Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجروں سے تعصبت ۔۔۔تاریخی حقائق


 Posted on: 11/30/2015
مہاجروں سے تعصبت ۔۔۔تاریخی حقائق

گلشن اقبال ریذیڈنٹس کمیٹی سے 
قائد تحریک جناب الطاف حسین کا
فکرانگیزخطاب 
بمقام وسیم باغ 13-D

30،نومبر2015ء 



واجب الاحترام بزرگوں، ماؤں ،بہنوں،تحریکی ساتھیوں،نوجوانوں، اراکین رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن اور آپ کے توسط سے اس پروگرام ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعہ دنیا میں جہاں جہاں دیکھا جارہاہے ۔۔۔ ہر دیکھنے والی آنکھ اورسننے والے کانوں کو
اسلام علیکم
مہاجر وہ طبقہ ہے جو1947ء میں ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آیا ۔۔۔قیام پاکستان کیلئے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے جو خدمات انجام دیں اورجو جانی ومالی قربانیاں دیں ان سے مہاجر عوام۔۔۔ خصوصاً نوجوان نسل ۔۔۔طلباوطالبات ناواقف ہیں۔اردوبولنے والے مہاجرعوام علم اور تعلیم رکھنے کے باوجود اپنے حقوق۔۔۔ اور۔۔۔اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں اتنا نہیں جانتے جتنا انہیں جاننا چاہیے ۔مجھے 38سالہ جدوجہد کے دوران ہزاروں جلسوں ۔۔۔ کارنر میٹنگوں۔۔۔ فکری نشستوں سے خطاب کرنے کا موقع ملا ۔۔۔جہاں ہر طبقہ فکر کے لوگوں سے میری بات ہوئی۔۔۔ جہاں ہر آدمی اپنا نقطہ نگاہ اس یقین کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ ایم کیوایم کو فلا ں کرنا چاہئے تھا۔۔۔ ایم کیوایم کو یہ کرنا چاہیئے تھا۔۔۔ ایم کیوایم کو اپنی لسانی شناخت (Ethenic Identity)کے لئے جدوجہد نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہصوبہ سندھ میں قدیم مقامی باشندوں کے ساتھ مل جانا چاہئے تھا۔۔۔وغیرہ وغیرہ
جب ہمارے بزرگ تحریک پاکستان کی جدوجہد کر رہے تھے تو انہوں نے کبھی سوچا تھا کہ وہ 
What are they going to do ? What are they struggling for? What would be the consiquences of this struggle? What would be the outcome of this struggle? and What they gonna achieve from Pakistan movement for seperate homeland for the Muslims of sub continent. I would like to mention perticularly for the youth that the division of British India formaly known as sub-continent, India and present Pakistan.

دیکھئے جب ہمارے بزرگ قیام پاکستان کی جدوجہد کررہے تھے تو آپ میں سے بیشتر لوگ اس وقت موجود نہیں ہوں ۔۔۔اورقیام پاکستان کی جدوجہد میں شریک نہیں ہوں گے۔آپ چیک کریں کہ موجودہ پاکستان کی آبادی اندازاً 20 کروڑ ہوگی اسی طرح بنگلا دیش کی آبادی بھی اندازاً20کروڑہوگی تو یہ کل چالیس کروڑ آبادی بنتی ہے جبکہ انڈیامیں آبادمسلمانوں کی تعداد30 کروڑہے اس طرح بھارت ،پاکستان اوربنگلہ دیش میں رہنے والے مسلمانوں کی مجموعی تعداد70کروڑ ہے۔ اگریہ تمام مسلم آبادی ایک جگہ۔۔۔ ایک ملک۔۔۔اور ایک جغرافیہ میں رہتی توکیا برصغیر میں مسلمان ایک بڑی طاقت نہ ہوتے؟لیکن آج 70کروڑمسلمانوں کی تعداد تین حصوں میں بٹ چکی ہے۔
My Youth! I am talking about your future, I am struggling for your future, I sacrificed my whole life for the betterment of you, It is your duty that you must listen carefully. Now let me clearify particularly youth, men, women of your age. When Pakistan movement was on its peak, what areas in whole undivided India were?
