Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، الطاف حسین


 Posted on: 4/10/2016
ایم کیوایم کو ختم کرنے اور کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، الطاف حسین
ایم کیوایم کے مینڈیٹ کو نہ کل تسلیم کیا گیا تھا اور نہ آج تسلیم کیا جارہا ہے
کرمنلائزیشن پالیسی کے تحت روزانہ ہم پرٹارگٹ کلر، را کے ایجنٹ اور طرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں
اگر ہمیں را کا ایجنٹ بننا ہوتا تو اپنے گھربار، جائیدادیں اور املاک چھوڑ کر اور آگ اور خون کے دریا عبور کرکے پاکستان کیوں آتے؟
میں کسی سے لڑنا نہیں چاہتا بلکہ ڈائیلاگ کے ذریعے تمام مسائل کا حل چاہتا ہوں
بلدیاتی انتخابات کو ہوئے چھ مہینے ہوگئے لیکن تاحال میئر ڈپٹی میئر کے الیکشن نہیں کرائے گئے، ہمیں انصاف فراہم کرنیوالا کوئی نہیں ہے
عوام میں جو شدید احساس محرومی پھیل رہا ہے اسٹیبلشمنٹ اور حکمراں طبقہ کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے
ملک کے حالات انتہائی نازک ہیں، آج ملک میں جمہوری نظام ہے، کل کوئی اور نظام بھی آسکتا ہے
آنے والے دنوں میں کچھ بھی ہوسکتا ہے لہٰذا کارکنان و عوام حالات پر نظر رکھیں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں
کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام زونوں میں ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاسوں سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔10، اپریل2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ تمام ترمظالم،سازشوں اور زہریلے پروپیگنڈوں کے باوجود ایم کیوایم مسلسل انتخابات میں کامیابی حاصل کررہی ہے لیکن ایم کیوایم کے مینڈیٹ کونہ کل تسلیم کیا گیا تھا اور نہ آج تسلیم کیاجارہا ہے ، ایم کیوایم کو ختم کرنے اورکمزورکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، کرمنلائزیشن پالیسی کے تحت روزانہ ہم پرٹارگٹ کلر،راکے ایجنٹ اورطرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں، اگرہمیں را کا ایجنٹ بننا ہوتا تو20لاکھ جانیں قربان کرکے پاکستان کیوں بناتے اوراپنے گھربار، جائیدادیں اور املاک چھوڑکراورآگ اوردریاعبورکرکے پاکستان کیوں آتے؟ میں کسی سے لڑنا نہیں چاہتا بلکہ ڈائیلاگ کے ذریعے تمام مسائل کاحل چاہتا ہوں، چھ مہینے ہوگئے ہیں بلدیاتی انتخابات کوہوئے لیکن تاحال میئرڈپٹی میئرکے الیکشن نہیں کرائے گئے ہیں، یہاں سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ سب ہیں لیکن ہمیں انصاف فراہم کرنیوالا کوئی نہیں ہے، عوام میں جوشدیداحساس محرومی پھیل رہاہے اسٹیبلشمنٹ اورحکمراں طبقہ کواس کاکوئی احساس نہیں ہے۔ ملک کے حالات انتہائی نازک ہیں، وزیراعظم نوازشریف یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالات انکے کنٹرول میں ہیں لیکن کیاکیاڈیزائن بن رہے ہیں شائد ان کواندازہ نہیں ہے ، آج ملک میں جمہوری نظام ہے ،کل کوئی اورنظام بھی آسکتا ہے ، میں بہت کچھ دیکھ رہاہوں جس سے عام آدمی واقف نہیں ہے۔
