Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے نام اہم خط


قائد تحریک جناب الطاف حسین کا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے نام اہم خط
 Posted on: 3/21/2016
20مارچ 2016ء 

جنرل راحیل شریف 
چیف آف آرمی اسٹاف 
جنرل ہیڈ کوارٹر ز ،راولپنڈی ، پاکستان 

محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
السلام علیکم !
امید ہے کہ آپ کے مزاج بخیرہوں گے۔ زیر نظر خط کے ذریعہ میں آپ کی توجہ ایک انتہائی سنگین معاملہ کی جانب دلانا چاہتا ہوں اس درخواست کے ساتھ کہ آ پ اس معاملے کافوری نوٹس لیتے ہوئے اس کی فوری تحقیقات کروائیں گے۔
محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
میں اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے نبی سرکاردوعالم ﷺکی قسم کھا کر یہ بات آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ مجھے اور میر ے ساتھ ساتھ ایم کیوایم کے دیگر عہدیداروں کو مسلسل یہ رپورٹس موصول ہورہی ہیں کہ کراچی ،حیدر آباد اور سندھ کے دیگرشہروں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افسران ، ایم کیوایم کے مقامی ذمہ داروں، منتخب نمائندوں اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی و سینٹ کو بلا کر دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اگر انہوں نے کراچی میں لائے گئے ایم کیوایم کے غداروں کے نئے ٹولے کا ساتھ نہیں دیا تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔ایم کیوایم کے عہدیداران و منتخب نمائندوں کو دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی وفاداری نہیں بدلی تو انہیں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلق اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے گا۔ ایم کیوایم کے عہدیداران و منتخب نمائندوں کو ایسے ایسے سنگین معاملات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جن سے ان کادور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔
ایک جانب یہ عمل ہورہاہے تودوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں ایم کیوایم کے بے گناہ عہدیداروں اورکارکنوں کی مسلسل گرفتاریاں کی جارہی ہیں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کاالزام بھی ایم کیوایم کے کارکنوں پر تھوپاجارہاہے۔اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں ایم کیوایم کے بے گناہ عہدیداروں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے تشدد کے ذریعہ قتل کرنے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جبکہ یہ رپورٹس بھی موصول ہورہی ہیں کہ جیلوں میں اسیر ایم کیوایم کے کارکنوں پر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کیلئے ظلم وجبر کے تمام ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ۔یہ سنگین صورتحال ایم کیوایم کے کارکنوں سمیت ہر ذی شعور فرد کیلئے کسی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے۔
جنرل راحیل شریف صاحب!
قانون نافذ کرنے والے ادارے کے جو افسران جوایم کیوایم کے منتخب نمائندوں، ذمہ داروں اورکارکنوں پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباؤڈال رہے ہیں،ایم کیوایم کے غداروں کے ٹولے کی حمایت پر مجبورکررہے ہیں،کیااس طرح کسی عوامی سیاسی جماعت میں توڑپھوڑکرنے کی کوشش اورسیاسی معاملات میں ملوث ہوکروہ آئین کے آرٹیکل 244 کے تحت لئے گئے حلف کی خلاف ورزی نہیں کررہے ہیں ؟ کیا اس طرح وہ پورے ادارے کی نیک نامی کو نقصان پہنچانے کاعمل نہیں کررہے ہیں؟ 
محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
مجھے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ آپ ایک ایماندار ،اصول پرست ، بہادر اور پیشہ ور جرنیل ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اورفوج کے دیگر اعلیٰ افسران کے علم میں یہ معاملات نہیں ہوں گے ورنہ آپ بذات خود ان کا نوٹس لے چکے ہوتے کیونکہ بعض افسران کا یہ عمل نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ پاکستان کے آئین کی دفعہ 244کے تحت لئے گئے حلف کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے ۔
محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
آپ کے علم میں یہ بات یقیناًہوگی کہ متحدہ قومی موومنٹ بنیادی طور پر ان مہاجروں کے حقوق کے حصول کیلئے قائم ہوئی تھی جنہوں نے 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں سے پاکستان ہجرت کی ۔ان مہاجروں نے نہ صرف پاکستان کے قیام کیلئے بے پناہ جانی ومالی قربانیاں پیش کیں بلکہ دوران ہجرت 20لاکھ جانوں اور لاکھوں عصمتوں کی قربانی دی ، ان محب وطن مہاجروں نے پاکستان کے قیام کے بعد اس وطن کی تعمیر کیلئے بھی قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور اس نوزائید ہ مملکت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اورد شمنوں سے محفوظ رکھنے کیلئے شب و روز محنت کی۔ یہ ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں ہجرت کرنے والے مہاجر ہی تھے جنہوں نے 1971ء میں بھی اپنی حب الوطنی کا ناقابل تردید ثبوت فراہم کیا اور سابقہ مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اور ہندوستانی افواج کے خلاف پاکستانی فوج کا دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا۔ پاکستا ن سے بے لوث محبت کرنے والے یہ محب وطن پاکستانی اور ان کی اولاد یں آج بھی بنگلہ دیش میں ریڈ کراس کے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار کراپنی حب الوطنی کا جیتا جاگتا ثبوت فراہم کر رہی ہیں۔
محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
وطن سے محبت اور قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کرنے والے ان مہاجروں کو پاکستان میں بدقسمتی سے کبھی بھی فرزند زمین تسلیم نہیں کیا گیا اور پاکستان کے قیام کے چند برسوں بعد ہی تعلیم، سیاست ،ملازمت ،صنعت ،تجارت غرض ہر شعبہ میں ان کا استحصال شروع کر دیا گیا جو ہردورمیں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہا مگر تمام ترناانصافیوں کے باوجود مہاجروں نے پاکستان سے محبت پر کوئی سودے بازی نہیں کی۔ 
محترم جنرل راحیل شریف صاحب !
جب مہاجروں نے اپنے ساتھ تسلسل سے جاری سیاسی ،معاشی اورتعلیمی استحصال کے خلاف 1978ء میں ’’ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن‘‘ کے پلیٹ فارم سے مہاجرحقوق کی جدوجہدشروع کی جس نے 1984ء میں ایم کیوایم کوجنم دیا تو پہلے روز سے اس جماعت کو بھی بے بنیاد پروپیگنڈوں اور ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا اور بالآ خر 19جون 1992ء کو اسکے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا ۔وہ مہاجرجوہمیشہ پاکستان اورفوج کے سب سے بڑے اتحادی رہے ، انہی مہاجروں کی نمائندہ جماعت ایم کیوایم کے خلاف نہ صرف فوج کواستعمال کیا گیا بلکہ اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل آصف نوازنے یہ تک بیان دے دیاکہ ’’ جب مسلم لیگ کے کئی گروپ ہوسکتے ہیں توایم کیوایم میں کیوں نہیں ہوسکتے ‘‘۔
جنرل راحیل شریف صاحب!
1992ء کے فوجی آپریشن میں بھی ریاستی اداروں کوایم کیوایم کے رہنماؤں، کارکنوں اورمنتخب نمائندوں کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کیلئے استعمال کیا گیا ۔ جنہوں نے حامی بھرلی ان کو ’’ صاف شفاف ‘‘ بناکرحقیقی گروپ میں شامل کروادیاگیا جبکہ جنہوں نے انکارکیاان کوگرفتاری،تشددحتیٰ کہ ماورائے عدالت قتل تک کاسامناکرناپڑا۔اس ریاستی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے رہنماؤں، منتخب نمائندوں، ذمہ داروں اورکارکنوں پر پاکستان کی زمین تنگ کردی گئی، یہی وہ صورتحال تھی جس کی وجہ سے ایم کیوایم کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنی جانیں بچانے کیلئے پاکستان چھوڑ کردنیاکے مختلف ممالک کارخ کیا ۔ جس کواپنی جان بچانے کیلئے جہاں جانے کاموقع ملاوہ وہاں چلاگیا، سینکڑوں کارکنان مشرق وسطیٰ، امریکہ ، برطانیہ، یورپ، افریقہ، جاپان ،آسٹریلیا اور دیگر ممالک چلے گئے ،جنہیں کہیں اورجانے کاموقع نہ مل سکا وہ اپنی جان بچانے کے لئے اپنے رشتہ داروں کے پاس انڈیاچلے گئے۔
جنرل راحیل شریف صاحب!
