Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وزیراعظم اور آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن نہیں ہوگا لیکنایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔الطاف حسین


وزیراعظم اور آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن نہیں ہوگا لیکن ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔الطاف حسین
 Posted on: 4/17/2016
وزیراعظم اور آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ کسی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن نہیں ہوگا لیکن ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ الطاف حسین
ماضی کی طرح ایک بارپھر آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا
میں نے گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو خط بھی لکھا مگر تاحال ہمیں انصاف نہیں ملا
پاکستان میں ریاستی مظالم کے حقائق کوسامنے آنے سے روکا گیا لیکن آج دنیامیں یہ حقائق سامنے آرہے ہیں
ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورمنتخب نمائندوں کو اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے ٹولے میں شامل ہونے کیلئے پر دباؤ ڈالاجا رہاہے
تمام تردھمکیوں اورمظالم کے باوجود ڈرے نہیں ہیں بلکہ ثابت قدم ہیں اوراپنے حلالی ہونے کاثبوت دے رہے ہیں
کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص ، سکھر ، نوابشاہ ، ٹنڈوالہیار اور سانگھڑ میں منتخب نمائندوں اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلیفونک خطاب
لندن۔۔۔16؍ اپریل 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطا ف حسین نے کہاہے کہ ہمیں وزیراعظم اور آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ملک میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف آپریشن نہیں ہوگا بلکہ ان ’’ بلیک جیٹ ‘‘ دہشت گردوں کے خلاف ہوگا جو مساجد ، امام بارگاہوں ، فوجی تنصیبات اور بازاروں میں بم دھماکے کرتے ہیں لیکن حسب سابق ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ۔میں نے گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو خط بھی لکھا مگر تاحال ہمیں انصاف نہیں ملا ۔ہم انصاف صرف چاہتے ہی نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایم کیوایم کے ذمہ داروں اورمنتخب نمائندوں کو اسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے ٹولے میں شامل ہونے کیلئے پر دباؤ ڈالاجا رہاہے ،انہیں فون پردھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ میرے باوفا ساتھیوں نے اپناضمیربیچنے اورتحریک سے بے وفائی کرنے سے انکار کردیاہے اوروہ تمام تردھمکیوں اورمظالم کے باوجود ڈرے نہیں ہیں بلکہ ثابت قدم ہیں اوراپنے حلالی ہونے کاثبوت دے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص ، سکھر ، نوابشاہ ، ٹنڈوالہیار اور سانگھڑ میں حق پرست اراکین ، سینیٹ ، قومی و صوبائی اسمبلی ، نامزد میئر ز ، ڈپٹی میئرز ، نومنتخب یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین ،کونسلرز اورتنظیمی شعبہ جات کے ارکان کے اجلاسوں سے بیک وقت ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہا کہ 2013ء سے ریاستی اداروں ، بیوروکریسی ، عسکری اداروں ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ایم کیوا یم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سلسلہ جاری ہے ، اس مقصد کیلئے نہ صرف ریاستی مشینری اور طاقت کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے بلکہ ایم کیوا یم کو ختم کرنے کیلئے اربوں ، کھربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے خلاف بدترین آپریشن کے دوران بے گناہ کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ، کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا اور ہزاروں کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن تمام تر ظلم و ستم اور چھاپے گرفتاریوں کے باوجود ایم کیو ایم کے رہنماء ، حق پرست اراکین ، قومی و