Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میڈیا پر جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی پریس کلب کے باہر 4روزہ علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا


 Posted on: 2/18/2016
میڈیا پر جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر عائد پابندی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی پریس کلب کے باہر  4روزہ علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا
علامتی بھوک ہڑتال کراچی پریس کلب کے باہر صبح 11بجے سے رات 11بجے تک 19فروری بروز جمعہ سے 22فروری 
تک جاری رہے گی، ڈاکٹر فاروق ستار 
آرٹیکل 19کے تحت جناب الطاف حسین کے میڈیا پر تقریر ، تصویر اوربیانات پر عائد پابندی کا فی الفور خاتمہ کیاجائے ، ڈاکٹر فارو ق ستار
جناب الطاف حسین پر میڈیا پر پابندی پہلا واقعہ ہے جس کے ذریعے عدالت نے ہم سے بنیادی حق چھین لیاہے، ڈاکٹر فارو ق ستار
جناب الطاف حسین کی تقاریر ، تصاویر پر پابندی لگانے سے سیاسی خلا پیدا ہوگا دہشت گردی کو فروغ ، انتہاء پسندی کو موقع ملے گا ، ڈاکٹر فاروق ستار 
خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں رابطہ کمیٹی کے اراکین کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب 
کراچی ۔۔۔18، فروری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے میڈیا پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اور بیانات پر پچھلے 6مہینے سے پابندی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے بعد اب 4روزہ علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل 19کے تحت جناب الطاف حسین کے میڈیا پر تقریر ، تصویر اوربیانات پر عائد پابندی کا فی الفور خاتمہ کیاجائے ۔ علامتی بھوک ہڑتال کراچی پریس کلب کے باہر صبح 11بجے سے رات 11بجے تک 19فروری بروز جمعہ سے 22فروری تک جاری رہے گی جس میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین ، حق پرست سینیٹر ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ، منتخب بلدیاتی نمائندے ، ایم کیوایم کے شعبہ جات کے اراکین اور علاقائی ذمہ داران و کارکنان شرکت کرکے جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویراور بیانات پر پابندی کے خلاف اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا ، اراکین رابطہ کمیٹی محترمہ ذرین مجید ، محمد حسین اور اسلم خان آفریدی کے ہمراہ خورشید بیگم سیکریٹریٹ عزیز آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میڈیا پر قائد تحریک الطاف حسین کے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی کو یہ چھٹا مہینہ ہے ،لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کے باقاعدہ چلے بغیر یہ کیسے ممکن ہے کہ جناب الطاف حسین پر یہ پابندی قائم ودائم رہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر اوربیانات پر پابندی سے سیاسی کارکن مضطرب اور بے چین ہے کیونکہ اس پابندی پر کوئی جرح ہی نہیں ہوئی ہے ، ایک نجی پٹیشن کو لیکر پٹیشنر کی خواہش کے احترام میں ملک کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت کے قائد جناب الطاف حسین کے اظہار رائے پر پابندی ہے اور ان کی زبان بندی کردی گئی ،یہ پاکستان کی سیاسی و عدالتی تاریخ کاپہلا واقعہ ہے جبکہ اس سے قبل ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی محبوب ، مقبول اور دلوں میں رہنے والے قائد کے خلاف اس طرح کا کوئی اقدام ہوا ہو ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کی عموماً یہ تاریخ رہی ہے کہ اگر حکومت ، انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی ناانصافی ، امتیازی سلوک کیاجائے یا کسی پاکستانی شہری کا بنیادی حق غضب کیاجائے تو عدالتیں اسے اس ضمن میں ریلیف دیتی ہیں اور جناب الطاف حسین پر میڈیا پر پابندی پہلا واقعہ ہے جس کے ذریعے عدالت نے ہم سے بنیادی حق لے لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بلاشبہ ہم عدالتوں اور ان کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ، اس