Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میڈیا پر کسی بھی رہنما پر پابندی حکومت کی طرف سے لگائی جاتی ہے لیکن جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر پابندی عدالت کی طرف سے لگائی گئی ہے ،سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار


میڈیا پر کسی بھی رہنما پر پابندی حکومت کی طرف سے لگائی جاتی ہے لیکن جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر پابندی عدالت کی طرف سے لگائی گئی ہے ،سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار
 Posted on: 2/19/2016
میڈیا پر کسی بھی رہنما پر پابندی حکومت کی طرف سے لگائی جاتی ہے لیکن جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر پابندی عدالت کی طرف سے لگائی گئی ہے ،سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار 
سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ پندرہ روز سے زائد یہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے ،ہر تاریخ میں اس پابندی میں توسیع ہوتی ہے اور اب توسیع نہیں جناب الطاف حسین پر پابندی کا خاتمہ ہونا چاہئے، ڈاکٹر فاروق ستار 
جمہوری دور میں اس طرح کی پابندی سے جمہوریت کے دعوے کھوکھلے ، جمہوریت ماند ، کمزور اور غیر مستحکم ہوتی ہے ، ڈاکٹر فاروق ستار 
جناب الطاف حسین پر پابندی کی ساری باتیں لمحہ فکریہ ہے ،ہم دعوت فکر دے رہے ہیں کہ جناب الطاف حسین پر جتنی پابندی ہے اتنی ہی میڈیا پر پابندی ہے ،ڈاکٹر فاروق ستار 
انسانی حقوق کی تنظیمیں ، اظہارئے رائے کی انجمنیں اور صحافی برادری ہمارے ساتھ آواز سے آواز ملا کر کھڑی ہو ، ڈاکٹر فاروق ستار 
کراچی ۔۔۔19، فروری 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ میڈیا پر کسی بھی رہنما کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر پابندی عموماً حکومتوں کی جانب سے لگائی جاتی ہے اور اس پابندی پر متاثرہ لوگ ریلیف کیلئے عدالت سے رجوع کرتے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں یہ پہلا فیصلہ ہے کہ جناب الطاف حسین کی تقریر ، تقریر اور بیانات پر پابندی عدالت کی طرف لگائی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 4روز ہ علامتی بھوک ہڑتال کا بنیادی مقصد تحریر ، تصویر اور بیانات پر پابندی کے خلاف جناب الطاف حسین سے یکجہتی کااظہار کرنا اور پاکستان کی سیاسی برادری ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور انجمنوں کی توجہ اس جانب دلانا ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی پریس کلب کے باہرشروع کی جانے والی 4روزہ علامتی بھوک ہڑتال کے پہلے روز دوپہر کے وقت میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین ،قومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان ، کراچی کے چھ ڈسٹرکٹ کے منتخب یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین اور ذمہ داران و کارکنا ن بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اوربیان کا میڈیا پر بلیک آؤٹ آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے ، آئین کے آرٹیکل 19میں اظہار رائے کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے اور قائد تحریک پاکستان کے شہری ہیں اور انہیں ان کے اس بنیادی اور آئینی حق سے محروم کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ پابندی صرف الطاف حسین کے بولنے پر نہیں ہے بلکہ ان کے جو کروڑو حامی ، چاہنے والے ہیں ان کو بھی ان کے الطاف حسین کو سننے ، دیکھنے کے حق سے محروم کیاجارہا ہے ،لہٰذا ہم اس ناانصافی پر احتجاج بھی کرتے ہیں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ اب اس ناانصافی کو ختم ہونا چاہئے اور زبان بندی اور اظہار رائے کی آزادی کو بحال کیاجانا چاہئے کیونکہ یہ جناب الطاف حسین کا ہی بنیادی حق نہیں بلکہ ہم سے بھی ہمارا بنیادی حق لے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین پر پابندی دراصل میڈیا پر بھی پابندی ہے اور اس طریقے سے میڈیا کی آواز کو دبایا گیا ہے ، اینکر کو بھی کہا گیا ہے کہ جناب الطاف حسین کا نام نہ لیں ،
جاری ہے اینکر ز اور خبریں پڑھنے والے بھی جناب الطاف حسین کا نام نہیں لے سکتے اور ذکر نہیں کرسکتے اور ان کی تصویر نہیں دیکھا سکتے ، لاکھوں لوگوں کا جلسہ ہو اور وہاں جناب الطاف حسین کی تصویر ہو تو اس جلسے کا بھی بلیک آؤٹ ہوجاتا ہے ، ہم میڈیا ہاؤسز سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے جہاں اس پر آواز اٹھانا ہماری ذمہ داری ہے وہیں میڈیا ہاؤسز کی بھی ہے ۔ انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور شہری آزادی کی انجمنوں سے اپیل کی کہ وہ جناب الطاف حسین کی زبان بندی اور ان کے بولنے کے حق پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں یہ پہلا فیصلہ ہے کہ جناب الطاف حسین پر پابندی عدالت کی طرف سے لگائی گئی ہے عموما یہ پابندی حکومت کی طرف سے لگتی ہے اور لوگ ریلیف کیلئے عدالت جاتے ہیں اور جناب الطاف حسین کے معاملے میں الٹا ہوا ہے اور عدالت نے یہ پابندی لگائی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ پندرہ روز سے زائد یہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے ،ہر تاریخ میں اس پابندی میں توسیع ہوتی ہے اور اب توسیع نہیں ہونی چاہئے اور جناب الطاف حسین پر پابندی کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ جمہوری دور میں اس طرح کی پابندی سے جمہوری کے دعوے کھوکھلے ، جمہوریت ماند ، کمزور اور غیر مستحکم ہوتی ہے ، اگر سیاسی لوگ اور جمہوریت کمزور اور غیر مستحکم ہو تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کن کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے یہ ساری باتیں لمحہ فکریہ ہے ،ہم دعوت فکر دے رہے ہیں کہ جناب الطاف حسین پر پابندی جتنی ہے اتنی ہی میڈیا پر پابندی ہے ، امید ہے کہ میڈیا بھی آواز میں آواز ملا کر ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا اس بھوک ہڑتال میں بھی صحافی ، اینکر ز حضرات ہمارے ساتھ آکر بیٹھیں گے۔










مزید تصاویر





12/9/2016 9:07:51 PM