جو پاکستان کی بنا نے جدوجہد میں غیر مسلم ہندوستان ہیں سب سے زیادہ پاکستان کے حق میں جدوجہد کرنے والے کون تھے کون سے علاقے تھے ۔
let me tell you that this is strange thing, this is never ever happened in the world. It happened only in the India
تحریک پاکستان کے دوران جان ومال کی قربانیاں دینے والے ہندوستان کے علاقوں دہلی ، لکھنؤ آگرہ، احمد آباد ،حیدر آباد دکن، بہار ، سی پی ، یوپی کے تھے ۔۔۔ برصغیر کے ہر اس علاقے کے تھے جہاں پاکستان نہیں بنا ۔۔۔اور پاکستان وہاں قائم کیاگیا جہاں تحریک پاکستان نہیں چلی ۔۔۔جہاں کے لوگوں نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن۔۔۔ پاکستان کی جدوجہد کا ساتھ نہیں دیا بلکہ انگریزوں کی بنائی ہوئی یونینسٹ پارٹی کا ساتھ دیا ۔۔۔بانی پاکستان قائد اعظم کی قیادت میں چلنے والی مسلم لیگ کا ساتھ نہیں دیااور طرفہ تماشا دیکھیں کہ پاکستان ان علاقوں میں قائم ہوا جہاں کے ایک آدمی نے پاکستان بنانے کی تحریک میں جان کا نذرانہ نہیں دیا۔۔۔یہ تاریخی حقائق ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
تو جب آپکے اجداد جہاں تحریک چلا رہے تھے وہاں ہندوؤں کی اکثریت تھی ۔۔۔ جب ان کے علاقے میں آپ قیام پاکستان کی جدوجہد کررہے تھے تو آپ کے یعنی مسلمانوں کے گاؤں۔۔۔ محلوں پر ہندوؤں کے حملے کرنے کاجواز بنتا تھا کہ اب تمھارا اپنا وطن پاکستان بن گیا ہے۔۔۔ اب ہندوستان میں تمھارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔ اب آپ دیکھئے۔۔۔ قسمت کے غلط فیصلوں کی ستم ظریفی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔ جس کا اندازہ اس بات سے ہوجائے گا کہ فلم اسٹار عامر خان اور اس کی بیوی بچے۔۔۔ آج کہہ رہے ہیں کہ عامر خان اپنے اہل خانہ سمیت بھارت چھوڑ دیں اور بھارت سے کسی اور ملک چلے جائیں ۔ممبئی میں ایک خوشحال علاقہ جہاں معروف اداکار۔۔۔ شبانہ اعظمی۔۔۔ شارخ خان ۔۔۔عامر خان ۔۔۔ سلمان خان۔۔۔ دلیب کمارسمیت جتنے ٹاپ کے مسلمان اداکار ہیں انہیں مسلمان ہونے کی بنیاد پراس علاقے میں مکان خریدنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ صرف ہندوفنکاروں کا علاقہ ہے مسلمانوں کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں انڈیا میں دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری سمجھا جارہا ہے۔ 
