Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں کے لواحقین کو قصاص و دیت کی روشنی میں انصاف فراہم کیا جائے۔ الطاف حسین


ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں کے لواحقین کو قصاص و دیت کی روشنی میں انصاف فراہم کیا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 5/12/2016
ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں کے لواحقین کو قصاص و دیت کی روشنی میں انصاف فراہم کیا جائے۔ الطاف حسین
ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کو بھی فی الفور بازیاب کرایا جائے، آرمی چیف سے قائد تحریک کی اپیل
ہمارے کتنے ہی کارکنان ماورائے عدالت قتل کردیئے گئے لیکن کسی ایک ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کو سزا نہیں دی گئی
حقیقی دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے، ایک سرکاری ایجنسی کی جانب سے حقیقی دہشت گردوں کو ڈیفنس میں تین بنگلے خرید کر دیئے گئے ہیں، آرمی چیف جنرل راحیل شریف نوٹس لیں
ظلم وستم کرکے مہاجروں کو اس طرف نہ دھکیلا جائے کہ وہ اپنی بقاء کیلئے کوئی اور راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں
پاکستان کو بنانے اور اسکی ترقی کیلئے مہاجروں نے بڑی قربانیاں دیں لیکن ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا
تمام دانشوروں اور اکابرین کو ایم کیوایم میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں، وہ ہمارے ساتھ آجائیں
اب ہماری جدوجہد ایک نکتے پر ہوگی کہ’’ ہمیں ہمار اصوبہ دو‘‘ ۔الطاف حسین
جس قومیت، مذہب، فقہ، مسلک یا برادری سے تعلق رکھنے والا ہمارے صوبے میں ہوگا اس کا حق ایک تولہ بھی کم نہیں ہوگا بلکہ برابر ہوگا
میں سب کو دعوت دیتا ہوں کہ صوبوں کے قیام کے لئے ہمارے ساتھ ملکر جدوجہد کریں کیونکہ ملک اب اس طرح نہیں چل سکتا
قائداعظم کے مزار کے سامنے شہید او ر لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے اظہاریکجہتی کیلئے منعقد کئے گئے اجتماع سے خطاب
لندن ۔۔۔ 12 مئی 2016 ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے اپیل کی ہے کہ ایم کیوایم کے ماورائے عدالت قتل کئے گئے کارکنوں کے لواحقین کوقصاص ودیت کی روشنی میں انصاف فراہم کیاجائے اور ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کوبھی فی الفور بازیاب کرایاجائے ۔ انہوں نے یہ مطالبہ جمعرات کی شب کراچی میں قائداعظم کے مزار کے سامنے شہیداورلاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے منعقدکئے گئے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجتماع میں شہیدوں اورلاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان،حق پرست ارکان اسمبلی، ناظمین، کونسلروں، تنظیمی ذمہ داروں، کارکنوں، خواتین، بزرگوں اوربچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم اس دین کے ماننے والے ہیں کہ ہمارے نبی سرکاردوعالمؐ نے اپنی انصاف پسندی کا اظہار اس طرح فرمایاکہ اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی تومیں اس کے ہاتھ کاٹنے کی سزادیتا ۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق ؓ کے بیٹے کوایک گناہ سرزدہونے پر قاضی کی جانب سے 90کوڑوں کی سزاسنائی گئی ،کوڑے مارے جانے کے دوران ان کے صاحبزادے انتقال کرگئے توحضرت عمرؓ نے باقی رہ جانے والے کوڑے اپنے