنوں کی بازیابی کے حوالے سے ایم کیوایم پٹیشن کی سماعت کی جائے اور پاکستان کے خلاف سازش پر مبنی مہاجر ری پبلکن آرمی کا شوشہ چھوڑنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ایم کیوایم لاپتہ کمیٹی کے ذمہ دار بابر انیس نے کہا کہ ایم کیوایم کے 1992ء سے 1996ء کے درمیان 28کارکنان ایسے بھی تھے جنہیں غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے حراست میں لیا گیا اور تاحال وہ ابھی تک لاپتہ ہیں ہم نے ان کی بازیابی کیلئے اپیلیں اور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنان کے اہل خانہ کا شمار زندوں میں ہے نہ ہی مردوں میں ہے ، ابھی 28لاپتہ کارکنان کے صدمے سے باہر نہیں نکلے تھے کہ 2013ء میں ہمیں اس ظلم کے تسلسل کے ذریعے یہ احساس دلایا گیا ہے کہ 28ایم کیوایم کے کارکنان ملنا تو درکنا ر ہم مزید ایم کیوایم کے مزید کارکنان لاپتہ کردیں گے اور آج احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کے 2013 ء میں لاپتہ ہونے والے کارکنان کے لواحقین موجود ہیں اور یہ فریاد کررہے ہیں کہ اگر وہ کسی جرم میں مطلوب ہیں تو انہیں عدالتوں میں پیش کردیاجائے اگر وہ قصور وار ہیں تو انہیں سزا دی جائے۔ 

12/8/2016 8:02:16 AM