Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کراچی کو اختیارات دو


 Posted on: 1/12/2016
کراچی کو اختیارات دو
منتخب نمائندوں کے اختیارات کے حق میں
صوبائی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے سامنے
احتجاجی مظاہر ے سے 
قائد تحریک جناب الطا ف حسین کا خطاب
مورخہ: 12، جنوری 2016ء 

واجب الاحترام بزرگوں ، ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں ،نوجوانوں ، بچے بچیوں ، رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن، مختلف شعبہ جات کے ذمہ داروں ،تحریکی ساتھیوں اور ایم کیوایم ویب ٹی وی کے ذریعہ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، آسٹریلیا، مڈل ایسٹ ،متحدہ عرب امارات سمیت جہاں جہاں بھی یہ نشریات سنی اور دیکھی جارہی ہے۔۔۔میں تمام دیکھنے اور سننے والوں کو اپنا سلام پیش کرتا ہوں ۔
السلام علیکم 
دنیا میں طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور عوام ہیں ۔۔۔لیکن پاکستان میں طاقت کا سرچشمہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو تصورکیاجاتا ہے۔۔۔ جس طرح ہر ملک کے اپنے اپنے نام ہوتے ہیں۔۔۔انتظام حکومت چلانے کیلئے اپنے اپنے نظام ہوتے ہیں۔۔۔ انتخاب کے طریقے ہوتے ہیں۔۔۔ وہاں صدر ہوتا ہے ، وزیراعظم ہوتا ہے ،کہیں چانسلر ہوتا ہے یا اسی طریقے سے ہرملک اپنے اپنے حساب سے حکومت کا نظام وضع کرتے ہیں اور اسے نافذ کرتے ہیں۔۔۔یہ نظام کہیں آئینی شکل میں رائج ہوتا ہے اور کہیں آئینی شکل میں رائج نہیں ہوتا ۔ پاکستان کا آئین 1956ء تک نہیں بنا تھا ۔۔۔اس سے قبل کے آئین تشکیل پاتا1958ء میں پاکستان میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا۔۔۔ آمریت چلتی رہی ۔۔۔یہاں تک کہ 16، دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوگیا ۔یہ تاریخی حقائق ہیں کہ 16دسمبر 1971ء کو پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔۔۔ ایک حصہ پاکستان اور دوسراحصہ بنگلہ دیش بن گیا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف صاحب نے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب کے سلسلے میں جوبہادرانہ اور جرات مندانہ کردارادا کیا اس پر میں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک ملین عوام کا جلوس نکالا ۔۔۔جنرل راحیل شریف صاحب کو غیر مشروط تعاون کی پیشکش کی اور میں نے لاکھوں عوام کے ساتھ کھڑے ہوکر مسلح ا فواج کو سیلوٹ بھی پیش کیا ۔۔۔جب نہ اے پی سی ہوئی تھی اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی اجلاس ہوا تھا اس وقت الطاف حسین اور ایم کیوایم واحد رہنما اور جماعت تھی جنہوں نے ایک آزاد سیاسی جماعت کے قائد اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے مؤقف اختیار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیاجائے ایم کیوایم کے لاکھوں کارکنان تعاون کیلئے حاضر ہیں لیکن ان تمام حقائق کے باوجود الطاف حسین پر غداری کے الزامات لگائے گئے اور لگائے جاتے ہیں ۔ ٹیلی ویژن پر جو ایک ٹولہ ہے جو یک زباں ہوکر اپنے علم و دانش کے جوہرآزما کر خود کو افلاطون ، بقراط ، سقراط اور آئین اسٹائن سے زیادہ قابل ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔ اس ٹولے کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہا جاتا ہے ۔۔۔یہ ٹولہ جس کی چاہے پگڑیاں اچھال دیتا ہے اور جس کو چاہے برابنادیتا ہے۔ جب پیمرا اورکورٹ کے ذریعہ میری تقریر اورتصویر شائع ونشر کرنے پر پابندی لگوائی گئی ۔
میں جنرل راحیل شریف صاحب کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ بری فوج میں ایک طاقتور ادارہ ہوتا ہے جو دنیا میں ہر جگہ ہوتا ہے وہ سیکریٹ ایجنسی کہلاتا ہے ۔۔۔ پاکستان میں بھی یہ ادارہ موجود ہے جوکہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے۔پاکستان میں کوئی اتنا نڈر نہیں ہے جو یہ حقائق بیان کرے ۔۔۔میری جلاوطنی کی وجہ یہی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ مجھے ختم کرنا چاہتی تھی ،اس مقصد کیلئے مجھ پر بموں سے حملے کئے گئے اور میرازندہ رہنا مشکل بنا دیا گیا تو مرکزی کمیٹی کے ارکان نے مجھے برطانیہ بھیج دیا۔۔۔ میں نے لاکھوں مرتبہ آپ سے بھی کہا ہے کہ میں پاکستان واپس آنا چاہتا ہوں۔۔۔آپ مجھے اجازت دیجئے لیکن ہمیشہ آپ نے مجھے منع کردیا ۔۔۔اب برطانیہ میں بھی میرے اوپر مقدمے قائم ہوگئے ہیں ۔۔۔ اگر میرا پاسپورٹ مجھے واپس مل جاتا ہے تو میں پہلی فرصت میں پاکستان واپس آجاؤں۔
میرے بزرگوں، نوجوانوں ،ماؤں ،بہنو!
