Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بیٹی کا انتظار کروں یا مغفرت کی دعا ؟۔۔۔تحریر:صبا اعتزاز،بشکریہ بی بی سی اردو


بیٹی کا انتظار کروں یا مغفرت کی دعا ؟۔۔۔تحریر:صبا اعتزاز،بشکریہ بی بی سی اردو
 Posted on: 4/15/2016
صبا اعتزاز
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
14 اپريل 2016
زینت شہزادی کو لاپتہ ہوئے ایک سال بیتنے کو ہے لیکن ان کے چھوٹے سے گھر میں جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی ڈریسنگ ٹیبل پر زینت کی کنگھی اور لپ سٹک جوں کی توں دھری ہیں۔ الماری میں کپڑے لٹک رہے ہیں، اور ان کی والدہ بھی ایک سال سے امید و بیم کے درمیان جھول رہی ہیں۔
کنیز بی بی ایک اضطراب کے عالم میں کبھی ڈریسنگ ٹیبل کا سامان سجاتی ہیں تو کبھی کپڑوں کی سلوٹیں درست کرتی ہیں۔ ان کی آواز میں کپکپاہٹ ہے۔ ’میں نے زینت کے سردیوں کے کپڑے سنبھال کر رکھ دیے ہیں اور اب گرمیوں کے نکال رہی ہوں، مجھے پتہ ہے وہ واپس آ کر پہنے گی۔‘
24 مارچ کو زینت کے سب سے چہیتے بھائی صدام نے خودکشی کر لی۔ کنیز بی بی کا کہنا ہے کہ وہ زینت کی طویل گمشدگی سے دلبرداشتہ ہو گیا تھا۔
’وہ روز پوچھتا تھا آپی کب آئیں گی، بس اپنی زندگی کے آخری دن اس نے کہا، امی آپی اب نہیں آئیں گی۔‘ کنیز بی بی کہتی ہیں کہ ’شاید یہ میرا ہی قصور ہے، میں کیوں اس کے سامنے زینت کو یاد کر کے روتی رہی، اس بچے سے برداشت نہیں ہوا۔‘
اپنے گھرانے کی واحد کفیل زینت اغوا سے پہلے بھارتی شہری حامد انصاری کی پاکستان میں گمشدگی کے کیس پر کام پر رہی تھیں اور انھوں نے ممبئی میں حامد کی والدہ سے رابطہ کرنے کے بعد ان کی جانب سے جبری گمشدگی کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
اس مقدمے کے حوالے سے جبری گمشدگیوں کے حکومتی کمیشن کی تحقیقات میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔ اسی سال فروری میں سکیورٹی اداروں نے حامد انصاری کو فوجی عدالت میں پیش کیا اور انھیں تین سال کی سزا سنائی گئی۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل حنا جیلانی نے بتایا: ’ان کے گھر والوں سے ہمیں پتہ چلا کہ ایک بار پہلے بھی زینت کو سکیورٹی والے زبردستی اٹھا کر لے گئے تھےاور چار گھنٹے بعد چھوڑ دیا۔ زینت نے گھر والوں کو بتایا کہ وہ اس سے حامد کے بارے میں تفتیش کر رہے تھے۔‘
19 اگست 2015 کو زینت شہزادی رکشے میں دفتر جا رہی تھیں کہ دو کرولا گاڑیوں نے ان کا راستہ روکا، مسلح افراد نکلے اور انھیں
 زبردستی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔ اگلے دن زینت کی جبری گمشدگیوں کے کمیشن میں پیشی تھی۔
لاہور جیسے شہر میں دن دہاڑے ایک خاتون صحافی کا لاپتہ ہونا انسانی حقوق کے سرگرم اداروں کے لیے باعثِ فکر ہے۔ حنا جیلانی نے کہا: ’ہمیں کافی حد تک یقین ہے کہ یہ کام خفیہ ایجنسیوں ہی کا ہے کیونکہ ان کی حراست میں اگر کوئی بھی ہو تو پولیس کا کسی قسم کا بس نہیں چلے گا۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کیس میں پولیس تقریباً بے بس ہو چکی ہے۔‘
اس کیس کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کے خلاف درج ہے جبکہ جبری گمشدگیوں کے بارے میں حکومتی کمیشن بھی اس کیس کی تفتیش کر رہا ہے۔
سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ زینت شہزادی کی بازیابی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ خفیہ اداروں نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں امید ہے آئندہ ایک دہ ماہ میں کیس حل کر لیا جائے گا۔
پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اندرونی اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے اس مسئلے کے حل کے لیے سنہ 2011 میں ایک خصوصی کمیشن بنایا گیا تھا۔
مسنگ پرسنز کے 3000 سے زائد مقدمات میں سے اب تک 1300 سے زائد مقدمات حل نہیں ہو سکے۔ صرف فروری میں لاپتہ افراد کے 70 مزید کیس کمیشن میں جمع کروائے گئے۔
زینت کا نام بھی اب اس لمبی فہرست میں شامل ہو چکا ہے، جن کے لواحقین سالہاسال سے دربدر ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے نتیجے میں خفیہ ادارے کئی افراد کو وارنٹ یا وضاحت کے بغیر حراست میں لے رہے ہیں۔
حنا جیلانی کا کہنا ہے: ’اگر ایسے قوانین بنائیں جائیں گے جو موجودہ قوانین سے متصادم ہوں اور جب ان اداروں پر کوئی احتساب یا نگرانی کا نظام نہ ہو تو یہ بہت خطرناک ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جبری گمشدگیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔‘
ان تمام کا خمیازہ زینت شہزادی جیسے لاپتہ ہونے والے افراد کا خاندان چکا رہا ہے۔
اپنے آپ کو کچھ دلاسہ دینے کے لیے کنیز بی بی روزانہ اپنے بیٹے کی قبر پر آ کر پھول چڑھاتی ہیں۔ جب کہ بیٹی کے معاملے میں انھیں یہ محدود سکون بھی میسر نہیں۔
انھوں نے روتے ہوئے مجھ سے کہا کہ ’بیٹا مجھے کوئی اتنا تو بتا دے کہ اپنی زینت کا انتظار کروں یا اس کی مغفرت کے لیے دعا؟‘

9/30/2016 6:48:15 PM