Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل ہی نہیں ہوا یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل ہی نہیں ہوا یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے،ڈاکٹر محمد فاروق ستار
 Posted on: 1/20/2016
نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل ہی نہیں ہوا یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
سانحہ چارسدہ باجاخان یونیورسٹی نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے آج پوری قوم کا نیشنل ایکشن پلان پر اعتماد مجروح ہوا ہے،
ملک سے انتہاء پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے اوراگر ایسانہیں کیاگیا تو پوری قوم داخلی طورپراستحکام کی دلدل میں دھنس جائیگی
رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرسیدشاہدپاشاواراکین رابطہ کمیٹی ڈاکٹرعبدالقادرخانزادہ ،گلفراز خان خٹک،محمدواسع جلیل،محمدحسین،ارشدحسن اورمحترمہ زرین مجیدکے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں ڈاکٹرمحمدفاروق ستارکی پریس کانفرنس 
کراچی ۔۔۔ 19؍ جنوری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے سینئرڈپٹی کنوینرڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاہے کہ سانحہ چارسدہ باجاخان یونیورسٹی نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے آج پوری قوم کا نیشنل ایکشن پلان پر اعتماد مجروح ہوا ہے،ہماری پالیسی واضح ہونی چاہئے،نیشنل ایکشن پلان پر سرے سے عمل ہی نہیں ہوا یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔انہوں نے حکمرانوں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ حکمرانوں کوپہلے اپنے گھر کی آگ کو بجھانا ہوگی پھردوسرے کے گھروں کاروخ کریں۔انہوں نے کہاکہ ملک سے انتہاء پسندی ختم کرنے کی ضرورت ہے، انٹیلیجنس کو یکجا کیاجائے اور اگر ایسانہیں کیاگیااوراس سے ہم نہیں نکلے تو پوری قوم داخلی طورپراستحکام کی دلدل میں اسی طرح دھنستی چلی جائیگی ۔انہوں نے چارسدہ یونیورسٹی میں شہیدہونیوالی طالبات،طلبہ اوراساتذہ سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت اورہمدردی کاظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایم کیوایم ان کے غم میں برابرکی شریک ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ایم کیوایم کے رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرسیدشاہدپاشاواراکین رابطہ کمیٹی ڈاکٹرعبدالقادرخانزادہ ،گلفراز خان خٹک،محمدواسع جلیل،محمدحسین،ارشدحسن اورمحترمہ زرین مجیدکے ہمراہ خورشید بیگم سیکرٹریٹ عزیزآبادمیں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ چار سدہ سانحہ بڑا سانحہ ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس نے آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کی یاد تازہ کردی ہے اوریہ وہ سانحہ ہے جس میں تعلیمی ادارے پر،طالبعلموں پر حملہ کیااس ارتکاب کرنے والے ملک، انسانیت اورتعلیم دشمن ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کاسانحہ ایک مرتبہ پھرہمیں احساس دلارہاہے کہ ہم اور پورا ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے، ہم ملک کے اندر رہنے والے دشمن سے نظرآزماء ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج کے ایک اور سانحہ کو لیکروہ لوگ جو ملک میں دہشت گروں کے خلاف ایکشن کررہے ہیں اور ان کے قلع قمع کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں تو اس پر ایک عوام شہری کیا سوال کیا کریں گا۔ایک سال پہلے بھی جنوری ہی کے مہینے میں آرمی پبلک اسکول کے ابعد ایکشن پلان کی منظوری دی تھی لیکن اس پر جو بھی عمل ہوا اس پر حکومت نے بلندبانگ دعوی ؂کیئے۔انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم یہ سمجھتی ہے کہ آج کا یہ سانحہ ایکشن پلان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، تمام جماعتوں سے کاغذ پر تو دستخط لے لیا۔یہ کے پی کے کے اندرتیسرا واقعہ ہے پہلا واقعہ بڈبیرایئر بیس پرحملہ،دوسراپشاور جمرود روڈ پر ایف سی کی چوکی پرحملہ اور آج تسلسل کے ساتھ باجاخان یونیورسٹی پرتیسرا واقعہ ہوا ہے یہ حکومت کی ناکامی کا اور انٹیلیجنس کی ناکامی کابھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کا چارسدہ آمد، قیام، تیاری و منصوبہ اور پھر حملہ، یہ ہماری انٹیلیجس کی ناکامی ہے۔سانحے کے بعد تفتیش کی جائے گی، کچھ لوگ مارے جائینگے یہ تو تماشہ عوام سالوں سے دیکھ رہی ہے لیکن عوام انٹیلیجنس اداروں اور ذمہ داروں سے سوالی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟ہمارے حکومت اور حکمرانوں میں یہ اخلاقی جرات ہی نہیں ہے کہ یہ واضح کہہ دیں کہ آئندہ یسا نہیں ہوگا،ہم یہ سمجھتے ہے کہ ایکشن پلان پر اس لئے عمل نہیں ہوا کیونکہ کہ پہلے دن سے آپ کو یہ ویژن کلیئر نہیں تھا کہ آپ کا ہدف کیا ہے؟ لیکن اس کے دوران اچھے دہشت گرد اور برے دہشت گرد کی تفریق پھر سامنے آگئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان مٰیں دہشت گردوں کو خود کو منظم کرنے اور اس کے باہر جانے کا موقع ملا۔ڈاکٹرمحمد فاروق ستارنے کہاکہ ۱۔ آپ کا ہدف کلیئر نہیں ہے۔۲۔ آپ کا Priority نہیں ہے ، آپ نے کہا تھا کہ Jet Black دہشتگردوں کا قلعہ قمہ کیا گیا اور کتنے کو پھانسی کی سزا دی گئی۔چوہدی نثار پارلیمنٹ میں آکر عوام کے سامنے اس کا حساب کتاب رکھ دیں، تو آپ نے تو Jet Black Terrorist کو تو موقع دیا۔آپ نے کہا یہ آپریشن مساجد وغیرہ کے خلاف کیا جائیگا کسی جماعت کے خلاف نہیں کیا جائیگا۔ لیکن پورے 2015 میں کیا ہوا ، وہ صورتحال آپ کے سامنے ہیں۔ایکشن پلان کی عملدآمد مین کوئی مصلحت یا رکاوٹ آگئی ہے اور ترجیحات کا تعین نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے۔جنوری کے بعد سے وزیر اعظم نے کبھی سیاسی جماعتوں کو بلا کر ایکشن پلان کے بارے میں نہیں بتایا۔۳۔ زمینی حقائق سے انکار کرنا، State of Denial ہے۔ انہوں نے کہاکہ کالعدم تنظیموں کی پورے ملک میں کھلے عام سرگرمیاں جاری ہے، ہمیں رمضان ، عید الاضحی میں ہمیں بھی کام نہیں کرنے دیاگیا لیکن کالعدم جماعتوں نے کھلے عام کام کیا اور ان کے مالی ذریعے کو نہیں روکے گئے تو ایکشن پلان پر کس طرح عمل ہوسکتے گا،دوسرا لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اپنے خطابات میں خود کش حملوں کے اعلانات کررہے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جارہی اور چوہدی نثار کہتا ہے پارلیمنٹ میں کہ ان کے خلاف کوئی FIR نہیں ہے، ایم کیو ایم نے عزیزآباد میں اور سول سوسائٹی نے اسلام آباد میں کٹوائی۔کالعدم تنظیموں اور مولانا کی سرگرمیوں پر کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ،ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ قائدتحریک جناب الطاف بھائی پہلے دن سے اس کی نشاندہی کرتے رہے، انہوں نے کہا کہ کراچی میں طالبانائزیشن ، القاعدہ اور اب داعش کی موجود گی کے بارے میں کہا لیکن حکومت نے ان سے انکار کیا جبکہ قانون نافذ کرنے والے کراچی کی تعلیمی اداروں مین کارروائی کرتے ہے ااور ان کے تانے بانے داعش اور القاعدہ سے ملتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کا کاؤنٹر کا انچارج کہتاہے ڈسکا جو لوگ گرفتار ہوئے ان کا تانہ بانا داعش اور القاعدہ سے ملتے ہے لیکن چوہدی نثار عوام سے جھوٹ کہ رہے ہیں۔جب اس کے باوجود اس قسم کے کے واقعات ہوتے ہے تو کیا وزیر داخلہ، CM کے پی کے کو مستعفی نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ الطا ف بھائی چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے طالبان کے بارے مین تو سیاسی جماعتیں انہیں بگڑے بچے کہہ رہے تھے اور ان سے مزاکرات کیا جائے۔ الطاف بھائی نے کہا کہ یہ پاکستان ، آئین کے دشمن ہے۔ صوفی محمد کے ذریعے مزاکرات کے ذریعے کس کو وقت فراہم کیا گیا۔ ۴۔ کتنے تجزیہ نگاروں اور ماہرین نے کہا کہ جنوبی پنجاب دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی آماجگاہ ہے لیکن آپریشن ہوا تو سندھ، کے پی کے اور بلوچستان مٰن ہوا اور جب پنجاب کی بات آئی تو وزیراعظم اوروزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم پولیس سے کرائے گے آپریشن تو اگر ایکشن پلان ایک ہے تو باقی تمام صوبوں میں فوج اور رینجرز سے اور پنجاب میں صرف پولیس سے کیوں ۔پنجاب میں بھی یقیناً رینجرز اور فوج کے ذریعے آپریشن کرانا چاہئے اگر یہ نیشنل ایکشن پلان ہے ورنہ یہ سندھ، پنجاب، بلوچستان ایکشن پلان ہے اس میں پنجاب شامل نہیں ہے۔جنوری 2015 کے بعد ہمیں کوئی بریفنگ نہیں دی گئی کہ کیا ہوا ایکشن پلان کا۔انہوں نے مزیدکہاکہ صوفی محمد اور طالبان کو اسپیس دی گئی الطاف بھانے کہا کہ آپ پاکستان کے خلاف کررہے ہیں جو آئین کو نہیں مانتے آپ ان سے مذاکارات کرر رہے ہیں۔ دیواروں لمبی کرنا مسئلے کا حل نہیں لیکن مدرسہ کی قانون سازی، گواہوں کی حفاظتم مقامی حکومتوں کو اختار، کمیونٹی پولیس نہیں، کوئی ہم آہنگی نہیں۔انہوں نے کہاکہ فیصل آباد اور سیالکوٹ سے خاندان کے خاندان داعش مین شامل ہونے کیلئے جارہے ہیں لیکن کسی نے اس کا نوٹس لیا؟۔وزیر داخلہ نے بتایا کہ جن مدرسوں سے دہشت گرد پیدا کئے جارہے ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور نصاب کو قائد اعظم کے پاکستان سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے۔گھروں میں صف ماتم ہو اور پوری قوم نوحہ کنا ہوںیہ اچھا مقام ہے آپ دو ممالک میں استحکام پیدا کرنے جارہے ہیں اچھا ہے لیکن داخلی استحکام ضروری ہے اس کی طرف بھی توجہ دی جائے، فرقہ پرستی پیدا کرننے والی کالعدم تنظیمیں سرعام کیمپ لگا کر چندہ جمع کرے تو اس کو کیا کہا جائے۔

9/27/2016 10:26:01 PM