Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

این او سی کی شرط آزادکشمیر میں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چرانے کی سازش ہے ایم کیو ایم آزادکشمیر


این او سی کی شرط آزادکشمیر میں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چرانے کی سازش ہے ایم کیو ایم آزادکشمیر
 Posted on: 4/4/2016 1
این او سی کی شرط آزادکشمیر میں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چرانے کی سازش ہے ایم کیو ایم آزادکشمیر 
مہاجرین کیلئے این او سی کی شرط مضحکہ خیز ہے چیف جسٹس آزادکشمیر سے سوموٹوایکشن لینے کامطالبہ
پی پی اور ن لیگ ہزاروں مہاجروں کو ووٹ کے حق سے محروم کر کے آزادکشمیر اسمبلی میں ایم کیو ایم کا راستہ روکنا چاہتی ہے 
پاکستان اور آزادکشمیر کے غریب ‘ اور متوسط طبقہ کے عوام ایم کیوایم اور قائد تحریک کو اپنے لئے نجات دہندہ سمجھتے ہیں 
ایم کیو ایم آزادکشمیر کے پارلیمانی لیڈر طاہرکھوکھر اور حق پرسست ممبر اسمبلی سلیم بٹ کا کراچی پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس 
کراچی۔۔۔۔۔۔۔04 اپریل
آزادکشمیر اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر طاہرکھوکھر اور حق پرسست ممبر اسمبلی سلیم بٹ نے کراچی پریس کلب میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادکشمیر میں این او سی کی شرط کو ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چرانے کی سازش ہے انہوں نے چیف جسٹس آزادکشمیر سے سوموٹوایکشن لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس شرط پر فوری نظر ثانی کی جائے ‘ پی پی اور ن لیگ ہزاروں مہاجرون کو ووٹ کے حق سے محروم کر کے اآزادکشمیر اسمبلی میں یم کیو ایم کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ایم کیوایم کی آزادکشمیرمیں مقبولیت اور اس کے وزراء کی کارکردگی سے خائف ہیں وزیراعظم آزادکشمیرایم کیو ایم کا راستہ روکنے اور اسے دیوار سے لگانے کیلئے مسلسل غیرقانونی اور غیر جمہوری اقدامات کر رہے ہیں ۔گزشتہ ماہ انہوں نے آزادکشمیر کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آزادکشمیر میں قائد تحریک الطاف حسین بھائی کے ٹیلی فونک خطاب پر پابندی عائدکی اوراب الیکشن اصلاحات کے نام پرسندھ او ربلوچستان میں مقیم مہاجرین کو اس بات کاپابند کیا کہ وہ ووٹ کے اندراج سے پہلے اپنے آبائی علاقوں سے متعلقہ رجسٹریشن آفیسر سے تصدیق / این او سی لے کر آئیں کہ وہ اپنے آبائی علاقہ میں ووٹ کا اندراج نہیں کرناچاہتے مہاجرین کیلئے یہ شرط مضحکہ خیز ہے کیونکہ ہزاروں روپے کی اخراجات کر کے ‘ اپناروزگارچھوڑ کر وہ کس طرح تصدیق کیلئے ڈیڑھ ہزارکلومیٹر دو ر اپنے آبائی علاقوں میں جاسکتے ہیں ‘لیکن ایم کیو ایم دشمنی میں اندھے ہو کر پی پی او رن لیگ کے زعماء مہاجرین کے ووٹ کے بنیادی حق سے ہی محروم کرنے پر تل گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مہاجرین کا یہ ووٹ حکومت پاکستان نے تسلیم کیا ہے ‘ وہ قومی انتخابات میں ووٹ کاحق استعمال کرچکے ہیں ‘ بلدیاتی انتخابات میں ابھی انہوں نے وو ٹ کا حق استعمال کیا اگر حکومت آزادکشمیر کو ان کے آبائی علاقوں میں ووٹ پر اعتراض ہے تو انہیں چاہیے تھا کہ نادرا کے ساتھ مل کر خود ہی ووٹ ختم کروادیتے لیکن قانونی پیچیدگیاں پیدا کر کے ہزاروں مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کا مقصد صرف اور صرف ایم کیو ایم سے مہاجرین کی 2سیٹیں چھیننا ہے جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں اور حکومتی سازش ناکام بنائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت جو چاہیے کر لے اسے منہ کی کھاناپڑے گی اورایم کیو ایم کو آزادکشمیر اسمبلی میں عوام کی نمائندگی سے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی ۔ کشمیری عوام حکومت اور ن لیگ کے مذموم مقاصد سے آگاہ ہیں اور حکومتی



