Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورمسلح افواج کی جانب ایک مرتبہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھاتاہوں۔ الطاف حسین


آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورمسلح افواج کی جانب ایک مرتبہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھاتاہوں۔ الطاف حسین
 Posted on: 3/19/2016
آرمی چیف جنرل راحیل شریف اورمسلح افواج کی جانب ایک مرتبہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھاتاہوں۔ الطاف حسین
پاکستان کی سلامتی ، بقاء اور ترقی کیلئے ماضی کو فراموش کیاجائے اور مہاجروں کا ہاتھ تھام کر انہیں گلے لگایاجائے
مجھ پر بھارت کی ایجنسی را سے پیسے لینے الزام سراسرغلط ہے، اگر مجھے پیسہ لینا ہوتا تو اپنے ملک کی ایجنسیوں سے لے لیتا اس کے لئے ’’را‘‘ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی ؟
جنرل راحیل شریف ،بریگیڈیئر امتیاز سے دریافت کرلیں کہ جنرل حمید گل نے نوٹوں سے بھرے بریف کیس لیکر میرے پاس بھیجا تھا یا نہیں 
ہاک فوج اور ایم کیوایم ایک دوسرے کومعاف کرکے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر دوست کیوں نہیں بن جاتے؟
میں نے اپنامقدمہ جنرل راحیل شریف کی عدالت میں پیش کردیاہے اورمجھے امید ہے کہ وہ انصاف کریں گے
جنہوں نے میرے بارے میں افواہیں پھیلائیں، میری موت کی خبریں دیں میں ان کے لئے بدعانہیں کروں گا
رینجرز کی چوکیوں پر کریکر حملوں میں نہ تو ایم کیوایم کا کوئی کارکن ملوث ہے اور نہ ہی یہ ایم کیوایم کی پالیسی ہے
جنرل راحیل شریف معلوم کریں کہ جن لوگوں کے نام JITمیں آرہے تھے ان کی سرپرستی کون کررہا ہے
ایم کیوایم کے 32ویں یوم تاسیس کے موقع پرقائدتحریک الطاف حسین کا ویڈیو لنک کے ذریعے 37مقامات پر بیک وقت خطاب 
لندن۔۔۔18، مارچ2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اورمسلح افواج کی جانب ایک مرتبہ پھر دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ پاکستان کی سلامتی ، بقاء اور ترقی کیلئے ماضی کو فراموش کیاجائے اور مہاجروں کا ہاتھ تھام کر انہیں گلے لگایاجائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ایم کیوایم کے 32ویں یوم تاسیس کے موقع پر لندن اور پاکستان کے 37سے زائد مقامات پر ویڈیولنک کے ذریعہ بیک وقت خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یوم تاسیس کا مرکزی اجتماع جناح گراؤنڈ عزیز آباد میں منعقد کیا گیا جہاں نہ صرف پنڈال بلکہ عائشہ منزل ، کمپری ہینسو اسکول ، سنگم گراؤنڈ اور حسین آباد تک انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دے رہا تھا ۔ اجتماع میں خواتین بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھیں ۔ اس موقع پر خواتین او ر بچوں کا جوش و خروش قابل دید تھا ۔ کراچی ، حیدرآباد میر پور خاص ، سکھر ، نوابشاہ ، اندرون سندھ کے دیگر شہروں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان سمیت صوبہ پنجاب، صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبرپختونخوا میں منعقدہ اجتماعات کے شرکاء قائد تحریک جناب الطاف حسین سے والہانہ عقیدت و محبت کااظہا رکرتے رہے اور وقفے وقفے سے جناب الطاف حسین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے رہے ۔ 