جنرل راحیل شریف صاحب ،پاکستان آرمی کی سب سے مضبوط شخصیت ہیں۔۔۔میں ان سے کہتاہوں کہ۔۔۔پتہ نہیں یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں ۔۔۔؟سچ ہے یا جھوٹ۔۔۔؟ لیکن مجھے کسی نے بتایا ہے کہ جنرل راحیل شریف صاحب ایک محفل میں کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ڈی ایچ اے اسلام آباد کی زمین پر لینڈ گریبنگ کا کوئی مسئلہ انکے سامنے رکھا گیا تو بتانے والے کھل کر بات نہیں کررہے تھے اس لئے کہ معاملہ سابقہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بھائیوں کا تھا جوکہ زمینوں پر قبضے اور کرپشن میں ملوث تھے ، جس پر جنرل راحیل شریف صاحب نے یہ کہا کہ کوئی بھی اس میں کرپشن میں ملوث ہو ، کتنے بڑے عہدے پر فائزہو یا عہدے پر فائز شخص کا بھائی ہو اس کوعدالت کے کٹہرے میں ضرور لانا چاہئے چاہے اس میں میرا سگا بھائی ہی کیوں نہ شامل ہو۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب!
آپ کی یہ باتیں سن کر میری امید بندھی کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر ترس کھا کر آپ جیسا بہادر ، جری اور باہمت انسان بھیجا ہے۔۔۔ جب آپ نے ضرب عضب کاآغاز کیا اور خود متاثرہ علاقوں میں پہنچ جاتے تھے تو میں آپ کیلئے دعائیں کرتا تھا۔۔۔آج بھی دعا ئیں کرتا ہوں اس اضافے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ آپ کو دیگر معاملات سمجھنے کی توفیق بھی عطا فرمائے ۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب !
کوئی وزیراعظم آئے گا وہ پہلے آپ سے ملاقات کرے گا۔۔۔ کوریا یا امریکہ کا صدرآئے گا وہ پہلے آپ سے ملاقات کرے گا۔۔۔ سعودی عرب کا شہنشاہ آئے گا وہ آپ سے پہلے ملاقات کرے گااوراس کے بعد وہ شخصیات وزیراعطم نوا زشریف سے ملاقات کریں۔۔۔ آئین اور آئین کے معنی قوم کو بتائیں کہ کسی ملک کی فوج کا سربراہ ہو یا صدر ہو ، ولی عہدہو ، نائب صدر ہویا کوئی اور اہم شخصیت ہو ،انہیں پاکستان کی سرحد میں داخل ہونے کے بعد پہلے چیف آف آرمی اسٹاف سے ملنا چاہئے یا وزیراعظم سے ملنا چاہئے ۔ 