(02) پریس کانفرنس/ایم کیوایم آزاد کشمیر

سازشوں کا جواب ایم کیو ایم کی آزادکشمیر اسمبلی میں نمائندگی میں اضافہ سے دیں گے ۔ طاہرکھوکھر اور سلیم بٹ نے پی پی کی قیادت کو شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ہزاروں مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے بعدلطیف اکبر جو خود آئینی کمیٹی کے چےئرمین تھے اب کراچی میں پریس کانفرنسیں کر کے مگر گچھ کے آنسو بہارہے ہیں اور مہاجرین کو سبزباغ دکھا رہے ہیں لیکن مہاجرین اب ان کے جھانسے میں آنے کیلئے تیار نہیں ۔ برسوں سے پاکستان میں مقیم مہاجرین کشمیر کے ووٹ ان کی مرضی کے بغیر آبائی علاقوں میں منتقل کئے جارہے ہیں جو ان کے بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورز ی ہے۔ کیا لطیف اکبر اور ن لیگ کے قائدین یہ نہیں جانتے ہیں کہ کراچی ‘ حیدر آباد ‘ سندھ کے دیگر علاقوں اور بلوچستان میں مقیم کشمیریوں کیلئے ہزاروں روپے کے اخراجات کر کے اپنا روزگار چھوڑ کر این او سی کے حصول کیلئے آزادکشمیر آنا ممکن نہیں ایم کیو ایم دشمنی میں یہ دونوں جماعتیں اتنا آگے نکل چکی ہیں کہ مہاجرین کے بنیادی حقوق تک سلب کئے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنا ووٹ ایم کیو ایم کو نہ دے سکیں۔ طاہرکھوکھر نے کہا کہ دونوں جماعتوں کو چاہیے تھا کہ سیاسی محاذ پر ایم کیو ایم کا مقابلہ کرتیں اس طرح کے حربوں سے بھی ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا کہ ہزاروں مہاجرین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے بعد انتخابات کے نتائج پوری دنیا کیلئے سوالیہ نشان بن جائیں گے ۔ طاہرکھوکھر نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن جتنے بھی غیر اخلاقی حربے استعمال کرلیں ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چھینے میں انہیں نہ صرف ناکامی ہو گی بلکہ دنیا دیکھے گی کہ کشمیری عوام قائد تحریک پر مزید اعتماد کااظہار کرتے ہیں آزادکشمیراسمبلی میں ایم کیو ایم کی نمائندگی میں مزید اضافہ کریں گے۔ پاکستان اور آزادکشمیر کے غریب ‘ اور متوسط طبقہ کے عوام ایم کیوایم اور قائد تحریک کو اپنے لئے نجات دہندہ سمجھتے ہیں اور اپنے سیاسی نظریات کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد ہر شہری کابنیادی آئینی حق ہے جسے کسی بھی صورت میں نہیں چھینا جاسکتا انہوں نے کہاکہ وہ مہاجرین کے حقوق پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے اگر 09 اپریل تک حکومت نے صورت حال کا نوٹس نہ لیاتو دیگر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے متفقہ لائحہ عمل تیار کیاجائیگا اور ایم کیو ایم راست اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔حق پرست اراکین اسمبلی نے چیف جسٹس آزادکشمیر سے سوموٹوایکشن لینے کامطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہاجرین کو ووٹ کاحق دلوانے کیلئے اپنا کردار اداکریں۔

12/8/2016 8:00:40 PM