Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجر ری پبلکن آرمی جناح پور کی طرح کا ایک نہایت سنگین اور گھناؤنا شوشہ ہے۔ الطاف حسین


مہاجر ری پبلکن آرمی جناح پور کی طرح کا ایک نہایت سنگین اور گھناؤنا شوشہ ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/30/2013
مہاجر ری پبلکن آرمی جناح پور کی طرح کا ایک نہایت سنگین اور گھناؤنا شوشہ ہے۔ الطاف حسین
مہاجر ری پبلکن آرمی کا یہ شوشہ محض الزام ہے یا اسکے ذریعے عوام کو یہ نئی لائن دی گئی ہے کہ آپ کی بچت اسی میں ہے کہ آپ مہاجر ری پبلکن آرمی بنائیں؟ 
کیا مہاجر ری پبلکن آرمی کا شوشا اسلئے چھوڑا گیا ہے کہ اسکی آڑ میں سندھ کے شہری عوام کو ریاستی طاقت کے ذریعہ کچلا جائے؟
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری مہاجر ری پبلکن آرمی کے شوشہ اور اسکے پس پشت عوامل کی مکمل غیر جانبدارانہ طور پر تحقیقات کروائیں اور انہیں پاکستان کے عوام کے سامنے لائیں
اگر دیانتدارانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نتیجہ میں یہ الزام ثابت ہوجائے تو بھر پور کارروائی کی جائے ورنہ یہ شوشہ چھوڑنے والے وزارت داخلہ کے حکام پر ملک میں تعصب و نفرت پھیلانے اور محب وطن عوام کو سازش کے ذریعہ بدنام کرنے کا مقدمہ چلایا جائے
وزارت داخلہ کے اداروں کے بعض لوگ مہاجر ری پبلکن آرمی جیسے شوشے چھوڑ کر ملک کو انتشارکی طرف لیجانے کی کوشش کررہے ہیں جو کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں
انصاف و جمہوریت کے قیام اور ملک میں امن وامان کے قیام کیلئے ارباب اختیار اور اداروں کو ہمارا غیر مشروط تعاون کل بھی حاضر تھا اور آج بھی ہے لیکن اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ وہ جھوٹے الزامات لگا کر ایم کیوایم کو کچل دے گا تو اس خیال پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے
مہاجر ری پبلکن آرمی کے شوشے کے خلاف قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں آواز اٹھائی جائے اور آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت کرکے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔ ایم کیوایم رابطہ کمیٹی کو ہدایت
تمام صوبائی اور ضلعی کمیٹیوں اور زونوں کی کمیٹیاں پریس کانفرنسز اور کارنر میٹنگز منعقد کرکے عوام کو مہاجر ری پبلکن آرمی کے شوشے کے پیچھے کار فرما گھناؤنے مقاصد سے آگاہ کریں۔ نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی اور مختلف تنظیمی شعبہ جات کے اجلاس سے فون پر خطاب
لندن۔۔۔30، اگست2013ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ مہاجرری پبلکن آرمی جناح پور کی طرح کاایک نہایت سنگین اورگھناؤنا شوشہ ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے اپیل کی کہ وزارت داخلہ کی جانب سے چھوڑے جانے والے اس شوشہ اور اس کے پس پشت عوامل کی مکمل غیرجانبدارانہ طور پر تحقیقات کروائیں اورانہیں پاکستان کے عوام کے سامنے لائیں۔ اگردیانتدارانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے نتیجہ میں یہ الزام ثابت ہوجائے تو بھرپورکارروائی کی جائے ورنہ یہ شوشہ چھوڑنے والے وزارت داخلہ کے حکام پرملک میں تعصب ونفرت پھیلانے ، سازش کرنے اور ملک کے محب وطن عوام کو سازش کے ذریعہ بدنام کرنے کا مقدمہ چلایاجائے۔انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر رابطہ کمیٹی اورمختلف تنظیمی شعبہ جات کے ایک اجلاس سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ بدقسمتی سے دنیا کے تمام پسماندہ وغیرترقی یافتہ ممالک میں یاتو بادشاہت ہے یا جمہوریت کے نام پر سول آمریت نافذ ہے ۔ پسماندہ ممالک میں حکمراں طبقہ اپنے مخالفین کو زیربار کرنے اور انہیں اپنی ہمنوائی پرمجبور کرنے کیلئے ریاستی اداروں کے غیرقانونی استعمال حتیٰ کہ جھوٹی کہانیوں کے ذریعہ ان پر ملک دشمنی اور غداری کے افسانوی الزامات لگانے تک سے گریز نہیں کرتا ۔ بدقسمتی سے ایم کیوایم کو بھی اسی طرح کی سازشوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ۔ 19، جون1992ء کو سندھ میں جنرل آصف نواز نے فوجی آپریشن شروع کرنے سے قبل حکومت کے سامنے پتھاریداروں، ڈاکوؤں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث 72 افراد کی ایک فہرست پیش کی اور کہاکہ یہ آپریشن ان 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیا جائے گا لیکن اصل مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کے بجائے اس آپریشن کا رخ ایم کیوایم اورایک مخصوص طبقہ آبادی کے خلاف موڑدیا گیا۔ ایم کیوایم کے رہنماؤں ، کارکنوں اورہمدردوں پر ناقابل بیان مظالم ڈھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کو ایم کیوایم کے خلاف گمراہ کرنے کیلئے ایم کیوایم پر جناح پور بنانے کی سازش کاسراسرجھوٹا،بے بنیاداور شرمناک الزام بھی لگادیا گیا ۔بریگیڈئیر آصف ہارون نے پنجاب سے صحافیوں کوکراچی بلاکر جناح پور کے جھوٹے اور جعلی نقشے دکھائے اور دعویٰ کیا کہ یہ ایم کیوایم کے دفاتر سے برآمد کئے گئے ہیں۔ اگلے روز قومی اخبارات خصوصاً پنجاب اور سرحد(کے پی کے)کے اخبارات میں اس الزام اور جناح پور کے جھوٹے نقشے بڑی بڑی شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کرائے گئے 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گوکہ آپریشن کرنے والوں نے بعد میں اس الزام کی تردید کردی اور یہ اعتراف کیا کہ ایم کیوایم نے کبھی بھی جناح پور بنانے کی سازش نہیں کی لیکن ایم کیوایم کے مخالفین دودہائیوں سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود آج تک اس الزام کا ڈھول بجاتے ہیں اور ٹی وی ٹاک شوز ، مباحثوں ،دیگر پروگراموں ، جلسوں اور بیانات میں پوری ڈھٹائی سے اس الزام کا حوالہ دیتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج موجودہ وفاقی حکومت نے ایک بارپھر سندھ میں قیام امن کیلئے پولیس اور رینجرز کی نگرانی میں ٹارگٹڈ آپریشن کی بات کی ہے جبکہ دوسری جانب ’’کراچی بدامنی کیس‘‘ کی سماعت بھی چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں کراچی میں آج کل جاری ہے ۔ گزشتہ روزسماعت کے دوران وفاقی وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ جمع کرائی جس میں ’’مہاجرری پبلکن آرمی‘‘ کا نیاشوشہ چھوڑدیا گیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کے تمام دانشوروں ، قلمکاروں اور تاریخ دانوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مہاجر ری پبلکن آرمی کا یہ شوشہ محض الزام ہے یا اس کے ذریعے عوام کو یہ نئی لائن دی گئی ہے کہ آپ کی بچت اسی میں ہے کہ آپ مہاجرری پبلکن آرمی بنائیں؟ یا یہ جھوٹا الزام اور شوشا اسلئے چھوڑا گیا ہے کہ اس کی آڑ میں سندھ کے شہری عوام کو ریاستی طاقت کے ذریعہ کچلنے کا عمل کیاجائے ؟جناب الطاف حسین نے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری سے کہاکہ میں آپ سے خدار اوررسولؐ کے واسطے یہ اپیل کرتا ہوں کہ آپ وزارت داخلہ کی جانب سے چھوڑے جانے والے اس شوشہ اور اس کے پس پشت عوامل کی مکمل غیرجانبدارانہ طور پر تحقیقات کروائیں اورانہیں پاکستان کے عوام کے سامنے لائیں۔ اگردیانتدارانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے نتیجہ میں یہ الزام ثابت ہوجائے تو بھرپورکارروائی کی جائے ورنہ یہ شوشہ چھوڑنے والے وزارت داخلہ کے حکام پرملک میں تعصب ونفرت پھیلانے ، سازش کرنے اور ملک کے محب وطن عوام کو سازش کے ذریعہ بدنام کرنے کا مقدمہ چلائیں ۔