مہاجروں کو قیام پاکستان کے بعد سے ہی زندگی کے ہرشعبہ میں ناانصافیوں اور امتیازی سلوک کا نشانہ بناجارہا ہے لیکن معذرت کے ساتھآپ لوگ ابھی تک اپنے آپ کو مہاجر کہتے ہوئے شرماتے ہیں ۔کیا آپ نے کسی پنجابی، پٹھان بلوچ ،سندھی ، سرائیکی اور کشمیری کو اپنی شناخت بتاتے ہوئے شرماتے ہوئے دیکھا؟جب بھی مہاجروں کی بات کی جاتی ہے تو آپ لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ یہ کیامہاجر، مہاجر لگا رکھا ہے ۔۔۔ ہم مسلمان ہیں ۔۔۔پاکستانی ہیں۔ لیکن مجھے بتائیں کہ پاکستان میں کون پاکستانی ہے؟ایم کیوایم کو آپ کہتے ہیں کیا لگا رکھا ہے۔۔۔ تعصب پھیلا دیا ہے ایم کیوایم نے ۔۔۔تو سنئے ۔۔۔تعصب میں یا ایم کیوایم نے نہیں پھیلایا ہے ۔۔۔ آپ میں سے جو جولوگ تعلیم کے حصول کیلئے یونیورسٹی یا کالج پہنچے ہوں گے تو وہاں۔۔۔آپ نے۔۔۔ مختلف قومیتوں کی طلبا تنظیموں کے بینرز نہیں دیکھے۔۔۔؟اسلامی جمعیت طلبہ۔۔۔ لبرل اسٹو ڈنٹس آرگنائزیشن ۔۔۔پختون اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ۔۔۔پنجابی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن۔۔۔بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنایشن ۔۔۔قبائلی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ،کشمیری اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن وغیرہ وغیرہ۔۔۔اگر اس وقت کراچی کے تعلیمی اداروں میں واحد مہاجر قومیت تھی جس کی طلبا تنظیم کا بینر آپ نے نہیں دیکھا ہوگا ۔۔۔ جب میں جامعہ کراچی کا طالبعلم تھاتو میں نے 1978ء میں کراچی یونیورسٹی میں اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی کہ جب بلوچ ۔۔۔پختون۔۔۔ پنجابی طلبا تنظیمیں ہوسکتی ہیں تو پھر مہاجر طلبا تنظیم کیوں نہیں ہوسکتی؟ طلبا تنظیموں کی بنیاد پر جامعہ کراچی میں ہاسٹل الاٹ کیے جاتے تھے اور مہاجر طلباء کو ہاسٹل نہیں دیئے جاتے تھے ۔۔۔ ان ناانصافیوں کے خلاف میں APMSOبنائی لیکن بات صرف ہاسٹل کی بات نہیں تھی۔۔۔ مہران یونیورسٹی۔۔۔ سندھ یونیورسٹی ۔۔۔اندرون سندھ کے ان علاقوں میں جئے سند ھ کے لڑکے ۔۔۔داخلہ کیلئے آنے والے مہاجر طلبا کونہ صر ف تشدد کا نشانہ بناتے تھے بلکہ انہیں برہنہ کر کے گھر بھیجتے تھے ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ اندورن سندھ سے تعلق رکھنے والے مہاجر طلبا کی انتہائی قلیل تعداد PHD، ڈاکٹر ز ،MSC،ماسٹر زکی تعلیم حاصل کرسکی ۔۔۔اس لئے کے وہ اپنے صوبہ سندھ کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں لے سکتے تھے ۔۔۔کیا کسی نے اس ناانصافی کے خلاف آوازاٹھائی۔۔۔؟انہی ناانصافیوں کے باعث پاکستان آزادی کے 25 سال بعد ہی دولخت ہوگیا اور پاکستان کا ایک بازو بنگلہ دیشن کی شکل میں الگ وطن بن گیا۔پاکستان 1971میں دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ،بنگلادیش کے اندر پاکستان کی فوج نے 93ہزار کی تعداد میں سرینڈر کیا اور پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے اردوبولنے والے جنہیں عرف عام بہاری کہا جاتا ہے۔۔۔ وہ پاکستان کے دفاع کیلئے پاکستانی فوج کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔لیکن جب سابقہ مشرقی پاکستان بنگلادیش بن گیا ۔۔۔ہتھیارڈالنے والی پاکستان کی فوج انڈین کیمپوں میں چلی گئی ۔۔۔جنہیں بعد میں وطن واپس لے آیاگیا لیکن جنہوں نے پاکستان بچانے کیلئے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا انہیں وطن واپس نہیں لایاگیا اور یہ لاکھوں محب وطن پاکستانی بنگلہ دیش میں ریڈ کراس کے 66 کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ آج 45برس گزر چکے ہیں ۔پاکستانی فوج کے لوگ دوسال بعد بھارتی قیدسے رہائی پانے کے بعد اپنے والدین ، بیوی بچوں کے پاس آگئے لیکن محصورین بنگلہ دیش آج بھی ریڈ کراس کے کیمپوں میں بھکاریوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔ان کے پاس کھانے کو نہیں ہے۔۔۔اورپیٹ کی آگ بجھانے کیلئے بعض خواتین اپنی عصمتوں کا سودا کرنے پر مجبورہیں۔۔۔ان محب وطن پاکستانیوں نے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھاوہ۔۔۔بھارتی قید سے رہائی کے بعدپاکستانی فوج وطن آگئی لیکن چند لاکھ محصور ین کو وطن واپس نہیں لایا گیا۔۔۔ یہ تعصب نہیں توپھر اورکیاہے ۔۔۔؟ یہ ظلم ہے یا نہیں ہے ۔۔۔؟یہ نا انصافی ہے یا نہیں ۔۔۔؟پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے کی سزا ہے یا نہیں ہے۔۔۔؟ یہ پاکستان سے محبت کی سزا ہے یا نہیں ہے۔۔۔؟ خان لیاقت علی خان پہلے مہاجر وزیر وزاعظم تھے۔۔۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انہیں گولی ماری گئی اس کے بعد ایوب خان کے زمانے ۔۔۔پھر یحییٰ خان کے زمانے میں 1300 سے زائد،مہاجر بیوروکریٹس کو بیک جنبش قلم انکی ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا۔۔۔کیا اس وقت الطاف حسین تھا۔۔۔؟کیا اس وقت الطاف حسین کی جماعت ایم کیوایم تھی ۔۔۔؟ اس کے بعد 73ء میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت میں آئے تو انہوں نے مہاجروں کو پسماندہ کرنے کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ کردیا ۔1973 کے آئین میں لکھا گیا کہ یہ کوٹہ سسٹم دس سال کیلئے صوبہ سندھ میں نافذ کیا جارہا ہے جس کے تحت تعلیمی اداروں میں داخلوں اور ملازمتوں میں شہری آبادی کو 40 فیصد اور دیہی آبادی کو60 فیصدحصہ دیا جائے گا۔۔۔کوٹہ سسٹم کا جواز یہ دیا گیا کہ سندھ کے دیہی علاقوں کے لوگ پسماندہ ہیں ،ان کو شہری علاقوں کے مقابلے میں لانے کیلئے favour دیاجارہا ہے ۔اس کوٹہ سسٹم کو83ء میں ختم ہوجانا چاہئے تھا لیکن آج 48سال ہوگئے۔۔۔ یہ کوٹہ سسٹم آج بھی نافذ ہے ۔۔۔مہاجر طلبا نے بیوروکریسی کیلئےcssکے امتحان میں حصہ لینا چھوڑ دیا کیونکہ اگروہ امتحان پاس بھی کرلیں ۔۔۔