جب ہر جگہ پاک چائنا اقتصادی کوریڈور میں آپ شریک ہیں۔۔۔ افغانستان کی بات چیت میں آپ شریک ہیں۔۔۔ سعودی عرب میں 34 ممالک میں شامل ہونا چاہئے یا نہیں، اس معاملہ میں آپ شریک ہیں۔۔۔ وزیراعظم نواز شریف کا بیان نہیںآیا لیکن علمائے کرام نے بیان دیا کہ۔۔۔ رشیا اور امریکہ کی سرد جنگ، افغانستان میں شروع ہوئی تھی۔۔۔ ہم نے اپنی پوری فوج اور ملک کوامریکہ کے پلڑے ڈال دیا۔۔۔پاکستان میں جگہ جگہ مدارس بنوائے ۔۔۔ روس سے لڑنے کیلئے مجاہدین تیار کیے جو مونسٹر بن کرہمارے فوجیوں کو بھی کھانے لگے۔۔۔ امام بارگاہوں، مساجد ، بازاروں میں دھماکے کرنے لگے ، لوگوں کو ذبح کرنے لگے اور فوجیوں کے گلے کاٹنے لگے ، حتیٰ کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے معصوم بچوں کوسفاکی سے قتل اوراسکول پرنسپل جلاکر شہید کرنے لگے ۔۔۔ جب میں باربار کہہ رہا تھا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف مربوط پالیسی بنائی جائے لیکن ہمارے نواز شریف صاحب کو وزیراعظم پاکستان بننے کا شوق ہے۔۔۔ اوروزیراعظم بننے کے بعدپورے سال ملک سے باہر رہنے کا شوق ہے ۔ میاں محمد نواز شریف 365 میں تین سو دن ملک سے باہر رہتے ہیں اور فقظ تیس دن کیلئے پاکستان کے دورے پر آتے ہیں ۔
آپ نوٹ فرمایے ۔۔۔ پاک چائنا اقتصادہی راہداری کا مسئلہ ہوتو وزیراعظم کے ساتھ میں میاں شہباز شریف ہوتے ہیں ۔۔۔وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف ،ترکی کا دورہ کریں تو میاں شہباز شریف ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔۔۔ افغانستان جائیں تو شہباز شریف ساتھ ہوتے ہیں اور امریکہ جائیں تو میاں شہباز شریف ساتھ ہوتے ہیں ۔۔۔پاک چائنا اقتصادی کوریڈور کا تعلق چھوٹے صوبوں سے ہے۔۔۔ صوبہ سرحد، بلوچستان اور صوبہ سندھ سے ہے۔۔۔ صوبہ بلوچستان کا سب سے زیادہ تعلق ہے ۔۔۔اگر وزیراعظم کو پاک چائنا اقتصادی کوریڈورکے سلسلے میں جانا تھا توانہیں بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو لازمی لے کر جانا چاہیے تھالیکن افسوس ایسا نہیں کیاگیا۔

بدقسمتی سے پاکستان کے لیڈروں میں ہمت وجرات نہیں ہے ۔۔۔ اگر چھوٹے صوبوں کے لیڈران دلیر ہوتے تووہ اپنی ایک کمان بنا لیتے۔۔۔الطاف حسین ان کی کمان کا رکن بن جاتا اور چھوٹے صوبوں کے حقوق کیلئے ، چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملکر کام کرتا۔۔۔ سندھیوں کے ساتھ مل کرکام کرتا۔۔۔ بلوچوں ، پختونوں کے ساتھ ملکر کام کرتا اور عوام کے جائز حقوق کی جدوجہد میں اپنا حصہ ضرورڈالتا۔۔۔ لیکن آج صوبہ خیبرپختونخوا کے لوگ بھی دبے دبے لفظوں میں اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ زیادہ زور سے بولے تو ’’دوسرا دوازہ ‘‘بند ہوجائے ۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب !
میں نے آپ کو خط لکھا ۔۔۔ میرے ساتھیوں نے آپ کوخط لکھا ۔۔۔ آپ کو مہاجر بچوں ، نوجوانوں کا قتل نظرنہیں آیا ۔۔۔ ہمارے ساتھ کھلی ناانصافیاں ہوئیں ، آپ کو نظر نہیں آیا ، میں کلمہ طیبہ پڑھ کر کہتا ہوں کہ خدا کی قسم۔۔۔ الیکشن سے پہلے رینجرز نے اپنی سرپرستی میں دوبارہ حقیقی دہشت گردوں کو لانڈھی ، ملیر ، شاہ فیصل کالونی اور مختلف علاقوں میں لاکر بٹھایا ۔۔۔ اب لوگ کہیں گے کہ الطاف حسین نے جنرل راحیل شریف صاحب سے مطالبہ کیوں کیا۔۔۔؟جنرل راحیل شریف تو ملک کے سربراہ نہیں ہیں تو وزیراعظم صاحب !آپ نے چار دن پہلے جب صوبہ سندھ اور وفاق کا مسئلہ چل رہا ہے تو اس مسئلے کیلئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان سے کہاکہ جاکر چار دن میں مسئلہ حل کیجئے تو آج پندرہ دن ہوگئے چوہدری نثار علی خان ، وزیراعلیٰ سندھ سے ملنے نہیں گئے۔۔۔ کیا یہ عمل وزیراعظم کی بے عزتی اور بے توقیری نہیں ہے ۔۔۔؟ تو جنرل راحیل شریف صاحب! آپ نے مداخلت کیوں نہیں کی ۔۔۔؟ آپ ہر چیز میں مداخلت کرتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے تو کیا بانیان پاکستان کی اولادیں۔۔۔ مہاجر عوام یا سندھ کے۔۔۔ کراچی کے رہنے والے پاکستانی مسلمان نہیں ہیں۔۔۔؟ ان کو مارا جائے، ان کے ساتھ ناانصافی ہو ، انہیں بلدیاتی حقوق نہ دیئے جائیں اور وہ الیکشن جیت بھی جائیں تو انہیں اختیارات نہ دیئے جائیں اور الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہو ۔
جنرل راحیل شریف صاحب!
خد اکی قسم آپ چیف الیکشن کمشنر مرکزی دفتر کا دورہ کرکے انہیں خاموشی سے ہدایت دے دیں کہ ایک ہفتے میں یہ کام ہوجانا چاہئے پھرعوام سے خفیہ رائے شماری کے ذریعہ پوچھا جائے کہ چیف الیکشن کمیشن اسلام آباد کے آفس نے انکے حکم کی بجا آوری کی ہے یا نہیں۔۔۔؟
وزیراعطم نوازشریف بار بار وعدہ کرچکے ہیں کہ وہ کراچی آپریشن میں عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی روک تھام کیلئے تین رکنی مانیٹرنگ کمیٹی بنائیں گے۔۔۔یہی وعدہ وفاقی وزیر داخلہ کرچکے ہیں، 2013ء میں اے پی سی میں بھی یہ وعدہ کیاجاتا ہے لیکن اس کے باوجود مانیٹرنگ کمیٹی نہیں بنتی ۔ پھر بھی پورا ملک خاموش ہے۔۔۔ جب ایم کیوایم کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔۔۔ آپریشن کے دوران نائن زیرو پرچھاپے مارے گئے،ایم کیوایم کے کارکنوں کا قتل کیاگیا ،انہیں گرفتارکیاجارہا تھا توسندھ حکومت کی نظر میںیہ آپریشن بڑا اچھا تھا ۔۔۔وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کل ہی بیان دیا ہے کہ آپریشن کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف موڑدیا گیا ہے۔۔۔یہ آپریشن اب غلط ہوگیاہے۔۔۔ ڈاکٹر عاصم کو کیوں گرفتارکیاگیا؟ منورتالپور کو کیوں پکڑا گیا؟ ۔پیپلزپارٹی کے چیف منسٹر نے پہلے توکہا کہ ایم کیوایم کونشانہ بنایاجارہا ہے ، وہ بالکل ٹھیک ہورہاہے۔۔۔ پہلے جو آپریشن تھا وہ ٹھیک تھا تو پہلے کون کررہا تھا اوراب آپریشن کون کررہا ہے؟ پیپلزپارٹی کااب تک کون ماورائے عدالت قتل ہوا ہے ۔۔۔؟پیپلزپارٹی کے کس کس لیڈر کورینجرز نے گرفتارکرکے قتل کیا اور پھر لاش سڑک پر پھینک دی ۔۔۔؟ایم کیوایم کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل ۔۔۔اندھادھندگرفتاریوں۔۔۔نائن زیرو پر چھاپوں پر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے کوئی مذمت نہیں کی ۔۔۔