جناب الطاف حسین نے ان خیالات کا اظہار سندھ کے تمام زونوں میں ایم کیوایم کے جنرل ورکرز اجلاسوں سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مرکزی اجلاس لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآبادمیں ہواجس میں رابطہ کمیٹی ، منتخب عوامی نمائندوں، مختلف شعبہ جات کے ارکان اور کارکنان نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی جن میں خواتین کارکنان بھی بہت بڑی تعداد میں شریک تھیں۔ اس موقع پر کارکنان بالخصوص خواتین کا جوش وخروش قابل دید تھا، اجلاس کے شرکاء وفقہ وقفہ سے فلک شگاف نعرے لگاکر جناب الطا ف حسین سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے رہے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ اے پی ایم ایس او اور ایم کیوایم ، آبادی کے ایک طبقہ کے ساتھ روا رکھنے جانے والے ناروا سلوک اور ناانصافیوں کا ردعمل ہے ، اگرچہ ایم کیوایم، مہاجروں کے حقوق کیلئے قائم کی گئی تھی اور عمومی طورپر ایم کیوایم کے نعرے میں لفظ ’’مہاجر‘‘ کا استعمال کیا گیاتھا لیکن ایم کیوایم اپنے قیام کے پہلے دن سے ہی ملک سے اسٹیٹس کوکے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتی رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں مختلف طبقات پائے جاتے ہیں جن میں ایک بہت امیرطبقہ، ایک کچھ امیر طبقہ ، ایک مڈل کلاس طبقہ ، ایک لوئر مڈل کلاس طبقہ اور ایک غریب طبقہ ہے ، ملک بھر کے غریب عوام کا ایک ہی جیسا حال ہے اور پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کو حق حکمرانی نہیں دیا گیا ۔ جناب الطاف حسین نے قرآن مجید کی سورۃ الحجرات کی ایک آیت کریمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس سورۃ میں ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ‘‘اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہیں قبیلوں، قوموں اور گروہوں میں تقسیم کیا تاکہ آپس کی شناخت ہو‘‘ یعنی جو بچہ پیدا ہوگا وہ لازمی کسی قبیلے، قوم یا گروہ سے تعلق رکھتا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں عموماً چار قوموں پنجابی ،سندھی، پختون ، بلوچ کا تذکرہ کیا جاتا ہے اوران شناختوں کی بنیاد پران کے اپنے اپنے صوبے بھی ہیں جبکہ پاکستان میں بہت سی لسانی اکائیاں ایسی بھی ہیں جن کے نام تو موجود ہیں ، ان قومیتوں کے ساتھ ناانصافیاں بھی کی گئیں ، نہ تو ان قومیتوں کی شناخت کو تسلیم کیاگیا اور نہ ہی ان مظلوم قومیتوں کو ان کے حقوق دیئے گئے ، پاکستان کی نصابی کتب میں سرائیکی، کشمیری، ہزاروال، گلگتی قوم ، بلتستانی قوم اورہندکو قوم کا تذکرہ نہیں کیاجاتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اردوبولنے والے مہاجر، بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جنہیں زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے ، مہاجر طلباء سول سروسزکیلئے آئی ایس ایس اورسی ایس ایس کے امتحانات میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے باوجودبھی بعد جب انٹرویوز دینے جاتے تھے تو انٹرویو لینے والے ان کی تعلیم اور قابلیت کااعتراف کرنے کے بعد ان کی شناخت معلوم کیاکرتے ہیں ،جب انہیں جواب دیاجاتا کہ ’’ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں ‘‘ تو کہاجاتا تھا کہ وہ تو سب ہی ہیں لیکن یہ بتائیں کہ آپ کے والد اور دادا کہاں پیدا ہوئے؟ جب انہیں یہ جواب ملتا کہ وہ انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے تو کہاجاتا تھا کہ اچھا آپ مہاجر ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہاجروں کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد ہے لیکن آپ کراچی میں واقع سندھ سیکریٹریٹ چلے جائیں تو وہاں آپ کو ایک چپراسی سے لیکرچیف سیکریٹری تک اعلیٰ افسر میں کوئی اردوبولنے والا نظرنہیں آئے گا۔انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا ہمارے بزرگوں نے برصغیرکے مسلمانوں کو انگریزوں سے آزادی دلاکر اور پاکستان بناکر کوئی غلطی کی تھی؟ ہندوستان میں ہندو ہمیں مسلمان ہونے کا طعنہ دیتاتھا لیکن غیر ہندوستانی نہیں کہتا تھا، زبانی طور پروزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ہوں، سندھی قوم پرست ہوں یا پاکستان کی دیگر مستند شناخت رکھنے والے رہنما ہوں وہ سب اردو بولنے والوں کو یہی کہتے ہیں کہ آپ سندھ میں رہتے ہیں اس لئے آپ سندھی ہیں لیکن اردوبولنے والوں کو سندھی کہنے کے باوجود سول بیوروکریسی میں ملازمتوں سمیت دیگرکسی بھی شعبے میں ان کا جائز حق نہیں دیاجاتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو وہاں لسانیت اور دیگر نظریات کی بنیاد پر ہاسٹل الاٹ کیے جاتے تھے، میں نے بھی درخواست دی کہ میرا گھرچھوٹا ہے اور مجھے اپنی پڑھائی کیلئے ہاسٹل میں کمرادرکا ہے لیکن مجھے ہاسٹل میں کمرا نہیں دیا گیاجس پر میں نے بہت جدوجہد کی اور بالآخر مجھے بھی ہاسٹل میں ایک کمرا الاٹ ہوگیا ، میرے کمرے کے برابرمیں پختونوں کا کمرہ تھا، انہوں نے میرا سامان نکال کر کمرے سے نکال کر باہر پھینک دیا اورمجھے دھمکایاگیا کہ یہاں دوبارہ مت آنا لیکن میں ان کی تمام زیادتیاں برداشت کرتا رہا لیکن میں نے کمرا خالی نہیں کیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اپنے بزرگوں کی زبانی سنتا چلاآرہا تھا کہ خان لیاقت علی خان کوکس طرح شہید کیاگیا، قائد اعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح کو کس طرح قتل کیاگیا، یحییٰ خان اور ایوب خان کے دور میں کس طرح مہاجربیوروکریٹس کو ان کی ملازمتوں سے بیدخل کیا گیا، کس طرح ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں مہاجروں کے تعلیمی ادارے ، بنک، انشورنس کمپنیاں اور صنعتیں نیشنلائزیشن کے نام پر ہتھیالی گئیں ۔ 11، جون 1978ء کو میں نے جامعہ کراچی میں مہاجرطلباء کے حقوق کیلئے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن قائم کی ، اس طلباء تنظیم کے قیام کا مقصد کسی سے لڑائی جھگڑا نہیں تھا،مقصد صرف یہ تھا کہ مہاجرطلبا کو بھی ہاسٹل میں کمرے دیئے جائیں ، انہیں حقوق دیئے جائیں ،انہیں بھی اسکالر شپ دی جائے اورانہیں بھی آئی ایس ایس اور سی ایس ایس کے امتحانات میں محض مہاجر ہونے کی بنیاد پر مسترد نہ کیا جائے کیونکہ ہزاروں مہاجرطلباء جنہوں نے ان امتحانات میں ٹاپ کیا تھاانہیں انٹرویو میں صرف اس وجہ سے فیل کردیاگیاکہ انہیں مہاجر کہا جاتا ہے ، ستم بالائے ستم یہ کہ سرکاری ملازمتوں کیلئے دیئے جانے والے اخباری اشتہارات میں واضح لکھاجاتاتھاکہ فلاں پوسٹ کیلئے کراچی ، سکھراورحیدرآباد کے شہری درخواست دینے کی زحمت نہ کریں ۔ مہاجروں کے ساتھ یہ کھلی ناانصافیاں ہوتی رہیں لیکن پاکستان کی کسی بھی سیاسی ومذہبی جماعت نے نہ تو مہاجروں کے حقوق کیلئے آوازبلند کی اورنہ ہی ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے اے پی ایم ایس او کے قیام کے بعد تین سال تک مہاجرطلباء کے حقوق کیلئے جدوجہد کی اور جب اے پی ایم ایس اور جامعہ کراچی کے طلباء میں مقبول ہونے لگی تو اس کے خلاف سازشیں شروع کردی گئیں ، 3، فروری 1981ء کواے پی ایم ایس اور کے تحت نئے طلباوطالبات کاجامعہ کراچی میں خیرمقدم کرنے کیلئے لگائے اسٹالوں پر جماعت اسلامی کے تھنڈراسکواڈ نے لاٹھیوں ،ڈنڈوں ، سریوں ، پستولوں اور بندوقوں سے حملہ کرکے تمام اسٹالوں کو نذرآتش کردیا، کارکنان کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کردیا اور ہمیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر کراچی کے تعلیمی اداروں سے بیدخل کردیا۔ پھر ہم دوبارہ تعلیمی اداروں میں نہیں جاسکے اورہم نے لیاقت آباد، ناظم آباد، گولی ماراورشہرکے دیگرعلاقوں میں کام شروع کردیا ،18، مارچ 1984 ء کو مہاجرقومی موومنٹ کا قیام عمل میں آیا اور 8، اگست1986ء کو ہم نے نشترپارک میں پہلا عوامی جلسہ منعقد کیا جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے پوری طاقت کے ساتھ ایم کیوایم کو ختم کرنے کی کوششیں کیں، دوسرا جلسہ 31، اکتوبر86کوپکا قلعہ حیدرآباد میں منعقد ہوا جس میں شرکت کیلئے کراچی سے بھی قافلے حیدرآباد جارہے تھے کہ سہراب گوٹھ پر جلوسوں پر فائرنگ کرائی گئی جس کے نتیجے میں سات ساتھی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ، اسی طرح حیدرآباد مارکیٹ چوک سے ایک پختون کے ہوٹل سے فائرنگ کرائی گئی جسکے نتیجے میں 6ساتھی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے اوراس طرح اسٹیبلشمنٹ نے کراچی اور حیدرآباد میں پختون مہاجر فسادکرا دیا ۔ اس کے بعد مجھے گرفتار کرلیا گیا ، میں نے جیل سے اے این پی کے رہنما ولی خان مرحوم کو خط لکھا اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ذریعہ وہ خط ولی باغ پشاور بجھوایا ،اس خط میں ، میں نے پختون مہاجر فسادات کی پوری سازش واضح کردی ، اللہ کاکرم ہوا کہ خان ولی خان اس سازش کو سمجھ گئے کہ مہاجروں اورپختونوں کا آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے اور یہ جھگڑا کرایاجارہا ہے ، انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اس سازش سے آگاہ کیا،پھروہ کراچی میں ایم کیوایم کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے لیکن ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد اے این پی کی قیادت ،اسٹیلشمنٹ کی ایجنٹ بن گئی اور وہ مہاجر پختون فسادات کو ہوا دینے لگی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اے پی ایم ایس اور ایم کیوایم کے قیام سے قبل بھی مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کا عمل کیاجاتارہا ہے ، 1964ء کے صدارتی انتخاب میں قائداعظم محمدعلی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اورفیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے درمیان انتخابات ہوئے جس میں کراچی اور حیدرآبادکے عوام نے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا، اس انتخاب جنرل ایوب خان نے دھاندلی اوربے ایمانی کے ذریعہ کامیابی حاصل کی اور پھر جشن فتح کے نام پر کراچی کی مہاجربستیوں پر مسلح حملے کرائے گئے ، ایوب خان کے بیٹے گوہرایوب ، صوبہ سرحد سے اپنے حمایتیوں کو ٹرکوں پر بٹھاکرکراچی لائے اور مہاجرآبادیوں میں آگ اور خون کا بازارگرم کرایا۔