کوئی بھی خوشی سے اپناوطن نہیں چھوڑتا، حالات کاجبراسے اپنا شہراوراپنا وطن چھوڑنے پر مجبورکرتاہے،ایم کیوایم کاکوئی کارکن اپناوطن پاکستان چھوڑکرکہیں اور جانانہیں چاہتاتھا خاص طورپراس وطن کوجسے بنانے کیلئے ان کے آباؤاجدادنے لازوال جانی ومالی قربانیاں دی ہوں۔ آپ خوداپنے ظرف وضمیر کوگواہ بنا کر سوچئے کہ وہ کارکنان جواپنے ظرف وضمیرکاسوداکرکے وفاداریاں تبدیل کرنانہیں چاہتے تھے اورجن پر ان کے اپنے وطن کی زمین تنگ کردی گئی تھی ان کے پاس ملک سے باہرجانے کے سوادوسراکون سا راستہ باقی رہ گیا تھا؟
آپ اس اہم نکتہ پربھی غورکیجئے کہ آج جب ایک مرتبہ پھربعض عاقبت نااندیش حکام ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعے ایم کیوایم کے کارکنوں کی وفاداریاں تبدیل کروانے کاگھناؤنا کھیل رہے ہیں اسکے منطقی نتائج کاذمہ دارکون ہوگا؟آج ایک مرتبہ پھر ایم کیوایم کے ذمہ داروں وکارکنوں پرسیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے مختلف طریقوں سے دباؤڈالاجارہاہے ، ایک طرف یہ عمل کیاجارہاہے اور دوسری جانب میری ذات کے بارے میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔ بااعتماد ذرائع سے یہ اطلاعات بھی موصول ہورہی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کچھ افسران بعض ٹی وی اینکرز کومیری صحت کے بارے میں بھی غلط رپورٹس فراہم کررہے ہیں۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب!
میں پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے خاندان سے تعلق رکھتاہوں اورمیں نے 1971ء کی جنگ میں خودبھی پاک فوج کے شانہ بشانہ حصہ لیا ،مگرمجھے انتہائی دکھ اورافسوس ہے کہ آج مجھ پر ’’ را ‘‘سے تعلق کاسراسرجھوٹا اورشرمناک بہتان لگایاجارہاہے۔میں نے ہمیشہ فوج کا احترام کیاہے،اسی لئے 2001ء اوراس کے بعدبھی مختلف اوقات میں فوج کے کئی جرنیلوں نے ملک کی بہتری کیلئے مجھ سے ملاقاتیں کیں، یہ سب بڑے محترم اورمحب وطن جرنیل تھے ،کیا انہوں نے مجھ سے ملاقات سے پہلے میرے بارے میں معلومات نہیں کرائی ہوں گی کہ وہ کس سے ملاقات کررہے ہیں؟میں ایم کیوایم کے قائدکی حیثیت سے پوری ذمہ داری کے ساتھ آپ کویقین دلاتاہوں کہ ایم کیوایم پر ’’ را‘‘ کے تعلق کے لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے اور بے بنیادہیں، ایم کیوایم ایک محب وطن جماعت ہے جوپاکستان کی سلامتی اور استحکام پربھرپوریقین رکھتی ہے،ایم کیوایم پاکستان کے خلاف ہونے والی کسی بھی ملکی یا غیرملکی سازش کا نہ توحصہ ہے اورنہ ہی آئندہ ہوگی ۔ پاکستان میراوطن تھااوررہے گا۔سچ تویہ ہے کہ پاکستان کوآج جن عالمی خطرات وچیلنجز کاسامنا ہے ،ان کے مقابلے کے لئے ،میں ذاتی طورپراور پوری ایم کیوایم افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب!
مہاجرغیرمسلم نہیں بلکہ سچے پکے مسلمان اورمحب وطن پاکستانی ہیں، ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افسران کایہ متعصبانہ اورظالمانہ سلوک اللہ تعالیٰ کو کبھی پسندنہیں آئے گا۔لہٰذا آپ کافرض ہے کہ آپ ایسے افسران کے خلاف فی الفورکارروائی کریں جواپنے متعصبانہ رویے کے ذریعے مہاجروں اورفوج کے مابین تلخیاں پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔میری آپ سے یہی گزارش ہے کہ آپ مہاجروں کوانصاف فراہم کرنے کے لئے اپناکرداراداکریں۔میں اس خط کے توسط سے آپ کوآپریشن ضرب عضب کوجاری رکھنے پر ایک مرتبہ پھرخراج تحسین پیش کرتاہوں اوراس آپریشن کے دوران اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والے تمام افسران وسپاہیوں کی مغفرت وبلنددرجات کے لئے دعاگوہوں۔ 
والسلام
خیراندیش 
الطاف حسین 


9/30/2016 6:49:21 PM