آصف زرداری نے کوئی مذمت نہیں کی ۔۔۔دہشت گردی کے خلاف قانون سازی کی بعض شقوں پر میں راضی نہیں تھا اور فوج کے لوگوں نے تواتر کے ساتھ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن فون کئے تھے کہ سارا معاملہ آپ کی وجہ سے اٹکا ہوا ہے، جنرل راحیل شریف نے یقین دہانی کرائی ہے اور کہاہے کہ یہ آپریشن جیٹ بلیک ۔۔۔ دہشت گردوں کے خلاف ہوگا جو اسکولوں کے بچوں پر فائرنگ کرتے ہیں ،۔۔۔ فوجیوں کا قتل کرتے ہیں ۔ اس آپریشن کا یہ مینڈیٹ تھا ۔۔۔ اس میں کہیں بھی یہ نہیں تھا کہ رینجرز کے ایم سی ، واٹر بورڈ اوردیگر ادراروں میں جائے گی اور کرپشن کے معاملات دیکھنا شروع کردے گی ۔ میں آصف زرداری کی اس بات کی تائید کرتا ہوں اوراس ناراضگی پر ان کا ساتھ دیتا ہوں کیونکہ میرے اند ر اتنی جرات ہے البتہ یہ علیحدہ بات ہے آصف زرداری کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ کہہ سکے کہ ایم کیوایم کے بے گناہ لوگوں کو ماراجارہا ہے اے پی سی کا یہ مینڈیٹ نہیں تھا ۔
میں سچ بولنے سے بازنہیں آسکتا ۔۔۔ میں نے تو کہاہے کہ آصف زرداری صاحب نے جو اعتراض کیا وہ بالکل صحیح کیا ہے ۔۔۔اس کانفرنس میں یہ مینڈیٹ نہیں دیا گیا تھا کہ رینجرز کرپشن کے کیسوں میں گھس جائے گی۔۔۔ اور کیا انہوں نے آپریشن کیلئے صرف صوبہ سندھ ہی کوچنا ہے۔۔۔ کیا پنجاب میں آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔؟پاک فوج اورجنرل راحیل شریف صاحب ہمیں کھل کر بتا دیں کہ آپ پاکستان کو کتنا مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔ جب 1947ء میں پاکستان بنا تھا اس وقت پاک فوج کی کتنی بٹالین تھی اور آج کتنی ہے۔۔۔؟ جب پاکستان کی آبادی پانچ کروڑ تھی تب بھی پاکستان کے چار صوبے تھے اور اب پاکستان کی آبادی کئی گنا زیادہ بڑھ چکی ہے تب بھی صرف چارہی صوبے ہیں۔۔۔ اتنی بڑی آبادی کا نظام چار صوبوں میں نہیں چل سکتا۔۔۔ اس لئے میں نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پرنئے صوبے قائم کیے جائیں ۔ جنرل راحیل شریف صاحب! پاکستا ن کو بچانے اور پاکستان میں ایک قوم کا تصور ابھارنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں فی الفور20 صوبے بنا دیئے جائیں۔۔۔ کراچی سمیت چاروں صوبوں میں انتظامی بنیادوں پرنئے صوبوں کا اضافہ ملک میں بہتر حکمرانی کا باعث بنے گا ۔۔۔ کراچی میں پنجابی ، بلوچی ، سندھی ، پختون ،پنجابی ، ہزارے وال ، کشمیری ، گلگت بلتستان کے لوگ ۔۔۔ہندو، سکھ اور عیسائی سب اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمارا صوبہ بن گیا توہم سب مل کر ساتھ رہیں گے اورمیرٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا ۔۔۔پنجابی ، سندھی ، بلوچ ، پختون ، ہزارے وال، سرائیکی ، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی جو کراچی میں بال بچوں کے ساتھ رہتا ہے اگر وہ میرٹ پر اترا تو وہ میئر بھی بن سکتا ہے اور چیف منسٹر بھی بن سکتا ہے ۔۔۔سب کو پورا پورا حق ملے گا۔۔۔ کسی کا حق نہیں ماراجائے گا۔۔۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی ۔
جوعناصر نومنتخب بلدیاتی قیادت۔۔۔ چیئرمین ، وائس چیئرمین کیلئے مصیبتیں کھڑی کررہے ہیں ، مین ہولز میں بوریاں ڈال کر گٹربند کررہے ہیں وہ عوام کو پریشان کرنے کاسلسلہ بند کردیں۔ 
جنرل راحیل شریف صاحب !
میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے مسئلہ پرسندھی دانشوروں کو بلا کر ایک مرتبہ اور انکی دلیل سن لیں۔۔۔ان کے تحفظات سن لیے جائیں اوران کے تحفظات دور کردیئے جائیں اگر سندھی دانشورمطمئن ہوجاتے ہیں اور کالاباغ ڈیم پاکستان کے مفاد میں ہوا تو پھرہم بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی حمایت کریں گے ۔ میں حکومت سندھ کوبتانا چاہتا ہوں کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہتے،سب کے ساتھ ملکر رہنا چاہتے ہیں لہٰذاکشمور تک نومنتخب سندھی کونسلرز ، وائس چیئرمین اور چیئرمین کو اپنے علاقے کی ترقی کیلئے اختیارات دیئے جائیں۔۔۔انہیں فنڈز دیئے جائیں ، اسی طرح میر پورخاص ، نوابشاہ ، ٹنڈو الہیار ، ٹنڈ وجام ، حیدرآباد اورکراچی کو بھی اختیار ات اور فنڈز دیئے جائیں ۔۔۔اگر کراچی کے عوام کو اختیارات نہیں دیئے گئے تو کراچی کے عوام اپنے جائز حقوق کیلئے جمہوری طریقے سے احتجاج کا حق استعمال کرنے پر مجبورہوں گے پھر اس کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
جنرل راحیل شریف صاحب !
میں پاکستان کا دشمن نہیں ہوں ،میرے بارے میں کہاجاتا ہے کہ میں بہت تنقید کرتا ہوں ، آپ مجھے ملاقات کیلئے وقت دیں۔۔۔انشاء اللہ آپ مجھے تین گھنٹے میں پہچان لیں گے اور آپ نے کبھی کوئی ایسا آدمی دیکھا ہی نہیں ہوگا ۔ میں جنرل راحیل شریف صاحب ۔۔۔ان کے دوستوں ۔۔۔ پورے محکمے کو یقین دلاتا ہوں کہ میں پاکستان کا دشمن نہیں ہوں۔۔۔ہمیں جیتاجاگتا انسان سمجھا جائے ۔۔۔ بخدا!! ہمیں بھی پیاس لگتی ہے ،بھوک لگتی ہے۔۔۔ہمیں بھی روزگار چاہئے۔۔۔ اگرہمیں بھی انصاف فراہم کیاجائے۔۔۔ہم سچے محب وطن ہیں ۔۔۔اگرہمارا پڑوسی ملک ہم سے پیار سے ۔۔۔برابری سے بات کرے گا تو ہم کریں گے ورنہ ہم کسی طاقت کے آگے اپنا سرنہیں جھکائیں گے ۔ 
الیکشن کمیشن والو! نومنتخب عوامی نمائندوں کا فوراً حلف لے لو ،۔۔۔ بہتر ہے کہ سندھ حکومت افہام وتفہیم سے اختیارات دیدے ورنہ کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ 
تحریکی ساتھیو!
انتہائی مختصر نوٹس پر یہ احتجاجی مظاہرہ منعقد کرنے پر آپ تمام زبردست خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔۔۔میں دعا گوہوں کہ اللہ تعالیٰ، پاکستان میں امن عامہ قائم کرے ۔۔۔ پاکستان میں ایک قوم کا تصور ابھرے ۔۔۔عوام کے درمیان پیار، محبت یگانگت بڑھے ۔۔۔ عالمی سطح پرشیعہ سنی فسادات کی سازشیں ناکام ہوں۔۔۔ پاکستان بھر کے عوام بالخصوص ایم کیوایم کے کارکنان اپنے اپنے علاقوں میں شیعہ سنی فساد ات کی سازش سے ہوشیار رہیں۔۔۔ماضی کی طرح اتحاد کا مظاہرہ کرکے شیعہ سنی فساد کی ہرسازش کو ناکام بنادیں ۔۔۔اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کریں۔۔۔ ایک دوسرے کی جان ومال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کریں ۔۔۔ انشاء اللہ ہم ایک دوسرے کی حفاظت کریں گے ۔ 
قرآن مجید میں ہے کہ جو سمجھ جائے اس کا ساتھ دو جو نہ سمجھے اس کے خلاف ڈٹ جاؤ۔۔۔ہم سے ٹکر لینے والوں کوہم اپنے الفاظ میں۔۔۔ آخری مرتبہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ 
کیا عشق نے سمجھا ہے 
کیا حسن نے جانا ہے 
ہم خاک نشینوں کی 
ٹھوکر میں زمانہ ہے 
اللہ حافظ 
*****


12/5/2016 4:35:57 AM