Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کیاجائے اورایم کیو ایم سے کل بات کرنے سے بہترہے کہ آج ہی بات کرلی جائے ،ایم کیوایم کنوینرندیم نصرت


ایم کیوایم کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کیاجائے اورایم کیو ایم سے کل بات کرنے سے بہترہے کہ آج ہی بات کرلی جائے ،ایم کیوایم کنوینرندیم نصرت
 Posted on: 4/18/2016
ایم کیوایم کا عوامی مینڈیٹ تسلیم کیاجائے اورایم کیو ایم سے کل بات کرنے سے بہترہے کہ آج ہی بات کرلی جائے ،ایم کیوایم کنوینرندیم نصرت
وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے کارکنان کے گھروں پربلاجوازچھاپے اورجھوٹے مقدمات میں گرفتاریوں کاسلسلہ بندکیا جائے
ایک طاقتور ادارے کے افسران ایم کیوایم کے سینیٹر، اراکین اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کو فون کرکے دھمکی آمیزلہجے میں کہہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کو چھوڑ دواور مصطفی کمال گروپ میں شامل ہوجاؤ
میڈیاپرایم کیوایم کے خلاف چارج شیٹ بناکرپیش کی جارہی ہے،آپریشن جیٹ بلیک ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے
اب وقت آگیاہے کہ مہاجروں کوپاکستان کااول درجے کاشہری تسلیم کیاجائے، مہاجربھی اتنے ہی محب وطن پاکستانی ہیں جتنے دوسرے پاکستانی ہیں
ایم کیوایم محب وطن جماعت ہے جیسے ساز ش کے ذریعے بدنام کیاجارہاہے ،جب ایم کیوایم کو پروپگنڈے کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکا 
تو پھر ایم کیوایم کوکرمنلائزیشن بنانا شروع کردیا گیا اورگرفتاربے گناہ کارکنان کوراکاایجنٹ بناکرپیش کیاجارہاہے
تمام تر دباؤ کے باوجود آج تک ایم کیوایم کے 99.9فیصد لوگ خیابان سحر میں لگائی گئی ڈرائی کلیننگ فیکٹری نہیں جارہے ہیں
ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور قوم کی توجہ ان تمام چیزوں سے ہٹائی جارہی ہے جن کی بنیاد پر ایم کیوایم وجود میں آئی
92ء کی طرح گن پوائنٹ پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کا سلسلہ بند کیاجائے 
ایم کیوایم کے کنوینرندیم نصرت کی اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ ویڈیولنک کے ذریعے خورشیدبیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں طویل ترین پریس کانفرنس
لندن:۔۔۔18؍اپریل2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینرندیم نصرت نے کہاہے کہ میڈیاپرایم کیوایم کے خلاف چارج شیٹ بناکرپیش کی جارہی ہے،ایم کیوایم کے عوامی مینڈیٹ کوتسلیم کیاجائے ،وفاداریاں تبدیل کروانے کے لئے کارکنان کے گھروں پربلاجوازچھاپے اورجھوٹے مقدمات میں گرفتاریوں کاسلسلہ بندکیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ کہاگیاتھاکہ یہ آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف ہوگا ، نیررضا ، قمر منصور ، عامرخان ، سیدشاہد پاشا کہاں سے جیٹ بلیک دہشت گرد ہوگئے؟ انہوں نے کہاکہ مہاجروں کوپاکستان کااول درجے کاشہری تسلیم کیاجائے ، مہاجربھی اتنے ہی محب وطن پاکستانی ہیں جتنے دوسرے پاکستانی ہیں انہیں بھی قومی دھارے میں لایا جائے ،ایم کیو ایم سے کل بات کرنے کے بجائے بہترہے کہ آج ہی بات کرلی جائے ۔انہوں نے کہاکہ جب ایم کیوایم کو پروپیگنڈے کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکا تو پھر ایم کیوایم کرمنلائزبنانا کی شروع کردیا گیا یعنی ایم کیوایم میں جو آئے اسے کرمنلز بنادیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم محب وطن جماعت ہے ،لیکن اس کو ساز ش کے ذریعے بدنام کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک طاقتور ادارے کے آفسران ایم کیوایم کے سینیٹرز، اراکین اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کو فون کرکے دھمکی آمیز انداز میں کہہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کو چھوڑ دواور مصطفی کمال گروپ میں شامل ہوجاؤ۔انہوں نے کہاکہ تمام تر دباؤ کے باوجود آج تک ایم کیوایم کے 99.9فیصد لوگ خیابان سحر میں لگائی گئی ڈرائی کلینگ فیکٹری نہیں جارہے ہیں۔ ندیم نصرت نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین کے خطابات پر عائد پابندی ختم کی جائے ، ان کی ذات کے حوالے سے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن انہیں دفاع کا حق نہیں دیا جارہا ہے ،آج ان پریہ الزام ہے کہ ان کا خاندان ملک سے باہر ہے ذمہ داری سے بتا رہا ہوں جہاں اور لوگوں نے قربانیاں دیں وہاں الطاف حسین کے بھائی بھی قربانیاں دینے والوں میں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ خدارا انصاف کیجئے ، مہاجروں کو گلے سے لگایئے ، ظلم بند کرایئے ، الطاف حسین ملک دشمن نہیں بلکہ مخلص اورہمدرد ہیں ، انہوں نے پاکستان کو وہ کچھ دیا جو کسی نے نہیں دیا ۔انہوں نے اپیل کی کہ 92ء کی طرح گن پوائنٹ پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کا سلسلہ بند کیاجائے اور ایم کیو ایم میڈیا ٹرائل بند کیاجائے۔ان خیالات کا اظہار ایم کیوایم کے کنوینرندیم نصرت نے اراکین رابطہ کمیٹی انبساط ملک،اظہاراحمدخان،مصطفی عزیزآبادی اورمحمداشفاق کے ہمراہ ایم کیوایم سیکریٹریٹ لندن سے وڈیولنک کے ذریعے خورشیدبیگم سیکریٹریٹ عزیزآبادمیں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا۔اس موقع پر خورشیدبیگم سیکریٹریٹ عزیزآبادمیں ایم کیوایم سینئرڈپٹی کنوینرعامرخان،ڈپٹی کنوینر زکہف الوریٰ،کنورنویدجمیل کے ہمراہ صحافیوں کی بہت بڑی تعدادموجودتھی۔ندیم نصرت نے کہاکہ جو گزشتہ چند ہفتوں سے متحدہ قومی موومنٹ اور قائد تحریک الطاف حسین کے حوالے سے باتیں کی جارہی ہے ، یہ باتیں بنیادی طور پریہ وہی پروپیگنڈے ہے جو برسہا برس سے ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہا ہے ، ایم کیوایم پر متعد دالزامات لگائے جارہے ہیں کہ ایم کیوایم ملک دشمن تنظیم ہے ، اس کے راسے روابط تھے ۔انہوں نے کہاکہ ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور قوم کی توجہ ان تمام چیزوں سے ہٹائی جارہی ہے جن کی بنیاد پر ایم کیوایم وجود میں آئی لیکن ان تمام حقائق کو مسخ کیاجارہا ہے جو ایم کیوایم کے قیام کا سبب بنے اور جن کی وجہ سے ایم کیوایم کوماضی میں اورآج بھی کامیابی ملی ہے اور انشاء اللہ ملتی رہے گی ۔انہوں نے کہاکہ یہ سارا ڈرامہ جس دن شروع ہوا اس دن ایک بات کی تھی نہ صرف سندھ کے شہری علاقوں کے عوام بلکہ پاکستان کے محب وطن عوام سے اس دن بھی میری گزار ش تھی اورآج بھی گزارش ہے کہ پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے ان کا تقاضا ہے کہ اس منفی سیاست کو سرے سے مسترد کیاجائے اور پروپیگنڈے اور حقائق کو الگ الگ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ خاص طور پر پاکستان سے باہر رہنے والے عوام کے لئے جن کو بہت زیادہ گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آج جب یہ مبصرین یہ بات کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کا ووٹ بینک ہے اور وہ ختم کرنا آسان نہیں ہے تو اس وجہ کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ عوام بار بار ایم کیوایم کو عام حالات اورخاص حالات میں ووٹ کیوں دیتے ہیں ؟خاص حالات وہ جو گزشتہ دنوں پروپیگنڈا کیاگیا کہ ایم کیوایم زبردستی ووٹ ڈلواتی ہے تونئے سرے سے حلقہ بندیاں کی گئیں اور پولنگ اسٹیشن اورپولنگ بوتھ کے اندر تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نافذ کیاگیا ، کیمرے لگائے گئے لیکن ایم کیوایم پھر دوبارہ کامیاب ہوگئی۔پاکستان کے مفاد میں اس لئے ضروری ہے کہ اس چیز کو سمجھاجائے جب ایم کیوایم نہیں بنی تھی اس وقت بھی مہاجروں کو احساس تھا کہ پاکستان میں ان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا جارہاہے ۔دو جلدوں پر مشتمل ایک کتاب میں تمام حقائق کو 1947ء سے بیان کیا گیا اور اس میں بتدریج جو واقعات ہوئے مہاجروں کے ساتھ حقائق بیان کئے گئے ، کہ کس طرح زمینوں پرکلیم کے معاملات کئے گئے ، لیاقت علی خان کی شہادت ، اس کے بعد بھی جب مہاجروں نے پاکستان کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ختم نہیں کیا ، بنک،تعلیمی ادارے ، ملٹی نیشنل کمپنیاں قائم کیں ، پاکستان میں تجارت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیاتو کراچی سے دارلخلافہ اسلام آباد منتقل کردیا گیا ، سول سروس سے مہاجروں کو نکالا گیا ، جنرل ایوب کے دور میں لسانی فسادات کرائے گئے تو اس وقت نہ ایم کیوایم موجودد تھی اور جناب الطاف حسین تھے ۔ اس زمانے میں مہاجروں کی نسلیں ناانصافیاں دیکھ رہی تھی ، 1965ء کے بعد جس طرح انصافی کی گئی ، اندرون سندھ سے مہاجرو ں کونکالا گیا ، کوٹا سسٹم نافذ کیا گیا یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جو ہمارے ذہنوں پر نقش ہیں ، خدارا اہل پاکستان یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ آپ کے ساتھ اور تاریخ پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے کہ تمام حقائق مسخ کرکے تمام خرابیوں کا الزام الطاف حسین پر عائد کردیا جائے ، یہ نانصافی اور ، خود کو دھوکہ دینے اور پاکستان کی نسل کو غلط تاریخ بتانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ 13اکتوبر1986ء کو سینکڑوں مہاجر نوجوانوں کو قتل کیا گیا ، علی گڑھ قصبہ میں ، گھروں کو آگ لگائی گئی ، خواتین کی بے حرمتی ، لاشوں کے ٹکڑے کئے گئے اس وقت ایم کیوایم چھوٹی جماعت تھی ۔ 30، ستمبر1988ء کو سانحہ حیدرآباد میں چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ، سینکڑوں شہید و زخمی ہوئے پھر 1990ء میں پکے قلعہ کا آپریشن ہے ایم کیوایم ان چیزوں کا ردعمل ہے اور رہے گی ، لوگ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم ان مظالم کی ذمہ دارہے تو پروپیگنڈے کے آنے کے بجائے جوابی سوال کریں کہ یہ جب سب کچھ ہورہا تھا تو اس وقت تو ایم کیوایم نہیں تھی یا جب 1965ء میں لیاقت آباد میں قتل عام ہوا تو کیا ایم کیوایم نے کرائے تھے ، اندرون سندھ سے ہزاروں مہاجر نقل مکانی ہوئی اس وقت ایم کیو ایم کا وجودنہیں تھا ، اسباب کو نظر انداز کرکے تمام تر الزام ایک شخص اور جماعت پر عائد کرکے مسلسل کرتے رہے اور یہی نہیں اس جماعت کو بار بار ووٹ دیں اور اس ووٹ کو نظر انداز کیاجاتا رہے۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں کو تلیر ، مٹروے ، پناہ گیر کہا گیا ، درجنوں الزامات لگائے گئے ۔ ان الزامات کا ردعمل ایم کیوایم تھی اور اسی وجہ سے لوگوں نے جناب الطاف حسین کو سپورٹ کیا ۔ انہوں نے کہاکہ 1990ء کے الیکشن میں ایم کیوایم بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور قائد تحریک الطاف حسین نے باقاعدہ اعلان کرکے مڈل کلاس لیڈر شپ کو ڈلیور کیا اور جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کیا اور عملی طور پر قومی اسمبلی میں بٹھا دی جو مڈل کلاس سے آئی تھی ۔ ایم کیوایم نے اپنی صفوں سے جن عناصر کو خارج کیا پھر انہی عناصر کو حقیقی کا رنگ دیاگیا ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آج جو لوگ لائے گئے ہیں وہ بھی قبول کررہے ہیں کہ جو 90ء میں آپریشن ہوا اس میں لوگ سرکای ٹرکوں میں لائے گئے ، کبھی اس بات کا اعتراف ہوگا کہ 92ء کا آپریشن کیا ہوا ، ہزاروں کو زیر زمین جانے پرمجبور کیوں کیا گیا ، جناح پور کا الزام لگا کر پورے طبقہ آبادی کو محب وطن سے غدار بنانے کی کوشش کی گئیں ٹی وی پر آکر معافی مانگنے سے کچھ نہیں ہوتا۔انہوں نے سوال کیاکہ جنہوں نے ایم کیوایم پر جناح پور کا الزام لگایا تھا ان کا ٹرائل کیوں نہیں ہوا۔انہوں نے کہاکہ آپریشن کے نام پر مذاق نہیں ہوا لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئی ، ماورائے عدالت قتل نہیں کیا گیا بلکہ صدر پاکستان نے اس الزام میں ایک حکومت کو برطرف بھی کردیا ، یہ دستاویز ات ہیں ، صدر غلام اسحاق نے جب حکومت برطرف کی اور اس کے بعد صدر لغاری نے جب حکومت برطرف کی تو اس میں ایم کیوایم پر کئے جانے والے مظالم کا تذکرہ تھا ۔ اور ماورائے عدالت قتل کو قبول کرکے اس کو حکومت ختم کرنے کا جواز بنایا گیا حکومت ختم ہوگئی لیکن جنہوں نے قتل کیا ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا ۔