Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ہمیں سندھ میں رائج غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم اب کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہے، الطاف حسین


ہمیں سندھ میں رائج غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم اب کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہے، الطاف حسین
 Posted on: 1/17/2016
ہمیں سندھ میں رائج غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم اب کسی بھی قیمت پر منظور نہیں ہے، الطاف حسین
ارباب اختیار کو ملک میں نئے صوبے بنانے ہونگے، سندھ میں بھی دو یا تین صوبے بنائے جائیں
ہم اپنے حقوق سے کسی بھی قیمت پر دستبردار نہیں ہوں گے۔ الطاف حسین
میرا حوصلہ توڑنے کیلئے میرے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کو تین روز تک تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا
ہم نے قیام پاکستان کیلئے 20لاکھ جانوں کی قربانی کیا اسی لئے دی تھی کہ ہمارے ساتھ بھیانک سلوک کیا جائے؟
ہماراجرم یہ ہے کہ ہم نے اپنے حقوق کیلئے آوازبلندکی اوراس کیلئے جدوجہدشروع کی اور اسٹیٹس کو کو چیلنج کیا
آپریشن صرف اور صرف ایم کیوایم کے خلاف کیا جارہا ہے، نائن زیرو پر دومرتبہ چھاپہ مارا گیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا
اگر یہ آپریشن بلاامتیاز ہے تو کیا آج تک کسی اور سیاسی یا مذہبی جماعت کے سربراہ کے گھر پر چھاپہ مارا گیا؟
کارکنوں کو وصیت کرتا ہوں کہ اگراس جدوجہدمیں مجھے شہید کردیا جائے تب بھی آپ اپنی جدوجہد جاری رکھنا
لال قلعہ گراؤنڈ عزیزآباد میں ہونیو الے ایک بڑے جنرل ورکرزاجلاس سے خطاب
کراچی۔۔۔ 17 جنوری 2016ء
ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ہمیں سندھ میں رائج غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم اب کسی بھی قیمت پر منظورنہیں ہے ، ارباب اختیارکواب اس سلسلے کوختم کرناہوگا،ملک میں نئے صوبے بنانے ہوں گے اورسندھ میں بھی دویاتین صوبے بنائے جائیں،ہم اپنے حقوق سے کسی بھی قیمت پر دستبردارنہیں ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات اتوارکی شب لال قلعہ گراؤنڈعزیزآبادمیں ہونیو الے ایک بڑے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایم کیوایم کے تمام سیکٹروں اور یونٹوں کے کارکنوں،ذمہ داروں، تنظیمی ونگز اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے کارکنوں، بزرگوں،خواتین ،ایم کیوایم کے نومنتخب بلدیاتی نمائندوں ، سینیٹرز اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اوررابطہ کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی ۔اس موقع پر جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کے تنظیمی اسٹرکچرمیں تبدیلیوں کااعلان بھی کیا۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں ایم کیوایم کے قیام کی وجوہات اورمہاجروں پر ہونے والے مظالم کی روداد بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک کی تاریخ پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہاکہ عموماًانسان خطرات سے گھبراتا ہے،مشکلات اورتکالیف سے دور رہناچاہتاہے لیکن میں نے مہاجروں پر مظالم دیکھے توان پرخاموش رہنے کے بجائے انکے خلاف جدوجہدکا آغاز کیااورجامعہ کراچی میں ’’ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔تحریک شروع کرنے کی پاداش میں مجھے تین مرتبہ گرفتارکیاگیا، سرکاری ٹارچرسیلوں میں مجھ پر تشدد کیا گیا، میرے قتل کی سازشیں کی گئیں، جب مجھ پر بم سے حملہ ہواتومرکزی کمیٹی نے سخت اصرار کرکے مجھے پاکستان سے باہر بھیج دیااورمیں ساتھیوں کے اصرارپر لندن آگیا۔ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیاگیا جوکسی نہ کسی شکل میں جاری رہا۔ اس دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو پکڑ پکڑ کر ان کاماورائے عدالت قتل کیاگیا، سرکاری ٹی وی پرایم کیوایم اورخصوصاًمیری ذات کے خلاف انتہائی زہریلاپروپیگنڈہ کیاگیا۔ جب تمام ترمظالم اور زہریلے پروپیگنڈوں کے باوجود عوام نے میراساتھ نہیں چھوڑاتومیراحوصلہ توڑنے کیلئے میرے بڑے بھائی 66سالہ ناصرحسین اور28سالہ بھتیجے عارف حسین کو گرفتار کیا گیا اور تین روز تک بہیمانہ تشددکانشانہ بناکر 9دسمبر1995ء کوانہیں شہیدکردیاگیا۔اس بدترین ظلم وستم پربھی میرے حوصلوں کوتوڑانہیں جاسکا، میں نے اللہ تعالیٰ سے یہی دعاکی کہ وہ مجھے صبرعطاکرے اورمیں نے اپنے کارکنان وعوا م کوبھی صبرکی تلقین کی ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے قیام پاکستان کیلئے 20لاکھ جانوں کی قربانی کیااسی لئے دی تھی کہ ان کی اولادوں کے ساتھ ایسا بھیانک سلوک کیاجائے؟ آخرہماراقصور کیا ہے؟ آخرکس جرم میں میرے پیارے پیارے ساتھیوں کی لاشیں بچھائی گئیں؟انہوں نے کہاکہ 2013ء میں آرمی چیف، وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس آئی، چیف منسٹرکی موجودگی میں آل پارٹیزکانفرنس کرکے کراچی میں آپریشن کافیصلہ کیاگیااوراس میںیہی طے کیا گیا تھاکہ آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہوگالیکن صورتحال واضح ہے کہ آپریشن صرف اورصرف ایم کیوایم کے خلاف کیاجارہاہے ، اس آپریشن کے دوران بھی ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپر دومرتبہ چھاپہ ماراگیااورایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور آج بھی کیاجارہاہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ اگریہ آپریشن بلاامتیازہے تو کیاآج تک کسی اورسیاسی یامذہبی جماعت کے سربراہ کے گھرپر چھاپہ ماراگیا؟اخرایم کیوایم پر ظلم کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا یہی ہمارے بزرگوں کی قربانیوں کا صلہ ہے؟ انہوں نے کہاکہ ہماراجرم یہ ہے کہ ہم نے اپنے حقوق کیلئے آوازبلندکی اوراس کیلئے جدوجہدشروع کی اور اسٹیٹس کوکوچیلنج کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تہیہ کررکھاہے کہ چاہے کیسے ہی مظالم کیوں نہ ڈھائے جائیں ، ہم اپنی جدوجہدسے دستبردارنہیں ہوں گے اور اپنی جدوجہدجاری رکھیں گے ۔انہوں نے کارکنوں کومخاطب کرتے ہوئے میں آپ کووصیت کرتاہوں کہ اگراس جدوجہدمیں مجھے شہیدکردیاجائے تب بھی آپ اپنی جدوجہد جاری رکھنا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے ارکان نے قومی اسمبلی میں ایک قراردادجمع کرائی ہے کہ پاکستان میں 20 صوبے بنائے جائیں اورآبادی کے تناسب سے انتظامی بنیادوں پر صوبے اورانتظامی یونٹس قائم کئے جائیں ، اسی طرح سندھ میں بھی دویاتین صوبے بنائے جائیں ۔انہوں نے کہاکہ آج ہم واضح الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ کوٹہ سسٹم جو کہ 1973سے سندھ میں رائج ہے لیکن اب ہمیں سندھ میں یہ غیرمنصفانہ کوٹہ سسٹم کسی بھی قیمت پر منظورنہیں ہے ۔انہوں نے کارکنوں پرذوردیاکہ وہ آنے والے حالات کاسامناکرنے کے لئے خودکوذہنی وجسمانی طور پر تیارکریں۔ انہوں نے سعودی عرب اورایران کے درمیان تنازعہ کے حوالے سے عوام سے کہاکہ چاہے حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں، ہم آپس میں نہیں لڑیں گے اورآپس میں اتحادویکجہتی کے ساتھ رہتے رہیں گے۔ 

  

12/10/2016 10:39:26 AM