معاملے میں جب ہم سپریم کورٹ گئے تھے تو سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا تھا کہ اس طرح کا حکم امتناعی 15روز سے زیادہ قائم نہیں رہ سکتا لیکن اس کے باوجود لاہور ہائی کورٹ میں ہر پیشی پر زبانی طور پر جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کے وقت میں اضافہ کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ایک رجسٹرڈسیاسی پارٹی ہے ، قائد تحریک ہمارے آئینی سربراہ ہیں ،پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق کے متعلق جو شقیں ہیں گویا ہمیں آئین نے جو بنیادی حقوق کی ضمانت دی ہے لاہور ہائی کورٹ نے ہمیں اس بنیادی حق سے محروم کردیا ہے اور جناب الطاف حسین کے جس بیان یا تقریر کو جواز بنا کر ان پر پابندی عائد کی گئی ہے اس پر ہمارا موقف نہ پابندی لگاتے وقت سنا گیا نہ اب تک سنا گیا ہاں جنہوں نے پٹیشن دائر کی ان کا موقف سنا گیا لیکن ہمیں سننا باقی ہے اور یہ بنیادی حقو ق اور آئین کا معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین پر میڈیا پر پابندی کے مقدمے کی سماعت جلد از جلد ہونی چاہئے اور جب تک سماعت نہیں ہوتی ہمارے بنیاد ی حق کو بحال کیاجائے ،ہمارے حق کی جو آئین میں ضمانت دی گئی تھی وہ لاہور ہائیکورٹ نے لے لیا ہے تو پھر اس کے سیاسی اثرات لازمی ہیں ، اس طرح سے بنیادی حق سے عدالت کے ہاتھوں محروم کئے جانے سے سندھ میں جوہماری مقبولیت ہے اس کے ذہن پر یہ تاثر آنا لازمی ہے کہ یہ لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے ، سندھ ہائیکورٹ میں ایسی پٹیشن کیوں نہیں ہوئی ۔ ہمارے لئے مشکل ہے کہ ہم ہر تاریخ پر لاہور جاتے ہیں یہ ساری باتیں احساس محرومی میں اضافہ کررہی ہیں ہے ، ایسے فیصلوں پر اس پس منظر کا بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے ، لوگوں کے احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے انصاف کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جناب الطاف حسین کی تقاریر ، تصاویر پر پابندی لگانے سے سیاسی خلا پیدا ہوگا دہشت گردی کو فروغ اور انتہاء پسندی کو موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک لٹیروں یا دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے اور جمہوریت کی آڑ میں پاکستان میں آمریت قائم کی جارہی ہے ، مخصوص افراد کا ملک کے اقتداراور وسائل پر قبضہ کرایاجارہا ہے اور شاید الطاف حسین کی تقریر تصویر پر پابندی بھی اسی لئے ہے کہ وہ سب سے زیادہ گرج کر سچ و حق بات کو منظر عام پر لاتے ہیں اور سب سے زیادہ پاکستان کے دشمنوں تحریک طالبان ، لشکرجھنگوی اور اب داعش کو بے نقاب کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے میڈیا پر جناب الطاف حسین پر غیر جمہوری پابندی کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں ہیں ہم نے آج بھی عدالت کا احترام کیا ہے ہمیں امید ہے کہ عدالت بھی ہمارے پیغام کو سنجیدگی سے لے گی اور کروڑوں عوام کی ترجمان قائد تحریک جناب الطاف حسین کے بنیادی حق اور عوام کو انہیں سننے اور دیکھنے کا حق دیا جائے ، آرٹیکل 19کے تحت جناب الطاف حسین پر سے پابندی کوفی الفور ختم کیاجائے ، قائد اور عوام کے درمیان کھڑی کی گئی مصنوعی دیوار کو گرایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ، لندن میں رابطہ کمیٹی نے وزیراعظم برطانیہ کی رہائشگاہ کے سامنے بھوک ہڑتال کی ہے ، ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارا نہیں بجائے کہ ہم احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کے بعد بھوک ہرتال کا سلسلہ قائم کریں ،اس لئے ہم کراچی پریس کلب کے باہرہ چار روز ہ علامتی بھوک ہڑتال روزانہ بارہ بارہ گھنٹے بیٹھیں گے اور یہ سلسلہ 19فروری سے 22فروری تک جاری رہے گا جس میں رابطہ کمیٹی ، سی ای سی اور تنظیم کے دیگر ذمہ داران اور علاقائی تنظیم کے ذمہ دار کارکنان ، وکلاء ، انجینئر ، ، میڈیکل ایڈ ، اے پی ایم ایس او کے طالب علم اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ میں بیٹھیں گے ۔

12/7/2016 4:38:02 AM