Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

رینجرز کی حراست میں آفتاب احمد کے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو وزارت داخلہ سندھ کی طرف سے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا قتل کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے ، رابطہ کمیٹی


رینجرز کی حراست میں آفتاب احمد کے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو وزارت داخلہ سندھ کی طرف سے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا قتل کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے ، رابطہ کمیٹی
 Posted on: 5/10/2016
رینجرز کی حراست میں آفتاب احمد کے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو وزارت داخلہ سندھ کی طرف سے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا قتل کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے ، رابطہ کمیٹی 
حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر درج کرے اور اس کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے ، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم 
آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کو مشروط کرنا سراسر ناانصافی اور شہید کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کا بد ترین عمل ہے، رابطہ کمیٹی 
وزاررت داخلہ سندھ کے موقف سے حکومت سندھ کی آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کیلئے بدنیتی عیاں ہوگئی ہے، رابطہ کمیٹی 
کراچی ۔۔۔10، مئی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے صوبائی وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے ’’ایم کیوایم کے کارکن اور سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کو آرڈی نیٹر آفتاب احمد کی رینجرز حراست میں انسانیت سوز تشدد سے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو شہید کے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنے کے موقف کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وزارت داخلہ سندھ سے کے موقف سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت سندھ آفتاب احمد شہید کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کیلئے بھونڈی کوششیں کررہی ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز تحویل میں شہادت کو ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آفتاب احمد شہید رینجرز کی حراست میں بد ترین اور انسانیت سوز تشد د کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں اور تمام حقائق کے بعد یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر درج کرتی لیکن آفتاب احمد شہید کے قتل کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے بجائے وزارت داخلہ سندھ نے ایسا موقف اختیار کیا ہے جس سے حکومت سندھ کی آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کیلئے بدنیتی عیاں ہوگئی ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ رینجر کی حراست میں آفتاب احمد شہید کے قتل کی شفاف تحقیقات کرنا اور ملوث اہلکاروں کوآئین و قانون کے مطابق سزا دینا انصاف کا تقاضا ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی آپریشن کو شروع ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ایم کیوایم کے 50سے زائد کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور140سے زائد کارکنان اب تک لاپتہ ہیں جبکہ ایم کیوایم کے ساتھ ظلم و ستم کی انتہاء یہ ہے کہ جن بے گناہ کارکنان کو گرفتار کیا جاتا ہے انہیں بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر رہاکیاجاتا ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ آفتاب احمد شہید کے لواحقین انصاف کے حصول کے منتظر ہیں اور وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر کے اندراج اور تحقیقات کو ایم کیوایم اور شہید کے لواحقین کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا سراسر ناانصافی ہے اور شہید کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کا بد ترین عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز تحویل میں ہلاکت کی ایف آئی آر از خود درج کرکے حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور آفتاب احمد شہید کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے ۔

12/8/2016 8:00:25 PM