انہوں نے کہاکہ جودوسروں پر غداری کے جھوٹے الزامات لگاتے ہیں وہ دراصل خود ملک سے غداری کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا ان کے خلاف غداری کامقدمہ چلاکر بھرپور کارروائی کرنی چاہئے تاکہ نہ صرف مزید ملک دشمن پیدا کرنے کا سلسلہ بند کیاجاسکے بلکہ ناراض عناصر کو مناکر انہیں دوبارہ محب وطن بنایا جاسکے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کے ارباب اختیار اور ریاستی اداروں کو ایک مرتبہ پھر واضح طور پر بتادینا چاہتا ہوں کہ ملک میں انصاف وجمہوریت کے قیام اور ملک میں امن وامان کے قیام کیلئے ہمارا غیرمشروط تعاون کل بھی حاضر تھا اور آج بھی ہے لیکن اگرکسی کے ذہن میں یہ خیال خام موجود ہے کہ وہ جھوٹے الزامات لگاکر ایم کیوایم کو کچل دے گا تواس خیال پر افسوس اورماتم ہی کیاجاسکتاہے۔جناب الطاف حسین نے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ وہ اندرون سندھ ، خیرپختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کے ایک ایک حصہ میں کارکنوں وہمدردوں سے رابطہ کرکے ان کے ذریعہ عوام کو آگاہ کریں کہ کس طرح ملک کے غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے خلاف بھیانک سا زشوں کے تانے بانے بنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ملک کے چپہ چپہ میں پھیل جائیں اور عوام سے براہ راست رابطہ کریں۔جناب الطاف حسین نے اپنی گفتگو میں اس عزم کا ایک بارپھر اعادہ کیا کہ ایم کیوایم کا ایک ایک کارکن اپنی جان کی قربانی تو دیدے گا لیکن باطل قوتوں کے آگے سرنہیں جھکائے گا اور ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ہمت وحوصلے کے ساتھ باطل قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان اس وقت جس قسم کے خطرات اورنازک صورتحال سے دوچارہے اس کے پیش نظراسے اتحادویکجہتی کی اشدضرورت ہے لیکن وزارت داخلہ کے اداروں کے بعض لوگ مہاجرری پبلکن آرمی جیسے شوشے چھوڑ کرملک کواتحادکی طرف لیجانے کے بجائے انتشارکی طرف لیجانے کی کوشش کررہے ہیں جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے غریب ومظلوم عوام دیکھ لیں کہ ایم کیوایم جوغریب ومتوسط طبقہ کی واحد جماعت ہے اسے کچلنے اورختم کرنے کیلئے ماضی کی طرح پھر کیسی کیسی سازشیں کی جارہی ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ 22 اگست کوہونے والے ضمنی انتخابات میں تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کی نشستیں اوپرنیچے ہوئیں لیکن ایم کیو ایم واحد جماعت ہے جس نے کراچی میں فوج کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اورمخالفین کی ضمانتیں ضبط کرائیں۔ہم نے بڑی سے بڑی اورمضبوط پارٹیوں کوٹوٹتے دیکھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ تمام ترسازشوں اورنہ ختم ہونے والے زہریلے پروپیگنڈوں کے باوجودایم کیوایم نہ صرف قائم ودائم ہے بلکہ آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ جناب الطا ف حسین نے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ مہاجرری پبلکن آرمی کے شوشے کے خلاف قومی وصوبائی اسمبلی اورسینیٹ کے ایوانوں میں آواز اٹھائی جائے اور آئینی وقانونی ماہرین سے مشاورت کرکے اس شوشہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔انہوں نے تمام صوبائی اورضلعی کمیٹیوں اورزونوں کوہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں پریس کانفرنسزاور کارنرمیٹنگزمنعقد کرکے عوام کومہاجرری پبلکن آرمی کے شوشے کے پیچھے کارفرماگھناؤنے مقاصد سے آگاہ کریں۔ 

12/3/2016 5:41:54 AM