Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان آفتاب احمدکی دوران حراست ماورائے عدالت قتل کا سوموٹو نوٹس لیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان آفتاب احمدکی دوران حراست ماورائے عدالت قتل کا سوموٹو نوٹس لیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
 Posted on: 5/3/2016 1
سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان آفتاب احمدکی دوران حراست ماورائے عدالت قتل کا سوموٹو نوٹس لیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
آفتاب احمد شہید کے پورے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے،ایم کیوایم سینئرڈپٹی کنوینر
آفتاب احمد شہید کے جسد خاکی کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور شخص ان کی موت کو قدرتی اور فطری قرار نہیں دے سکتا،فاروق ستار
آفتاب احمدشہید کے پیروں کے ناخن اکھاڑے گئے ، کرنٹ لگایا گیا ، کہنیوں میں کیلے ٹھونکی گئیں 
اور سر سے لیکرپیر تک جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں تشدد نہ کیا گیا ہو،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
آفتاب احمد شہید کو رینجرز کی حراست میں انتہائی بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے،فاروق ستار
آفتاب احمد شہید کو رینجرز کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کرکے ہمارے حوصلوں کو پست کرنے کی سازش کی گئی ہے
ایم کیوایم کے سینئرڈپٹی کنوینرڈاکٹرمحمدفاروق ستارکی آفتاب احمدشہیدپرتشددکے حوالے سے میڈیاکے نمائندوں کوبریفنگ
کراچی ۔۔۔3، مئی 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر اور قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ آفتاب احمد شہید کے جسد خاکی کو دیکھ کر کوئی بھی ذی شعور شخص ان کی موت کو قدرتی اور فطری قرار نہیں دے سکتا ، آفتاب احمد شہید کو رینجرز کی حراست میں انتہائی بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ہے ،شہید کے پیروں کے ناخن اکھاڑے گئے ، انہیں کرنٹ لگایا گیا ، کہنیوں میں کیلے ٹھونکی گئیں اور ان کے جسم کا سر سے لیکرپیر تک کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر تشدد نہ کیا گیا ہو ، آفتاب احمد شہید کو رینجرز کی تحویل میں تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کرکے ہمارے حوصلوں کو پست کرنے کی سازش کی گئی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نمائش چورنگی پر آفتاب احمد شہید کی نمازجنازہ کے بعد صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، رابطہ کمیٹی کے اراکین اور نمازجنازہ کے ہزاروں شرکاء بھی موجو دتھے ۔ ڈاکٹر فاورق ستار نے کہاکہ صبح مجھے ڈی جی رینجرز نے فون کرکے بتایا کہ آفتاب احمد کی شہادت کا واقعہ قدرتی موت ہے لیکن میرا ڈی جی رینجرز سے سوال ہے کہ آپ کے ادارے کے اہلکار آفتاب احمد کو زندہ لیکر گئے تھے اگر ان کی موت قدرتی بھی تسلیم کرلی جائے تو اس دباؤ ، اذیت اور تشدد کا کیا عالم ہوگا جو آفتاب احمد پر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز کی تحویل میں ہلاکت کا واقعہ پاکستان میں نافذ جنگل کے قانون اور آئین کا تحفہ ہے ، آفتاب احمد شہید سے زندہ رہنے کا حق چھین کر آئین کو پامال کیا گیا ہے ، وہ تین کم سن بیٹیوں اور دو بیٹوں کا باپ تھا ، لوگوں کی خدمت اور مشکل وقت میں کام آنے والا شخص تھا اور اس سے زندہ رہنے کا حق اس لئے چھینا گیا ہے کہ وہ صرف اور صرف قائد تحریک جناب الطاف حسین اور ایم کیوایم سے جڑا ہوا تھا ۔ انہوں نے رینجرز کی تحویل میں آفتاب احمد شہید کی تشدد سے ہلاکت پر سوال کیا کہ یہ کیسا سلوک ہے ، کیوں اتنی نفرت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اردو بولنے والوں کو کس جرم کی سزا دی جارہی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ آفتاب احمد نے بھی اپنی وفاداری تبدیل کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کا جب جناح اسپتال میں پوسٹ مارٹم ہورہا تھا تو شہید کی ڈیڈ باڈی کو بھی زیر حراست رکھا گیا ، لواحقین کے حوالے نہیں کیا گیا ، گھر والوں کو قریب نہیں آنے دیا گیا نہ ہی انہیں شکل دکھائی گئی اور اسپتال کے گیٹ سیل کرکے کرفیو لگا دیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اگر رینجرز نے تشدد کرکے آفتاب احمد کوشہید نہیں کیا تو پھر