Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطا ف حسین کی زبان بندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے چوتھے اور آخری روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ پر سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وفود کی آمد


قائد تحریک جناب الطا ف حسین کی زبان بندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے چوتھے اور آخری روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ پر سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وفود کی آمد
 Posted on: 2/22/2016
قائد تحریک جناب الطا ف حسین کی زبان بندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے چوتھے اور آخری روز بھی کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ پر سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے وفود کی آمد
وفود نے جناب الطاف حسین پر پابندی کے خلاف مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور پابندی فی الفور ہٹانے کا مطالبہ کیا 
جناب الطاف حسین کے اظہار رائے پرکوئی بھی قدغن لگانا بہت بڑی ناانصافی اور آئین پاکستان کی 
صریحاًخلاف ورزی ہے،صدر کراچی بار ایسوسی ایشن محمود الحسن 
ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے قائد پر تو دور کی بات ایک عام شہری پر بھی اظہارِ رائے کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی ، رکن پاکستان بار کونسل محمد عاقل 
جناب الطا ف حسین تو ملک کے ہی نہیں دنیا کے عظیم لیڈر ہیں ان پر پابندی کے خلاف بھوک ہڑتال قابل تعریف ہے، رکن سندھ بار کونسل محمد عاقل 
جس طرح ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی ہے اسی طرح جناب الطاف حسین کو بھی دی جائے، صدر بوٹ بیسن ایسوسی ایشن میاں محمد محمود
اب جو تبدیلی آئے گی وہ وقتی نہیں ہمہ گیر ہوگی سب کچھ الٹ پلٹ ہوجائے گا ، علامہ عباس کمیلی 
جناب الطاف حسین کی زبان بندی کرنے والوں کا نام ظالموں کی صفوں میں اور الطا ف حسین کا نام مظلوموں کے 
حامیوں میں لکھا جائے گا، ممتاز عالم دین علامہ علی کرار نقوی 
جناب الطا ف حسین کو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے ، چیئرمین پاکستان سنی تحریک مطلوب اعوان 
جب لوگوں کی زباں بندی کردی جائے تو اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں ، معروف صحافی نذیرلغاری
نظریہ ضرورت کے تحت عدالتوں نے بہت سے اقدام کئے بعد میں معافی مانگ لی
کیا جناب الطاف حسین پر پابندی پر بھی معافی مانگی جائے گی؟ سربراہ ڈیمو کریٹک پارٹی بشارت مرزا
کراچی ۔۔۔22، فروری 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطا ف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر عائد غیر جمہوری اور غیر آئینی پابندی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر جاری 4روزہ بھوک ہڑتال کے آخری روز بھی مختلف سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات ، تاجر انجمنوں ، مارکیٹ ایسوسی ایشنوں ، علمائے کرام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے وفود بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا اور کیمپ میں بیٹھ کر جناب الطا ف حسین سے مکمل یکجہتی کااظہار ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کے چوتھے اور آخری روز کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن و دیگر عہدیداران،پاکستان بار کونسل کے رکن محمد عاقل ، سندھ بار کونسل کے رکن محمد عالم و دیگر عہدیداران ،معروف و ممتاز عالم دین علامہ عباس کمیلی ، علامہ علی کر ار نقوی ، پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین مطلوب اعوان ، معروف صحافی نذیر لغاری ، پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ بشارت مرزا ، منہاج القرآن کراچی کے تاحیات صدر ڈاکٹر خواجہ اشرف و دیگر عہدیداران ، خطیب جامع مسجد رحمانیہ راجہ انیس ،بورڈ بیس ایسوسی ایشن صدر میاں محمود و دیگر عہدیداران، کرسچن اتحاد لانڈھی ،غازی فاؤنڈیشن اسکول اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف وفود کے شرکاء بڑی تعداد میں شامل تھے ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ پر ایم کیو ایم کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال کے چوتھے روز مختلف وفود کی آمد اظہار خیال 