صوبائی اسمبلی ، بلدیاتی نمائندے ، ذمہ داران اور کارکنان آج بھی ثابت قدم ہیں اور اپنے الطاف حسین بھائی کے ساتھ ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم مذہب ، مسلک ، عقید ے اور رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کی تقسیم کے خلاف ہے ، الطاف حسین مذہب اور فرقہ کی تقسیم پر نہیں بلکہ انسانیت پر یقین رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم ، تمام مکاتب فکر اور پاکستان کی تمام قومیتوں سے تعلق رکھنے والے غریب و مظلوم عوام و کارکنان ایم کیو ایم کے پرچم تلے متحد و منظم ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہا کہ 2013ء میں تمام جماعتوں کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ایم کیوایم سمیت پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہوں اور نمائندگان کے ساتھ ساتھ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف ، آئی ایس آئی کے چیف جنرل رضوان اختر ، عسکری اداروں کے اہم عہدوں پر فائز شخصیات ، وزیراعظم ، وفاقی وزیر داخلہ ، وزیر دفاع اور دیگر اہم وزراء نے بھی شرکت کی ۔ اس اجلاس میں مذہبی انتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے سلسلہ میں اتفاق رائے قائم کیا جارہا تھا تاہم ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں ایم کیو ایم نے آپریشن کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ اس آپریشن کی اجازت اور اختیارات کے سلسلے میں ایم کیو ایم کے سوا تمام جماعتوں نے رضامندی ظاہر کی اور دستخط کئے تاہم ایم کیو ایم نے دستخط نہیں کئے ۔ جس پر عسکری ذرائع اور حکومتی ارکان نے ٹیلیفون کے ذریعہ مجھ سے لندن رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگابلکہ یہ آپریشن صرف ان جہادی تنظیموں اور انتہاء پسند دہشت گردوں کے خلاف ہوگا جو مساجد ، امام بارگاہوں ، عسکری تنصیبات ، اسکولوں اور بازاروں پر خود کش حملے اور بم دھماکے کرتے ہیں ،میں نے ان سے کہا کہ اگر وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف ہمیں یہ یقین دہانی کرادیں کہ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا تو ہم دستخط کردیں گے جس پر وزیراعظم اور آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی کہ یہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ ان ’’ بلیک جیٹ ‘‘ دہشت گردوں کے خلاف ہوگا جو مساجد ، امام بارگاہوں ، فوجی تنصیبات اور بازاروں میں بم دھماکے کرتے ہیں اور جن کے ہاتھوں عام شہریوں کے علاوہ پاک فوج کے ہزاروں افسران اور جوان بھی شہید ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کی یقین دہانی کے بعد ایم کیو ایم نے بھی اس آپریشن پر اپنی رضامندی ظاہر کردی لیکن حسب سابق ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ۔اس آپریشن کے دوران دو مرتبہ میرے گھر پر اور میری بڑی بہن کے گھر پر چھاپے مارے گئے ، ایم کیو ایم کے دفاتر اور کارکنوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیاجوآج بھی جاری ہے ۔ انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا اس آپریشن کے دوران کسی بھی سیاسی جماعت کے مرکزی دفتر یا کسی سیاسی جماعت کے مرکزی رہنماء کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ ’’ ہرگز نہیں ‘‘ جناب الطاف حسین نے کہا مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر کرپشن ، ٹیکس چوری اور دہشت گردی کے الزامات عائد کئے گئے لیکن ان میں سے کسی ایک رہنماء کی گرفتاری کیلئے چھاپہ نہیں مارا گیا ، راجن پور میں چھوٹو گروپ کے خلاف فوج آپریشن کررہی ہے ، چھوٹو گروپ ڈاکہ زنی ، اغواء برائے تاوان ، لوٹ مار اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہے اس کے خلاف ضرور کاروائی کی جانی چاہئے لیکن جو عناصر سرکاری خزانہ کی لوٹ مار میں ملوث ہیں ، سرکاری بینکوں سے اربوں ، کھربوں روپے کے قرضے لیکر ہڑپ کرگئے اور قومی خزانہ کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جانی