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم ایم کیوایم کے کارکنان و عوام کو 32ویں یوم تاسیس کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج جناح گراؤنڈ عزیز آباد اور اطراف کی سڑکوں پر تاحدِ نگاہ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دکھائی دے رہا ہے اور سمندر سے اگر چند گندے قطرے نکل جائیں تو سمندر پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ انہوں نے میڈیا کے مدیران اور مالکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہے الطاف حسین کی تصویر اور تقریر نشر و شائع نہ کریں لیکن ایم کیوایم ملک کی چوتھی بڑی جماعت ہے جس کے 8سینیٹر ز ، 24ارکان قومی اسمبلی اور 51ارکان سندھ اسمبلی ہیں ، صحافتی اصولوں کا تقاضا ہے کہ ایم کیوایم کے رہنماؤں کو میڈیا پر ان کا جائز حق دیاجائے اور ان کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیوایم ، پرامن جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اگر پاکستان کے آئین وقانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ایم کیوایم کو میڈیا پر اس کا جائز حق نہ دیا گیا تو اس ناانصافی کے خلاف ایم کیوایم پرامن احتجاج کا حق رکھتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کراچی کے مختلف علاقوں میں رینجرز کی چوکیوں پر کریکر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کی کاروائیوں میں نہ تو ایم کیوایم کا کوئی کارکن ملوث ہے اور نہ ہی یہ ایم کیوایم کی پالیسی ہے ۔ انہوں نے ڈی جی رینجرز اور دیگر حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ثبو ت شواہد کی روشنی میں جو بھی فرد اس قسم کی مذموم کاروائی میں ملوث پایاجائے تو اسے آئین و قانون کے مطابق سزا دی جائے ،اگرایسے کسی واقعہ میں ایم کیوایم کاکوئی فردملوث پایاجائے تو ایم کیوایم ایسا عمل کرنے والوں کی رہائی کے سلسلے میں کوئی درخواست نہیں کرے گی لیکن ہماری اپیل ہے کہ کسی بے گناہ کو سزا نہ دی جائے اور کسی بے گناہ کے ساتھ ظلم و ناانصافی کا عمل نہ کیاجائے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو چور اچکے ایم کیوایم کی صفوں سے نکال دیئے گئے جنکے نام JITمیں موجود ہیں اور وزیراعلیٰ سندھ بھی ان کے نام لیتے ہیں ایسے عناصر کو گرفتار کرنے کے بجائے پوش علاقوں کے بنگلوں میں رکھنا سراسر ناانصافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے 19جون 1992ء اور اس کے بعد بھی اسی طرح کی سازشیں کی گئی تھیں جوناکام ہوئیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور عوام کے اتحاد سے ایم کیوایم آج بھی قائم و دائم ہے ۔جوسازشیں آج بھی کی جارہی ہیں وہ بھی ناکام ہوں گی۔جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ معلوم کریں کہ جن لوگوں کے نام JITمیں آرہے تھے ان کی سرپرستی کون کررہا ہے اور کون ان عناصر کے پوسٹر لگوا رہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک جانب آپ نے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب شروع کررکھی ہے جبکہ دوسری جانب بعض عناصر کی جانب سے دہشت گردوں کو ڈیفنس کے بنگلوں میں بسایاجارہا ہے ۔ جنرل راحیل شریف صاحب ! میں بڑے ادب سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا مظلوموں پر ظلم ختم اور جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کا سلسلہ بند کرایاجائے ۔ اس سے قبل جنرل آصف نواز ، جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل بھی اس قسم کی کوشش کرچکے ہیں ، بریگیڈیئر امتیاز احمد ابھی زندہ ہیں ، آپ انہیں بلا کر دریافت کریں کہ جنرل حمید گل نے انہیں نوٹوں سے بھرے بریف کیس لیکر میرے پاس بھیجا تھا یا نہیں ۔ بریگیڈیئر امتیاز نے ٹیلی ویژن پر اعتراف کیا ہے کہ وہ نوٹوں سے بھرے بریف کیس لیکر الطاف حسین کے پاس گئےء تھے لیکن انہوں نے وہ پیسہ لینے سے صاف انکار کردیا تھا ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مجھ پر بھارت کی ایجنسی را سے پیسے لینے الزام سراسرغلط ہے، اگر مجھے پیسہ لینا ہوتا تو اپنے ملک کی ایجنسیوں سے لے لیتا اس کے لئے ’’را‘‘ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی ؟ آج مجھ پر ’’را‘‘ سے پیسہ لینے کا الزام لگایاجارہا ہے لیکن جب الطاف حسین کے گھر پر نوٹوں سے بھرے بریف کیس آرہے تھے تو اسے چھوڑ کر الطاف حسین ’’را‘‘ کے پاس کیوں جائے گا ؟ کیا کوئی اتنی سی بات بھی نہیں سمجھ سکتا ؟ ۔اس سے قبل ایم کیوایم پر جناح پور کی سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا اور 17سال بعد بریگیڈیئر امتیاز نے قوم کو سچائی سے آگاہ کیا کہ ایم کیوایم کے دفتر سے جناح پور کا نقشہ نہیں ملا تھا اور یہ نقشے بریگیڈیئر آصف ہارون نے خود چھپوائے تھے ۔ جناب الطا ف حسین نے کہاکہ جنرل راحیل شریف ایم کیوایم پر جھوٹے الزامات کے ساتھ ساتھ اسکی بھی تحقیقات کرائیں کہ میرے 66سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور این ای ڈی یونیورسٹی سے کوالیفائیڈ انجینئر 28سالہ عارف حسین کو گرفتار کرکے تین روز تک وحشیانہ تشدد کے بعد سفاکی سے قتل کرنے والے کون ہیں ، ایم کیوایم کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو کس نے شہید کیا ۔ اگر ہم پر جرم ثابت ہوجائے تو ہمیں آئین و قانون کے مطابق سزا دی جائے لیکن انصاف ، دیانت ، امانت اور اصول کا تقاضا ہے کہ ایم کیوایم کے شہداء کے قاتلوں کو بھی سزا دی جائے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پاک فوج کا آج بھی احترام کرتی ہے ،ہم ماضی کی باتوں کولے کربیٹھے رہنے کے بجائے ایک دوسرے کومعاف کرکے پاک فوج اور ایم کیوایم ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر دوست کیوں نہیں بن جاتے ۔ ایم کیوایم افغانستان ، بھارت ،ایران اور دیگر پڑوسی ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعلقات کی حمایت کرتی ہے اور اگر کوئی پڑوسی ملک زیادتی کرے گا تو پاک فوج اور ایم کیوایم دونوں مل کر پاکستان کا دفاع کریں گے ۔جناب الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہاجاتا ہے کہ ایم کیوایم تعصب پھیلا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیوایم، مہاجروں کے ساتھ تعصب اور ناانصافیوں کا ردعمل ہے ۔ 1964ء میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں کراچی کے عوام نے جنرل ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا جس کی پاداش میں گوہر ایوب کی سربراہی میں مہاجر بستیوں پر حملے کئے گئے ، بے گناہ شہریوں کو قتل کیا گیا اور ان کی املاک کو نذر آتش کیا گیا ۔ اس وقت ایم کیوایم اور الطاف حسین نہیں تھے ۔ 1972ء میں مہاجروں کا سیاسی ، معاشی اورتعلیمی قتل عام کرنے کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کیا گیا اور سندھ میں دیہی اور شہری کی بنیاد پر تفریق کی گئی ، 1873ء میں پیپلزپارٹی نے لسانی بل پاس کرکے اردو زبان سے نفرت کا علم بلند کیا ، ممتاز بھٹو کی سرپرستی میں اندرون سندھ میں رہنے والے مہاجروں کے گھروں پر حملے کرائے گئے ، ان کی زمینوں پر قبضے کئے گئے اور مہاجروں سے اندرون سندھ خالی کرا دیا گیا ، اس وقت بھی ایم کیوایم اور الطاف حسین میدانِ سیاست میں نہیں تھے ۔ ایوب خان، یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں مہاجر بیورو کریٹس کو بیک جنش قلم ان کی ملازمتوں سے بیدخل کردیاگیا ، نیشنلائزیشن کی پالیسی کے نام پر مہاجروں کے بنک ، صنعتیں ، اسکول ، کالج اور انشورنس کمپنیاں قومیائی گئیں اور جب نیشنالائزیشن کی پالیسی واپس لی گئی تو مہاجروں کوان کی ملاک واپس نہیں کی گئی ۔ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں مہاجر طلباء کو داخلے نہیں دیئے جاتے تھے اور مہاجروں کو اعلیٰ تعلیم سے محروم کردیا گیا تھا اس وقت بھی ایم کیوایم اور الطاف حسین موجود نہیں تھے لہٰذا یہ کہنا سراسر غلط ہے کہ ایم کیوایم تعصب پھیلاتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج ایم کیوایم کے 32ویں یوم تاسیس کے موقع پر میں ایک مرتبہ پھر جنرل راحیل شریف کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں اور انہیں دوستی کی پیشکش کرکے مہاجروں کا مقدمہ ان کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ پاکستان کی سلامتی ، بقاء اور ترقی کیلئے ماضی کو فراموش کیاجائے ، مہاجروں کا ہاتھ تھاما جائے اور انہیں گلے لگایاجائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں جنرل راحیل شریف سے کہتاہوں کہ چاہے دو چار ایم کیوایم بن جائیں ، ایم کیوایم کو صرف مظلوم عوام کے لئے حقوق اور انصاف درکار ہے ، ایم کیوایم ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور اسٹیٹس کو کا خاتمہ چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ پاکستان میں سچا جمہوری نظام قائم ہو ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اپنامقدمہ جنرل راحیل شریف کی عدالت میں پیش کردیاہے اورمجھے امید ہے کہ وہ انصاف کریں گے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ چندروز کے دوران میرے بارے میں طرح طرح کی افواہیں پھیلائی گئیں، کسی نے کہاکہ الطاف حسین شدیدبیمار ہیں، کسی نے کہاآئی سی یو میں ہیں،کسی نے کہاالطاف حسین چل نہیں سکتے ،وہ الیکٹرونک اسکوٹرپر چلتے ہیں،ایک ٹی وی پرتو یہ خبرآگئی کہ الطاف حسین کاانتقال ہوگیا،انہوں نے کہاکہ جنہوں نے میرے بارے میں افواہیں پھیلائیں، میری موت کی خبریں دیں میں ان کے لئے بدعانہیں کروں گابلکہ دعاکروں گا کہ اللہ تعالیٰ انکے والدین کی عمردرازکرے اوراگروہ بیمارہیں توانہیں صحت کاملہ عطاکرے۔جناب الطاف حسین نے پاکستان سمیت دنیابھرمیں موجودا یم کیوایم کے کارکنوں کویوم تاسیس کی مبارکبادپیش کی اورتمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود ثابت قدمی سے تحریکی کام جاری رکھنے پر یونٹوں،سیکٹروں،زونوں اورتمام شعبہ جات کے کارکنوں کوزبردست خراج تحسین پیش کیا۔ جناب الطاف حسین نے صفائی مہم میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے پر تمام کارکنوں، نامزدمیئرڈپٹی میئر، یوسی چیئرمینوں، کونسلروں اورعوام کوشاباش پیش کی ۔ انہوں نے لیبرڈویژن کوبھی ان کے سالانہ کنونشن پر مبارکبادپیش کی ۔جناب الطاف حسین نے تحریک کے لئے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کرنے والے شہیداوراسیرکارکنوں کو کھڑے ہوکرسیلوٹ پیش کیااورانہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہیدہونے والے فوجی افسروں اورجوانوں کوبھی سیلوٹ پیش کیا۔ 

Karachi 


Hyderabad










MirpurKhas







Tando Allahyar






مزید تصاویر کراچی  حیدرآباد  میرپور خاص  ٹنڈو الہ یار   لاہور  نواب شاہ

وڈیو
حصہ اول

12/7/2016 4:35:40 AM