1964ء میں نہ اے پی ایم ایس اوتھی ، نہ کوئی مہاجر تنظیم تھی اور نہ ہی الطاف حسین میدان میں تھا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں بھی مہاجروں کا سیاسی ، تعلیمی اورمعاشی قتل عام کیاگیا، 1973ء میں بھٹو نے اپنے کزن ممتازبھٹو کے ساتھ مل کرصوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیااور سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کرکے دیہی اور شہری تفریق کی بنیاد رکھی جس کے نتیجے میں لاڑکانہ، کشمور ، جیکب آباد اوراندرون سندھ کے دیگر شہروں میں مہاجروں کے گھر بار لوٹے ،انکے باغات جلا دیئے اورمہاجروں کو تشدد کا نشانہ بناکر اندرون سندھ سے نکال دیا گیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت 12اگست 1986ء کو سندھ حکومت کی جانب سے سہراب گوٹھ میں منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن کیا گیا، اس وقت فوج بھی بڑی تعداد میں کراچی میں موجود تھی لیکن اس آپریشن کے دوران نہ تو منشیات برآمد ہوئی اور نہ ایک کلاشنکوف ملی لیکن اس آپریشن کی آڑمیں بھی مہاجربستی میں مسلح حملہ کرایا گیا، 14دسمبر 1986ء کو جدید اسلحہ سے لیس افراد پہاڑیوں سے اتر کرعلی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی پرحملہ آور ہوئے اورانہوں نے گاجر مولی کی طرح مہاجر ماں ، بہن بیٹیوں ، نوجوانوں اوربچوں کو کاٹ ڈالا، گھروں کو لوٹ کرنذرآتش کردیا ، قصبہ اورعلیگڑھ کالونی میں چھ گھنٹے تک یہ قتل عام ہوتا رہالیکن پولیس وانتظامیہ اس قتل عام کو روکنے نہ پہنچی۔ انہوں نے کہاکہ آج 12، مئی کاتذکرہ توبہت کیاجاتا ہے لیکن کوئی سانحہ قصبہ کالونی اورعلیگڑھ کالونی کا تذکرہ کرتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس کے بعد 30ستمبر 88ء کو حیدرآباد میں 10گاڑیاں شہر میں داخل ہوتی ہے، ان گاڑیوں میں بدنام زمانہ ڈاکو سوار تھے جنہیں جیلوں سے نکال کر اسلحہ فراہم کیاگیا تھا، ان دہشت گردوں نے شہرمیں راہگیروں پر اندھادھند گولیاں چلاکر سینکڑوں افراد کو شہید اور ہزاروں کو زخمی کردیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق کی تحریکوں میں غداری کاعمل ازل سے جاری ہے جوہردورمیں ہرکسی تحریک میں ہوا، کٹھن اورمشکل دورمیں بعض لوگ سرکار دوعالمؐ کوبھی چھوڑکرچلے گئے تھے،کچھ لوگوں نے خودکومسلمانوں کازیادہ ہمدرد ثابت کرنے کی کوشش کی ،حتیٰ کہ انہوں نے مسجد بھی بنائی جس کانام مسجد ضرار تھا ،اس مسجدضرار کے بارے میں خودحضوراکرمؐ نے فرمایاتھاکہ اس مسجدمیں نمازپڑھنے نہ جایاکرو، یہ بظاہرمسلمان ہیں لیکن دراصل یہ مسلمانوں کے دشمن ہیں ، حضوراکرم ؐ نے تواس مسجد کو ڈھادینے کاحکم دیاتھا۔ ہماری حق پرستی کی تحریک کونقصان پہنچانے کیلئے پہلے بھی کئی لوگوں نے غداری کی، آج بھی چند لوگ تحریک سے غداری کرکے اپنے آپ کوقوم کا سب سے بڑاہمدرد ظاہرکرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ ان کے ماضی اورحیثیت سے عوام اچھی طرح واقف ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب میں نے یہ دیکھاکہ پورے ملک میں فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام ہے اورصرف مہاجرہی نہیں بلکہ غریب سندھی، بلوچ، پنجابی، پختون، ہزارے وال، سرائیکی کشمیری اورتمام زبانیں بولنے والے غریب عوام محروم ہیں اورظلم کی چکی میں پس رہے ہیں توہم نے فیصلہ کیاکہ ملک کے تمام غریبوں اورمتوسط طبقہ کے عوام کوملاکرملک میں انقلاب برپاکریں گے۔