Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے آج فیصلہ دیدیا ہے کہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے، سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار


عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے آج فیصلہ دیدیا ہے کہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے، سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار
 Posted on: 1/24/2016
عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے آج فیصلہ دیدیا ہے کہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے، سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار 
لاہور ہائیکورٹ جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر عائد پابندی فی الفور کالعدم قرار دے ، ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا 
جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر پر پابندی انسانی اور عدلیہ کی تاریخ کا بیہودہ فیصلہ ہے، رکن رابطہ کمیٹی گلفراز خان خٹک 
جناب الطاف حسین پر پابندی بھی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن 
عدالتیں سڑکوں پر عوامی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز نہ کریں، سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری 
بھائیوں کو بھائیوں لڑانے اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے والوں پر پابندی کے بجائے جناب الطاف حسین پر پابندی سراسر غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے ، مولانا تنویر الحق تھانوی 
جناب الطا ف حسین کی تحریر اور تقریر کے بعد ان کی تصویر سے بھی خوف کھایاجارہا ہے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ظالم حکمرانوں کے اعصاب جواب دے چکے ہیں ، علامہ عباس کمیلی 
نفرتوں کے ماحول میں جناب الطاف حسین محبتوں کی بات کرتے ہیں اور ان کی آواز پر پابندی سراسر ظلم اور ناانصافی ہے، پاسٹر شیفرڈ انور جاوید 
جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصویر پر عائد پابندی ختم نہ کی گئی تو عوام کے جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا ، حق پرست رکن سندھ اسمبلی یوسف شاہوانی 
جناب الطا ف حسین پر عائد پابندی ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں اور جناب الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والوں کی توہین کی جارہی ہے، حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر اسماعیل سوہو
مزار قائد پر جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر غیر آئینی ، غیر جمہوری اور متعصبانہ پابندی کے خلاف منعقدہ زبردست اور عظیم الشان احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب 
کراچی ۔۔۔24، جنوری 2016ء 
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ قائدتحریک جناب الطاف حسین کی زباں بندی ، اظہار رائے کے حق کو سلب کرنے کے عمل کو حق پرست عوام یکسر مسترد کرتے ہیں ۔ مزار قائد پر جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فارو ق ستار نے کہاکہ آئین پاکستان کی شق 19میں ملک کے ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی ہے ، ہمارے اظہار رائے کی آزادی سلب کرکے ایک پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے جو لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے محبوب قائد ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بلدیاتی انتخابات میں ملنے والا عوامی مینڈیٹ قائد تحریک جناب الطاف حسین کا ہے ، عوام نے عدلیہ کے فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے آج فیصلہ دیدیا ہے کہ قائد تحریک کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر انسانی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جہاں عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ، ایسا فیصلہ دنیا کی کسی عدالت نے نہیں دیا ہے ، اظہار رائے کی آزادی ختم کرنے کے فیصلے کو حق پرست عوام نہیں مانتے ، اظہار رائے کی آزادی جمہوریت کا حق ہے اور اظہار رائے پر قدغن لگانا جمہوریت کی نفی اور جمہوریت کی روح کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک مائنڈ سیٹ ایک مرتبہ پھر مائنس ون فارمولے پر عمل پیرا ہے ، الطاف حسین کے خلاف مائنڈ سیٹ کسی طور اپنی اصلاح کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ اس وقت مائنس اسٹیٹس کو ، مائنس ایڈ ہاک ازم ، مائنس فیوڈلزم اورمائنس ٹیئر ازم کا دور ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان میں فرقہ واریت اور دہشت گردی فروغ پاتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری مائنس الطاف حسین کے فارمولے پر عمل کرنے والے مائنڈ سیٹ پر عائد ہوگی ۔ ایم کیوا یم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد پاشا نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے محض 15دن کیلئے جناب الطاف حسین کی تقریر پر پابندی عائد کی تھی لیکن آج تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہ پابندی ختم نہیں کی گئی ۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے اپیل کی کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر عائد پابندی کالعدم قرار دی جائے اور لاکھوں ، کروڑوں عوام کو انصاف فراہم کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر پر پابندی 27جنوری کو ختم نہ کی گئی تو ہم پرامن جمہوری احتجاج کا ہر حق استعمال کرتے رہیں گے ۔ ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن گلفراز خان خٹک نے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر پر پابندی انسانی اور عدلیہ کی تاریخ کا بیہودہ فیصلہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بد قسمتی سے طاغوتی قوتیں پاکستان کی آزادی سے قبل انگریزوں کی کاسہ لیسی کیا کرتی تھیں اور ان کی باقیات ملک بھر کے مظلوم عوام کی ترجمانی کرنے والے جناب الطاف حسین کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آئین پاکستان کے تحت اظہار رائے پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ، قائد تحریک جناب الطاف حسین پر محض اس لئے پابندی عائد کی گئی ہے کہ انہوں نے تاریخی حقائق سے ملک بھر کے عوام کو آگاہ کیا ہے ۔ سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن نے کہاکہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کاکہ قائد تحریک کی تقریر پر پابندی آئین کے آرٹیکل 19کی خلاف ورزی ہے ، امام خمینی پر پابندی ، نیلسن منڈیلا پر پابندی لگائی گئی تو ایران اور ساؤتھ افریقہ میں انقلاب آیا ، الطاف حسین پر پابندی بھی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ایک مولوی ریاست کو چیلنج کرتا ہے ، آئین پاکستان کو ماننے سے انکار کرتا ہے مگر حکمرانوں کو اس کی تحریر تقریر پر پابندی لگانے کا خیال نہیں آتا جبکہ الطاف حسین کی جانب سے دہشت گردی سے متاثرہ عوام سے اظہار ہمدردی کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پابندی عائد کرنی ہے تو سب پر عائد کی جائے صرف قائد تحریک جناب الطاف حسین پر پابندی عائد نہ کی جائے اگر جناب الطاف حسین پر پابندی کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو حق پرست عوام آئندہ کا لائحہ عمل بنانے کا حق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی عائد کی جاتی ہے مگر جناب الطاف حسین کے خلاف منفی پروپیگنڈے کھلے عام کئے جاتے ہیں یہ دہرا معیار ہے ۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیوایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کا احتجاج خود کو روشن خیال اور پاکستان میں آئین و قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرنے والوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین پر پابندی کے عمل پر لبرل اور جمہوریت پسندی کے دعوے کرنیو الوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ، اسلام آباد میں ایک مولوی پاکستان کے آئین اور ریاست کو چیلنج کرتا رہا لیکن اس کا نوٹس کوئی نہیں لے رہا ، لال مسجد میں SSGکے لیفٹیننٹ کرنل اور مسلح افواج کے کئی جوانوں کو شہید کرنے والے کی آواز کو روکنے والا کوئی نہیں ہے لیکن انتہاء پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے جناب الطاف حسین پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام کو حق حکمرانی نہیں ملتی تو ہماری عدالت خاموش رہتی ہے اب پاکستان کے عدالتی نظام کو سنجیدہ روپ دینا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں استفادہ کرسکیں ۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالتیں سڑکوں پر عوامی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز نہ کریں ۔ معروف عالم دین مولانا تنویر الحق تھانوی نے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اورتصویر پر پابندی قابل مذمت ہے ، جناب الطاف حسین نے حق پرستی کی تحریک کے ذریعہ مظلوموں کی ترجمانی کی ہے اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس حق پرستی کی تحریک کو جاری رکھیں گی اگر حکمرانوں کو پابندی لگانی ہے تو ان پر لگائیں جو بھائیوں کو بھائیوں سے لڑاتے ہیں اور فرقہ واریت کی آگ بھڑکاتے ہیں اور مسلمانوں کے اتحاد کی بات کرنے والوں کو جناب الطاف حسین پر پابندی عائد کرنے سے قبل کو شرم کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کی میڈیا کوریج پر پابندی سراسر غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے ۔ معروف شیعہ عالم دین علامہ عباس کمیلی نے کہاکہ حق پرست عوام نے مزار قائد پر جمع ہوکر اور جناب الطاف حسین کی میڈیا پر کوریج پر عائد پابندی کے خلاف بھر پور احتجاج کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کسی خطیب کو خطاب کرنے سے روکنا سب سے بڑا ظلم ہے لیکن ظالموں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہاتھوں کو قید کی جاسکتا ہے مگر سوچ و فکر پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ شہنشاہیت کا فرسودہ نظام ملک میں درآمد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جناب الطا ف حسین کی تحریر اور تقریر کے بعد ان کی تصویر سے بھی خوف کھایاجارہا ہے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ظالم حکمرانوں کے اعصاب جواب دے چکے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ انقلاب تلواروں اور کلاشنکوفوں سے نہیں بلکہ تقاریر سے آتے ہیں ، خطابات سے ذہنوں کو تبدیل کیاجاتا ہے اور جناب الطاف حسین پر پابندی لگانے کا عمل اعتراف شکست ہے اور پابندی لگانے والے کل اپنا انجام خود آئینے میں دیکھ لیں گے ۔ زباں بندی کرنا ، گفتگو کرنے سے روکنا ، کسی خطیب کو خطابت سے روکنا سب سے بڑا ظلم ہے ظلم یہ نہیں کہ اسے ہتھکڑیاں پہنا کر قید کردیاجائے اگر قید بھی عیسائی برادری کے مذہبی رہنما پاسٹر شیفرڈ انور جاویدنے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین ملک بھر کے مظلوموں کی آواز ہیں ، جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پر پابندی عائد کی جاتی رہی تو ملک بھر کے مظلوم عوام اپنے قائد کی آواز بن جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نفرتوں کے ماحول میں محبتوں کی بات کرتے ہیں اور ان کی آواز پر پابندی سراسر ظلم اور ناانصافی ہے ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی یوسف شاہوانی نے کہاکہ قائدتحریک جناب الطاف حسین کی تقریر ، تصویر پر پابندی عوام کو منظور نہیں ہے ، کروڑوں عوام کے لیڈر جناب الطاف حسین پر غیر جمہوری پابندی عائد کرنے والوں کو سوچنا ہوگا اور اب اس کا خاتمہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین پر عائد پابندی ختم نہیں کی گئی تو ملک کے چپے چپے میں احتجاج ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصویر پر عائد پابندی عوامی امنگوں کے برخلاف ہے اور یہ پابندی ختم نہ کی گئی عوام کے جذبات کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا ۔ حق پرست رکن سندھ اسمبلی محترمہ ہیر سوہو نے کہاکہ جناب الطاف حسین کا قصور کیا ہے جو ان کی تقریر ، تصویر پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ ملک میں کالعدم تنظیموں ، القاعدہ ، طالبان ، داعش کے رہنماؤں کی تقاریر پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ جناب الطا ف حسین پر عائد پابندی برقرار رکھ کر ایم کیوایم کے منتخب نمائندوں اور جناب الطاف حسین کے کروڑوں چاہنے والوں کی توہین کی جارہی ہے اور ان کے جذبات مجروح کئے جارہے ہیں۔
    

9/30/2016 3:18:25 AM