فرسٹ کلا س بھی آجائیں تو۔۔۔ انٹرویو میں پوچھاجاتا ہے کہ تمھارا باپ کون تھا۔۔۔؟ کہاں پیدا ہوا تھا ۔۔۔؟تمھار ا نانا کہاں پید ا ہوا تھا۔۔۔؟ جب معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا میں پیدا ہوا تھا ۔۔۔تو کہاجاتا ہے کہ اچھا تم مہاجر ہو۔۔۔ وہ کہتے تھے ہم تو مہاجر نہیں ہیں ،ہم تو پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔۔۔پاکستانی ہیں ۔۔۔تو پھرکہتے ہیں تم نہیں لیکن ت۔۔۔مھارے باپ دادا تو مہاجر تھے نا ں لہٰذا مہاجر بچوں نے اب بیوروکریسی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی چھوڑ دی ہے۔۔۔ اس میں الطاف حسین کا یا ایم کیوایم کا کیا قصور ہے۔۔۔ ؟ آپ یہ بتایئے کہ کہ 40اور 60کا جو کوٹہ سسٹم ہے اسکو ختم کیوں نہیں کیا گیا۔۔۔ اس کوٹہ سسٹم کو ختم کرانے کے لئے کون سی مذہبی اور سیاسی جماعت جو کہ کہتی ہے کہ ہم پاکستانیت چاہتے ہیں ۔۔۔ہم لسانیت نہیں چاہتے ۔۔۔ہم میرٹ کا سسٹم چاہتے ہیں۔۔۔پھران جماعتوں نے اس کوٹہ سسٹم کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی۔۔۔ ؟ ایوب خان اور قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح صدارتی الیکشن لڑ رہے تھے۔۔۔ مہاجروں نے فاطمہ جناح کاساتھ دیا اور ایوب خان کا ساتھ نہیں دیا۔۔۔ جب ایوب خان بے ایمانی کرکے جیت گئے تو ان کے بیٹے گوہر ایوب کی سربراہی میں ان کے حمایتیوں کو ٹرکوں میں بھر کر کراچی لایا گیا اور کراچی کی مہاجربستیوں ۔۔۔ لیاقت آباد ۔۔۔ کورنگی ۔۔۔ ناظم آباد وغیرہ پر مسلح حملے کرائے گئے ۔۔۔کیااس وقت الطاف حسین تھا۔۔۔؟ یا ایم کیوایم تھی۔۔۔؟
ان تمام تعصبات Discriminatoin & victimization اور اس سسٹم کے خلاف الطاف حسین میدان میں آیااوراس نے جامعہ کراچی میں APMSOکی بنیاد رکھی۔۔۔ 38سال ہوگئے ہیں ان برسوں میں جلا وطنی کے 25 سال بھی شامل ہیں لیکن آج کے دن تک میں نے تحریک نہیں چھوڑی اور تحریک کو زندہ رکھا ۔
میں نے کہا کراچی میں طالبائزیشن ہورہی ہے تو میرا مذاق اڑیا گیا ۔۔۔میں نے کہا القاعدہ چھا رہی ہے تومیری اس بات کامذاق اڑایا گیا۔۔۔میں نے کہا کہ داعش کراچی میں بہت سے جگہوں پر قبضہ کر چکی ہے۔۔۔تو میرا مذاق اڑیا گیا ۔ ابھی صفورا گوٹھ پر دہشت گردوں نے اسماعیلیوں کی بس پر فائرنگ کی تھی اور سب کو شہید کر دیا تھا وہ حملہ کرنے والے داعش کے لوگ تھے۔۔۔اور ان کا تعلق جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبا سے نکلا۔
