Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سرکاری اداروں کی حراست میں ہائی پروفائل مبینہ ملزم خالد شمیم کا ویڈیو پیغام کا چینلز پر نشر ہونا کئی سوالا ت کو جنم دیتا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار


سرکاری اداروں کی حراست میں ہائی پروفائل مبینہ ملزم خالد شمیم کا ویڈیو پیغام کا چینلز پر نشر ہونا کئی سوالا ت کو جنم دیتا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 4/28/2016
سرکاری اداروں کی حراست میں ہائی پروفائل مبینہ ملزم خالد شمیم کا ویڈیو پیغام کا چینلز پر نشر ہونا کئی سوالا ت کو جنم دیتا ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خالد شمیم کا ویڈیو پیغام کس نے ریکارڈ کیا ، اس کو یہ اسکرپکٹ کس نے فراہم کیا ؟ ڈاکٹر فاورق ستار کے سوالات 
میڈیا پر حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ سوال پوچھا جانا چاہئے کہ خالد شمیم کا ویڈیو بیان آپ کی اجازت سے آیا یا لیک کیا گیا ہے ، ڈاکٹر فارو ق ستار 
کراچی آپریشن کی آڑ میں یہ خاص اہتمام بھی کیا گیا کہ ایم کیوایم کو کچلا اور کمزور کیاجائے اور اس کا میڈیا ٹرائل کیاجائے ، ڈاکٹر فارو ق ستار
جنرل راحیل شریف سٹیبلشمنٹ کے بعض افسران اور عناصر کی جانب سے ایم کیوایم کے خلاف اپنے عہدوں کا ناجائزاستعمال 
کرنے کانوٹس لیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
چیف جسٹس ، سپریم کورٹ بار ، ہائی کورٹس بار ایک ہائی پروفائل کیس پر ملک اور اس سے باہر اثر انداز ہونے کے سنگین معاملے کا نوٹس لیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
اگر ٹی وی پر عدالتیں سجنے لگیں تو پھر آئین وقانون کی کتابوں کو بند کردینا چاہئے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ اس ڈرامے کا حصہ نہیں ہیں توپیچھے چھپنا چھوڑ دیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی:۔۔۔28، اپریل 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں کی تحویل میں شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے ہائی پروفائل کیس میں ملوث مبینہ ملزم خالد شمیم کا ویڈیو بیان نما پیغام کا چینلز پر نشر ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایک شخص جو ایک ہائی پروفائل مرڈر کے الزام میں سرکاری ااداروں کی تحویل میں ہے اس کا ویڈیو بیان کس نے ریکارڈ کیا ؟خالد شمیم کو یہ اسکرپٹ کس نے فراہم کیا ؟ کہ وہ یہ مخصوص اسکرپٹ پڑھ کر ریکارڈ کرائے؟اورکس نے یہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ٹی وی چینلز کو جاری کیا ؟۔انہوں نے کہا کہ خالد شمیم کی ویڈیو جن چینلز پر چلی ہیں ان کے صحافیوں اوراینکرپرسنز کو قانو ن نافذ کرنے والے اداروں اور حکومت سے آفیشلی طور پریہ پوچھنا چاہئے کہ خالد شمیم کا بیان نما پیغام آپ کی اجازت سے آیا یا لیک کیا گیا ہے ، اس کی عدالتی اور قانونی حیثیت کیا ہے ، یہ سوالات بھی میڈیا کے نمائندوں کو پوچھنا چاہئے یہ آزاد میڈیا ہاؤسز کی ذمہ داری ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین محمد کمال ، مطیع الرحمن اور اارشد حسن کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دو تین دہائیوں سے ایم کیوایم کے خلاف ایک ریاستی جبر کا سلسلہ جاری ہے اور خصوصی طور پر ستمبر 2013ء سے کراچی میں بدامنی ، لاقانونیت اور جرائم کے خلاف جو آپریشن شروع کیا گیا اس کی آڑ میں یہ خاص اہتمام بھی کیا گیا کہ اس دوران ایم کیوایم کو کچلا اور کمزور کیاجائے اور ایم کیوایم کی قیادت کو عوام اور کارکنان سے دور کیاجائے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کی ساکھ کو نقصان پہچانے کیلئے آئین و قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی گئیں، انسانی حقوق کو بے دردی سے پامال کیا گیا، طرح طرح کے مظالم کئے گئے ، میڈیا ٹرائل کیا گیا اس پر ہم نے اپنے تحفظات ، خدشات کا برملا اظہار کیا اور لگی لپٹی نہیں رکھی اور نشاندہی بھی کی کہ یہ اسٹیبلشمٹ کے بعض عناصر کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف میڈیا ٹرائل کے دوران من گھڑت ،بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کا سلسلہ قائم کیا گیا جو آج بھی جاری و ساری ہے ۔ من گھڑت ، بے بنیاد جھوٹے الزامات ہی نہیں بلکہ بیہودہ اورشرانگیز ڈرامے بھی رچائے گئے اور گزشتہ روز بھی ایک ایسا ہی بیہودہ اور شرانگیز ڈرامہ کسی چینل یا چند چینلز کے ذریعے سے رچایا گیا ، قوم کے سامنے ایک اور ڈرمہ پیش کیا گیا اور ایک ہائی پروفائل مرڈر کی تحقیقات کے حوالے سے ، ایک ہائی پروفائی ملزم کا پھر ایک بیان اس کے دوران حراست ہوتے ہوئے منظر عام پر لایا گیا اور میڈیا پر چلایا گیا یا چلوایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق شہید کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے ایک مبینہ ملزم خالد شمیم کا یہ ویڈیو بیان ، اعترافی بیان نہیں بلکہ ایک ویڈیو پیغام ہے جو قوم کے سامنے نشر کیا گیا اس بات کافرق محسوس کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ خالد شمیم اس وقت قانون نافذ کرنے والوں کی قید میں ہیں وہاں سے ایک اور ویڈیو منظر عام پر آنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے میڈیا ٹرائل کی حد تک چینلز اس طرح کی ویڈیو چلاتے ہیں جو فراہم کی جاتی ہیں اور اپنی غیر جانبداری کیلئے ایک دو جملے ضرور بولتے ہیں لیکن آزادانہ اور غیر جانبدارنہ صحافت کا تقاضہ ہے کہ اس ویڈیو کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے ادارروں، حکومت وقت سے بھی چند سوالات ضرور پوچھے جانے چاہئیں جو میڈیا پر نہیں پوچھے گئے ہم یہ سوال آج کررہے ہیں اور ان کا پوچھا جانا ضروری ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایک شخص جو ایک ہائی پروفائل مرڈر کے الزام میں سرکاری اداروں کی تحویل میں ہے اس کا اویڈیو بیان کس نے ریکارڈ کیا ؟یہ ویڈیو پیغام آپ کی مرضی سے لیک ہوا ؟اس کی عدالتی اور قانونی حیثیت کیا ہے ؟یہ سوال پوچھے جائیں ایک آزادانہ میڈیا رپورٹنگ ، میڈیا ہاؤس کی یہ ذمہ داری ہے یہ انتہائی سنگین اور حساس مسئلہ ہے ، میڈیا پر حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے آفیشلی طور پر یہ وضاحت مانگنی چاہئے یہ پیغام کس نے ریکارڈ کیا کیونکہ خالد شمیم انکی تحویل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے جن چیلنز نے یہ ویڈیو پیغام چلایا ہے ان کی آئینی ، قانونی ، پیشہ وارانہ ذمہ داری ہے کہ اس کا جواب قوم کو دیں ۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ آخر کس نے خالد شمیم کو یہ اسکرپٹ فراہم کیا ؟ کہ وہ یہ مخصوص اسکرپٹ پڑھ کر ریکارڈ کرائے ۔ انہوں نے تیسر ا سوال کیا کہ کس نے یہ بیان ریکارڈ کرنے کے بعد ٹی وی چینلز کو جاری کیا ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں اس معاملے پر سوموٹو نوٹس لیں ، انسانی حقوق کی تنظیمیں ، سپریم کورٹ ، ہائی کورٹس بار کی بھی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی یہ سوال پوچھیں کہ زیر حراست ہائی پروفائل ملز م کا بیان کیسے باہر آگیا ۔ایم کیوایم یہ سوال رکھ رہی ہے ، ایم کیوایم نے بھی یہ پیغام سنا ہے جو نشر ہوا ہے ۔ تو کیا کوئی عام آدمی یہ سب کچھ کرسکتا ہے کہ ویڈیو بیان ریکارڈ کرے ، مخصوص چینلز کو دیدے اور چل جائے اوریہ چیزیں اور ان جواب وضاحت طلب ہیں اور اس تشنگی کو ختم ہونا چاہئے اور تصویر کا وہ رخ دکھانا چاہئے جو اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد فطری طور پر اٹھ رہے ہیں ۔ یہ ایم کیوایم کا ایک اور میڈیا ٹرائل ہے ، اس مقدمے کی جذیات اور تحقیقات اور عدالتی معاملے کو نظر انداز کرکے ایک مرتبہ پھر عوام و کارکنان کو الطاف حسین سے دور کرنے کیلئے بہیودہ اور شرانگیز ویڈیو پیغام منظر عام پر لایا گیا ہے ۔ انہوں نے ویڈیو بیان نما پیغام کو منظر عام پر لاکر پاکستان کے نظام انصاف اور قانون کا مذاق اڑایا گیا ہے ،کیا اس طرح زیر حراست ملزم کا ایسا بیان منظر عام پر لایا جاسکتا ہے ؟ جو عدالت نہیں پہنچا ہو ۔ویڈیو منظر عام پر لاکر عدلیہ کی رٹ کو چیلنج کیا گیا ہے پاکستان کے نظام قانون عدالتی نظام کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی وی پر اسی طرح عدالتیں سجنے کا سلسلہ شروع ہوجائے تو پھر پاکستان کی عدالتیں بھی فیصلہ کریں کہ ٹی وی ہی عدالتیں ہیں اورپھر آئین وقانون کی کتابوں کو بند کردینا چاہئے ۔ان کا حوالہ نہیں دینا چاہئے ۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ڈرامے کا حصہ نہیں ہیں تو پیچھے چھپنا چھوڑ دیں اور سینہ چھوڑ ا کرکے کہیں ہم ہیں اس کے پیچھے ، کسی ٹاک شوز میں اب وزیراعظم ، وزیر داخلہ کوبھی آنا چاہئے اور اس طرح کی ویڈیو بننے اور سہولت دینے کے عمل تک باہر آنے تک نشر ہونے تک کی ذمہ داری کو قبول کرنا چاہئے اگر نہیں ہیں تو اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیکر اس بات کی تحقیقات کرانی چاہئے کہ ہ سرکاری حراست میں ہائی پروفائل مرڈر کیس میں اہم ویڈیو بیان کس نے ریکارڈ کرایا ، کس نے کیا ، کس کے ذریعے ٹی وی چینلز تک پہنچا یہ سارے سوال کے جواب قوم کو چاہئیں ۔ اس کیلئے کسی کمیشن کو بٹھانے کی ضرورت نہیں ہے نواز شریف ، چوہدری نثار بیٹھیں سارے اداروں کو بلائیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو سرکاری اہلکار اس میں ملوث ہیں ان سے بھی تفتیش کیاجائے اور ا ن کے خلاف کاروائی کی جائے ۔انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ جس طرح انہوں نے ایف سی کے اعلیٰ افسروں کے خلاف سخت ایکشن کیا ہے اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کے بعض افسران اور عناصر جو اپنے مذموم مقاصد کیلئے ایم کیوایم خلاف اپنے عہدوں کا جس طرح ناجائزاستعمال کررہے ہیں اور قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں اس کا نوٹس لیں اور اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں اور ایسے لوگوں کو بے نقاب کیاجائے ۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے جسٹس انور ظہیر جمالی سے اپیل کی کہ وہ بھی سرکاری حراست میں اہم ملزم کا ویڈیو پیغام ریکارڈکئے جانے ، ٹی وی پر نشر ہونے ، ایک ہائی پروفائل کیس پر ملک اور اس سے باہر اثر انداز ہونے کے سنگین معاملے کا نوٹس لیں ، انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں ، قانون و انصاف سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی تنظیموں سے اپیل کہ وہ بھی اس مسئلے کو اٹھائیں اور آواز احتجاج بلند کریں ۔ انہوں نے کہاکہ آئین ، قانون اور احترام انصاف اور حق گوئی پر یقینی رکھنے والے صحافیوں، تجزیہ نگاروں ، قلم کارون ، دانشوروں سے بھی اپیل کی کہ وہ قانون کی دھجیاں اڑانے کے عمل کے خلاف آواز احتجاج بلند کریں ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں ، اس بیہودگی ، شرانگیزی ، اشتعال انگیز ی پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں ، ایم کیوایم دشمن عناصر چاہے کتنی ہی گھناؤنی سازشیں کیوں نہ کرلیں وہ ایم کیوایم نہ کل ختم کرسکے ، نہ آج اور نہ آئندہ کبھی ختم کرسکیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نذیر حسین یونیورسٹی سے چھ سولوگوں کو جعلی ڈگریاں دیکر باہربھیجنے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ۔ 

12/7/2016 8:38:23 PM