انہوں نے کہاکہ آپ لاہور میں کراچی کے لوگوں کو پولیس میں لاکر بیٹھا دیں لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کراچی کی پولیس میں کراچی والوں کو نہ لیں ، فوج میں نہ لیں ، سرکاری اداروں میں نہ لیں ، اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں پاکستان کے محب وطن عوام ، صحافی جائیں سندھ سیکریٹریٹ میں دورہ کریں کتنے اردو بولنے والے ہیں ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ یہ ہی ناانصافیاں ، محرومیاں ہیں جن کے باعث ایم کیوایم کو تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود ختم نہیں کیا جاسکا ۔1992ء میں ایم کیوایم کے خلافف حقیقی بنا کر آپریشن شروع کیا گیا پھر بجائے اس کے احساس محرومی کوختم کیا جاتا آپ سوچئے کہ ایم کیوایم پر الزام لگایاجارہا ہے کہ ایم کیوایم نے یہ جرائم کئے ہیں ، چارج شیٹ پیش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ میرا سوال یہ ہے کہ میرے حوالے سے الزام لگائے گئے کہ میں 20سال سے ٹیمیں بنا رہا ہوں پھر یہ کہا جارہا ہے کہ سچ بولتے ہیں یہ عجیب و غریب بات کی جاتی ہے کہ آپ جھوٹ بولیں گے تو ہم سچ بولیں گے ۔ میں بیماری کی وجہ سے ایم کیوایم سے الگ تھا ، بلکہ میرا علاج یہاں چل رہا تھا ، میرا کینسر تشخیص ہوا ، چار پانچ سال مبتلا رہا ، میں برطانیہ میں بھی نہیں پھر یہ الزام لگانا کہ بیس سال سے میں ٹیمیں بنا رہا ہوں ۔ 2000ء سے جو لوگ پارٹی کو چلا رہے تھے المیہ یہ ہے کہ آج وہی ایم کیو ایم پر الزام لگا رہے ہیں ، پارٹی کے سیاہ و سفید کے جو مالک بنے ہوئے تھے آج وہی پارٹی سے الگ ہوکرالزام ان لوگوں پر ڈال رہے ہیں جو ذمہ دار نہیں تھے،ان جرائم کا ذمہ دار الطاف حسین اور مجھے قرار دے رہے ہیں ، اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا۔ندیم نصرت نے کہاکہ جس شخص کو الطاف حسین نے میئر بنایا آج وہ کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے کیا دیا؟ ، الطاف حسین نے پاکستان کی وہ خدمت کی اور انقلاب دیا کہ غریب جو تصور نہیں کرسکتے تھے اسمبلی میں جانے کا ان کو نہ صرف ممبر بنا دیا بلکہ پاکستان کی سیاسی قیادت میں نمایاں مقام عطا کیا ۔انہوں نے کہاکہ کیا یہ انقلاب نہیں ہے؟ ۔ آج ایم کیوایم کے رکن اسمبلی سے پریس کانفرنس کروائی گئی یہ وہی رکن اسمبلی تھے جب ایم کیوایم میں تھے تو چھپے چھپے پھر رہے تھے ، جے آئی ٹی وغیرہ میں نام ڈالاجارہا تھا ، جب ایم کیوایم میں تھے مشکل میں تھے اور آج ایم کیوایم سے بے وفائی کی تو ہیرو بنا کر لایاجارہا ، آج ڈرائی کلین ہوگئے کیا مذاق ہے کہ آپ ایم کیوایم میں ہو تو دہشت گرد ، بھتہ خور ٹارگٹ کلر ہو اور ایم کیوایم سے چلے جائیں تو باوفا ہوگئے ۔ 2000ء کے بعد سے جو لوگ چیزیں چلا رہے تھے ان کے حوالے سے جب الزامات سامنے آئے ، جس بات کو جواز بنایا جاتا ہے 12مئی کا تو وہ عوام کا فطری ردعمل تھا ، میں تحریک سے دور تھا ، قائد سے براہِ راست رابطہ نہیں تھا ، میں درس و تبلیغ میں مصروف تھا ، غیر سیاسی زندگی گزار رہا تھا ، جب بھی کسی سے ملاقات ہوتی لوگ یہی کہتے تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے ، کہ یہ ایم کیوایم میں کیاجارہا ہے ، کیا الطاف حسین کو تنہا کردیا گیا ہے ، حقائق نہیں پہنچ رہے ہیں، کراچی میں جو لوگ تھے ان کا کنٹرول ، یہاں بھی تھا ، چیزیں وہ یہاں تک نہیں پہنچ پارہی تھی جو لوگ کچھ نہیں تھے ارب پتی بن گئے ۔انہوں نے کہاکہ میں ذاتیات کی سیاست کے ذاتی طور پر خلاف ہوں ۔ آج وہ کہ رہے ہیں کہ کسی کے عیب چھپاؤ اللہ آپ کے عیب چھپائے گا ۔ اگر آپ نے ایم کیو ایم چھوڑی تو خاموشی سے بیٹھتے ، احسان فراموشی کے بجائے احسان مندی کرتے ، شرافت دکھاتے ، خاموشی سے زندگی گزارتے رہتے ، لیکن آنے کے بعد آپ نے بھی وہی الزامات لگائے جو برسوں سے ہمارے دشمن لگارہے ہیں ، مہاجروں کو کچھ نہیں دیا ، ان کی زبان بولیں بکلہ وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں ، ہم کب تک صبر کریں ، کب تک حقائق کو چھپائیں ، آج لوگوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ، یہ ایسے حقائق ہیں جن کے ثبوت ، نام اور رینک موجود ہیں ۔