کیا وجہ تھی کہ اسپتال میں شہید کی ڈیڈ باڈی تک نہیں دیکھنے دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ رینجرز کے نرغے میں بنی ہے تو کیا اس رپورٹ کو پاکستان کے عوام اور عدالتیں قبول کریں گی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ڈی جی رینجرز کی زبان پر بھروسہ کیا لیکن انہوں نے آفتاب احمد شہید کی ڈیڈ باڈی بھی تابوت میں پیک کرکے دی ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز کی تحویل میں ہلاکت کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں انسانی حقوق کی پامالی کا سیاہ ترین اور غیرمعمولی واقعہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید 15سال سے میرے ساتھ تھے ، 3سال سے آپریشن چل رہا ہے وہ کسی جرم میں مطلوب نہیں تھا ، اپنے گھر میں بیوی اور بچوں کے ساتھ سکون سے رہتا تھا ، نہ ہی اس پر کوئی ایف آئی آر ہے ، نہ ہی جے آئی ٹی میں نام ہے ، اچانک راتوں رات وہ مطلوب ہوتا ہے آخر غیر مطلوب کو مطلوب بنانے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔ انہوں نے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کہتے ہیں کہ ہم سادہ لباس میں کاروائی نہیں کرتے لیکن آفتاب احمد کو اے ٹی سی کورٹ میں رینجرز نے پیش کیا اور ایم کیوایم کے کارکنان کے ساتھ جو سادہ لباس والوں نے جتنی کاروائیاں کی ہیں تو ہمارا شک ان پر نہیں جائے گا کہ یہ کارروائیاں بھی وردیاں اتار کی گئیں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ رینجرز کی اگر ایم کیوایم کے حوالے سے یہ پالیسی نہیں ہے تو ڈی جی رینجرز کو آج نمازجنازہ میں ہمارے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے کور کمانڈر کراچی لیفٹینٹ جنرل نوید مختار کو فون کئے وہ میٹنگ میں تھے ، اللہ کرے یہ میٹنگ آفتاب احمد شہید کی رینجرز تحویل میں ہلاکت پر ہو ، اگر قانون نافذ کرنے والے ادارو ں کے کوئی اہلکار ایسی درندگی اور ظلم کا مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں بھی انصاف کے کٹھرے میں کھڑا کیاجائے ۔ انہوں نے جنرل نوید مختار کو دعوت دی کہ آپ راتوں رات کوئی ٹیم بھیج دیں اور اپنی کمیٹی نے آفتاب احمد شہید کا پوسٹ مارٹم کرالیں جو یہ طے کرے کہ ان کی شہادت قدرتی ہوئی یا تشدد کے ذریعے ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے نفرت کا جذبہ نہیں لانا چاہتے ، یہ ہمارے ادارے ہیں ، اس کی آڑ میں اپنے لوگوں کو اکسانا بھی نہیں چاہتے ، ہم صبر سے کام لیں گے اورانصاف کے متقاضی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے بھی ہمارے زخم پر مرہم نہیں رکھا کسی نے تعزیت تک نہیں کی اور یہ ہماری سیاسی برادری کی بے حسی کی بدترین مثال ہے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف ، چوہدری نثار علی خان ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، کور کمانڈر کراچی جنرل نوید مختار اور ڈی جی رینجرز ہمیں انصاف دیں ہم نے ان کے آگے آفتاب احمد شہید کے قتل کا مقدمہ رکھ دیا اور اس قتل کے معاملے میں انصاف دینے کی سب سے پہلے ذمہ داری ڈی جی رینجرز بلال اکبر کی بنتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ڈر ہے کہ اگر نفرت اور تعصب اسی طرح جاری رہا تو یہ اردو بولنے والوں کیلئے کوئی اچھا پیغام نہیں ہے ، ہم مشتعل نہیں ہوں گے اور انصاف کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد کی شہادت پر کل ایم کیوایم نے پرامن یوم سوگ کا اعلان کیا ہے لیکن کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ یوم سوگ کے موقع پر اپنے ہاتھوں پر کالی پٹیاں باندھیں اور یکجہتی کااظہا رکریں ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے 178کارکنان لاپتہ ہیں ، 56کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ، سپریم کورٹ ، سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو اس پر بھی سوموٹو نوٹس لینا چاہئے اور آفتاب احمد شہید کے پورے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانی چاہئے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ آفتاب احمد شہید جو جن رینجرز اہلکاروں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ماورائے عدالت قتل کیا ہے انہیں فی الفور گرفتار کرکے مقدمہ قائم کیاجائے اور قرار واقعی سزا دی جائے ۔ 

9/30/2016 10:13:13 PM