Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ماؤں کے عالمی دن پر پوری دنیا اپنی ماؤں کو پھول اور مبارکباد دے رہی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی مائیں اپنے پیاروں کی یاد میں رو رہی ہیں۔ خوش بخت شجاعت


ماؤں کے عالمی دن پر پوری دنیا اپنی ماؤں کو پھول اور مبارکباد دے رہی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی مائیں اپنے پیاروں کی یاد میں رو رہی ہیں۔ خوش بخت شجاعت
 Posted on: 5/8/2016 1
ماؤں کے عالمی دن پر پوری دنیا اپنی ماؤں کو پھول اور مبارکباد دے رہی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی مائیں اپنے پیاروں کی یاد میں رو رہی ہیں۔ خوش بخت شجاعت
ایم کیو ایم کے کارکنان کی غمزدہ ماؤں کے غم کو اجاگر کرنا ہے جن کے بچوں کو لسانی تعصب اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایاجارہا ہے ، خوش بخت شجاعت
آج کا یہ مدر ڈے ہم آفتاب احمد شہید سمیت تمام حق پرست شہداء کی ماؤں کے نام کرتے ہیں۔ زرین مجید
ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ہم عدلیہ، حکومت، رینجرز سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفسزکے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں، لاپتہ کارکنان ک دکھی ماؤں کا اظہارخیال
حق پرست خواتین اراکین اسمبلی اور ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی ماؤں کے ہمراہ نائن زیرو پرپُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔ 08؍ مئی 2016ء
حق پرست سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ ماؤں کے عالمی دن پر پوری دنیا اپنی ماؤں کو پھول بھیج رہی ہے اور انہیں مبارکباد دے رہی ہے اور ہم یہاں نائن زیرو پر ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی مائیں اپنے پیاروں کی یاد میں رو رہی ہیں، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ کیسا مدر ڈے منایاجارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نائن زیرو پر مدر ڈے کے موقع پر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کی رکن زرین مجید، حق پرست خواتین اراکین اسمبلی اور ایم کیو ایم کے لاپتہ ، اسیر اور شہید کارکنان کی ماؤں کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حق پرست سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ آ ج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں جیسی عظیم ہستی کا عالمی دن منایاجارہا ہے اور ماؤں کی عظمت اور احترام کے حوالے سے سمینار اور پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور نائن زیرو پر ایم کیوایم کے لاپتہ، اسیر اور ماورائے عدالت شہید کئے گئے کارکنان اور ہمدردوں کی مائیں اپنا کرب، دکھ ، تکلیف اور تنہائی کا غم منارہی ہے اور ارباب اختیار سے انصاف کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی اس پریس کانفرنس کا مقصد ایم کیو ایم کے کارکنان کی غمزدہ ماؤں کے غم کو کو اجاگر کرنا ہے جن کے بچوں کو سیاسی مخالفت میں ظلم و ستم اور تشدد کا نشانہ بنایاجارہا ہے ، ماورائے عدالت قتل کیاجارہا ہے اور گرفتار کرکے لاپتا کیاجارہا ہے اور حد تو یہ ہے کہ بے گناہوں کو جھوٹے الزامات میں گرفتار کرکے نوے نوے روز کے ریمانڈ لئے جارہے ہیں اور بغیر جرم جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور پر کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ہزاروں مائیں کراچی میں موجود ہیں جو اپنے بچوں کیلئے انصاف کی منتظر ہیں لیکن انہیں کہیں سے انصاف نہیں مل رہا ہے اور ایسی مائیں جس دکھ ، کرب اور اذیت سے گزر رہی ہیں وہ ایک قومی المیہ ہے جس پر ارباب اختیار و اقتدار کو اب آنکھیں کھولنی چاہئے اور ایسی ماؤں کی داد رسی کرکے انہیں انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے کراچی آپریشن کے بعد سے ایم کیوایم کے 50سے زائد کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ، 140سے زائد کارکنان گرفتاریوں کے بعد سے لاپتا ہیں اور ایک ہزار سے زائد کارکنان جھوٹے مقدمات میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے شہید ، لاپتہ اور اسیر کارکنان کو صرف سیاسی مخالفت میں غیر قانونی ، غیرآئینی اور غیر جمہوری حربوں اور ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایاجارہا ہے جس پر ان کی مائیں ہر جمہوری اور سیاسی طریقہ استعمال کرچکی ہیں ، احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں کرکے اپنا دکھ اور تکلیف بیان کرچکی ہیں لیکن صدافسوس کہ ملک کے حکمرانوں نے ان ماؤں کی داد و فریادوں پر اب تک کوئی توجہ نہیں دی اور ایم کیوایم کے شہید ، لاپتہ اور اسیر کارکنان کی ہزاروں مائیں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی کی ماں اپنے بچے کی تشدد زدہ اور کٹی پٹی لاش دیکھے گی تواس کا کلیجہ پھٹے گا نہیں تو کیا ہوگا اور اس کے دل سے بددعا ہی نکلے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکن اور رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنونیر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈی نیٹر آفتاب احمد شہید کی لاش پرانسانیت سوز تشدد اس کی ایک تازہ اور زندہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفتاب احمد شہید کی ماں اور بہنوں نے جب ان کا جسد خاکی دیکھا ہوگا توان پر کیا گزری ہوگی اور ان کے جذبات کیا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے آفتاب احمد شہید کے ماورائے عدالت قتل کا نہ صرف نوٹس لیا بلکہ اس کی شفاف تحقیقات کا حکم بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مدر ڈے کے موقع پر ایم کیوایم کے بے گناہ شہید ، لاپتہ اور اسیر کارکنان کی ماؤں کی جانب سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی ہزاروں ماؤں کو انصاف کی فراہمی کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں اور یہ ظلم و ستم اور تشدد بند کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کے حکمرانوں کو باآور کرانا چاہتے ہیں کہ ماؤں کی عظمت اور احترام کو سمجھا جائے اور صرف سیاسی مخالفت میں ایم کیوایم کے کارکنان کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا کر ماؤں کو دکھ ، تکلیف اور اذیت دینے کا عمل بند کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ایسی مائیں بھی بیٹھی ہیں جن کی آنکھیں اپنے پیاروں کی واپسی کی راہ تکتے تکتے پتھرا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کا کون سا درازہ ہے جو ان ماؤں نے نہیں کھٹکھٹا یا ، حکمرانوں ، عدالتوں ، رینجرز حتیٰ کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر ان کے پیروں میں سوجن آگئی۔ انہوں نے کہاکہ اس بے حسی کے عمل پر ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ جس ملک میں ایسی ہزاروں مائیں ہوں جو دکھ ، تکلیف اور کرب اوراذیت کی کیفیت میں مبتلا ہوں اور انصاف کی متلاشی ہوں ایسا ملک اور قوم کس طرح ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرسکتا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ ممالک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے کہ اگر ایک بھی ماں اپنے کسی بے گناہ بیٹے کی غیر قانونی ، غیر آئینی گرفتاری کے بعد شہید کئے جانے ، لاپتہ کئے جانے اور اسیر کئے جانے کے غم میں مبتلا ہے تو اس کا ازالہ کیاجائے لیکن کراچی ملک کا واحد شہر ہے جہاں ایسی ہزاروں مائیں موجود ہیں اور ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر بھی ایسی ہزاروں ماؤں کو نظر انداز کرنا اور ان کی داد رسی تک نہ کرنا کھلی بے حسی نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایم کیوایم کے شہید ، اسیر اور لاپتہ کارکنان کی تمام ماؤں کوہمت ، حوصلہ اور صبر عطا فرمائے ، ان کے دکھ ، تکلیف اور کرب کو سمجھنے کی حکمرانوں کو توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایم کیوایم کے شہید ، اسیر اور لاپتہ کارکنان کی دکھی ماؤں کے ساتھ ہیں اورانہیں انصاف کی فراہمی تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مدر ڈے کے موقع پر ہم اس عزم کا بھی عائدہ کرتی ہیں کہ جب تک ایم کیوایم کے ایک ایک کارکن کی ماؤں کو انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے اور ان ماؤں کے دکھ ، تکلیف اور کرب میں ان کا ہرممکن سہارا بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے لاپتہ ، اسیر اور شہید کارکنان کی مائیں آج جس کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں وہ الفاظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے لہٰذا ہم مدر ڈے کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم کے بے گناہ ماورائے عدالت کئے جانے والے کارکنان ، لاپتہ کارکنان اور اسیر کارکنان کی ماؤں کے دکھ ، درد اور تکلیف اور کرب کا فی الفور ازالہ کیاجائے ، لاپتہ افراد کو بازیاب کرایاجائے اور ان کی ماؤں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ رکن رابطہ کمیٹی زرین مجید نے کہا کہ آج کا مدر ڈے ہم آفتاب احمد شہید سمیت تمام حق پرست شہداء کی ماؤں کے نام کرتے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی باحفاظت بازیابی و رہائی کیلئے گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاجی ریکارڈ کرایا لیکن کوئی داد رسی نہیں ہوئی اور بالآخر ہم نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن آج تک انصاف نہیں ملاہم سوال کر تے ہیں کہ ان کارکنان و ہمدردوں کے اہل خانہ انصاف کیلئے کہاں جائیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ہم چیف جسٹس آف پاکستان، سندھ ہائی کورٹ، حکومت وقت سمیت تمام متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان ماؤں کو انصاف مہیا کیا جائے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے لاپتہ و اسیر کارکنان کی ماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے ہم عدلیہ، حکومت، رینجرز سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں لیکن کوئی ہمیں انصاف فراہم کرنے کو تیار نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا کے نمائندوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بیٹوں کو ہم سے ملوانے کیلئے اور انہیں انصاف دلوانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سچ دنیا کے سامنے کھل کر بیان کریں۔ 







12/6/2016 6:06:49 AM