انہوں نے پاکستان کے ، محب وطن عوام ، جرنیلوں ، راحیل شریف سے اپیل کی کہ خدارا اس معاملے میں دخل دیں ، مہاجروں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کردار ادا کریں اور اس کھیل کو بند کرائیں ، یہ ملک کیلئے اچھا نہیں ہے ، ایم کیوایم کو کروڑوں لوگوں کی سپورٹ ہے جو باربار دیکھ چکے ہیں کہ کسی طرح، سیاسی قیادت پر الزامات لگا کر ، میڈیا ٹرائل کرکے خطابات پر پابندی لگادی اور اسی میڈیا کو استعمال کیا ۔ ریاست کے کچھ لوگ اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ لوگ الطاف حسین کو سپورٹ کررہے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے کہ الطاف حسین سے بات کی جائے ، آپ نے 2002ء میں ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کا موقع دیا ، اختیارات دیئے ، 2002ء سے 2008ء تک ایم کیوایم نے پاکستان کی جو خدمت کی اس کی تاریخ میں مثال نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ ملیر میں ٹاؤن انچارج نیئر رضا پڑھے لکھے آدمی کو ، گھر سے گرفتار کرکے لے گئے 90روز کا ریمانڈ لے لیا ، فیڈرل بی ایریا میں فرحان کو گرفتارکرکے ریمانڈ لے لیا ۔ہم نے سیکٹرز انچارج اوریونٹ انچارج تبدیل کرکے ٹاؤن انچارجز اور یوسی انچارجز نام رکھ دیئے ۔ ندیم نصرت نے کہا کہ ، اس پورے آپریشن میں جو 2013سے چل رہا ہے ، ایم کیوایم کے 6ہزار سے زائد کارکنان گرفتار ہوئے ، ہزاروں لوگوں کے گھروں پر چھاپے پڑے ، کیا ایک بھی چھاپے کے دوران ایک گولی چلی ، کیا کہیں مقابلہ ہوا یہ کیسے را کے ایجنٹ ہیں اور تربیت یافتہ لوگ ہیں جو خاموشی سے پکڑے جاتے ہیں اور مقابلہ نہیں کرتے ، پاکستان کے اہم اداروں پر حملے نہیں کرتے لیکن میڈیا پر ان کو را کا ایجنٹ بنایا جاتا ہے جو تو پاکستان کے خلاف بات کرتے ہیں اور جو فوج کے حق میں ریلی نکالتے ہیں اور وہ لوگ جو پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے اور پاک فوج کے جوان کو شہید ماننے کوتیار نہیں ہوتے اوربلکہ طالبان کو شہید کہتے ہیں ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ۔ قائد تحریک کھڑے ہوکرسیلوٹ کریں تو کہا جاتا ہے کہ یہ را کے ایجنٹ ہیں۔انہوں نے کہاکہ 19071ء میں بھی مہاجروں نے پاکستان کا ساتھ دیا ۔ وہ چاہتے تو بنگالیوں کا ساتھ دیکر پاکستان کے خلاف ہونے والی بغاوت کا حصہ بن سکتے تھے لیکن وہ اس کا حصہ نہیں بنے پاکستان کا ساتھ دیا۔ 71ء سے 2016ء آگیا وہ آج تک بنگلہ دیش کے ریڈ کراس کے کیمپوں میں ہیں ، کیا یہ ناانصافی کا بد ترین مظاہرہ نہیں کیا ، کیا یہ ناانصافی دیکھ کر محبت کریں گے دنیا میں کوئی نہیں کرے گا لیکن مہاجر محبت کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں ۔ لیکن آپ مسلسل را کے ایجنٹ کی تکرار لگائے ہوئے ہیں وہ شہر جو پورے پاکستان کو پال رہا ہے اسے حق دینے کے بجائے میڈیا پر دہشت گرد بنا رہے ہیں ، ہمیں پھر کسی اور دشمن کی کیا ضرورت ہے ؟ندیم نصرت نے کہاکہ تمام تر دباؤ کے باوجود آج تک ایم کیوایم کے 99.9فیصد لوگ خیابان سحر میں لگائی گئی ڈرائی کلین فیکٹری نہیں جارہے ہیں لیکن ایم کیوایم کے منتخب اراکین ، ذمہ داروں کو ، یوسی چیئرمین سے لیکر سینٹرز تک سے لوگ رابطے کررہے ہیں اور نان اور ان نون نمبروں سے انہیں دھمکیاں دی جارہی ہے اور کہا جارہاہے کہ آپ کی فالیں ریڈی ہیں ، آپ خود شامل نہیں ہوں گے تو گرفتار کرروا کر شامل کیا جائے گا ۔ کس نے یہ پاور دیدی کہ وہ ریاستی ادروں کے لوگوں کو ایم کیوایم سے وفاداری تبدیل نہ کرنے والوں کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جنرل راحیل شریف ملاقا ت کا وقت دیں گے تو یہ سارے ثبوت شواہد پیش کئے جائیں گے ، ہم تما م تر اشتعال انگیزی ، زیادتی کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑرہے ہیں ، دیور سے لگانے کے باجوود عوام کی خدمت کرنے کیلئے فوکس رکھے ہوئے ۔ اس سے بڑی ناانصافی کیا فیس کریں گے کہ حیدآباد میں الیکشن ہوئے ، بلدیاتی الیکشن ہوئے اور آج تک نہ انہیں میئر ، ڈپٹی میئر چیئرمین ملیں ، ہم کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کروا کر ہم سے عوام کی پاکستان کی خدمت کا کام لیاجائے لیکن اس کے بجائے ایک طاقتور ادارے کے اراکین چھوٹے اوربڑے کے شامل ہیں وہ باقاعدہ اپنا تعارف کرارہے ہیں لوگوں سے جاکر مل رہے ہیں اور ایم کیوایم کے سینیٹر، اراکین اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کو فون کرکے دھمکی آمیز انداز میں کہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کو چھوڑ دو ، مصطفی کمال گروپ میں شامل ہوجاؤ ۔ سیاست سب کا حق ہے سیاست کریں ، پی پی ، جماعت اسلامی سب کام کررہی ہے ہیں لیکن یہ کسی کو حق نہیں کہ آپ کالر سے پکڑ کر زبردستی کہیں کہ اس کیلئے کام کریں یہ بنیادی انسانی حقو ق کی خلاف ورزی ہے ، اس زیادتی کو بند کرنا پڑے گا۔ہم میں سے بہت سارے لوگ نتائج بھگت رہے ہیں ، الطاف حسین بھی جلا وطن ہیں اور پتا نہیں کیا کیا سامنا کرنا پڑے لیکن سب کو اپنی قبر میں جانا ہے ، میں بھی سچ ہی بول رہا ہوں کہ یہ سب کچھ جو کیاجارہا ہے اس کے نتائج ملک کیلئے اچھے نہیں نکلیں گے ، لوگوں کو خدارا مجبورا نہ کیا جائے کہ وہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کریں ، ایم کیوایم پر لگائے گئے الزامات کو رد کرتا ہوں جس نے بھی ابھی الزام لگایا میرے حوالے سے انٹرویو میں کہا گیا کہ میں ڈاکٹر عمران فاروق شہید انقلاب ، تمام تر چیزیں چلاتے تھے ، 2000ء سے 2012ء تک جو چیزیں چلا رہے تھے آج وہی ڈرائی کلین کے بعد ایم کیوایم کو گالیاں دے رہے ہیں ، اپنے آپ کو معصوم بنانے کیلئے ، سوشل میڈیا پر جب بات ہورہی تھی تو کیا ان لوگوں کو پان چائے لینے بھیج دیاجاتا تھا ایسا کچھ نہیں ہوا۔ندیم نصرت نے مزیدکہاکہ ہماری خواہش اور کوشش یہ ہے کہ کیچڑ نہ اچھلے ، کسی کی کردار کشی نہ ہو ، صاف ستھری سیاست کی جائے ، میں پریس کانفرنس کے ذریعے یہ مطالبہ بھی کرتا ہوں کہ قائد کے خطابات 
پر عائد پابندی ختم کی جائے ، پاکستان کا کونسا لیڈر ہے جس نے اپنے خاندا کیلئے مفادات نہیں لئے ، وزیراعظم ، زرداری اوران کی بہن کی مثال سامنے ہے ، الطاف حسین اپنے بہنوئی ، رشتہ دار کو گورنر ، سٹی ناظمیں بنا سکتے ، لیکن وہ سینٹرز ، ایم پی اے ، ناظم بنانتے ہیں تو کسی کارکن کو بناتے ہیں ، مڈل کلاس جیسے پاکستان میں کوئی پوچھتا نہیں تھا اسے اختیارات دیئے ، انقلاب ہی نہیں انقلاب ڈیلیور کردیا ، جن کو میڈیا منہ نہیں لگاتا ان کو اتنا بڑا انقلاب دیدیا کہ آج وہ میڈیا پر بیٹھے ہیں ، اس احسان کے بجائے انہی کی پیٹھ میں چھرا گونپا جائے ۔یہ کہنا کہ شہیدوں سے قبرستان بھر گئے اگر شہید قربانی نہیں دیتے تو مصطفی کمال ناظم نہیں ، کوئی ایم این اے ، ایم پی اے نہیں بنتا ۔ جب آپ کو پاور دی تھی ، آپ نے کارکنوں ، قوم اور عوام کیلئے کیا کیا ۔ کیا آپ کو پوچھنے کی ضرورت تھی کہ شہیدا ء کے لواحقین کو پلاٹ دیدیں ، کمان آپ پاور آپ کے ہاتھ میں دیکر پارٹی آپ کے ہاتھ میں دیدی تھی ۔ خود فیل ہوگئے اور ڈیلور نہیں کرسکے اور جب ایکشن آپ کے خلاف ہو تو اسے جواز بنا کر قوم کی پیٹھ میں خنجر گھوپنے اور شہیدوں کے خون کا سودا کریں ، مذاق ہے جو چاہے کردار کشی کرکے چلاجائے اور یہی نہیں جس تحریک نے اتنا بڑا مقام دیا شرم آنی چاہئے اسی پر پابندی کا مطالبہ ، خدا کا خوف کرو ۔انہوں نے کہاکہ واحد آواز مہاجروں کی جماعت کیلئے پابندی کا مطالبہ ، شہیدوں اور تحریک پر پابندی کا مطالبہ کرنا کہاں کا انصاف ہے ۔ اب یہ نہیں ہوگا کہ کوئی آکر سندھ اسمبلی سے آکر بلدیہ کراچی کے اختیارا ت اٹھا کر لے جائے ، کراچی کی زمین کوڑویوں کے داموں بیچی جارہی ہے ، کراچی کا پانی کہیں اور منتقل کیاجارہا ہے ، کراچی کے عوام کو اختیار نہیں ، یہ محرومی اب ختم کرنا ہوگی ۔میں پاکستان کے محب وطن عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ خدارا انصاف کیجئے ، مہاجروں کو گلے سے لگایئے ، ظلم بند کرایئے ، الطاف حسین ملک دشمن نہیں بلکہ مخلص اورہمدرد ہیں ، انہوں نے پاکستان کو وہ کچھ دیا جو کسی نے نہیں دیا ایک کامن آدمی کو پاور دے کر اس سے بآ انقلاب کیا ہے ، آج ان کو کہاجارہا ہے کہ سندھیوں کے حوالے سے الزامات لگائے گئے الطاف حسین نے تو یہی کیا کہ اشفاق منگی کو قبول کیا اور نہ صرف مہاجر علاقے سے جتوا دیا بلکہ بلوچوں ، سندھیوں کو جتوایا ۔ عزیز آباد سے بارہ ، پندرہ سال تک الطاف حسین نے سندھیوں کو کامیاب کرایا ۔ آپ اس عقید و محبت کو نظر انداز کرکے الزامات لگائے جائیں اور یہ سمجھیں کہ جواب میں کچھ نہ کہیں اتنا لوگو ں کے صبر کا امتحان نہ لیں ، پاکستان بہت مشکلات میں اور خطرات میں گھیرا ہوا ہے ۔ پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی دینے والے ڈاکٹر قدیر بھی مہاجر تھے ، اگر ایم کیوایم الطاف حسین سے دشمنی ہے تو ڈاکٹر قدیر کا ریکارڈ انٹرویو موجود ہے جس میں انہو ں نے کہاکہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اس وجہ سے کہ میں اردو بولنے والا ہوں ۔ اس کا الزام بھی کیا آج الطاف حسین پر لگائے گے۔جو لوگ مہاجروں کے ہمدرد بنا کر لائے گئے وہ کل لیاری گئے ، جلسے میں شرکت کی دعوت دی ، ان گینگ وارنے مہاجرون کو شہید ، اغواء کی ، زیادتی کرکے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالی ، پھر مہاجروں سے امید لگا رہے ہیں کہ وہ آپ کو سپورٹ کریں ، جو، اسی میں ملک اور ہم سب کابھلا ہے ۔کہا جارہا ہے کہ ہم کسی سے کچھ چھیننے نہیں آئے ، لیکن آج جو لوگ تھے وہ ایم کیویام کے ایم پی اے ، اگر سیاست کرنی ہے تو دوسرے لوگ لائیں ناِ پھر کہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم توڑنے نہیں آئے ، ہم گاؤں دیہات سے نہیں آئے ہیں ۔ آپ کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ ایم کیوایم کو توڑنا اور نقصان پہنچانا ا، اس ڈرامہ کو بند کیجئے ۔ گزشتہ دنوں ایم کیوایم نے کراچی میں صفائی مہم شروع کی ، میئر نے حلف نہیں اٹھایا ، میئر کا میڈیا ٹرائل شروع کردیا گیا ، اس مہم میں مصروف کارکنان تک کو گرفتار کرنا شروع کردیا گیا،یوسی چیئرمین تک کو گرفتا رکیاگیا اور مجبورا یہ سلسلہ روکنا پڑا۔ خدمت کیسے کریں ہم ، ہمیں ہمارا سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع دیاجائے ، گرفتاریاں ، چھاپے بند کئے جائیں ، پاکستان نہیں بلکہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ ، یواین اے ، ایمنسٹی کی رپورٹ دیکھ لیں سب ناانصافی کے خلا ف احتجاج کررہے ہیں میری درد مندانہ اپیل ہے کہ اسے بند کرایئے ، یہ الزامات جن کو ہم مسترد کرچکے ہیں اب ان الزامات کو دہرانے کا سلسلہ بند کیاجائے ، ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان میں جو اصل اہداف تھے کہ یہ آپریشن جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف ہوگا ، نیررضا ، قمر منصور ، عامرخان ، سیدشاہد پاشا کہاں سے جیٹ بلیک دہشت گرد ہوگئے ، اسی طرح سے ہزاروں کارکنان ، کے ٹی سی رکن عظیم بھائی کو گرفتار کیا گیا، عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ، یہ کہاں سے جیٹ بلیک دہشت گرد ہوگئے ، ہاں اگر خیابان سحر میں چلے جائیں تو ڈرائی کلین کرکے لایا جائے گا ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم سے کل بات کرنے کے بجائے بہتر ہے آج کر لی جائے ، ماضی میں بھی بات کی ہے ، بلوچوں کو قومی دھارے میں شامل کریں اچھی بات ہے ، مہاجر قوم اورالطاف حسین بھی پاکستانی ہیں انہیں بھی قومی دھارے میں لایئے ، یہ جب ہی ہوگا جب ہمیں پاکستان کا اول درجے کا شہری تسلیم کیاجائے گا ۔آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف، وزیراعظم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایم کیوایم کے جو منتخب نمائندوں اور کارکنوں کو بعض آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہے نوٹس لیں ، کچلنے کا سلسلہ بند کیاجائے ، بے گناکارکنوں کی گرفتاریاں بند کی جائیں ، مینڈیٹ تسلیم کیاجائے ۔