14، دسمبر1986ء کو علیگڑ ھ کالونی اورقصبہ کالونی میں مہاجروں کا قتل عام کیاگیا ۔۔۔دہشت گردوں نے پہاڑیوں سے اتر کر نہتے مہاجروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا ۔۔۔ آج کہیں اس قتل عام کا ذکر ہوتا ہے ؟ 30ستمبر 1988ء کو کئی کاریں حیدر آباد میں داخل ہوئیں۔۔۔کارسوار مسلح ڈاکو ؤ ں نے فائرنگ کرکے 200سے زائد شہریوں کو شہید کردیا ۔۔۔کیااس سانحہ کا کہیں کوئی ذکر ہوتا ہے ؟ پکا قلعہ آپریشن میں عورتیں قرآن مجید سروں پر ۔۔۔اور سینوں پر رکھ کر دہائیاں دے رہی تھیں کہ گولی مت چلاؤ ۔۔۔ہمارے بچوں کو نہیں مارو ۔۔۔لیکن گولیاں چلائیں گئیں جو قرآن مجید کو چیر تی ہوئی ان خواتین کے جسموں کے پار ہوگئیں۔۔۔ عورتیں شہید اور مرد شہید ہوگئے ۔ آج بھی ان شہداء کی قبریں حیدر آبا دمیں موجود ہیں۔ 19جون 1992ء کو حقیقی دہشت گردوں کو سرکاری سرپرستی میں ٹرکوں میں بٹھا کر کراچی لایا گیا۔۔۔ ایم کیوایم کے تمام دفاترپر قبضے کرادیئے گئے۔۔۔ اب جبکہ ایم کیوایم کے کارکنوں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں ۔۔۔ان کا ماورائے عدالت قتل ہورہے ہیں ۔۔۔کارکنان لاپتہ ہیں۔۔۔تحریکی ساتھیوں نے پھر بھی ہمت سے جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے لیکن اب دوبارہ حقیقی دہشت گردوں کو شہر میں لایا گیا ہے جوقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی موجود گی میں مہاجر علاقوں میں جاکر مہاجروں کو مار تے ہیں۔۔۔ ایم کیوایم کے ہمدردوں کے گھر وں میں گھستے ہیں ۔۔۔دکانوں کے تالے توڑتے ہیں ۔۔۔شہریوں کا کاروبار تباہ کرتے ہیں ۔۔۔حقیقی دہشت گردوں نے یہ عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
میرے بھائیو !
میں نے کہا کہ اس وقت طالبان پورے کراچی کے چاروں طر ف ہیں۔۔۔ اتحاد ٹاؤن میں ہیں جس کا تذکرہ 8نومبر 2015ء کے ڈان اخبار میں بھی کیاگیا ہے اور اس اخبار میں ایک لسٹ شائع ہوئی کہ کہاں کہاں طالبان کا قبضہ ہے ۔۔۔کہاں کہاں ان کی شرعی عدالتیں چلتی ہیں۔۔۔ان میں ایک نام اتحاد ٹاؤن کا بھی تھا۔۔۔ وہا ں پر گزشتہ چند روز قبل رینجرز اندر داخل ہوئے تو دہشت گردوں نے ان پر گولیاں چلاکر رینجر زاہلکاروں کو شہید وزخمی کردیا۔۔۔ آ پ نے کبھی دیکھا کہ قانون نافذ کرنے اداروں نے وہاں دوبارہ کارروائی کی ہو۔۔۔؟اگر خدانخواستہ یہ واقعہ مہاجراکثریتی علاقوں میں ہوتا توپھران علاقوں اور عوام کے ساتھ کیا سلوک کیاجاتا؟ 
سیاسی سطح پر بھی ایم کیوایم اور مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کاسلسلہ روا رکھا گیاہے ۔۔۔ ایم کیوایم اور مہاجروں کے مینڈیٹ کو کبھی تسلیم نہیں کیاگیا ہے ۔۔۔ سندھ میں ارباب غلام رحیم ۔۔۔ سید مظفر حسین شاہ۔۔۔لیاقت جتوئی کی حکومت تھی ۔۔۔سندھ اسمبلی میں ان کے اراکین کی تعداد کم تھی جبکہ ایم کیوایم کے ارکان اسمبلی کی تعداد زیادہ تھی ۔۔۔لیکن کیا اکثریت رکھنے کے باوجود سندھ میں مہاجروزیراعلیٰ تسلیم کیاگیا۔۔۔؟