Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے تیسرے روز بھی مختلف سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات کی اظہاریکجہتی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ پر آمد


قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے تیسرے روز بھی مختلف سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات کی اظہاریکجہتی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ پر آمد
 Posted on: 2/21/2016
قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتال کے تیسرے روز بھی مختلف سیاسی ، سماجی اور مذہبی شخصیات کی اظہاریکجہتی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ پر آمد 
وفود نے جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فی الفور ہٹانے کے مطالبات بھی کئے 
اظہار یکجہتی کیلئے کراچی پریس کلب پر بھوک ہڑتالی کیمپ میں آنے والے وفود میں علمائے کرام ،ممتاز دانشور ، صحافی ، تجریہ کار مقتداء منصور،نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے سابق صدر اور یو ایس ایم کے روح رواں مومن خان مومن،ملیر پریس کلب ،داؤ د انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کی لیکچرار ،حق پرست تعاون کمیٹی ،معروف اداکار بہروز سبزواری ،
مینجنگ ٹرسٹی شاہ رضویہ سوسائٹی ناظم آبا،شیر شاہ کباڑی مارکیٹ ، ملکہ ترنم نورجہاں مرحومہ کی صاحبزادی مینا حسن، ملکی و بین الاقوامی شہرت یافتہ ہاکی کے پلیئر حسن سرداراور دیگر شامل تھے 
جناب الطا ف حسین پر پابندی لگانے والوں نے منافقت ، جھوٹ ، جبر اور تشدد کے نقاب ڈالے ہوئے ہیں، علمائے کرام علامہ سید علی کرار نقوی ، علامہ اطہر مشہدی ، مولانا آغا نادر رضوی 
اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے جمہوریت اس کے بغیر نامکمل ہوتی ہے ،ممتاز دانشور ، صحافی ، تجریہ کار مقتداء منصور 
بولنے پر پابندی ہوگی تو ہر زبان بولے گی اور ہر زبان الطاف حسین کی بن جائے گی،نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے سابق صدر 
اور یو ایس ایم کے روح رواں مومن خان مومن:اظہار رائے کی آزاد ی سب کا حق ہے ، صدر ملیر پریس کلب آغا طارق جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصویر پرپابندی لگانے کے بجائے انہیں سنا جائے اور اس کا مردانگی سے جواب دیاجائے، 
معروف اداکار بہروز سبزواری
جناب الطاف حسین استاد کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں بولنے کی آزادی نہ دینا قابل مذمت ہے، داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کی لیکچرار کے وفد کی رکن محترمہ نادیہ انصاری 
کراچی ۔۔۔21، فروری 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر عائد پابندی کے سلسلے میں کراچی پریس کلب کے باہر جاری بھوک ہڑتال کے تیسرے دن بھی مختلف سیاسی ، سماجی ، مذہبی شخصیات کے وفود کی بھوک ہڑتالی کیمپ پر آمد کا سلسلہ جاری رہا ۔ وفود نے بھوک ہڑتالی کیمپ پہنچ کر علامتی بھوک ہڑتال میں حصہ لیا اور جناب الطاف حسین پر عائد غیر جمہوری پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فی الفور ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کے تیسرے روز مختلف مکاتب فکر کے علمائے کے نمائندہ وفد سمیت ممتاز دانشور ، صحافی ، تجریہ کار مقتداء منصور،نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے سابق صدر اور یو ایس ایم کے روح رواں مومن خان مومن،صدر آغا طارق کی سربراہی میں ملیر پریس کلب کے صحافیوں کے وفد،داؤ د انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کی لیکچرار کے نمائندہ وفد ،حق پرست تعاون کمیٹی کی روح رواں عائشہ اسلام ،معروف اداکار بہروز سبزواری ، مینجنگ ٹرسٹی شاہ رضویہ سوسائٹی ناظم آباد کے وفد ،شیر شاہ کباڑی مارکیٹ کے صدر ملک زاہد و دیگر عہدیداران، ملکہ ترنم نورجہاں مرحومہ کی صاحبزادی مینا حسن، ملکی و بین الاقوامی شہرت یافتہ ہاکی کے پلیئر حسن سردار اور دیگر وفود شامل تھے ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں جناب الطا ف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف اظہار یکجہتی کیلئے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماے کرام کے ایک وفد نے شرکت کی جس میں علامہ نسیم الحسن زیدی ، علامہ سید علی کرار نقوی ، علامہ اطہر مشہدی ، مولانا آغا نادر رضوی ، پیر شاہ احمد رضا قادری ،فیاض رضوی ،علامہ تاجدار حیدر شامل تھے ۔ علمائے کرام کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے علامہ اطہر مشہدی ، مولانا آغا نادر رضوی اور علامہ سید علی کرار نقوی نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آج ایسا موقع آگیا ہے کہ جب پاکستان کے مخلصین کو پریس کلب کے باہر بیٹھ کر احتجاج کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے ، حقوق کی آواز خود سے ارباب اقتدار کو سننا چاہئے ، ان پر ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے غریبوں اورمظلوموں کی خواہشات کو پورا کریں اس عمل سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین پاکستان کے مظلوموں کے قائد ہیں اور علمائے حق نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ہے ، تقریر اور تحریر پر پابندی عائد کرنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے اس سے اور آوازیں اٹھیں گی کہ جناب الطاف حسین پر پابندی کیوں لگا دی گئی ہے ۔ علمائے کرام نے مزید کہاکہ ابتداء سے یہ ہوتا آیا ہے کہ جس نے حق و صداقت کی بات کی ہے اسے روکنے کیلئے سب سے پہلے وہ قوتیں آتی ہیں جو اس سے متاثر ہورہی ہوتی ہیں ، جناب الطا ف حسین پر پابندی لگانے والوں نے منافقت ، جھوٹ ، جبر اور تشدد کے نقاب ڈالے ہوئے ہیں ، حق و سچ کو دبانے کیلئے قائد تحریک جناب الطا ف حسین کی زبان بندی کردی گئی ہے ، ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ قائد تحریک جناب الطاف حسین اور تمام حق پرستوں کی آواز کو پہنچانے کیلئے کوئی سبیل بنائے ۔ ممتاز دانشور ، صحافی ، تجریہ کار مقتداء منصور نے کہاکہ اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کی بنیاد ہے جمہوریت اس کے بغیر نامکمل ہوتی ہے ، اگر کوئی معاشرہ جمہوری ہے تو اس کیلئے بنیادی شرط اظہارائے کی آزادی ہے اور اظہاررائے کی آزادی نہ صرف قائدین بلکہ ہر شہری کا حق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم جو صحافت کے امین کہلاتے ہیں اور رائے کو منظر عام پر لاتے ہیں اور اس میں ہم تسلسل کے ساتھ جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی رہنما اورخاص طو رپر خاص جماعت کے لیڈر کو نشانہ بنانا اور اس کے قائد کے نام، تصویر اور بیان کی اشاعت پرپابندی عائد کرنا جمہوریت پر بدنما داغ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی ایک کمیونٹی ، جماعت کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنانا، قیادت کی توہین کرنا اور اس کی قیادت کو ملک میں پھیلنے سے روکنا قابل مذمت ہے ، تمام جماعتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا سیاسی نکتہ نظر ملک میں پھیلائیں یہی جمہوریت کا حسن ہے لیکن ہمارے ملک میں ایسا کرنے نہیں دیاجارہا ہے اور یہ مڈل کلاس کے افراد کا راستہ روکنے کی شرمناک کوشش ہے ۔ نیشنل اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے سابق صدر اور یو ایس ایم کے روح رواں مومن خان مومن نے کہا کہ بھوک ہڑتالی شرکاء جس کیلئے بیٹھے ہیں اس قائد نے کبھی کسی ظالم ، جابر حکمراں کے آگے جھکنا نہیں سیکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بولنے پر پابندی ہوگی تو ہر زبان بولے گی اور ہر زبان الطاف حسین کی بن جائے گی ۔ یہ بنیادی حق ہے اور انسانی تاریخ ہے کہ جب آپ انسانوں کو بولنے سے روکیں گے تو درو دیوار بولیں گے ۔ مینجنگ ٹرسٹی شاہ رضویہ سوسائٹی ناظم آباد کے وفد کے سربراہ آغا محمد عباس نے کہا کہ سب سے بنیادی حق بنیادی حقوق ہیں ، ارباب اختیار نے بڑی جماعت کے قائد جناب الطا ف حسین کی تحریر ، تقریر پر پابندی عائد کردی ہے جس سے لوگوں میں بے چینی پائی جارہی ہے ، ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ بنیادی حق دیاجائے اور کسی کی تحریر ، تقریر پر پابندی نہ لگائی جائے ۔ ملیر پریس کلب کے صحافیوں کے وفد کی نمائندگی کرنے والے ملیر پریس کلب کے صدر آغا طارق نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے ملیر پریس کلب کیلئے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور اس لئے آج ہم یہاں بھوک ہڑتالی کیمپ میں آئے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزاد ی سب کا حق ہے اور ملیر پریس کلب کے صحافی جناب الطاف حسین کے ساتھ ہیں ۔ داؤ د انجینئرنگ یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن کی لیکچرار کے وفد کی رکن محترمہ نادیہ انصاری نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جناب الطاف حسین استاد کی حیثیت رکھتے ہیں استاد ہونے کی حیثیت سے انہیں بولنے کی آزادی نہ دینا قابل مذمت ہے ، ہم سب جناب الطاف حسین پر عائد پابندی پر ان کے ساتھ ہیں ، ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر نام نہاد پابندیوں کا خاتمہ فرمائے اور جناب الطا ف حسین کی جدوجہد کو کامیاب کرے ۔ٹی وی ، فلم کے مشہور و معروف اداکار بہروز سبزواری نے کہاکہ جناب الطاف حسین تو بہت بڑی شخصیت ہیں ان کی تقاریر اور تصویر پرپابندی لگانے کے بجائے انہیں سنا جائے اور اس کا مردانگی سے جواب دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ اظہار رائے کی آزادی ہر پاکستانی کا حق ہے یہ ادھار اور بھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے جناب الطا ف حسین کو عزت دی ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ ان کی عزت کریں ۔ ملکی و بین الاقوامی شہرت یافتہ ہاکی پلیئر حسن سردار نے کہا کہ ہم سب الطاف حسین سے دلی وابستگی رکھتے ہیں اور یہاں آج ان سے اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں ۔






تصاویر

9/29/2016 1:40:34 PM