Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آفتاب احمد کی تشدد سے شہادت کے واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے 165 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایا جائے


آفتاب احمد کی تشدد سے شہادت کے واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے 165 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایا جائے
 Posted on: 5/5/2016 1
آفتاب احمد کی تشدد سے شہادت کے واقعے کی غیرجانبدارنہ تحقیقات کے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے 165 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایا جائے
گرفتار کارکنان پر تشدداورجبری اعترافی بیانات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
ایم کیوایم کے کارکنان اوران کے اہل خانہ کے ساتھ ناصرف پورا انصاف ہونا چاہئے بلکہ انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہئے
90روز کے ریمانڈ پر کارکنان کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے نہ صرف ان کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے بلکہ عدالتوں میں بھی پیش کیا جائے
آفتاب احمد کی ماورائے عدالت قتل کے بعد ایم کیوایم کے 165لاپتہ کارکنان کی فیملیز شدید کرب اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں
165کارکنان کو بازیاب کرایا جائے ان کے اہل خانہ کے کرب کو ختم کی جائے 
ہمارا تعاون امن کے قیام اوردہشت گردی کے خاتمے کے لئے کل بھی تھااورآئندہ بھی جاری رہیگا
ہم دانا دوست ہیں جو امن قائم کرنے کے لئے اپنے ریاستی اداروں کو سپورٹ کررہے ہیں
ہمیں امید ہے کہ ہماری گذارشات اور خدشات کو مثبت لیا جائیگا اور ان کا مثبت جواب دیا جائیگا
رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار کی گلفرازخان خٹک، اسماعیل قریشی،عادل خان اورعبدالقادر خانزادہ کے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں پریس کانفرنس
کراچی ۔۔۔ 05؍ مئی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینرڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہا کہ آفتاب احمدکی تشددسے شہادت واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کے ساتھ ایم کیوایم کے165 لاپتہ کارکنان بازیابی کرایاجائے،90روزکے ریمانڈپرکارکنان کی زندگیوں کومحفوظ بنایا اور گمشدہ کارکنان کانہ صرف میڈیکل چیک اپ کرایا جائے بلکہ انہیں عدالتوں میں بھی پیش کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ تشدداورجبری اعترافی بیانات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے، ہمارا تعاون امن کے قیام اوردہشت گردی کے خاتمے کے لئے کل بھی تھااورآئندہ بھی جاری رہیگا، ہمیں امید ہے کہ ہماری گزارشات اورخدشات کومثبت لیاجائیگا اور ان کامثبت جواب دیاجائیگا۔یہ مطالبات انہوں نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان گلفرازخان خٹک،اسماعیل قریشی، عادل خان اورعبدالقادر خانزادہ کے ہمراہ خورشیدبیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ دوران حراست بیمانہ تشددسے آفتاب احمد کی ماورائے عدالت قتل کے بعدایم کیوایم کے 165لاپتہ کارکنان کی فیملیزشدیدکرب اورذہنی اذیت کاشکارہیں اوروہ ہم سے سوال کررہی ہیں کہ آیا ان کے پیارے کہاں ہیں اورکس حال میں ہیں؟ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ان165کارکنان کوبھی آفتاب احمدکی طرح بہیمانہ تشدد کا نشانہ نہ بنایا جا رہا ہو۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ ہم دانادوست ہیں جوامن قائم کرنے کے لئے اپنے ریاستی اداروں کوسپورٹ کررہے ہیں،ریاست پاکستان اوراس کے محافظوں کے نوٹس میںیہ لانا ہمارافرض ہے کہ تشددکے استعمال کے خلاف جوپوری دنیاکاقانون ہے ہم اس کے دستخطی ہیں اور ہمیں اس قانون کوماننا ہوگا۔ ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے کہاکہ آفتاب احمدکی شہادت کے بعدچیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب نے نوٹس لیا ہے اورعندیہ دیاکہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی جن لوگوں نے اس واقعہ کا ارتکاب کیا گیا ہے ان کو ضرور سزا دی جائے گی، یہ ہمارے لئے اعتمادکا باعث ہے اور ہمیں امید بھی پیدا ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ 165لاپتہ افراد کی پٹیشن عدالتوں میں داخل ہیں ،سندھ ہائیکورٹ کے سماعتوں کا ریکارڈ موجود ہے وہاں سے یہ ساری فائلیں نکال کر جب ہم کو موقع ملا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی یہ فہرست دی ہے چوہدری نثار ، وزیر اعظم کو بھی دی ہے،سویلن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ جو آفتاب احمد کے ساتھ ہواوہ سلوک جتنے بھی رینجرز ، پولیس اور اداروں کے تحویل میں ہیں ان کے ساتھ بھی یہ سلوک نہ ہورہا ہو۔انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل کی جانب سے تحقیقات کی یقین دہانی کو ہم نے پوری امید کے ساتھ لیا ہے کہ ہمارے زخموں پر مرحم رکھنے کا سلسلہ شروع ہوااورہمیں امید ہے کہ اب آئندہ آفتاب احمد جیسا واقعہ رونماء نہیں ہوگا اوران 165کارکنوں کو 90فیصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے یونیفارم میں گرفتار کیاہے۔انہوں نے کہاکہ 165زندگیاں جو ہیں یہ بھی آپ کی ذمہ داری ہیںیہ بھی کسی ماں کے لخت جگر ہیں ، کسی بہن کے ، بیوی ، بچوں کے سرپرست ہیں ان والدین کی طرف سے ان بیویوں کی طرف سے جنہیں ابھی بھی یہ آس ہے 165کارکنان زندہ ہیں کسی نہ کسی کی تحویل میں ہیں ہمارے جو ریاستی ادارے ان کے سربراہ ان افراد کی بازیابی کیلئے اپنا آئینی ، انسانی اخلاقی کرادار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد کی شہادت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ہمارے اس بات میں صداقت ہے کارکنان جو مطلوب ہیں یا مطلوب نہیں ان کو گرفتار کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جس نوعیت کا تشدد آفتاب احمد پرہوا ہے اسی طرح کے تشدد کرکے اعترافی بیانات لیے جاتے ہیں جہاں جہاں اعترافی بیانات لیے جاتے ہیں وہاں بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ ان کے پیچھے بھی محرکات کیاہیں؟انہوں نے مزیدکہاکہ ہمارے جو خدشات ہیں جبری بیانات کے حوالے سے اس کو بھی سامنے رکھا جائے گا کہ یہ کس قسم کے اعترافی بیانات ہیں ان کے پیچھے محرکات کیا ہیں دیکھنا ہے ٹارچرتو نہیں کیا گیا،اس مہذب معاشرے میں سیاسی کارکنان کیساتھ کیسا بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے ۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ ہمیں خدشہ ہے کہ 165کارکنان لاپتہ کارکنان ان کے ساتھ ٹارچر نہیں ہورہا ہے ، تیسرا معاملہ جو کارکنان90دن کے ریمانڈ پر گئے ہیں آفتاب احمد بھی90دن کے ریمانڈ پر گیا تھا جو 90دن رینجرز اور پولیس کی تحویل میں ہیں ان کی زندگیوں کومحفوظ بنانے کے لئے میڈیکل چیک اپ ریگولر کروایاجائے اور15دن کے بعد عدالتوں میں پیش کیاجائے تاکہ آفتاب احمد جیسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکنا جائے ۔انہوں نے کہاکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے ،مانیٹرنگ ٹیم اگر وقت پر قائم ہوجاتی جس کا وزیراعظم نے اعلان کیا تھا شاید آفتاب احمد جیسا سانحہ نہیں ہوتا ۔ریاست پاکستان اور ریاستی پاکستان کے ادارے اور ہمارے سویلین ادارے حب والوطنی کا تقاضا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ تشدد کے استعمال کے خلاف جو پوری دنیا کا قانون ہے ہم اس قانون کے دستخطی ہیں اور ہم نے اس قانون کو مانا ہے ۔ ڈاکٹر محمدفاروق ستارنے سپریم کورٹ کے جج صاحبان سے بھی اپیل کی کہ وہ ایم کیوایم کے کارکنان پرانسانیت سوزتشدداورماورائے عدالت قتل کے واقعات کاسوموٹوایکشن لیں اورجبری اعترافی بیانات کاسلسلہ بندکروائیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، کورکمانڈر سندھ جنرل نویدمختار اورڈی جی رینجرزمیجرجنرل بلال اکبرسے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے کارکنان اوران کے اہل خانہ کے ساتھ ناصرف پورا انصاف ہوناچاہئے بلکہ انصاف ہوتاہوابھی نظرآناچاہئے،

12/10/2016 2:46:10 AM