Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

منی لانڈرنگ کیس میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی کا مقصد یہ ہے جناب الطاف حسین کے خلاف میٹر وپولیٹن پولیس کے پاس شواہدناکافی ہیں ، رکن رابطہ کمیٹی کنور نوید جمیل


منی لانڈرنگ کیس میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی کا مقصد یہ ہے جناب الطاف حسین کے خلاف میٹر وپولیٹن پولیس کے پاس شواہدناکافی ہیں ، رکن رابطہ کمیٹی کنور نوید جمیل
 Posted on: 2/2/2016 1
منی لانڈرنگ کیس میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی کا مقصد یہ ہے جناب الطاف حسین کے خلاف میٹر وپولیٹن پولیس کے پاس شواہدناکافی ہیں ، رکن رابطہ کمیٹی کنور نوید جمیل 
جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی حق کی فتح ہے اور اس سے جناب الطاف حسین کی سچائی ثابت ہوگئی ہے ، کنور نوید جمیل 
لندن پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے بھی یہ کہہ کرکیس واپس کردیا ہے کہ اس میں ناکافی شواہد ہیں ، کنور نوید جمیل 
متعصب اینکر پرسنز اور سیاسی شعبدہ بازوں نے جو پرپیگنڈے کئے وہ غلط ثابت ہوگئے ، کنور نوید جمیل 
کراچی ۔۔۔2، فروری 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن کنور نوید جمیل نے کہاہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں قائد تحریک جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی کا مقصد یہ ہے کہ اب انہیں پولیس اسٹیشن آنے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں جناب الطاف حسین کے خلاف میٹر وپولیٹن پولیس کے پاس شواہدناکافی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی حق کی فتح ہے جس سے جناب الطاف حسین کی سچائی ثابت ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ منی لانڈرنگ کیس میں شواہد کا نہ ملنا بڑی خوش آئند بات ہے اس سے ایم کیوایم پر عوام کا جذبہ بلند اور اعتماد و بھروسہ مضبوط ہوگیا ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں منی لانڈرنگ کیس میں جناب الطاف حسین کی ضمانت کی منسوخی کے موقع پر منعقدہ یوم تشکر کے اجتماع میں صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا ، اراکین رابطہ کمیٹی کمال ملک ، ذرین مجید اور شعبہ خواتین کی انچارج کشور زہرا بھی موجود تھیں ۔ کنور نوید جمیل نے کہا کہ گزشتہ ایک سال قبل ایم کیوایم کے دفتر پر لندن پولیس نے چھاپہ مارا تھا اور اس وقت سے اس کی تحقیقات چل رہی تھی ، اس وقت بھی ایم کیوایم کی جانب سے متعدد رہنماؤں نے یہ بار بار کہا کہ دیکھیں پولیس انکوائری کررہی ہے یہ ہمارے اپنے پیسے ہیں جو کہ مکمل قانونی طور پر برطانیہ میں ہمارے آفس میں رکھے گئے تھے لیکن اس وقت بھی بہت سے متعصب اینکر پرسنز اور سیاسی شعبدہ بازوں نے اور وفاقی وزیر داخلہ کے نمائندوں نے بڑی بڑی باتیں کیں اور مختلف میڈیا سے تعلق رکھنے والے اینکر نے قلابے ملائے کہ اب تو جناب الطاف حسین کو سزا ہوجائے گی ، لیکن شکر ہے اس بات کا کہ اس کی انکوئری ہورہی تھی اور اس کیلئے الطاف حسین کو پولیس اسٹیشن بلایاجاتا تھا ، جب بیانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو برطانیہ کے قانون کے مطابق یہ کہلاتا ہے کہ وہ پولیس کی ضمانت پر ہے، آج بھی اس سلسلے میں الطاف حسین کی پیشی تھی تو کل میڑو پولیٹن پولیس نے الطاف حسین کے وکلاء کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں ابھی تک الطاف حسین کے حوالے سے اور اس میں جو ایم کیوایم کے دو سینئر اراکین ایم انور ، طارق میر شامل ہیں کیخلاف کوئی شواہد نہیں ملے ہیں تو ہم ان کی ضمانت کو منسوخ کررہے ہیں ضمانت کی منسوخی کا مقصد یہ ہے کہ اب انہیں پولیس اسٹیشن آنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کے لئے کہ ان کے پاس شواہد نہیں تھے ۔ انہوں نے کہاکہ برطانیہ کے قوانین میں جب پولیس انکوائری کرلیتی ہے تو ایک پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ ہوتا ہے وہ بھی قانونی نقطہ نظر سے جائزہ لیتا ہے کہ اس کا چارج عدالت میں پیش کرنے کیلئے شواہد موجود ہیں یا نہیں ہے ۔ تو پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ نے بھی یہ کہہ کر اسے واپس کردیا ہے کہ اس میں ناکافی شواہد ہے لہٰذا پولیس ضمانت منسوخ کردی گئی اور اب الطاف حسین کو کسی پولیس اسٹیشن میں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ 
انہوں نے کہاکہ یہ حق کی فتح ہے ۔ ماضی میں بھی ایم کیوایم پر ایسا ہوتا آیا ہے کبھی جناح پور ، اور کبھی حکیم سعید کے قتل کا الزام لگایا گیا وہ بھی وقت نے جھوٹے ثابت کئے اور الزامات لگانے والوں نے ہی بعد میں ان کی تردید کی اور ان کرداروں کے نام بھی لئے ۔ انہوں نے پی آئی اے ملازمین کے احتجاجی مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پی آئی اے ملازمین کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ سلوک کیا گیا ،ملازمین کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے روزگار کے تحفظ کیلئے پرامن احتجاج کریں لیکن ریاست اور حکومت کو یہ حق نہیں کہ وہ بے گناہ لوگوں کو گولیوں کا نشانہ بنائے ۔ ہم دیکھتے رہے ہیں کہ پنجاب میں مسلسل احتجاج چل رہے تھے اور سرکاری دفاتر اور سرکاری املاک کو وہاں پر نقصان پہنچایاجاتا رہا ، دفاتر سے سامان نکال کر جلایا گیا لیکن اس کے باوجود کہیں فائرنہیں کیا گیاور کہیں رینجرز نہیں بلائی گئی ، اسی ضد کی وجہ ہے اور دوسروں کو محکمو م سمجھنے کی وجہ سے ہم پہلے ہی پاکستان کوبہت نقصان پہنچا چکے ہیں ۔ انہوں نے ارباب ختیار و اقتدار سے گزارش کی کہ خدار ا کراچی کو مقبوضہ علاقہ سمجھنا چھوڑ دیں ، کراچی لوگوں کے مسائل کا واحد حل بندوق کی گولی سمجھنا چھوڑ دیں ، کراچی کے لوگوں کو بھی برابر کا شہری اورپاکستانی سمجھیں اور ان کے ساتھ یہ وحشیانہ مظالم نہ کریں ورنہ اس کا مزیدپاکستان کو نقصان ہی ہوگا فائدہ نہیں ہوگا ، یہ جمہوریت کے دور میں بدترین مثال ہے کہ وہ لوگ جو مجرم نہیں ہے جو قانون شکنی نہیں کررہے تھے بلکہ اپنے روزگار کے تحفظ کیلئے ایک احتجاج کررہے تھے لیکن ان پر جس طرح سے رینجرز کو بلا کر اور اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا وہ انتہائی شرمناک ہے ۔ انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کے جانبدارانہ رویئے نے جتنا پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے کسی اور چیز نے نہیں پہنچایا ، یہ دہشت گردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، مولانا عبد العزیزپردسویں ایف آئی آر درج اور اس کے باوجود اسلام آباد میں سکون سے بیٹھا اورراس کے خوف سے اسلام آبادمیں ہر جمعہ کو موبائل سروس معطل کردی جاتی ہے ۔ وزیر داخلہ ایوان میں آکر جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی ایف آئی آر نہیں ہے جبکہ ایک رکن قومی اسمبلی نے عبدالعزیز پر الزامات اور ایف آئی آر کا کتابچہ بنا کر اسمبلی میں پیش کیا ۔ دوہرا معیار پاکستان کو مزید بدنام اور کمزور کررہا ہے ۔









تصاویر

9/30/2016 11:52:59 AM