چاہئے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ 2013ء سے اک تک ایم کیو ایم کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا ، ایم کیو ایم کے متعدد کارکنوں کو حراست کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیا گیا اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ویران سڑکوں پر پھینک دی گئیں ، اس وقت بھی ایم کیو ایم کے سینکڑوں بے گناہ کارکنان قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ جبکہ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان کھلے عام مہلک ہتھیاروں کا آزاندہ استعمال کرتے رہے ، کھلے عام گولیاں چلاتے رہے جنکی ویڈیوز میڈیا پر نشر بھی کی جاتی رہی لیکن ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ ایم کیوا یم کے کارکنان اور منتخب بلدیاتی نمائندے کراچی کے عوام کی خدمت کریں اور صفائی مہم میں حصہ لیں تو انہیں صفائی مہم کے دوران بھی گرفتار کرلیا گیا جس پر ہمیں مجبوراً صفائی مہم بند کرنی پڑی ، آخر ہم انصاف مانگیں تو کس سے مانگیں ؟ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نے گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو خط بھی لکھا مگر تاحال ہمیں انصاف نہیں ملا ۔ہم انصاف صرف چاہتے ہی نہیں بلکہ انصاف ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کرنے والے سویلین ہوں یا عسکری ادارے سے تعلق رکھتے ہوں بلاجواز قتل کوئی سویلین کرے یا عسکری ادارے کے اہلکار کریں ، قتل ، قتل ہوتا ہے ۔ سرکاری ادارے کسی بھی ملزم سے پوچھ گچھ کرسکتے ہیں لیکن جرم ثابت نہ ہونے یا عدالت کے فیصلے سے قبل حراست کے دوران کسی بھی ملزم کو قتل کرنے کا عمل جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ جناب الطاف حسین نے شرکاء کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے عددی اکثریت کی بنیاد پر ایک قانون پاس کیا تھا کہ میئر و ڈپٹی میئر اور چیئرمین و وائس چیئرمین کا انتخاب ’’ شو آف ہینڈ‘‘ کے ذریعہ کیا جائے گا جبکہ ایم کیو ایم کا مؤقف تھا کہ یہ انتخاب خفیہ رائے دہی کے ذریعہ کیا جائے ، ایم کیو ایم نے اس قانون کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی جہاں ایم کیو ایم کا مؤقف تسلیم کیا گیا جس پر پیپلز پارٹی نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سپریم کورٹ نے بھی ایم کیو ایم کے حق میں فیصلہ دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہ دیئے تو ہم دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی ۔ جناب الطاف حسین نے سپریم کورٹ میں ایم کیو ایم کا مقدمہ کامیابی سے لڑنے والے ڈاکٹر بیرسٹر فروغ نسیم اور ان کے معاون وکلاء کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے قانی معاملات میں معاونت پر بیرسٹرمحمدعلی سیف ، محفوظ یارخان ایڈوکیٹ، نامزدمیئر کراچی وسیم اختراورنامزدڈپٹی میئرڈاکٹرارشدوہرہ کوبھی خراج تحسین پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے دوسری خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد ڈالنے والے چوٹی کے ڈائریکٹر ، پروڈیوسر اور رائٹر حیدر امام رضوی جن کا نام اقوام متحدہ کے 25بڑے ڈائریکٹرز کی فہرست میں شامل ہے ، گزشتہ روز انہوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کیا اسی طرح سابق سیشن جج محترم کرم چند جنکی شہرت ایماندارنہ عدالتی فیصلے کرنے میں اپنی مثال آپ ہے ۔ انہوں نے بھی گزشتہ روز ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کیا ہے جس پر میں تمام حق پرست کارکنان و عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ تیسری خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سالانہ رپورٹ میں ایم کیو ایم کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ، کراچی کی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے خلاف جاری آپریشن کے دوران متعدد کارکنان لاپتہ کردیئے گئے ، متعدد قتل کیے جاچکے ہیں اور اس جماعت کو اظہار رائے کی آزادی نہیں دی جارہی ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی سالانہ کنٹری رپورٹ میں صاف کہا گیا ہے کہ’’ مئی کے مہینے میں پاکستان کی میڈیاریگولیٹری اتھارٹی پیمرانے میڈیاپرعدلیہ، پاکستان آرمی یادیگر قانون نافذکرنے والی ایجنسیوں کے خلاف ہر قسم کی نشریات پرمکمل پابندی عائد کردی۔ پیمرانے یہ احکامات یکم مئی کوایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کی ایک تقریر کے ردعمل میں جاری کئے تھے جس میں فوج پر شدید تنقیدکی گئی تھی ‘‘ ۔ انہوں نے کہاکہ پیمرانے یہ پتھرکے زمانے کاکالاقانون نافذ کیاہے۔انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ عدالت میں بھی گیالیکن ابھی تک میری تقاریراوربیانات نشرکرنے پر پابندی عائدہے، آخرکونسی طاقت ہے جس نے ابھی تک پابندی کوعائدرکھاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کئی سیاسی رہنماآزادی ء اظہارکے چیمپئن بنتے ہیں لیکن کسی نے بھی اس پابندی کے خلاف آوازبلندنہیں کی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اظہار رائے کی آزادی میں کہاں لکھا ہے کہ کوئی شہری عسکری اداروں کے غلط کاموں اور عدلیہ کے غلط فیصلوں پر تنقید نہیں کرسکتا اور جو رہنماء حق اور سچ بولیں ان پر پیمرا کے ذریعہ پابندی لگادی جائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ عدلیہ اور فوج کے حوالہ سے تاریخی حقائق بیان کرنا کوئی جرم نہیں ہے ۔ انہوں نے تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 13اپریل 1919ء میں جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ امرتسر میں جلسہ کرنے والے 400افراد کو گولیاں چلاکر ہلاک کردیا تھا جس پر اسے سزا دی گئی اور اسکے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا ۔ جنرل ڈائر کے اس سفاکانہ عمل کو پوری دنیا میں کہیں جائز قرار نہیں دیا گیا ۔ اسی طرح ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا تھا، اسے بھی دنیا بھر میں جائز قرار نہیں دیا جاتا جبکہ برطانیہ کے جنرل کرامویل نے جمہوریت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء نافذ کردیا تھا ، کرامویل کے انتقال کے بعد جب جمہوری حکومت آئی تو جنرل کرامویل پر مقدمہ چلایا گیا،جنرل کرامویل کی قبر کھود کراس کا ڈھانچہ نکالاگیااورکئی ماہ تک لندن میں لٹکایا گیا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کی فوج نے 1971ء میں بھارتی جنرل اروڑہ سنگھ کے سامنے جنرل نیازی کی قیادت میں ہتھیار ڈالے جو کہ تاریخی حقیقت ہے لہٰذا اس حقیقت کو بیان کرنا غیر آئینی کیسے ہوسکتا ہے ؟ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم دشمن عناصر مجھ سے بات کرتے ہوئے اسلے ڈرتے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ الطاف حسین تاریخ کا علم اور تاریخی معلومات رکھتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں حقائق کوسامنے آنے سے روکاگیالیکن آج دنیامیںیہ حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھی دیکھتے ہیں کہ یہ کب تک یہ ہمیں ماریں گے، کب تک ہمیں گرفتارکریں گے اورکب تک ہمیں ظلم کانشانہ بنائیں گے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ خفیہ قوتوں نے ایم کیوایم سے جرائم ، کرپشن اوردیگرجرائم میں مبتلاہونے کی بناء پر خارج کئے گئے افرادپرمشتمل جونیاگروپ تشکیل دیاہے اس کی جانب سے ایم کیوایم کے تمام شعبوں کے ذمہ داروں، سینئرخواتین اوربزرگوں، حق پرست سینیٹرز، ارکان اسمبلی، یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین اورکونسلرزسے فون پررابطے کئے جارہے ہیں، انہیں تحریک سے بے وفائی کرنے اوراسٹیبلشمنٹ کے بنائے ہوئے ٹولے میں شامل ہونے کیلئے پر دباؤ ڈالاجا رہاہے ،انہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ میرے باوفا ساتھیوں نے اپناضمیربیچنے اورتحریک سے بے وفائی کرنے سے انکار کردیاہے اوروہ تمام تردھمکیوں اورمظالم کے باوجود ڈرے نہیں ہیں بلکہ ثابت قدم ہیں اوراپنے حلالی ہونے کاثبوت دے رہے ہیں۔ میں اپنے ان ثابت قدم ساتھیوں سے کہتاہوں کہ آپ کاخادم آپ کو دل کی گہرائیوں سے سیلوٹ پیش کرتا ہے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ان ضمیرفروش عناصرنے جھوٹا پروپیگنڈہ کیاکہ الطاف حسین نے ذمہ داروں کوپوری دنیاکے سامنے زلیل کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں قائدہوں اوراگرذمہ دارچوری کریں گے، لوگوں کے گھروں،پلاٹوں اورزمینوں پر قبضے کریں گے اورلوٹ مارکریں گے تومیں قائدکی حیثیت سے یقیناًان کی بازپرس کروں گا۔جب مجھے یہ اطلاعات ملیں کہ میرے ذمہ داران چوری، زمینوں پر قبضے ، چائناکٹنگ اوردیگربدعنوانیوں میں پڑگئے ہیں تومیں نے اس کی تحقیقات کرائیں، جب ثابت ہوگیاتومیں آنسوؤں اورہچکیوں سے رویا،میں نے کارکنوں کے سامنے اس پر سختی سے بازپرس کی تویہ بھاگ گئے، کل تک ان لوگوں کے نام مختلف واقعات کی جے آئی ٹیزمیں آرہے تھے ،جب ہم نے انہیں نکالاتوخفیہ قوتیں انہیں خصوصی طیارے میں پاکستان لائیں اورخیابان سحر میں لاکر بٹھادیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ ضمیرفروش عناصرکہتے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ حاصل نہیں ہے، اگرایساہے توان کے پاس یہ 12کروڑ کا بنگلہ کہاں سے آیا؟حیدرآبادوالے کے پاس کروڑوں روپے کاقیمتی بنگلہ کہاں سے آیا؟یہ بڑی بڑی بلٹ پروف گاڑیاں کہاں سے آئیں؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف ریاستی ایجنسیوں کے جاری آپریشن کودرست اورجائزقراردینے کے لئے ٹی وی کے بعض اینکرزاورتجزیہ نگاروں کو خوب استعمال کیا جارہا ہے جوروزانہ بیٹھ کرجھوٹ پرجھوٹ بول رہے ہیں، وقت آئے گاکہ اللہ تعالیٰ ان سب سے ان کے جھوٹ کاحساب لے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرمنلائزیش پالیسی کے تحت ملک کے غریب مہاجروں، غریب پنجابیوں، غریب سندھیوں، غریب بلوچوں،غریب پختونوں،غریب سرائیکیوں، غریب کشمیریوں ، غریب ہزارے وال اورتمام قومیتوں کے غریب عوام کے حقوق کی جدوجہدکرنے والی جماعت ایم کیوایم پررا کے ایجنٹ اور ملک دشمنی کے الزامات لگائے جارہے ہیں،پہلے بھی ایم کیوایم پر جناح پوراوراسی قسم کے الزامات لگائے جاچکے ہیں۔انہوں نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں ملک دشمنی اور را سے تعلق کے الزامات کی سختی سے تردیدکی اورکہاکہ ایم کیوایم ایک محب وطن جماعت تھی اورمحب وطن جماعت ہے جوپاکستان کی بقاء وسلامتی چاہتی ہے، ایم کیوایم پاکستان میں 20صوبوں کاقیام چاہتی ہے اورکھل کریہ کہتی ہے کہ اب پاکستان کوچارصوبوں سے نہیں چلایاجاسکتا،پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہے کہ پورے ملک میں مزیدصوبے قائم کئے جائیں ، ایم کیوایم سندھ میں بھی ایک ایساصوبہ چاہتی ہے جہاں وڈیروں اورجاگیرداروں کی نہیں بلکہ یہاں کے عوام کی حکمرانی ہو، جہاں پولیس اوررینجرزمقامی ہو،جسے اپناانتظام چلانے کااختیارہو،ایم کیوایم ایساپاکستان چاہتی ہے جو لوٹ مار، کرپشن ، ڈاکوؤں سے آزادہو،جہاں کوئی ٹیکس چور اورقرضے معاف کرانے والا نہ ہو، جہاں لوگ پانی، بجلی، گیس کونہ ترسیں، اچھی تعلیم اوراچھے اسپتال کونہ ترسیں ، امن وامان کی صورتحال اتنی بہترہوکہ اگرکوئی بہن بیٹی رات گئے کسی مجبوری کے تحت گھرسے نکلے توکوئی اس پر بری نگاہ ڈالنے والانہ ہو۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ریاستی طاقت کے ذریعے ایم کیوایم کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں،چھاپے گرفتاریاں روزکامعمول بن گئی ہیں،ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں منتخب نمائندوں کوگرفتارکرکے انہیں عدالتوں میں پیش کرنے کے بجائے 90، 90 دن کیلئے قیدکیاجارہاہے، انکے بوڑھے والدین انکی تلاش میں مارے مارے پھررہے ہیں لیکن ان کی دادفریاسننے والاکوئی نہیں ہے۔ APMSO کی مرکزی کمیٹی نے پریس کانفرنس کرکے حقائق بیان کئے توان کے ذمہ داروں اور کارکنوں پرجھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں ،ان کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں ۔انہوں نے اے پی ایم ایس او کے کارکنوں سے کہاکہ وہ فی الحال روپوش ہوجائیں،وقت آئے گاجب ظلم کایہ سلسلہ رک جائے گا۔ یہ آزمائش ،امتحان ،صبرکرنے اورثابت قدم رہنے کا وقت ہے ،ثابت قدم رہنے والے ہی فتح سے ہمکنارہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح اشارے دیئے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر قرآن مجید کی سورتیں اورآیات پیش کیں۔انہوں نے کہاکہ سورہء والعصر میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایاہے ، ’’ قسم ہے زمانے کی انسان خسارے میں ہے لیکن وہ لوگ نہیں جوایمان لائے ۔جنہوں نے عمل صالح کئے،جو حق کی تلقین کرتے رہے اورجو( ظلم وجبرپر)صبرکرتے رہے ‘‘۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے سورہ ء کوثرمیں ارشادفرمایا، ’’ ہم نے تمہیں کوثرعطاکی، اوراپنے رب کی راہ میں قربانی کر، بے شک تیرا دشمن ہی ابترہوگا‘‘ ۔ نیچے ہوگا، شکست کھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ’’ بے شک حق آنے کیلئے ہے اورباطل مٹنے کیلئے ہے ‘‘ ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ غداری اوربے وفائی کایہ عمل صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوابلکہ دنیامیں ہرسچے انقلابی کے ساتھ ہوا،حتیٰ کہ نبی کریم ؐ جو امام الانبیا ہیں ، ان کے ہاتھ پربیعت کرنے والوں نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ۔ جب منافقوں کے سردارعبداللہ بن ابئی نے جوخودکوبظاہرمسلمانوں کا ہمدردقراردیتاتھااس نے دکھاوے کیلئے ایک مسجدبھی بنالی تھی جسے مسجدضرارکہتے تھے ۔اللہ تعالیٰ نے اس پرسورہ المنافقون نازل کی اورارشادفرمایاکہ ان کی مسجد اور نمازوں پرمت جاؤ،یہ دکھاوا کررہے ہیں ،یہ لوگ دراصل منافق ہیں،۔ نبی کریمؐ نے صحابہ کرامؓ کوحکم دیاکہ اس مسجدکوڈھادیں۔انہوں نے کہا کہ آج جوضمیرفروش بنگلے پر ہیں وہ بھی قوم کے ہمدردنہیں بلکہ دراصل منافقوں میں سے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے اس موقع پر ارکان اسمبلی اورشعبوں کے ذمہ داروں سے دریافت کیاکہ کیاآپ ضمیرفروشوں کی دھمکیوں میں آئیں گے؟ اس پر تمام ارکان نے جناب الطاف حسین کویقین دلایاکہ وہ ایسی دھمکیوں میں نہ کل آئے تھے اورنہ اب آئیں گے اورکسی بھی قیمت پر تحریک سے بے وفائی نہیں کریں گے ۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترنامساعد حالات ،ریاستی آپریشن ، چاروں طرف سے تحریک کے خلاف کی جانے والی سازشوں کے باوجود ثابت قدم رہنے اورتحریک کے وفاداری نبھانے پرتمام حق پرست سینیٹرز، ارکان قومی وصوبائی اسمبلی، یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین اورکونسلرزکو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ صرف کارکنان ہی ثابت قدمی سے ان حالات کامقابلہ نہیں کررہے ہیں بلکہ نائن زیروپررابطہ کمیٹی کے تمام ارکان ،خواتین اوربزرگ دن رات ڈیوٹیاں دے رہے ہیں،حیدرآباد، میرپورخاص اور دیگرزونوں میں بھی ساتھی دن رات جاگ رہے ہیں، اسی طرح لندن میں بھی رابطہ کمیٹی کے ارکان بشمول کنوینرندیم نصرت اور انٹرنیشنل سیکریٹریٹ اوریوکے کے ذمہ داران رات دن ڈیوٹیاں دے رہے ہیں جس پر میں دل کی گہرائیوں سے ان سب کو سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے دشمن ہماری تحریک کوختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اللہ کاکرم ہے کہ ہمارے وہ ساتھی جو گھربیٹھے ہوئے تھے وہ بھی اب آزمائش کے اس وقت میں تحریک کے ساتھ آگئے ہیں۔جناب الطاف حسین نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب سرکاردوعالمؐ، اہل بیتؓ ، صحابہ کرامؓ ، اولیائے کرام اوربزرگان دین کے صدقے میں ہماری غیب سے مددفرمائے ،ہماری مشکلات کاخاتمہ کرے اورہماری تحریک کوختم کرنے کیلئے کی جانے والی تمام سازشوں کوناکام بنائے ۔ انہوں نے تحریک کے شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے اسیرکارکنوں کوان کی جرات وہمت اور ثابت قدمی پرسلام تحسین پیش کرتاہوں اوردعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے اسیرساتھیوں کی رہائی کے اسباب پیدا کرے۔ 


تصاویر کراچی
تصاویر حیدرآباد

12/9/2016 5:11:33 PM