ہردور میں ایم کیوایم اور مہاجروں سے تعصب برتا گیا لیکن کہاجاتا ہے کہ الطاف حسین اور ایم کیوایم نے تعصب پھیلایا ہے ۔۔۔اکثریت میں ہونے کے باوجود ہمارا وزیر اعلیٰ کبھی نہیں بن سکتا۔۔۔ آج 70سال ہوگئے پاکستان کو بنے ہوئے یا ہونے والے ہیں ۔۔۔لیکن ہمیں ہمارے حقو ق نہیں ملے ۔۔۔ہم پستے رہے ، پستے رہے ۔۔۔ آج بھی ہم پر ریاستی طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے ۔۔۔آپر یشن کے نام پر گھر گھر چھاپے مارے جارہے ہیں ۔۔۔یہ چھاپے پنجاب میں کیوں نہیں مارے جارہے ۔۔۔؟جنوبی پنجاب طالبان گڑھ ہے۔۔۔ وہاں چھاپے کیوں نہیں مارے جارہے ؟ آپ نے اپنے 
آباؤ اجداد کی قبریں ہندستان میں چھوڑیں ۔۔۔پرانی یاد گاریں چھوڑ دیں اور مسلمانوں کا ملک سمجھ کر پاکستان آگئے۔۔۔ پاکستان کی خوشحالی کی جد وجہد کی۔۔۔ آپ کو کسی نے ان قربانیوں کا صلہ دیا۔۔۔؟اب آپ کا بنیادی حق ہے۔۔۔ اگر مانگنے سے حق نہ ملے توپھر حق چھین لینا چاہئے ۔۔۔مہاجروں نے ہندوستان سے ہجرت کی ۔۔۔ہندستان میں ان کی زمین تھی ۔۔۔لیکن مہاجروں کو آج کہا جاتا ہے کہ وہ فرزندزمین نہیں ہیں۔۔۔ زمین کے بیٹے نہیں ہیں ۔۔۔لہٰذا اب ہمیں اپنا صوبہ چاہیئے۔۔۔ ہمیں کرائے کا مکان نہیں چاہئے ، جہاں سو سال بھی رہو تو کرائے دار ہی کہلائیں گے ۔ ہمیں 80گز کا مکان چاہئے مگر اپنی ملکیت کامکان چاہئے ۔
لیکن میں تو آج بھی کہتا ہوں کہ جب ہمارا اپنا صوبہ ہوگا تو شہری علاقوں میں پنجابی ،سندھی ، بلوچ ،پختون ،ہزار وال جوجو یہاں رہتے ہیں ،ہم کسی کو نہیں نکالیں گے ۔۔۔نہ کسی سے نفرت کریں گے بلکہ اس صوبہ پر سب کابرابر کا حق ہوگا۔۔۔ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم ۔۔۔ میں انصاف پسند آدمی ہوں، میں تعصب کے بدلے تعصب نہیں کرتا۔۔۔ اللہ ان سب سے حساب لے گا ۔۔۔میں کسی کا حق تو نہیں مانگ رہا۔۔۔ لیکن میں کہہ رہا ہوں پاکستان کو بچانا ہے تو نئے صوبے بنانے ہوں گے اور اب سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کا نعرہ یہ ہونا چاہئے کہ ’’ جینے کا منصوبہ ہوگا ،رہنے کو جب صوبہہوگا ‘‘
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیا ہے کہ خدا اس قوم کی حالت کو تبدیل نہیں کرتاجو قوم خود اپنی حالت تبدیل کرنا نہ چاہے ۔۔۔یا جب تک کہ وہ اپنے اندر تبدیلی لانے کی کوشش نہ کرے۔۔۔اگر ہم خداکی قسم سیسہ پلائی ہوئی چٹان کی طرح متحد ہوجائیں تو مجھے اللہ کی ذات پر یقین ہے کہ امریکہ بھی ہمیں تباہ نہیں کرسکتا ۔
میں گلشن اقبال ریزیڈنٹس کمیٹی کے انچارج سمیت ایک ایک فرد کو آج کے شاندار پروگرام کا انعقاد کرنے پرزبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

*****

12/6/2016 10:04:57 AM