Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان چائنا اقتصادی راہداری میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مفاد کو شامل کیا جائے۔ الطاف حسین


پاکستان چائنا اقتصادی راہداری میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مفاد کو شامل کیا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 2/6/2016 1
پاکستان چائنا اقتصادی راہداری میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مفاد کو شامل کیا جائے۔ الطاف حسین
اگر پاک چائنا اقتصادی راہداری میں صرف پنجاب کے مفاد کو ہی سامنے رکھا جائے گا اور خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کو نظرانداز کیا جائے گا تو عوام اس کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے
وزیراعظم نوازشریف چائنا کے دوروں پراپنے بھائی ،سمدھی اوربیٹے کو ہمراہ لیکر گئے لیکن خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا، پاکستان چارصوبوں پر مشتمل ہے،پاکستان کا نام صرف پنجاب نہیں ہے
میں پاکستان بچانے کی کوشش کررہا ہوں اورچاہتاہوں کہ پاکستان کے مفادمیں چاروں صوبوں کوساتھ لیکرچلیں
ہم فوج کاکل بھی احترام کرتے تھے ،آج بھی کرتے ہیں،فوج خدارا ہمیں اپنادشمن نہ سمجھے
فوج سے کہتے ہیں کہ آئیے ماضی کی تلخیوں کوفراموش کرکے دوستی اوربہترتعلقات کے ایک نئے دورکاآغازکرتے ہیں
ملک کی سلامتی وبقاء اوراس کی ترقی کیلئے فوج ،اسٹیلشمنٹ اورمحب وطن پاکستانیوں کو ایک بارپھر اپناغیرمشروط تعاون پیش کرتے ہیں
خدارا اب ایم کیوایم پر جھوٹے الزامات لگانے اور بے بنیادمقدمات بنانے کا سلسلہ ترک کیا جائے 
ایم کیوایم ایک حقیقت ہے ،ایم کیوایم کے وجود اوراس کی حقیقت کوتسلیم کیا جائے
پاکستان کو اب صرف چار صوبوں سے نہیں چلایاجاسکتا،ملک میں کم ازکم 20 انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے ہوں گے
عزیزآبادکراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص میں ایم کیوایم کی جانب سے منائے جانے والے جشن فتح کے اجتماعات سے خطاب
لندن۔۔۔6فروری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے وزیراعظم نوازشریف اورتمام حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان چائنا اقتصادی راہداری ہویاپاک امریکہ اقتصادی راہداری ،پاکستان کے مفادمیں ضروربنائی جائے لیکن اس میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مفاد کوشامل کیاجائے ، اگرپاک چائنا اقتصادی راہداری میں صرف پنجاب کے مفادکوہی سامنے رکھاجائے گا اورصوبہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کونظرانداز کیا جائے گاتو عوام اس کوکسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ ہم فوج کاکل بھی احترام کرتے تھے ،آج بھی کرتے ہیں،فوج سے بھی کہتے ہیں کہ خدارا ہمیں اپنادشمن نہ سمجھیں۔ ملک کی سلامتی وبقاء اوراس کی ترقی کیلئے ہم ایک بارپھر اپناغیرمشروط تعاون پیش کرتے ہیں اورفوج سے کہتے ہیں کہ آئیے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے دوستی اوربہترتعلقات کے ایک نئے دورکاآغازکرتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہارآج جناح گراؤنڈ عزیزآباد کراچی، حیدرآبادکے ہوم اسٹیڈہال اور میرپورخاص میں ایم کیوایم کی جانب سے منائے جانے والے جشن فتح کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ جشن فتح جناب الطاف حسین پرمنی لانڈرنگ کے الزام میں تفتیش کے سلسلے میں لندن میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے ضمانت کی پابندیوں کے خاتمہ اورفردجرم عائد نہ کرنے کے فیصلے کی خوشی میں منایاگیا۔جناب الطاف حسین کایہ خطاب ویب ٹی وی کے ذریعے پاکستان کے تمام شہروں سمیت دنیابھرمیں سناگیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کو مضبوط ومستحکم دیکھنا چاہتا ہوں، ملک کی سلامتی وبقاء کے حوالہ سے میری باتوں پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو خاکم بدہن باقیماندہ پاکستان کی سلامتی وبقا خطرے میں پڑسکتی ہے ۔ انہوں نے پاک چائنا اقتصادی راہداری کے منصوبے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان چارصوبوں پر مشتمل ہے،پاکستان کا نام صرف پنجاب نہیں ہے ، نااہل اورکرپٹ حکمرانوں نے ماضی میں بھی پاکستان دولخت کیا اور وہ آج بھی باقیماندہ پاکستان توڑنے پر لگے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے پاک چائنا اقتصادی راہداری، سی پیک اور اورنج ٹرین کے منصوبوں کے معاہدوں کیلئے چائنا کے جتنے بھی دورے کیے ان میں وہ اپنے بھائی ،سمدھی اوربیٹے کو ہمراہ لیکر گئے لیکن ان دوروں میں انہوں نے صوبہ خیبرپختونخوا، صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا، یہ عمل کرکے وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان کے مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد کے خلاف عمل کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان نوازشریف اوران کے خاندان کی جاگیرنہیں بلکہ عوام کی ملکیت ہے ۔ یہ ترقیاتی منصوبے وزیراعظم نوازشریف کے خاندان کی جاگیرنہیں بلکہ پاکستان کے منصوبے ہیں ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم پاکستان چائنااقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان چائنا اقتصادی راہداری ہو پاک امریکہ اقتصادی راہداری ہو ،یاآسٹریلیا، کینیڈاکسی بھی ملک کے ساتھ اقتصادی راہداری ہواگروہ پاکستان کے مفادمیں ہوتو ضرور بنائی جائے لیکن اس میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے مفاد کوشامل کیاجائے ،اس میں پٹھانوں، بلوچوں اورسندھیوں کواعتمادمیں لیاجائے ، اگرپاک چائنا اقتصادی راہداری،گیس پائپ لائن،اورنج لائن، میٹرو یاایسے کسی بھی بڑے اقتصادی منصوبے میں صرف پنجاب کے مفادکوہی سامنے رکھاجائے گا اور صوبہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اورسندھ کونظرانداز کیا جائے گاتوپاکستان کے باقی صوبوں کے عوام اس کوکسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اورسندھ کے وزرائے اعلیٰ کوچاہیے کہ وہ باہرنکل کراس ناانصافی کے خلاف احتجاج کریں اورقوم کو حقائق بتائیں۔ 
جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ پاکستان کی سلامتی کے سب سے اہم عہدے پرفائز ہیں، آپ کو وزیراعظم نوازشریف سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے سی پیک منصوبے یا قطر سے ہونے والے معاہدوں میں صوبہ خیبرپختونخوا، صوبہ بلوچستان اور صوبہ سندھ کے نمائندوں کو کیوں شامل نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ میں پاکستان بچانے کی کوشش کررہا ہوں اورچاہتاہوں کہ پاکستان کے مفادمیں چاروں صوبوں کوساتھ لیکرچلیں، سب کواعتمادمیں لیکرچائنا سے دوبارہ معاہدہ کیاجائے ورنہ پاکستان کے عوام ان معاہدوں کو ہرگز نہیں مانیں گے۔ جنرل راحیل شریف صاحب! آپ کے پاس طاقت ہے، خدارا آگے بڑھیے اورپاکستان کو بچالیجئے ، پاکستان کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کا ملک ہے ، خدارا سب کو انصاف دلائیں اور آگے بڑھ کر پاکستان کو بچائیں ۔ اگر مسلح افواج نے حکمرانوں کی دھاندلی روکنے کا عمل نہ کیا تو تاریخ انہیں بھی حکمرانوں کے جرم میں شریک کار قراردے گی ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ سندھ، بلوچستان اورخیبرپختونخوا کے لیڈروں کواتنی ہمت دے کہ وہ نوازشریف کے سامنے سینہ تان کرکھڑے ہوسکیں اوراپنے صوبوں کے ساتھ کی جانیوالی حق تلفیوں کے خلاف آوازبلندکرسکیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں نام نہاد لبرل سیاسی ومذہبی جماعتیں جاگیرداروں ، وڈیروں، سرداروں ، خوانین اور سرمایہ داروں پر مشتمل ہیں، قیام پاکستان سے آج کے دن تک یہ اشرافیہ اور ایلیٹ کلاس نسل درنسل حکومت کرتی چلی آرہی ہے ،بیوروکریسی اور پالیسی ساز اداروں میں اپنی جگہ بناتی رہتی ہے۔ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زائد ہوگئی ہے لیکن سینیٹ ، قومی یا صوبائی اسمبلی کے ایوانوں میں 20 کروڑعوام کی نمائندگی نہیں کی جاتی،انتخابات میں حصہ لینے اور حکومت کرنے کا حق صرف ان کا تسلیم کیا جاتا ہے جن کے پاس دولت اور محلات ہیں ۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ غریب ومتوسط طبقہ، ہاریوں ، کسانوں اورمحنت کشوں کو جاگیرداروں اوروڈیروں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مراعات یافتہ جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں نے کبھی بسوں یامنی بسوں میں لٹک کر سفرنہیں کیالہٰذا انہیں پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں واحد جماعت ایم کیوایم ہے جس نے گنے کا رس بیچنے ، رکشہ ٹیکسی چلاکر رزق حلال کمانے اور محنت مزدوری کرنے والے تعلیم یافتہ افراد کو پہلی مرتبہ سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھیجا۔پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو ایم کیوایم کی اخلاقی مدد کرنی چاہیے جو ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تاریخی واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ 3 ، فروری 1981 ء کو جماعت اسلامی کے تھنڈراسکواڈ نے ہمیں تشدد کا نشانہ بناکر کراچی کے تعلیمی اداروں سے بیدخل کردیاجس کے بعد ہم نے علاقوں میں کام شروع کردیا ، پھر 8، اگست1986ء کو ہم نے کراچی کے نشترپارک میں عوامی جلسہ عام منعقد کیا تو جلسہ کے دوران دھواں دھار بارش شروع ہوگئی ، جلسہ کے شرکاء طوفانی بارش میں بھیگتے رہے لیکن انہوں نے نظم وضبط کا مثالی مظاہرہ کرکے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ اس کے بعد 31، اکتوبر1986 ء کو پکا قلعہ حیدرآباد میں دوسرا جلسہ عام منعقد کیاگیا تو کراچی سے جانے والے جلوس جب سہراب گوٹھ سے گزرے تو ان پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 7 کارکنان شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ، جب یہ جلوس مارکیٹ چوک حیدرآباد پہنچا تو وہاں ایک ہوٹل سے جلوس پر فائرنگ کرکے 5 کارکنان کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا گیا۔پکا قلعہ گراؤنڈ میں لاکھوں کا مجمع تھا لیکن میں نے اپنی تقریر میں صرف ایم کیوایم کا منشور بیان کیا اور سہراب گوٹھ اور مارکیٹ چوک میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر تک نہیں کیا تاکہ عوام کے جذبات مشتعل نہ ہوجائیں ۔ جس جماعت کے قائد نے عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے اس قدر احتیاط برتی ہو آج ملک کی اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریسی اسی الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف جھوٹے ،من گھڑت اور بے بنیاد الزامات کی تاریخ بہت طویل ہے ،تحریک کے ابتدائی ایام سے ہی ایم کیوایم اور مجھ پر الزامات لگائے گئے ۔1979میں مجھے پاکستان کاجھنڈا جلانے کے جھوٹے الزام میں 9ماہ قیداورپانچ کوڑوں کی سزاسنائی گئی ۔میں حق اور سچ پر تھا لہٰذا میں نے قیدوبند کی سزا بھگتنا گوارا کرلیا لیکن باطل قوتوں سے معافی نہیں مانگی۔1987اور 1988میں مجھے جھوٹے الزامات میں گرفتار کیا گیا ،مجھ پر پولیس اہلکار کی ٹوپی چوری کرنے تک کامضحکہ خیزمقدمہ قائم کیاگیالیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام جھوٹے الزامات کا پردہ فاش کیا اور مجھے باعزت طریقہ سے اپنے تمام ساتھیوں سمیت رہائی ملی ۔ 1992میں ایم کیوایم کے خلاف ریاستی آپریشن شروع کیاگیااوراس پر ٹارچر سیل چلانے اور جناح پور بنانے کے جھوٹے الزامات لگا کر اسکے بے گناہ کارکنوں کوشہید،زخمی ومعذور کیا گیا مگر یہ الزامات بھی جھوٹے ثابت ہوئے ۔ اگر ایم کیوایم ٹارچرسیل چلاتی تو لوگ 92کے آپر یشن پر خوشیاں مناتے ، آئندہ کبھی اس کو ووٹ نہ دیتے اور 1992کے بعد ہونے والے ہر الیکشن میں ایم کیوایم کو ماضی کی نسبت زیادہ ووٹ نہ ملتے۔ جہاں تک جناح پور کے الزام کا تعلق ہے تو خود فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس الزام کی تردید کر دی ۔