ہاتھوں سے خودمارے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے کتنے ہی کارکنان ماورائے عدالت قتل کئے جاچکے ہیں لیکن آج تک کسی ایک ماورائے عدالت قتل کے ذمہ داروں کوسزانہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری سرپرستی میں ذوالفقارمرزا اورگینگ وارکے جرائم پیشہ عناصراورڈاکوؤں کے ذریعے مہاجروں کاقتل عام کرایاگیا، شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں گینگ وارکے دہشت گردوں کے ذریعے مہاجروں کاقتل عام کرایاگیا،اس میں جولوگ گرفتار ہوئے انہیں راتوں رات شخصی ضمانت پر چھوڑ دیا گیا، بے گناہ قتل کئے جانے والے مہاجروں کے خاندان آج بھی انصاف کے منتظرہیں۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ حالیہ آپریشن کے دوران پولیس یارینجرزکے اہلکارلیاری، منگھوپیر ، اتحاد ٹاؤن، کٹی پہاڑی یا سہراب گوٹھ کے علاقوں میں جب بھی آپریشن کیلئے گئے توان علاقوں میں دہشت گردوں اورجرائم پیشہ عناصر کی جانب سے ان پر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیاگیااورہرمرتبہ پولیس اوررینجرزکے اہلکار مارے گئے جبکہ اس پورے آپریشن میں مہاجرعلاقوں میں ہزاروںآپریشن کئے گئے لیکن کسی بھی چھاپے میں پولیس یارینجرزپر ایک گولی تک نہیں چلی اس کے باوجود سب سے زیادہ چھاپے بے گناہ مہاجروں کے گھروں پرہی مارے جارہے ہیں اور انہیں گرفتارکیاجارہاہے۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ ایک طرف توایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاجارہاہے اوردوسری جانب حقیقی دہشت گردوں کی سرکاری سرپرستی کی جارہی ہے ۔ایک سرکاری ایجنسی کی جانب سے حقیقی دہشت گردوں کوڈیفنس میں تین بنگلے خریدکردیئے گئے ہیں، حقیقی دہشت گردسرکاری سرپرستی میں لانڈھی میں ایم کیوایم کے دفاترپرحملے کرتے ہیں، کارکنوں کوتشدد کا نشانہ بناتے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس صورتحال کافوری نوٹس لیں اورجوعناصر بھی اس کے ذمہ دارہیں ان کے خلا ف کارروائی کریں۔ انہوں نے کہاکہ اگر حقیقی کوپولیس کی سرپرستی حاصل ہے تووزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ کوبھی اس کاجواب دیناہوگا۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جن لوگوں کوچائنا کٹنگ اور دیگرجرائم میں ملوث ہونے کی بناء پر تحریک سے خارج کیا، جن کانام ،مقام، پیسہ اورمال ودولت سب کچھ ایم کیوایم کی مرہون منت ہے وہ آج بے شرمی اورڈھٹائی سے ایم کیوایم پر ہی ملک دشمنی اور طرح طرح کے بیہودہ الزامات لگارہے ہیں۔اگر واقعی ایسا تھاتووہ ایم کیوایم سے مفادات کیوں حاصل کرتے رہے؟ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان کوبنانے اوراسے ترقی دینے کے لئے مہاجروں نے بڑی قربانیاں دی ہیں لیکن یہ المیہ ہے کہ مہاجروں کوہردورمیں نظر انداز کیا گیا اور ان کی قربانیوں کااعتراف کرنے کے بجائے ان کے ساتھ نارواسلوک اختیار کیا گیا۔ آج پاکستان میں علامہ اقبال کے یوم وفات پر تو چھٹی کی جاتی ہے لیکن تحریک پاکستان کے عظیم رہنما،قائداعظم کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے یوم شہادت پر چھٹی نہیں کی جاتی۔ پاکستان کے ممتازایٹمی سائنسداں ڈاکٹرقدیرنے برسوں کی محنت کے ذریعے ایٹم بم بناکر پاکستان کوایٹمی قوت بنایا لیکن ان کی قربانی کا اعتراف کرنے کے بجائے ایک الزام لگاکران کی تذلیل کی گئی اور انہیں گھرمیں نظربند کیا گیا۔ پاکستان کے ممتاز شاعر ودانشورجمیل الدین عالی جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے ساری عمرپاکستان کی خدمت کی لیکن انہیں نظراندازکیا گیا، جب ایم کیوایم نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ایم کیوایم کے ٹکٹ پر سینیٹربنایاتو ان کے ساتھ نارواسلوک کرتے ہوئے حکمرانوں نے انہیں قومی ترانوں کی تشکیل کیلئے قائم کمیٹی سے نکال دیا۔اسی طرح محسن بھوپالی کاذکرنہیں کیا جاتا، ان کادن نہیں منایاجاتا،ڈاکٹرعطاء الرحمن جن کی قابلیت کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اسلئے کہ وہ مہاجرہیں۔ آج دیگراکابرین کوتو یاد کیا جاتا ہے لیکن برصغیرکی آزادی کے رہنماؤں سرسیداحمدخان، مولانامحمد علی جوہر، مولوناشوکت علی، راجہ صاحب محمودآباداور تحریک پاکستان کے دیگررہنماؤں کوفراموش کر دیا گیا ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکمرانوں کی طرح سیاسی جماعتوں نے بھی مہاجراکابرین کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اور ان کی خدمات کونظرانداز کیا۔انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کوبنانے اور اس کے ابتدائی ایام میں اسے مضبوط بنانے کیلئے مبشرحسن،معراج محمدخان ،این ڈی خان ،مسروراحسن،ساتھی اسحاق اور اسی طرح کے دیگر مہاجروں نے بڑی قربانیاں دیں لیکن انہیں نظراندازکردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ ساتھی اسحاق نے ایم کیوایم میں شمولیت اختیارکی ہے ،ہم ان کوویلکم کرتے ہیں۔اسی طرح محفوظ یارخان، سید حیدرامام رضوی،جسٹس کرم چند اوردیگرعلمی شخصیات بھی ایم کیوایم میں شامل ہوئی ہیں،ہم ان سب کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں ڈاکٹرپرویزہودبائی سمیت تمام دانشوروں اوراکابرین کوایم کیوایم میں شمولیت کی دعوت دیتاہوں، وہ ہمارے ساتھ آجائیں، اب ہماری جدوجہدایک نکتے پرہوگی کہ ’’ ہمیں ہماراصوبہ دو ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ جوپنجابی ،پختون، سندھی، بلوچ، ہزارے وال، سرائیکی ، کشمیری، گلگتی ، بلتستانی، کاٹھیاواڑی، مارواڑی، اسماعیلی، ہندو ، سکھ، عیسائی، پارسی، بوہری، جس مذہب، فقہ، مسلک یابرادری سے تعلق رکھنے والاہمارے صوبے میں ہوگااس کاحق ایک تولہ بھی کم نہیں ہوگا بلکہ برابرہوگا۔انہوں نے کہاکہ میں سب کودعوت دیتاہوں کہ صوبوں کے قیام کے لئے ہمارے ساتھ ملکر جدوجہدکریں کیونکہ ملک اب اس طرح نہیں چل سکتا۔
جناب الطاف حسین نے سیاسی وعسکری قیادت کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروں کوظلم وستم کرکے دیوارسے نہ لگایاجائے اور انہیں اس طرف نہ دھکیلا جائے کہ وہ اپنی بقاء کے لئے کوئی اورراستہ اختیارکرنے پر مجبورہوجائیں، لہٰذاخداکے لئے مہاجروں پر ظلم بندکیاجائے، لاپتہ افرادکو بازیاب کیاجائے اور جو کارکنان شہیدکردیئے گئے ہیں ان کے والدین کوقصاص ودیت کے اصول کے تحت انصاف فراہم کیاجائے اورایم کیوایم کے خلاف گندے لوگوں کی سرپرستی بند کی جائے ۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ سرکاردوعالم ؐ ، اہل بیت ، صحابہ کرامؓ ، شہدائے کربلااورتمام بزرگان دین کے صدقے ہماری مددفرمائے ۔ خطاب کے اختتام پر ممتازعالم دین سینیٹرمولانا تنویرالحق تھانوی نے خوش وخضوع کے ساتھ دعاکرائی۔ 

مزید تصاویر

9/25/2016 7:12:33 AM