Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

02؍ اپریل سے یہ سازش ہوئی ہے کہ این اے 245اور پی ایس 115کے ضمنی الیکشن کو سوالیہ نشان کے بغیر نہ جانے دیاجائے ، ڈاکٹر فاروق ستار


02؍ اپریل سے یہ سازش ہوئی ہے کہ این اے 245اور پی ایس 115کے ضمنی الیکشن کو سوالیہ نشان کے بغیر نہ جانے دیاجائے ، ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 4/5/2016 1
02؍ اپریل سے یہ سازش ہوئی ہے کہ این اے 245اور پی ایس 115کے ضمنی الیکشن کو سوالیہ نشان کے بغیر نہ جانے دیاجائے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
ایم کیوایم کی ضمنی انتخابات میں یقینی کامیابی میں بھی دودھ میں مینگنی ڈالنے کا عمل کیاجارہاہے، ڈاکٹر فاروق ستار 
این اے 245اور پی ایس 115کے انتخابی حلقے برسوں سے ایم کیوایم کے گڑھ رہے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
02؍ اپریل تک صورتحال معمول کے مطابق تھی پھر ایک واقعہ پی ٹی آئی کی جانب سے نارتھ ناظم آباد میں ہوتا ہے لائنز ایریا میں حقیقی دہشت گرد سرگرم ہوکر ایم کیوایم کے آفسوں اور ریلیوں پر حملے کرہے ہیں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
وفاقی و صوبائی حکومتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے ارکان اور نامزد حق پرست امیدوار این اے 245محمد کمال اور پی ایس 115فیصل رفیق کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔ 05؍ اپریل 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ این اے 245اور پی ایس 115کے ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم 2اپریل سے پہلے نارمل تھی ، ایم کیوایم واضح طور پر دونوں حلقوں کے ضمنی الیکشن جیتنے جارہی تھی تو ایم کیوایم کو اشتعال انگیزی اور شر انگیزی پھیلانے کی کیا ضرورت تھی ؟ ۔انہوں نے کہاکہ 2اپریل سے یہ سازش ہوئی ہے کہ اس الیکشن کو بھی کسی سوالیہ نشان کے بغیر نہ جانے دیاجائے ایم کیوایم کی ان ضمنی انتخابات میں یقینی کامیابی میں بھی دودھ میں مینگنی ڈالنے کا عمل کیاجارہاہے اور اشتعال انگیزی ، شرانگیزی اور تشدد کا استعمال کیاجارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2اپریل کو نارتھ ناظم آباد میں پی ٹی آئی کے غنڈہ عناصر نے ایم کیوایم کی ریلی پر حملہ کیا جبکہ پی ایس 115کے علاقے لائینز ایریا میں حقیقی دہشت گردوں نے یوسی 9اور سینٹرل جیکب لائن الیکشن آفسوں پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ ، فائرنگ کی ، بزرگوں ، خواتین اور بچوں پرتشدد کیا لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ مذکورہ تمام واقعات ایم کیوایم کے کھاتے میں ڈالے جارہے ہیں ۔ انہوں وفاقی و صوبائی حکومت ، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کی توجہ NA-245 اور PS-115 میں ہونے والے مذکورہ واقعات کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاکہ ضمنی انتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور دہشت گردی کے جن واقعات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے ان کے خلاف ایکشن لیاجائے اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کے روز خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان محمد حسین ، اسلم آفریدی ، این اے 245کی ضمنی نشست پر نامزد حق پرست امیدوار محمد کمال اور پی ایس 115کی نشست پرنامزد حق پرست امیدوار فیصل رفیق کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ این اے 245اور پی ایس 115کے انتخابی حلقے برسوں سے ایم کیوایم کے گڑھ رہے