لہٰذاہم نے 1997ء میں’’ مہاجرقومی موومنٹ ‘‘ کادائرہ بڑھاتے ہوئے اس کانام ’’ متحدہ قومی موومنٹ ‘‘ رکھ لیااوراپنے تنظیم کام کوپورے ملک میں پھیلایا۔ ہم نے ملک کی بہتری کیلئے ہرایک کی طرف دوستی کاہاتھ بڑھایا ،ہم نے آصف زرداری کاساتھ دیا تاکہ سندھ میں سندھی اورمہاجرخلیج کم ہواورافہام وتفہیم کی فضاء پروان چڑھے، ہم نے زرداری کی حمایت میں ریلی نکالی لیکن ہمارے تمام ترخلوص کے باوجود زرداری نے اپنے کسی بھی وعدے کاپاس نہیں رکھااوروعدے کے باوجودہمارے لوگوں کوپولیس میں ملازمتیں نہیں دیں ۔ ہم نے ملک کے عظیم ترمفادمیں مسلح افواج کابڑھ چڑھ کرساتھ دیا، فوج کے حق میں ملین ریلی نکالی، فوج کو سیلوٹ کیالیکن اس کے جواب میں ہمارے خلاف آپریشن کیاگیا، ہمارے لوگوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہم پر ’’ را ‘‘ کے ایجنٹ ہونے کاشرمناک الزام لگایا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اگرہمیں را کا ایجنٹ بنناہوتاتو20لاکھ جانیں قربان کرکے پاکستان کیوں بناتے اوراپنے گھربار، جائیدادیں اوراملاک چھوڑکراورآگ اور دریا عبور کرکے پاکستان کیوں آتے؟ آج بھی کرمنلائزیشن پالیسی کے تحت روزانہ ہم پرٹارگٹ کلراورطرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں، ایم کیوایم کو ختم کرنے اور کمزورکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ہمارے عہدیداروں، کارکنوں کوگرفتارکیاجارہاہے، رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرشاہدپاشا، قمرمنصورکے بھائی مسعود صدیقی اوردیگر ساتھی قیدہیں۔انہوں نے فوج کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری آپ سے کوئی لڑائی نہیں، آپ کوبھی یہ سمجھناچاہیے کہ آج جولوگ پاکستان کے نام پر بڑے بڑے منصب پر فائزہیں اس میں برصغیرکے لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم نے سب سے پہلے 1987ء میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیااورتاریخی کامیابی حاصل کی، اس کے بعد سے ہم ہر انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کررہے ہیں، ستمبر 2013ء میں ایم کیوایم کے خلاف جونیاآپریشن شروع کیاگیا اس کے دوران نائن زیروپر دومرتبہ چھاپہ ماراگیا، ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے اس کے باوجود عوام نے این اے 246کے ضمنی انتخاب میں ایم کیوایم کوشاندارکامیابی سے ہمکنارکیا، ایم کیوایم نے چھ ماہ قبل ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور7 اپریل کوقومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 اورسندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 115کے ضمنی انتخابات میں بھی ایک بارپھرایم کیوایم کامیاب ہوئی لیکن افسوس کہ ایم کیوایم کے مینڈیٹ کونہ کل تسلیم کیا گیاتھااورنہ آج تسلیم کیاجارہا ہے۔