Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

الطاف حسین کی قیادت میں پاکستان کے مظلوموں کی نجات بھی ہے وہ ہماری رہنمائی و قیادت جاری رکھیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار


الطاف حسین کی قیادت میں پاکستان کے مظلوموں کی نجات بھی ہے وہ ہماری رہنمائی و قیادت جاری رکھیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 5/12/2016
الطاف حسین کی قیادت میں پاکستان کے مظلوموں کی نجات بھی ہے وہ ہماری رہنمائی و قیادت جاری رکھیں گے، ڈاکٹر فاروق ستار 
ایم کیوایم پاکستان میں آئین وقانون کی بالادستی قائم کرناچاہتی ہے اورآج مزارقائدپرحاضری اورفریادکے لئے دھرنااسی سلسلے کی کڑی ہے
مزار قائد کے سامنے حق پرست شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری ، لاپتہ و اسیر کارکنان کی رہائی و بازیابی کیلئے دھرنا پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی کے قیام کیلئے کیا گیا ہے ، سینئر ڈپٹی کنوینرایم کیوایم
کراچی آپریشن کے دوران ہم نے کڑوے گھونٹ بھی پیئے اور حد سے تجاوز اوراختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت کیا، فارو ق ستار
قانون نافذ کرنے والے ادارے لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی ، لائینر ایریااور ملیر میں حقیقی دہشت گردوں اور شر پسندوں کی تخریب کار کاروائیوں اور بدامنی قائم کرنے کی سازشوں پر نظررکھیں، ڈاکٹر فاروق ستار 
ہمیں اپنے دفاع کا حق اور چوکیداری نظام قائم کرنے کی اجازت دی جائے ، ڈاکٹر فارو ق ستار 
حکومت سندھ نے مقامی حکومت کے اختیارات سلب کرکے اور ادارے تحویل میں لیکر کراچی کی مکمل تباہی کا ایک اور سامان کیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
جنرل راحیل شریف نے خود کہا ہے کہ ہر سطح پر احتساب ہونا چاہئے تو پھر کراچی آپریشن میں بھی اگر غلط ہوا ہے تو انصاف 
اور احتساب ہونا چاہئے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
مزار قائد کے سامنے شہید کارکنان کے قاتلوں کی گرفتاری ، اسیر اورلاپتہ کارکنان کی بازیابی ورہائی کیلئے منعقد کئے گئے ’’حاضری اور فریاد ‘‘ کے دھرنے میں صحافیوں کو پریس بریفنگ 
کراچی ۔۔۔12، مئی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر محمدفاروق ستار نے کہا ہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کی قیادت میں پاکستان کے مظلوموں کی نجات بھی ہے وہ ہماری رہنمائی و قیادت جاری رکھیں گے اور پاکستان بھی اپنی منزل تک پہنچے گا،ایم کیوایم پاکستان میں آئین وقانون کی بالادستی قائم کرناچاہتی ہے اورآج مزارقائدپرحاضری اورفریادکے لئے دھرنابھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں امن کے قیام کیلئے ایم کیوایم نے 60کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کوجھیلا ، 135 کے قریب کارکنان جبری لاپتہ ہیں ،ہمارے مطالبے پر کراچی میں بدامنی ، جرائم اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع ہوا ، اس آپریشن کے دوران ہم نے کڑوے گھونٹ بھی پیئے اور حد سے تجاوز اوراختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت کیا ،متحدہ قومی موومنٹ کراچی کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے اگر کراچی میں امن قائم وہوگا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ متحدہ قومی موومنٹ کو ہی ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کے دفاع اور سلامتی کیلئے قومی اثاثہ ہیں لیکن حکمرانوں کو اس کا احساس نہیں ہے،کراچی اوراس کے عوام کے حقوق غضب کرلئے گئے ہیں تو نامزد حق پرست میئر پھروسیم اختر کیا بکریاں چرہائیں گے، میئر اور چیئرمین کیا چرواہے بنے گے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو مزار قائد کے سامنے ایم کیوایم کے شہید کارکنوں کے قاتلوں کی گرفتاری ، لاپتہ کارکنان کی بازیابی اور اسیر کارکنان کی رہائی کیلئے منعقد کئے گئے احتجاجی دھرنا اور مظاہرے میں صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے اراکین ، حق پرست اراکین اسمبلی اور شہید ، اسیر اور لاپتہ کارکنان کے لواحقین اوراہلخانہ کی بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم کے شہید ، لاپتہ اور اسیر کارکنان کے لواحقین اور اہلخانہ کی بہت بڑی تعدادقائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے جمع ہے اور آج کی حکومت وقت کے سامنے سراپا احتجاج ہیں ، میں یہ واضح کردوں کہ قائد تحریک الطاف حسین کی تائید اور توثیق سے منعقد کیا جانے والا یہ پرامن احتجاجی دھرنا اور مظاہرہ دراصل پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کیلئے کیاگیا ہے۔ مزار قائد کے سامنے یہ احتجاجی دھرناپاکستان میں انسانی حقوق کی بے توقیری اور اس کی خلاف ورزی کو ختم کرنے کیلئے اور انسانی حقوق کے احترام کو قائم کرنے کیلئے یہ کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے مطالبے پر اور ایماء پر کراچی میں بدامنی ، جرائم اور دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن ہوا اور اس آپریشن کے دوران ہم نے جہاں حد سے تجاوز کیا گیا ، اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا اس پر کڑے گھونٹ بھی پیئے ، لیکن آج اگر کراچی میں یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ امن قائم ہوا ہے تو ہم کراچی کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں ، کراچی میں جرائم ، دہشت گردی ، تشدد ہو تو اس کے سب سے بڑے متاثرہ متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان ، عہدیداران ، ووٹر ز حامی اورہیں ، ہم سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر بھی ہیں اور اگر امن قائم ہوگا اور پائیدار امن ہوگا تو اسکا سب سے فائدہ بھی ہمارے ووٹرز کو ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے احتجاجی دھرنے اور مظاہرہ میں عام شہری بھی شامل ہیں جو کراچی میں مستقبل امن دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر کا میڈیا پربلیک آؤٹ ہے اور پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19کے تحت ان سے اظہار رائے کا حق چھین لیا گیا ہے ،ہم انسانی حقوق کی توقیر اور احترام چاہتے ہیں ، جناب الطاف حسین نے خود اپنے خطاب میں کہا کہ میں کل بھی امن کا داعی اور علمبردار تھا اور آج بھی ہوں ۔انہوں نے کہاکہ ہماری شہادتوں اور جبر ی گمشدیوں کی قربانیوں سے اگر کراچی میں امن قائم ہوا تو پھر اس امن کوقائم رہنا چاہئے ، جرائم کا مستقل خاتمہ ہونا چاہئے ، جب سب کراچی میں امن کا کریڈیٹ لیتے ہیں تو ان میں بھی اتنی جرات ہونی چاہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فلور پر کہ دیں کہ کراچی میں آپریشن کا مطالبہ ہم نے کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی سیاسی بصیرت یہ ہے کہانہوں نے کڑوے گھونٹ پیئے اورامن کی خاطر بے گناہ لوگوں کی گرفتاریاں بھی قبول ہیں ،گھروں اور چھاپوں کے صدمات برداشت کئے اگر کراچی میں واقعی امن قائم ہوجائے اور اس میں ہمارے بے گناہ کارکنوں کی شہادتیں شامل ہیں تو ہم سمجھیں گے شہادتیں کام آئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں امن کے قیام کیلئے ایم کیوایم نے 60کارکنان کے ماورائے عدالت قتل کوجھیلا ، 135 کے قریب کارکنان جبری لاپتہ ہیں اور انکی مائیں ، بیٹیاں بیویاں، بچے اوربہنیں یہاں پر موجود ہیں ۔ یہ اچھا نہیں لگتا کہ روزانہ اپنی بیٹیوں ، بہنوں اور بھائیوں کی بیگمات اور بچوں کو یہ کہیں کہ وہ روزانہ آئیں اب حکمرانوں کو بھی کچھ شرم و حیااور انصاف سے کام لینا چاہئے ۔ انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کیا کہ جناب الطاف حسین نے آج بھی امن کا پیغام دیا لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے لانڈھی ، شاہ فیصل کالونی ، لائینر ایریااور ملیر میں حقیقی دہشت گردوں اور شر پسندوں کی تخریب کار کاروائیوں اور بدامنی قائم کرنے کی سازشوں پر نظررکھیں ، بلاجواز اشتعال انگیزی کی جارہی ہے ، میری ماؤں ، بہنوں کے آنچل اتارے جارہے ہیں ، ان کی بے حرمتی کی جارہی ہے ۔ مذکورہ علاقوں میں روزانہ بیس بیس پندرہ پندرہ گھروں میں گھس کر یہ کاروائیاں ہورہی ہیں ، کراچی کے امن کے مستقبل کیلئے یہ کاروائیاں ، ظلم و ستم کیا کراچی میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتی ہیں ؟ ہمارے کارکنوں کو روزانہ بدترین تشدد کانشانہ بنا کر زخمی کیاجارہا ہے ، کل بھی حقیقی دہشت گردوں کے ظلم کے خلاف اتھانے پر احتجاج کرنے والے دو کارکنان کو فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا لیکن اس ظلم پر ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں حقیقی دہشت گردوں کی تخریب کاری کی کاروائیوں کا کوئی ذکر نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں منتخب اور نمائندہ جما عت کو دیوار سے لگا کر اسلحہ بردار اور ڈنڈا بردار وں کے لئے جگہ پیدا کی جارہی ہے تاکہ وہ پھر یہاں جرائم، تشدد اور دہشت گردی کا بازار گرم کریں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم کسی دہشت گرد گروہ ، جرائم پیشہ عناصر کے ایسے ہتھکنڈوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اسٹیبلشمنٹ اورقانون نافذ کرنے والوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر وہ ان کی سرپرستی نہیں کررہے اور ان کے ساتھ نہیں ہیں تو چوبیس گھنٹے میں یہ کاروائیاں رک جانی چاہئے ورنہ ہمیں اس بات کی اجازت ملنی چاہئے کہ ہم اپنی بہنوں ، بیٹیوں اور چادر اور چہادر دیواری کے تقدس کو پامال کرنے والوں سے اپنا دفاع خود کرلیں اگر ادارے ہمیں تحفظ دینے کو تیار نہیں ہیں تو ہمیں اجازت دیں پھر ہم اپنا ددفاع کرتے ہیں یا تو ادارے ہمیں بچائیں یا پھر چوکیداری نظام کرنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے کہاکہ چوکیداری نظام بنانے دیں ہم طالبان اور حقیقی دہشت گرددوں سے نمٹ لیں گے ان سب کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے اور یہ یہاں تشدداور دہشت گردی کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ چیف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد کی شہادت پرانصاف دینے کا وعدہ کیا ہے تو ہمیں امید ہے کہ ہمارے 135لاپتہ کارکنان انکے اہل خانہ کے ساتھ بھی انصاف ہوگا ۔انہوں نے کراچی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے 240کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ بھی ہوئی ہے اور یہاں امن قائم کرنے کے دعوے کئے جارہے ہیں تو یہ سب ہماری مشترکہ کوشوں سے ہوا ہے ، اس میں ہماری قربانیاں شامل ہیں ، ہم نے کڑوے گھونٹ پیئے پھر بھی کہا کہ آپریشن جاری رہے لیکن اس آپریشن کی کچھ مانیٹرنگ ہونی چاہئے ہم نے پہلے دن بھی یہ کہا مانیٹرنگ ہونی چاہے کیونکہ اگر آئین و قانون کی بالادستی کیلئے یہاں آئے ہیں تو ہم اپنے آئینی اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی اپنے دل سے بہت قریب سمجھتے ہیں ، کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں کی وجہ سے اپنے اداروں کی ساکھ داؤ پر لگے ہمیں یہ بھی منظو رنہیں ہے لہٰذا مانیٹرنگ کا نظام ، احتساب کا نظام قائم کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل شریف نے خود کہا ہے کہ ہر سطح پر احتساب ہونا چاہئے تو پھر اس آپریشن میں بھی اگر غلط ہوا ہے اورجنہوں نے کیا ہے اور جن کے خلاف ہوا ان کے ساتھ انصاف اورجنہوں نے کیا ان کا احتساب ہونا چاہئے ،کراچی آپریشن امن قائم کرنے میں اگر کوئی اونچ نیچ ہوئی ہے تو آپ خود فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ آٹھ سالوں میں سندھ کے شہری علاقوں کا احساس محرومی احساس بیگانگی میں تیزی سے بدل رہا ہے ، ہمارے بنیادی حقوق پانی ، صفائی ، تعلیم ، صحت ، نکاسی آب ، پبلک ٹرانسپورٹ ، بجلی ، ہماری گراس روٹ ڈیمو کریسی ، بلدیاتی اداروں ، مقامی حکومتوں کے اختیارات ، میئر اور کونسلروں کے اختیارات یہ سارے حقوق غضب کرلئے گئے ہیں اگر یہ ادارے بھی صوبائی حکومت کی تحویل میں چلے گئے ہیں تویہ کراچی کی مکمل تباہی کا ایک اور سامان کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب حقوق غضب کرلئے گئے ہیں تو نامزد حق پرست میئر پھر وسیم اختر کیا بکریاں چرہائیں گے ، میئر اور چیئرمین کیا چرواہے بنے گے ۔ انہوں ںے کہاکہ عوام کے غیض غضب آیا تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور بنیادی حقوق اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات اورمقامی ٹیکس بحال ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ جناب الطاف حسین سے دست بدستہ گزارش کی کہ وہ علیحدگی کی بات کرکے ہمیں ڈپریشن کا شکار نہ کریں ہم سخت ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ انشاء اللہ الطاف حسین ہماری رہنمائی ، قیادت جاری رکھیں گے اور انکی قیادت میں پاکستان کے مظلوموں کی نجات بھی ہے اور پاکستان بھی اپنی منزل تک پہنچے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان کے دفاع اور سلامتی کیلئے قومی اثاثہ لیکن حکمرانوں کو اس کا احساس نہیں ہے۔
تصاویر

12/10/2016 8:44:54 AM