جناب الطا ف حسین اور میڈیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر محمود الحسن نے کہا کہ جناب الطا ف حسین پر پابندی کے خلاف ایم کیوایم کے کارکنان نے علامتی بھوک ہڑتال کی جو تحریک چلائی ہے اس پر میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں اور تاکید کرتا ہوں کہ تحریر ، تقریر پر پابندی کے خلاف اس جدوجہد جو جاری رکھا جائے انشاء اللہ یہ رنگ لائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان ملک کے ہر شہری کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اظہار رائے کرسکے ، تقریر کرسکے اور تقریر کرکے اپنا مدعا بیان کرسکے اور کسی کے اظہار رائے پرکوئی بھی قدغن لگانا ایک بہت بڑی ناانصافی اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ پاکستان بار کونسل کے ممبرمحمد عاقل نے کہاکہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر جو پابندی لگائی گئی ہے وہ خلاف ضابطہ ہے ، جناب الطاف حسین تو ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں ان پر تو دور کی بات ہے ایک عام شہری پر بھی اس قسم کی پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطا ف حسین پر پابندی کے خلاف جاری تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوگی اور جناب الطا ف حسین پر پابندی کے خلاف ہم مکمل یکجہتی کااظہار کرتے ہیں ، بھوک ہڑتالی کیمپ میں جتنے لوگ بیٹھے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جناب الطاف حسین کروڑوں عوام کے لیڈر ہیں ۔ سندھ بار کونسل کے رکن محمد عالم نے کہا کہ پاکستان میں یہ قانون راج نہیں ہے کہ کسی عام آدمی کو بھی اظہار رائے کے حق سے محروم کیاجائے ، جناب الطا ف حسین تو ملک ہی نہیں دنیا کے عظیم لیڈر ہیں اور انہیں اظہار رائے سے روکنے پر علامتی بھوک ہڑتال قابل تعریف ہے ۔ معروف عالم دین عباس کمیلی نے کہا کہ آج یہ معلوم نہ تھا کہ آپ اس قدر دلبرداشتہ ہیں کہ قیادت دستبردر ہورہے ہیں ایسا ہرگز نہ کیجئے کیونکہ اس سے مہاجروں کے ہی نہیں بلکہ سندھی ، پنجابی ، ہزار والے سب کے دل ٹوٹ جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اب فیصلہ کن وقت آپہنچا ہے ۔ظلم کا چراغ ٹمٹا رہا ہے اور یہ بھجنے کو ہے ، یقیناًتبدیلی سر پر کھڑی ہے اور تبدیلی کا وقت آچکا ہے ، اب جو تبدیلی آئے گی وہ وقتی نہیں ہمہ گیر ہوگی سب کچھ الٹ پلٹ ہوجائے گا یہ وہی وقت آرہا ہے جس کا صدیوں سے انتظار تھا اس کے آثار موجود ہیں ، اب یقیناًمایوسی کا وقت نہیں ہے بلکہ امید قوی کا وقت ہے ۔ مایوسی پر مرد مومن قابو پاتا ہے اور قابو پاکر حالات کو بدلتا ہے یقیناًآپ کو کچھ مایوسیاں ہوئی ہیں لیکن اللہ کارساز ہے اور بہت بڑا ہے مظلوموں کا حامی وناصر ہے ، اس کی نصرت سے کوئی بعید نہیں وقت بدل رہا ہے اور ہمہ گیر انقلاب آئے گا وہ انقلاب جس کی ہم سب آرزو کررہے ہیں ۔ ممتاز عالم دین علامہ علی کرار نقوی نے کہا کہ پابندی الطاف حسین کی آواز پر نہیں لگائی گئی ہے بلکہ یہ پابندی سندھ، پنجاب ، بلوچستان اور سرحد کے غریبوں کی آواز پر لگائی گئی ہے ، اردو بولنے والوں کو ہمیشہ استعمال کیا گیا ، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ غریب تنظیم کے لوگ سندھ اور پنجاب کے غریبوں کے مخالف ہوجائیں گے ۔ رئیس امرہوی مرحوم نے کہا تھا کہ جناب الطاف حسین وہ عظیم شخصیت ہے جو سندھیوں اورمہاجروں میں دوستی کراناچاہتے ہیں اور آپ نے یہ دوستی کرائی ہے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ جی ایم سید کی جیت کے موقع پر ایم کیوایم اور جی ایم سید کے لوگ جئے الطاف کے نعرے لگا رہے تھے ، آپ نے ولی خان سے دوستی کرائی ، نائن زیرو پر کس کا استقبال نہیں کیا گیا ، لوگ کہتے ہیں کہ ہم لڑتے ہیں بلکہ ہم تو ہار پہناتے ہیں ۔حق کو کبھی نہیں دبایا جاسکتا اور جناب الطا ف حسین کی آواز بھی نہیں دبائی جاسکتی الطاف حسین کو ٹی وی ریڈیو کی ضرورت نہیں ہے وہ تو لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں بستے ہیں ۔ آنے والے وقت سے ڈرا جائے کیونکہ جناب الطاف حسین کی زبان بندی کرنے والوں کا نام ظالموں کی صفوں میں اور الطا ف حسین کا نام مظلوموں کے حامیوں میں لکھا جائے ۔چیئرمین آل پاکستان سنی تحریک مطلوب اعوان نے جناب الطا ف حسین پر پابندی کے خلاف اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ حق گوئی میں مشکلات آتی ہیں اور حق رپ ستی کے کارواں میں میر صادق اور میر جعفر بھی ہوتے ہیں لیکن جناب الطا ف حسین کو ہمت ہارنے کی ضرورت نہیں ہے ، الطا ف حسین کا پیغام پاکستان کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے ، کراچی میں آپریشن جو ہوا ہے اس کی بازگشت پنجاب کے غریبوں گھرانوں میں پہنچ چکی ہے ۔ پنجابی بھی کہ رہے ہیں کہ ایم کیوایم کے دوستوں کے ساتھ زیادتی اورناانصافی ہورہی ہے ۔معروف صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ اوباما نے پچھلے دنوں نو سو ملازمتیں دیں تو آکر اعلان کیا لیکن یہاں ایک ہی جھٹکے میں کراچی اور صوبے سندھ میں کام کرنے والے تیس ہزار لوگوں کو بے روزگار کردیا گیا اور یہ کمال وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ جب لوگوں کی زباں بندی کردی جائے تو اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں ۔ جناب الطا ف حسین کی سیاسی سرگرمیوں کو روکنے ، پابندی لگانے کی کوشش آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور آئین کی خلاف ورزی دفعات کے زمرے میں آتی ہے ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ کسی سے بولنے کا حق چھین لیاجائے کیونکہ بول چینل سے بھی بولنے کا حق چھین لیاگیا ہے ۔پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر بشارت مرزا نے کہا کہ جناب الطاف حسین اور ہمارا تعلق بہت پرانا ہے ، جب سی او پی کے حوالے سے جلسہ ہوا اور آپ کی آواز پر جو خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل تعریف ہے ، پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ پاکستان بھر میں کسی پر بھی بولنے پر پابندی اس کے بنیاد ی حقوق چھیننے کے مترادف ہے ، عدالتیں کسی دباؤ اور کسی کے کہنے پر ایسے شخص پر بولنے کی پابندی لگا دیں جسے کروڑوں عوام سننا چاہتے ہیںیہ صریحاً ناانصافی ہے اور ہم اس پابندی کے خلاف ہیں ۔ پاکستان میں جب کبھی بھی کسی کے خلاف ظلم ہوا ہے پاکستان ڈیمو کریٹک پارٹی نے ساتھ دیا ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ اس پابند ی کو فوری طو رپر ختم ہونا چاہئے ، پاکستان میں یہ کھیل پرانا ہوگیا ہے لیکن عقل کے ناخن نہیں لئے گئے ۔ نظریہ ضرورت کے تحت عدالتوں نے بہت سے اقدامات کئے لیکن بعد میں معافی مانگ لی کیا جناب الطاف حسین پر پابندی پر بھی معافی مانگی جائے گی ۔بوٹ بیسن ایسوسی ایشن کے صدر میاں محمد محمود ، جنرل سیکریٹری احسان الہیٰ نے کہا کہ ہماری تہہ دل سے یہ خواہش ہے کہ جناب الطاف حسین پر عائد پابندیوں کو ہٹایاجائے ،جس طرح پاکستان کے ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی ہے اسی طرح جناب الطاف حسین کو بھی دی جائے ۔ اے پی ایم ایس او آدم جی سائنس کالج اور نبی باغ کالج کے نوجوان طالب علموں کے وفد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ جناب الطا ف حسین پر عائد پابندی کو اٹھایاجائے اور ہم اسی لئے جناب الطاف حسین سے اظہا ریکجہتی کیلئے آئے ہیں ۔


12/7/2016 4:36:24 AM