افسوسناک امریہ ہے کہ عوام میں جو شدیدمحرومی اور مایوسی پھیل رہی ہے ،اسٹیبلشمنٹ اورحکمراں طبقہ اس کاکوئی احساس نہیں کررہا ہے،چھ مہینے ہوگئے ہیں بلدیاتی انتخابات کوہوئے لیکن تاحال میئرڈپٹی میئرکے الیکشن نہیں کرائے گئے ہیں، یہاں سپریم کورٹ ، ہائیکورٹ سب ہیں لیکن ہمیں انصاف فراہم کرنیو الاکوئی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ میں ڈائیلاگ کے ذریعے تمام مسائل کاحل چاہتاہوں، میں کراچی سمیت سندھ بھرمیں رہنے والے تمام حق پرست سندھیوں، پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، ہزارے وال، سرائیکیوں، گلگتیوں، بلتستانیوں، شیعہ ، سنی، دیوبندی، بریلوی، بوہری، اسماعیلی، تمام فقہوں اورعقائدکے ماننے والے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہاں رہنے والے ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں، احمدیوں اورتمام مذاہب کے ماننے والوں سے کہتا ہوں کہ جب ہم ایک ہی جیسے مسائل اورمحرومیوں کاشکارہیں تو پھر ہمیں ایک ہوجاناچاہیے اوردنیاکوبتادیناچاہیے کہ ہم ایک ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ایک جمہوریت پسند ، لبرل اورروش خیال جماعت ہے جو تمام مذاہب اورعقائدکے ماننے والوں کااحترام کرتی ہے اورسب کوبرابرکاپاکستان سمجھتی ہے اورانہیں مساوی حقوق دلانے کیلئے جدوجہدکررہی ہے، ایم کیوایم سمجھتی ہے کہ ملک کی بقاء اورترقی وخوشحالی فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام اورچوری چکاری کے نظام کے خاتمے میں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ اب بات صرف مہاجروں کی نہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں جہاں جہاں لوگ اپنے حقوق کی آوازبلندکررہے ہیں ان کی آوازکوسناجائے اورپاکستان میں 20صوبے بنائے جائیں ، صرف مہاجروں ہی کیلئے نہیں بلکہ سرائیکی صوبہ ، ہزارہ صوبہ، بہاولپورصوبہ، پوٹھوہار صوبہ، ملتان صوبہ ، گلگت بلتستان صوبہ اوربھی جن علاقوں کے لوگ صوبہ کامطالبہ کررہے ہیں وہاں صوبہ بنایاجائے اورانہیں اپنے معاملات چلانے کاحق اور اختیار دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ اب چارصوبے ملک میں احساس محرومی کامسئلہ حل نہیں کرسکتے، وقت کاتقاضہ ہے کہ صوبوں میں اضافہ کیاجائے اورمزید صوبے اورانتظامی یونٹس قائم کئے جائیں۔ جناب الطاف حسین نے پانامہ لیکس کے ذریعے سامنے آنے والے انکشافات کے حوالے سے کہاکہ ملک کے حالات انتہائی نازک ہیں، وزیراعظم نوازشریف یہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ حالات انکے کنٹرول میں ہیں لیکن کیاکیاڈیزائن بن رہے ہیں شائد ان کواندازہ نہیں ہے ، آج ملک میں جمہوری نظام ہے ،کل کوئی اورنظام بھی آسکتاہے،میں بہت کچھ دیکھ رہاہوں جس سے عام آدمی واقف نہیں ہے۔انہوں نے کارکنان وعوام سے کہاکہ آنے والے دنوں میں کچھ بھی ہوسکتاہے لہٰذا آپ آنکھیں کھلی رکھیں ، حالات پرنظررکھیں اوراپنی صفوں میں اتحادبرقراررکھیں، ثابت قدم رہیے کیونکہ جو آزمائشوں میں ثابت قدم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی سے ہمکنارفرماتاہے۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترمشکلات اورآزمائشوں کے باوجود ثابت قدمی سے اپنے فرائض انجام دینے والے تمام اراکین رابطہ کمیٹی، زون اورٹاؤن آرگنائزر، تمام تنظیمی کمیٹیوں اورشعبہ جات کے ارکان اورکارکنوں، ماؤں ، بہنوں اوربزرگوں کوسلام تحسین پیش کیا۔

12/7/2016 11:58:35 PM