Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بابائے مہاجرقوم۔۔۔الطاف حسین۔۔۔تحریر:۔ قاسم علی رضا


بابائے مہاجرقوم۔۔۔الطاف حسین۔۔۔تحریر:۔ قاسم علی رضا
 Posted on: 5/6/2016 1
بابائے مہاجرقوم۔۔۔الطاف حسین
تحریر:۔ قاسم علی رضا
بانیان پاکستان کی اولادوں کو پاکستانیت اور حب الوطنی کا سبق پڑھانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ مہاجروں کے اجداد نے لاکھوں قیمتی جانوں کا نذرانہ دیکر پاکستان پہلے قائم کیا اور پاکستان بننے کے بعد اپنے پرکھوں کی یادگاریں، قبریں، زمین، گھر اور رشتہ دار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی لیکن پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کو اب بھی مہاجروں کی حب الوطنی پر شک ہے باوجود اس کے کہ انہوں نے مجبوری میں نہیں بلکہ اپنی خواہش اور رضا سے پاکستانی بننا گوارا کیا ہے۔
مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی شروع کردیاگیا تھا، پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم خان لیاقت علی خان اور جواہرلعل نہرو کے مابین معاہدے کے نتیجے میں دونوں جانب نقل مکانی کرنے والوں کی جائیداد کے تبادلہ کا سلسلہ جاری تھا کہ 16، اکتوبر1951ء کو خان لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیااور برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں میں زمین جائیداد کے مالک مہاجروں کو پاکستان میں ’’فرزندزمین‘‘ نہ ہونے کے طعنے سہنے پڑے جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔
قیام پاکستان کے بعد مہاجروں نے اپنے علم اور تجربے کو بروئے کار لاکر ملک کے انتظام وانصرام کوسنبھالا، پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کیااور ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کیا لیکن ا س کے صلے میں مختلف سول وفوجی حکومتوں میں مہاجربیوروکریٹس کو ان کی ملازمتوں سے بیدخل کردیا گیا،بیوروکریسی میں مہاجروں کا داخلہ بند کیا جانے لگا،سی ایس ایس کے امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہونے والے مہاجرطلباء کو انٹرویوز میں محض اس لئے مسترد کیاجانے لگا کہ ان کے اجداد کی جائے پیدائش ہندوستان تھی اور یہ طلباء فرزند زمین نہیں تھے،، مہاجروں کے بنائے ہوئے اسکول، کالج، فیکٹریاں،بنک، انشورنس کمپنیاں اور دیگر ادارے نیشنلائزیشن کی آڑ میں چھین لئے گئے،نیشنلائزیشن، لسانی بل اورکوٹہ سسٹم کی آڑ میں مہاجروں کا ہرسطح پر سیاسی ،اقتصادی، معاشی ، تعلیمی اورجسمانی قتل عام کیاگیا ،اردوزبان کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کو شہید کردیاگیا۔پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقارعلی بھٹو اور انکے کزن ممتاز بھٹو نے لسانی بل اورکوٹہ سسٹم کے ذریعہ سندھ کی مستقل آبادی کے درمیان ایک خلیج پیدا کرکے صوبہ سندھ کو عملاً تقسیم اور انصار ومہاجر کے درمیان نفرت کی وسیع دیوار کھڑی کردی، اس زمانے میں نہ ایم کیوایم تھی اور نہ قائد تحریک جناب الطاف حسین میدان سیاست میں موجودتھے ، اس وقت سیاسی افق پرچھانے والے مہاجراکابرین نے اس ظلم وناانصافیوں کے خلاف مصلحت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کیے رکھی،مہاجروں کے ووٹوں سے مسند اقتدار پر براجمان ہونے والوں نے اس ظلم کے خلاف کوئی آواز بلند نہیں کی اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ظلم وستم اور ناانصافیوں کا سلسلہ گلی گلی پھیلنے لگا۔ پھریہ وقت آگیا کہ مہاجرمسافروں سے بھری بس میں غیرمہاجرڈرائیور یا کنڈیکٹر جسے چاہتا فحش مغلظات بکتااور تشددکا نشانہ بناتا لیکن ادب وآداب اور تہذیب وتمدن رکھنے والے مہاجر اوباش اور بدتمیز عناصر کے منہ لگنے سے گریز کرتے رہے ،عصبیت اور تعصب کی چیرہ دستیوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا، ہرگلی ، محلہ اورسڑک پر مہاجربزرگوں اور خواتین کی بے حرمتی کی جانے لگی، مہاجرنوجوانوں کو تشددکا نشانہ بنایاجانے لگا۔اس ظلم وستم اور جبرواستبداد کو کراچی کے غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے جناب الطاف حسین نے محسوس کیااور حقوق سے محروم مہاجروں کی قیادت سنبھالنے کا بیڑا اٹھایا، مہاجرطلباء کے حقوق کیلئے 11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قائم کی، جامعہ کراچی میں جناب الطاف حسین کی شعلہ بیانی اور ولولہ انگیز قیادت نے جماعت اسلامی کی اجارہ داری پر کاری ضرب لگائی ، جماعت اسلامی نے اے پی ایم ایس ا و کی مقبولیت سے بوکھلاکر متشدد کارروائیاں شروع کردیں اور حکومت وانتظامیہ کے ذریعہ سے جناب الطاف حسین اور ان کے رفقاء کو جامعہ کراچی اور دیگر تعلیمی اداروں سے بیدخل کرادیا۔ جامعہ کراچی سے بیدخلی پر جناب الطاف حسین کو اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی لیکن یہ ظلم وستم انکے فولادی عزائم کو کمزور نہ کرسکے اورانہوں نے کراچی کی گلیوں اور محلوں میں حق پرستی کی جدوجہد کاآغاز کردیا، وسائل کی کمی اور اپنے پرائے کی مخالفتوں کے باوجود جناب الطاف حسین ہمت وحوصلہ کامینار بن کر مہاجروں کے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے اور بالآخر ان کی انتھک محنت رنگ لائی اور 18، مارچ1984ء کو ایک طلباء تنظیم کے بطن سے ایسی عوامی تحریک نے جنم لیا جس نے جناب الطاف حسین کی ولولہ انگیز قیادت میں محض تین برس میں جمہوری طریقے سے ثابت کردیاکہ ایم کیوایم ، کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہروں کی نمائندہ جماعت ہے ۔70 کی دہائی میں تعلیم یافتہ مہاجرنوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے ملازمتوں کے حصول کیلئے مارے مارے پھرا کرتے تھے اوراپنے روشن اور محفوظ مستقبل سے مایوس ہوتے جارہے تھے، یہ جناب الطاف حسین کااحسان ہے کہ انہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مایوسی کی دلدل سے باہر نکالا ، انہیں بے روزگاری کے عذاب سے بچانے کیلئے ’’محنت میں عظمت ہے ‘‘ کا درس دیا، تعلیم یافتہ نوجوانوں کو محنت مزدوری کی جانب راغب کرایا ورنہ مہاجروں کی یہ نسل مایوس ہوکر معاشرتی برائیوں کا شکار ہوجاتی۔جناب الطاف حسین نے اپنی شب وروز محنت کے ذریعہ مختلف سیاسی ومذہبی اور سماجی تنظیمیوں میں منقسم مہاجروں کو شعور دیا،انہیں حقوق کا ادراک کرایا، حقوق غصب کرنے والے غاصبوں کے بارے میں آگاہی دی اور حقوق کی جدوجہد کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد کردیا،اس جدوجہد میں جناب الطاف حسین نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، مخالف سیاسی ومذہبی جماعتوں کا تشدد برداشت کیا، اپنی جوانی کے قیمتی ایام قربان کردیئے حتیٰ کہ حق پرستی کی جدوجہد میں اپنے بڑے بھائی ناصر حسین اور بھتیجے عارف حسین سمیت ہزاروں ساتھیوں کی المناک شہادتوں کے صدمات سہے لیکن اپنے فکروفلسفہ اور نظریہ کا پرچارکرتے رہے ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور قائد تحریک جناب الطاف حسین کی مسلسل محنت ولگن کے باعث ایم کیوایم ، دنیا بھر میں پاکستان کی چوتھی، صوبہ سندھ کی دوسری اور کراچی کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت تسلیم کی جاتی ہے، ایم کیوایم سے قبل سیاست کرنا اور انتخابات میں حصہ لینا صرف جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کا حق سمجھا جاتا تھا لیکن جناب الطاف حسین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت متعارف کراکر ایسی تاریخ رقم کردی ہے جسے پاکستان کی تاریخ کا سنہرا باب قراردیاجاسکتا ہے ۔ آج پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی ایوانوں میں غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت حق پرست نمائندے موجود ہیں، اس انوکھے اور منفرد طرز سیاست نے ملک کی دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کے کارکنوں میں بھی یہ شعور بیدارکردیا ہے کہ غریب کارکنان کا کام صرف جلسہ جلوس میں دریاں بچھانا ، تالیاں بجانا، نعرے لگانااور قربانیاں دینا نہیں ہے انہیں بھی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے کاحق ملناچاہیے ، اس شعوری بیداری کاکریڈیٹ بھی جناب الطاف حسین کو ہی جاتا ہے ۔جناب الطاف حسین کی 39 سالہ جدوجہد کا ایک ایک پل ایثار وقربانی سے تعبیر ہے اور آج پاکستان کی تمام مظلوم قومیتوں ، تمام مسالک اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی جناب الطاف حسین کو اپنا نجات دہندہ قراردے رہے ہیں۔ بلاشبہ جناب الطاف حسین نے ایک گمنام قوم کو پہچان دی ، نام دیا اور انہیں متحد کرکے ایک بھرپورعوامی قوت میں تبدیل کردیا۔ مہاجرقوم ، بابائے مہاجر جناب الطاف حسین کے اس احسان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

9/27/2016 10:31:17 AM