جھوٹ کا پر دہ فاش ہوگیا اور سچ سامنے آگیا ۔ 1998میں ایم کیوایم پر حکیم سعید کے قتل کا جھوٹا الزام لگا کر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے سندھ کی منتخب حکومت ختم کر ڈالی ،سندھ میں گورنر راج لگا دیا،سندھ اسمبلی معطل کردی گئی اور ایم کیوایم کے خلاف ایک اور ریاستی آپر یشن شروع کر دیاگیا اور ایک بار پھر میرے ساتھیوں کوشہیدوزخمی کیاجانے لگا۔ حکیم سعید کے قتل کے جھوٹے الزام میں پوری ایم کیوایم کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، اسکے کارکنوں کو حراست میں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا لیکن عدالت میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ الزام بھی جھوٹا تھا ۔ اس مقدمہ میں بھی ایم کیوایم کے کارکنوں کو باعزت طو ر پر بری کیا گیا ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ مخالفین کی جانب سے برسوں تک یہ منفی پروپیگنڈہ بھی کیاگیاکہ ایم کیوایم بزور طاقت ووٹ ڈلواتی ہے لیکن جب 93کے قومی اسمبلی کے الیکشن میں ایم کیوایم نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا تو پولنگ اسٹیشن پر کتے لوٹ رہے تھے اورتمام پولنگ اسٹیشنوں پر مکمل سناٹا چھایا رہا۔ 2013میں کراچی میں چار صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوئے ۔ پولنگ اسٹیشن کے اندراورباہر ،ہر جگہ فوج موجو د تھی لیکن اسکے باوجود کا میابی ایم کیوایم کے حصہ میں آئی اورایم کیوایم پرزورزبردستی ووٹ ڈلوانے کاالزام باطل ثابت ہوا۔ اسی طرح گزشتہ سال اپریل میں NA-246 پرضمنی انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں رینجرز کے اہلکار پولنگ اسٹیشن میں ہی نہیں بلکہ ہر پولنگ بوتھ کے اندر موجود تھے ،پولنگ بوتھ میں کلوز سرکٹ کیمرے تک لگا ئے گئے ،ملکی وغیر ملکی مندو بین بھی ہر جگہ موجود تھے ، ایم کیوایم کے خلاف بدترین میڈیا ٹرائل اور آپر یشن جاری تھا لیکن اسکے باوجود ایم کیوایم نے اس الیکشن میں تاریخی کامیابی حاصل کی اور زو ر وزبردستی سے ووٹ حاصل کرنے کا الزام ایک مرتبہ پھر جھوٹاثابت ہوا۔انہوں نے مزیدکہاکہ حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیوایم نے صرف کراچی حیدر آباد ہی نہیں بلکہ میر پور خاص ،ٹنڈوالہ یا ر ،نواب شاہ سے بھی تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ایم کیوایم کو اس مرتبہ صرف مہاجروں نے نہیں بلکہ پنجابیوں، پختونوں،بلوچوں، سندھیوں، سرائیکیوں ، ہزارے وال، گلگتی بلتستانیوں سمیت تمام زبانیں بولنے والوں اوربرادریوں اورغیرمسلموں نے بھی بڑی تعدادمیں ووٹ دیئے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم اب صرف مہاجروں ہی کی نہیں بلکہ تمام زبانیں بولنے والوں، تمام برادریوں اورتمام مذاہب کے ماننے والوں کی جماعت ہے ۔ اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایم کیوایم نے اس مر تبہ ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ووٹ حاصل کئے ۔۔۔ اور اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیا ۔انہوں نے کہاکہ میں تمام قومیتوں سے کہتاہوں کہ آئیے، ایم کیوایم کے ہاتھ مضبوط کیجئے ،آئیے ہم سب مل کرپاکستان کومضبوط بنائیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب پاکستان میں جھوٹے الزامات کی سازش کار گر ثابت نہ ہوسکیں تو میرے خلاف برطانیہ میں سازشیں کی گئیں لیکن آج اللہ تعالیٰ نے عوام کی دعاؤں کے طفیل مجھے کامیابی عطاکی اور ان الزامات کے مقابلہ میں بھی مجھے سر خرو ئی عطا فرمائی ۔جناب الطاف حسین کہاکہ حکمرانوں کو میرا یہی پیغام ہے کہ خدارا اب ایم کیوایم پر جھوٹے الزامات لگانے اوربے بنیادمقدمات بنانے کاسلسلہ ترک کیاجائے ،ایم کیوایم ایک حقیقت ہے ،ایم کیوایم کے وجود اوراس کی حقیقت کوتسلیم کیا جائے، عوام، ایم کیوایم کو باربارجومینڈیٹ دے رہے ہیں اس مینڈیٹ کا احترام کیا جائے ۔ اب جھوٹے الزامات کی سیاست بہت ہوگئی ۔ہم نے جھوٹے الزامات کا با ر بار جواب دے دیا ہے ، اب ہمیں الزامات کا جواب نہیں دینا ، عوام کی عدالت نے بارباراپنے مینڈیٹ کے ذریعے ایم کیوایم پرلگائے گئے تمام جھوٹے اوربے بنیادالزامات کویکسرمستردکیاہے۔
جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں فوج کے لئے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم فوج کاکل بھی احترام کرتے تھے ،آج بھی کرتے ہیں ، ہم فوج سے بھی کہتے ہیں کہ خدارا ہمیں اپنادشمن نہ سمجھیں،ہمیں غیرنہیں اپناسمجھیں،ہم بھی آپ کوغیرنہیں بلکہ اپناسمجھتے ہیں اورجسے اپنا سمجھا جاتا ہے ،شکایت اورگلہ بھی اسی سے کیاجاتاہے ۔ہماری شکایات کابرامنانے کے بجائے ان پرہمدردی سے غور کریں اور ان جائزباتوں اورشکایات کاازالہ کریں،ہم تمام تلخیوں کاخاتمہ چاہتے ہیں اورملک کی سلامتی وبقاء اوراس کی ترقی کیلئے فوج ،اسٹیلشمنٹ اورمحب وطن پاکستانیوں کو ایک بارپھر اپناغیرمشروط تعاون پیش کرتے ہیں ۔ آئیے ماضی کی تلخیوں کوفراموش کرکے دوستی اوربہترتعلقات کے ایک نئے دورکاآغازکرتے ہیں ، اب ہمیں آگے کی طرف دیکھنا چاہیے ، پاکستان کے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے ، پاکستان چاروں طرف سے خطرات میں گھراہواہے،آئیے مل جل کرملک کوخطرات اورمشکلات سے باہر نکالیں اورملک اور عوام کے مسائل حل کریں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کی منزل ، پاکستان کی سلامتی ، مضبوطی اور استحکام ہے ، ایم کیوایم ، پاکستان کو مضبوط اور خوشحال دیکھنا چاہتی ہے ، ملک میں قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا فروغ چاہتی ہے تاکہ ملک ترقی کرے اور عوام کو امن سکون میسرآسکے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج دنیا کے ہرملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے قائم ہورہے ہیں۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ انتظامی بنیادوں پر نئے شہر بسائے جارہے ہیں لیکن ہم پاکستان میں آج بھی صرف چارصوبوں سے چمٹے ہوئے ہیں ۔ میں واضح طورپر کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کو اب صرف چار صوبوں سے نہیں چلایاجاسکتا ۔ پاکستان کو بچانا ہے اور اسے ترقی دینی ہے تو ملک میں کم ازکم 20 انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے ہوں گے ۔جناب الطاف حسین نے ملک بھرکے عوام سے اپیل کی کہ وہ مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی برقراررکھیں ۔ پوری دنیا میں شیعہ سنی فسادات کی سازش کی جارہی ہے ، پنڈال کے شرکاء عہد کریں کہ تمام مذاہب اور مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے مل جل کررہیں گے اورآپس میں لڑائی ہرگز نہیں کریں گے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے تحریک کے مخلص اور ثابت قدم ساتھیوں ، ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں اورمعصوم بچوں کی دعاؤں سے برطانیہ میں لگائے گئے جھوٹے الزامات میں بھی مجھے اورحق پرستی کی تحریک کو سرخروئی عطافرمائی ہے جس پر تمام مذاہب، عقائد، مسالک اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والاایک ایک حق پرست زبردست مبارکباد اور خراج تحسین کا مستحق ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مساجد، امام بارگاہوں، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں اور گھروں پرماؤں ، بہنوں ، بزرگوں ، بچوں اور تحریکی ساتھیوں نے دعائیہ اجتماعات منعقد کیے اور مجھ سے اپنی والہانہ عقیدت ومحبت کااظہارکیا ہے جس پر میں ان سب سے دلی تشکرکااظہارکرتاہوں۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کے آخر میں یہ اشعار پڑھے
آج بھی منزلوں پہ لگی ہے نظر
دل میں رکھتے ہیں عزم سفر آج بھی
دل شکستہ نہ سمجھے زمانہ ہمیں
اپنی ہمت ہے سینہ سپر آج بھی
اپنے خطاب کے آخر میں جناب الطاف حسین نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔







مزیدتصاویر


12/3/2016 5:55:34 PM