میڈیاکے نمائندوں سوالات کے جوابات میں ندیم نصرت نے کہناتھاکہ ایم کیوایم ٹکٹ مشاورت ،میرٹ کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں ،یوسی ، ٹاؤن ، رابطہ کمیٹی کی سطح تک مشاورت کی جاتی ہے ، اس میں یہ نہیں کہ کوئی ایک یا دو مرتبہ بنے ، اگر کوئی اچھا کام کررہا تو تجربہ آنے کے بعد لوگ زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں ندیم نصرت نے کہا کہ ابھی تک ہمارا کوئی رابطہ حکومت سے نہیں ہوا ، پچھلے تین سال میں بہت سارے لاشز دیکھے ، عمران خان نے زہرا شاہد قتل پر اسپتال میں رہتے ہوئے الزام لگادیا ایم کیوایم پر ، جماعت اسلامی کے ہمدرد اخبارات میں روزانہ ایم کیوا یم کے خلاف رپورٹ شائع ہوتی ہیں۔ جہاں تک ان کی واپسی کا تعلق ہے وہ تحریک کااجتماعی فیصلہ ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین اپنے اوپر الزامات کو بار بار مستردکرچکے ہیں ، میں بھی مسترد کرتا ہوں ، اسکاٹ لینڈ یارڈ کے بیانات موجود ہیں کہ وہ ان کے ریکارڈ کا حصہ نہیں ہیں ، باقاعدہ بی بی سی نے اس کو رپورٹ کیا ہے جو چیز ان کے ریکاڈر پر نہیں تو اسے مضبوط کیسے سمجھاجائے ، ہمارا میڈیا سارا نہیں کچھ لوگ اس بات کے بڑے خواہش مند ہے کہ بد قسمتی سے کہ وہ چاہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کو پہلے گلٹی بنا دوں ، اور میڈیا پر تو سزا دیدو ، مسلسل میڈیا کے ذریعے سزا دی جارہی ہے ۔ ندیم نصرت نے کہاکہ محرومیاں ختم کردی جائیں ، پھر عوام فیصلہ کریں گے ایم کیوایم کے حوالے سے ، انہی محرومیوں نے ایم کیوایم کو جنم دیا ہے ۔ ایشوز کی سیاست رہے گی ، 2000ء سے جو چیزیں چلارہے تھے وہ الزامات لگارہے ہیں اور میرا خیال ہے وہی اس بات کا جواب دے سکتے ہیں آپ ان سے پوچھیں ٹارگٹ کلنگ ٹییمیں تھی تو آپ نے روکا کیوں نہیں ، آپ کی جے آئی ٹیز بننا چاہئے تھی ، آپ کو کپڑا ڈال کر منہ پر لانا چاہئے تھا ۔ ایم کیوایم یہ سب کررہی ہوتی ایم کیوایم کو بار بار عوام ووٹ نہیں دیتے ۔ جتنا اسکروٹنا ئزڈ الیکشن ایم کیوایم کے حلقے میں کیاجارہا ہے ایسا دنیا میں نہیں ہوتا اس کے باوجود ایم کیوایم جیت جاتی ہے ۔ صوبے کی بات کے جائز مطالبے کو لسانی رنگ دیدیا جاتا ہے ، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ مہاجر صوبہ بنایاجائے بلکہ 20صوبے بنائے جائیں ۔ نہیں کہہ رہے کہ مہاجر صوبہ بنایاجائے ، بلکہ نہ کہہ رہے ہیں ہزارہ وال ، سرائیکی لوگوں کو بھی سنا جائے ۔ جہاں تک معاملات کا تعلق ہے ایم کیوایم حکومت کے ساتھ جب بھی رہی یا باہر آئی تو ایشوز کی بیس پر ، پاکستانے کے بہت سارے مسائل اس وقت حل ہوسکتے ہیں کہ مقامی حکومت کو پاورفل کردیں اور صحت صفائی ، تعلیم کانظام لوکل گورنمنٹ کے حوالے کردیں ۔ باالخصوص مہاجروں کو نشانہ بنایاجارہا ہے، جتنے لوگ ہمار ے گرفتارہوئے ، لاپتہ ہوئے کسی کے نہیں ہوئے، جو آپ نے پختونوں،بلوچوں کی ماورائے عدالت کلنگ کاتذکرہ کیا یہ انتہائی افسوسناک ہے ، میں اس کی مذمت کرتا ہوں، آپریشن میں کمیٹی بنانے کا مطالبہ اس لئے کہا کہ مہاجروں کلیئے گئے ، مانیٹرنگ کمیٹی کا کام یہ ہی ہونا تھا کہ اس طرح کے واقعات ہورہے ہیں اس کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ مانیٹرنگ کمیٹی بنائی جائے ۔ جو لوگ اس آپریشن کے ذمہ دارہیں انہیں سمجھنا ہوگا کہ آپ لوگوں کو ماروائے عدالت قتل کرکے دیرپا امن نہیں لاسکتے ، کراچی اتنا بڑا شہر ہوچکا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ چھوٹے کئی ممالک ہیں ، اور ان ممالک کے کئی کئی بڑے بجٹ ہیں اس کے باوجود لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کراچی میں نہ روزگار ہو ، صحت، تعلیم ، ہو ۔ پوری دنیا میں یہ طریقہ کار ہے کہ ایک طرف لوگوں کو پکڑتے ہیں ان کا ٹرائل کرتے اوروار ساتھ ساتھ ان سماجی عوامل کو ایڈریس کرتے ہیں جن کی بنیاد پر لوگ ظلم کرنے پرمجبور ہوتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کو اختیار دیاجائے ، کراچی سمیت پورے پاکستان کو اختیار دیاجائے ، یہ وہ دور نہیں کہ لوگوں کو غلام بنا کر حکومت کرتے رہیں ، مزارعین کنونشن کرنا چاہتے ہیں پنجاب میں وہاں کی حکومت نے اجازت نہیں دی ، اس کو چیلنج کرنیوالے لوگ نہیں ہیں ، میڈیا اس چیز کو ہائی لائٹ کریں ۔ 

12/2/2016 12:02:30 PM