Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگوں کی شہادتوں پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ان کے سوگوار اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے


اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگوں کی شہادتوں پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ان کے سوگوار اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے
 Posted on: 4/12/2016
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے لوگوں کی شہادتوں پر ایک جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور ان کے سوگوار اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے
آج تک ایم کیوایم کے 20 ہزار سے زائد کارکنان و ہمدردوں کو بے دردی سے شہید کیا جاچکا ہے، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
اسٹیبلشمنٹ نے ایک جماعت کی آڑمیں ڈرائی کلین کی مشین لگائی ہے جو اس طرف جارہے ہیں ان کے سو سو خون معاف کئے جارہے ہیں
گرفتاریوں کے ذریعے قائد تحریک کے لاکھوں چاہنے والوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ عزیزآباد میں ہوگے تو مجرم ہواور اگر خیابان سحر آؤ گے تو پاک صاف ہو جاؤ گے انصاف کے تقاضوں کو پورا کیاجائے اب تک جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنا؟
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں اور قتل کیے گئے کارکنان کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے، خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں کنورنویدجمیل،عارف خان،عادل خان،شبیر احمد قائمخانی، اسماعیل قریشی اور ریحانہ نسرین کے ہمراہ ڈاکٹرمحمدفاروق ستارکی اہم پریس کانفرنس
کراچی:۔۔۔12؍اپریل2016ء
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستارنے کہاہے کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ نے ایک جماعت کی آڑمیں ڈرائی کلین کی مشین لگائی ہے جو اس طرف جارہے ہیں ان کے سو سو خون معاف کئے جارہے ہیں۔اب تک100سے زائد لوگوں کو گرفتار کرکے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اس طرف آجاؤ گے تو امان ہے ان گرفتاریوں کے ذریعے قائد تحریک کے لاکھوں چاہنے والوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ عزیزآباد میں ہوگے تو مجرم ہواور اگر خیابان سحر آؤ گے تو پاک صاف ہو جاؤ گے گویا کہ ان کی جانب آنے سے سیاسی حج ہو جاتا ہے اور آپ پاک صاف ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ قتل بھی میں ہورہا ہوں اور ایف آئی آر بھی مجھ پر کاٹا جارہا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے کارکنان اور ہمدردوں کے قتل کے واقعات کانوٹس لیاجائے اور اس سلسلے میں ایک جوڈیشنل کمیشن تشکیل دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ آج تک ایم کیوایم کے20 ہزارسے زائد کارکنان وہمدردوں بے دردی سے شہید کیاجاچکا ہے ،اب وقت آگیاہے کہ ہمارے لوگوں کی شہادتوں پرایک جوڈیشل کمیشن بنایاجائے اوران کے سوگواراہل خانہ کو انصاف فراہم کیاجائے،اگر ایم کیو ایم والوں نے کسی کو قتل کیا ہے تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے اوراگرکسی ادارے نے کسی کو قتل کیا ہے تو انہیں بھی گرفتار کرکے سزا دی جائے۔ ڈاکٹرمحمد فاروق ستارنے کہا کہ مٖفروضے کے طور پر مان لیتے ہیں کہ اگر 10ہزار لوگوں کو ایم کیو ایم نے مارا ہے تو باقی دس ہزار تو دوسروں نے مارا ہوگا ، باقی 10ہزار کے لئے کس نے ان کے چہرے پر سے نقاب اٹھائی باقی 10ہزار مرنے والوں کو قتل کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیاجائے اب تک جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنا؟ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرمحمدفاروق ستار نے ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینرکنورنویدجمیل، اراکین رابطہ کمیٹی عارف خان،عادل خان ،شبیرقائمخانی،اسماعیل قریشی اورریحانہ نسرین کے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔پریس کانفرنس سے خطاب ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ مخالفین کا منشور مائنس الطاف حسین ہے ،ہم مسائل کے ذمہ دار نہیں ہیں ، بلکہ مسائل حل کرنے والے ہیں ،غیر اعلانیہ طورپر پر ایم کیو ایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ایم کیو ایم کی سیاسی پروگرام عوامی رابطہ مہم بلکہ صفائی مہم میں شامل ہونے والے ایم کیو ایم کے ذمہ داران و کارکنان کی گرفتاری سے یہ بات عیاں ہیں کہ یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ جو مارچ میں 2016ء میں کراچی کے عوام کو خاص طورپر وہ متبادل پلیٹ فارم فراہم کیا جارہا ہے ، ایم کیو ایم کے کارکنان نے اس متبادل پلیٹ فارم جس کا منشور مائنس الطاف حسین ایک جماعت قائم کرنا ہے ، ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرکے کارکنان کی سیاسی سرگرمیوں اور سیاسی آزادی کوپابندی کرکے عضوئے معطل بناکے سیاسی دفتر ، ذمہ داران ، کارکنان کی رہائشگاہ، دفاتر اور کام کی جگہ پر چھاپے گرفتاریاں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے ۔گزشتہ 6مارچ 2016ء سے 12؍ اپریل 2016ء آج کے دن تک سو سے زائد ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے جو کہ بڑی تعداد میں ایسے ذمہ داران پر مشتمل ہے جنہیں ہم نے پہلی دفعہ ذمہ داری دی ہے ، پڑھے لکھے لوگ نوجوان خون ماضی میں ان کی قطعی طورپر کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ہے ، وہ کہیں کسی ایف آئی آر میں نامزد نہیں اور نہ ہی کسی جے آئی ٹی میں نام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایم کیو ایم کی تنظیم نو کا یہ صلہ دیا گیا ۔6مارچ 2016 سے گرفتاریوں کا جو سلسلہ جاری ہے وہ قانون نافذ کرنے والوں کی جانب سے قانون کی بالادستی کے قیام ،جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ، دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا ایجنڈا ہرگز ہرگز نہیں بلکہ سیاسی ایجنڈا اور ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کا ایجنڈا ہے ۔چھاپوں اور گرفتاریوں کا یہ نیا سلسلہ منحرفین ٹولہ کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں نئی جماعت بنانے کے اعلان کے بعد سے شروع کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ منحرفین کی جانب سے اس طرح کی گفتگو کرکے اگر 20ہزار لوگ ایم کیو ایم میں شہید ہوئے تو 10ہزار لوگ خود ایم کیو ایم والوں نے ے مروائے ہونگے ، قتل کروائے ہونگے یا مروائے ہونگے یہ سارا الزام قائد تحریک جناب الطاف حسین پر ڈالا جارہاہے، اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کارکنان کو مشتعل کیاجارہاہے اور انہیں کسی ردعمل پر اکسایا جارہا ہے اس الزام کے خلاف صرف اتنا ہی کہاجاسکتاہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ ہمارے ہی لوگوں کا قتل ہو اورالزام ہم پر ہی لگایا جارہا ہے 
گلوں کو خار لکھا جارہا ہے یہ اس بار کیا لکھا جارہا ہے 
ڈبوکے میری انگلیاں مجھے ہی غدار لکھا جارہا ہے 
گویا کہ قتل بھی میں ہورہا ہوں اور ایف آئی آر بھی مجھ پر کاٹا جارہا ہے ایم کیوایم کے خلاف ہونے والے بدترین آپریشن کے دوران 92سے 94تک 32کارکنان کے قتل کی ایف آئی آر مجھ پر کاٹی گئی ،پانچ ہزار جھوٹے مقدمات بنائے گئے، اس وقت ایم کیو ایم حقیقی بنائی گئی تھی وہ اس وقت ٹرکوں پر آئے تھے۔ ڈاکٹر محمدفاروق ستا رنے ایک بارپھرمطالبہ کیاکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں اورقتل کیے گئے کارکنان کے اہل خانہ کوانصاف فراہم کیاجائے۔

9/30/2016 4:59:26 AM