ہیں اور ایم کیوایم گزشتہ 30برس سے یہاں سے ہر انتخابات میں بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرتی آئی ہے ،ان دونوں حلقوں پر ضمنی الیکشن اس لئے ہورہا ہے کہ ایم کیوایم نے این اے 245کے رکن قومی اسمبلی اور پی ایس 115کے رکن صوبائی اسمبلی کو بلدیاتی انتخابات کیلئے وقف کردیا ہے اور یہ ہماری ہی خالی کی گئی نشستیں ہیں جہاں یہ انتخابات دوبارہ ہورہے ہیں ، یہاں انتخابی ماحول میں بھی کوئی ایسی گرمی یا شدت نہیں تھی اور کہیں یہ عندیہ نہیں مل رہا تھا کہ انتخابات کے پرامن ماحول کو ڈی ریل کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن کے سلسلے میں ایم کیوایم نے سب سے زیادہ کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا ، ضمنی انتخاب میں سب سے زیادہ عوام سے رابطہ کیا ، مسلسل کئی دنوں سے دو دو سو ، تین تین سو صرف خواتین ورکرز اوررضاکار ایم کیوایم کی لائنز ایریا ، نارتھ ناظم آباد میں گھر گھر مہم چلا رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس اب تک ہمارے مخالف امیدوار کی نہ تو اس کی طرح کی کوئی ریلی نکلی ہے نہ ہی کارنر میٹنگز ہوئیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حلقے ایم کیوایم کے حمایتیوں کے ہیں اور ان کے ووٹر جناب الطاف حسین کے ساتھ جڑے ہیں اور وہ الطاف حسین کے نامزد کردہ امیدوار کو ہی الیکشن میں ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب کرائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ دو اپریل تک صورتحال معمول کے مطابق تھی اور کہیں پر بدامنی نہیں ہوئی اور دو اپریل سے صورتحال تبدیل ہوتی ہے اور ایک واقعہ جہاں پی ٹی آئی کی جانب سے نارتھ ناظم آباد میں ہوتا ہے ،لائینز ایریا میں حقیقی دہشت گرد سرگرم ہوتے ہیں ،دو اپریل تک مقابلہ ون سائیڈڈ تھا اور ہے لیکن اب ایم کیوایم بڑے مارجن سے جیتنے والی ہے اور لوگ ووٹ ڈالنے اور جیتنے کی تیاری کررہے ہیں تو ان کی خوشیوں کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کا عمل کیاجارہا ہے ، 2اپریل کو نارتھ ناظم آباد میں پی ٹی آئی کی کاروائی پر یہ تاثر دیا گیا کہ ایم کیوایم نے خدانخواستہ پی ٹی آئی کے کیمپ پر حملہ کیا ، ہم خود اس واقعہ کی اسکروٹنی کیلئے اوپن ہیں ، تحقیقات ہونی چاہئے کہ کرسیاں اور میزیں کس الٹی ،ہم توجلسہ کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے اور ہماری ریلی وہاں سے گزر رہی تھی تو یہ بتایاجائے کہ این اے 245اور پی ایس 115کے پرامن ضمنی الیکشن میں اشتعال انگیزی ، تشدد اور شر انگیزی کس کی جانب سے کی جارہی ہے جبکہ ایم کیوایم تو واضح اکثریت سے الیکشن جیتنے جارہی ہے تو ایم کیوایم کو لڑنے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ این اے 245اور پی ایس 115میں چاروں جانب سے اشتعال انگیزی کی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے کارکنان ڈسپلن میں ہیں ، روایتی مخالفین بے ہودہ زبان استعمال کررہے ہیں اور اب غیر روایتی مخالفین جس طرح کی مغلظات بک رہے ہیں اس کے باوجود بھی کراچی اور حیدرآباد میں کوئی ایسا واقعہ نہیں ہونے دیا تو ظاہر ہے کہ ہمیں میر پور خاص میں بھی ایسے واقعہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، تشدد ، جبر ہمارا نظریہ اور پالیسی نہیں ہے،ہم نے بار بار کارکنان سے اپیل کی کہ صبر سے کام لیں اورہم نے جھوٹے پروپیگنڈے ، بے ہودہ زبان کے استعمال کے باوجود بھی کوئی واقعہ نہیں ہونے دیا اور روایتی اورغیر روایتی مخالفین سب کا خیر مقدم کیا کہ یہ سیاسی بساط ہے اور سیاست کرنا سب کاحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے بارے میں سوال اٹھانے سے پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ یہ کوئی تیسرا فریق تو نہیں ہے جو اشتعال انگیزی کررہا ہے تاکہ ضمنی الیکشن میں صورتحال خراب ہو ۔ انہوں نے کہاکہ ضمنی انتخابات میں ایم کیوایم کے پرامن جلسوں اور ریلیوں پر حملے کرکے ،دفاتر کو حملہ کرکے نذر آتش کرکے، ہمارے کارکنوں ،ووٹرز کو خوفزدہ کرکے ڈر اور خوف کا ماحول کون پیدا کررہا ہے اور اس سازش کے پیچھے کون ہے تاکہ پولنگ والے دن ڈر و خوف کی وجہ سے ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہو تو پھر پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کرکے ٹھپہ لگا کر مخالف امیدوار کو جیتوانے یا اس کی شکست کے مارجن کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکے۔انہوں نے 2اپریل سے ضمنی انتخابات کے ماحول کو سبوتاژ کرنے کیلئے جو شرانگیزی اور اشتعال انگیزی کی جارہی ہے اس کے دستاویزی ثبوت ہمارے پاس موجودہیں ، ضمنی انتخابات میں سازش یہ ہورہی ہے کہ اشتعال انگیزی کے واقعات کرکے ایم کیوایم کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی جائے اور یہ ظاہر کیاجائے گا کہ ایم کیوایم کی کامیابی تشدد کے ذریعے ہورہی ہے اور سارا ملبہ ایم کیوایم پر ڈال دیاجائے اور پاکستان کے عوام کو ایم کیوایم سے ایک مرتبہ گمراہ اور بدظن کیاجاسکے ۔۔ انہو ں نے کہا کہ 2، اپریل کو نارتھ ناظم آباد میں جس رات واقعہ ہوا اس ہی دوپہر پی ٹی آئی ایم پی اے نے ٹوئیٹ کرنا شروع کیا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے کیمپ پر حملہ ہوگا ، کچھ ہونے والا ہے اور شام کو ایک واقعہ ہوگیا اور ہمارا سوال یہ ہے کہ دوپہر کو ٹوئیٹ کیسے ہوگیا ۔انہوں نے کہا کہ 3اپریل کو یوسی 9لائینز ایریا ایم کیوایم الیکشن آفس پراور گھروں میں گھس کر خواتین کو زدوکوب کیا گیا ، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا ، بزرگوں ، خواتین کو زدوکوب کیا گیا ، بچوں کے قائد تحریک کو گالی نہ دینے پر سر پھاڑے گئے ، ہڈیاں توڑی گئیں اور ان واقعات کے عینی گواہوں کو کم سے کم کرنے کیلئے بریگیڈتھانے کی نفری نے پہلے سے آکر مارکیٹ اور دکانیں بند کرادی تاکہ نذر آتش کرنے کا کام آسانی سے کیاجاسکے اور آسانی سے لوگون کو ڈرایا اور خوفزدہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ لائینز ایریا واقعہ کی ایف آئی آر میں نامزد افراد کو گرفتار نہیں کیاگیا، 4اپریل کو ریلی نکالی گئیں اس پر حملہ ہوا ، اشتعال انگیزی کی گئی ، مغلظات بکی گئیں لیکن پھر بھی مگر مچھ کے آنسو بہانے کی کوشش کی گئی ، سینٹرل جیکب لائن جو ہمارا لائینز ایریا کا الیکشن آفس ہے اس پر حملہ کیا گیا ، فائرنگ کی گئی اور تین دنوں میں زخمیوں کی تعداد 60سے زیادہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے ضمنی انتخابات میں سازش اور منصوبہ بندی کے تحت خوف کی فضا پیدا کی جارہی ہے تاکہ لوگوں کوڈرا دھمکا کر انتخابی عمل سے دور رکھاجاسکے اور دھاندلی کرکے اپنی مرضی کی پولنگ کی جاسکے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ ڈاکٹر فارو ق ستار نے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ نتخابات کو صاف شفاف بنانے کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور دہشت گردی کے جن واقعات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے ان کے خلاف ایکشن لیاجائے اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے ۔

9/30/2016 5:02:40 AM