Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک الطاف حسین نے پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی برسوں پہلے نشاندہی کردی تھی۔ رابطہ کمیٹی


قائد تحریک الطاف حسین نے پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی برسوں پہلے نشاندہی کردی تھی۔ رابطہ کمیٹی
 Posted on: 1/14/2016
قائد تحریک الطاف حسین نے پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی برسوں پہلے نشاندہی کردی تھی۔ رابطہ کمیٹی
ارباب اختیار نے قائد تحریک الطاف حسین کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں کوئی ’’طالبانائزیش‘‘ نہیں ہورہی ہے 
ارباب اختیار و اقتدار نے اس خطرے کے بارے میں اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنا سر ریت میں چھپا کر ملکی سا لمیت کو
درپیش اس خطرے سے آنکھیں چرالیں۔ رابطہ کمیٹی
پاکستان کے وزیر داخلہ نے تو یہ بیان تک دے دیا کہ پاکستان میں داعش کے وجود کا کوئی امکان ہی نہیں ہے
سچ بولنے کی پاداش میں قائد تحریک الطاف حسین کے خطابات و تصاویر کی کوریج پر پابندی عائد کردی گئی
ملکی سلامتی و بقاء کے لئے ضروری ہے کہ قائد تحریک الطاف حسین کے نشری خطابات و خبروں کی کوریج پرعائد پابندی ختم کی جائے۔رابطہ کمیٹی

کراچی۔۔ 14جنوری2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے مسلم لیگی رہنما شیخ رشید کی جانب سے اسلام آباد میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے اعتراف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کے ارباب اختیار و اقتدار نے قائد تحریک الطاف حسین کی پیشگی و ارنگز پر دھیان دیکر فوری اقدامات کر لئے ہوتے تو قوم کو آج اس مسئلہ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
اپنے ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین محض ایک سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ ملکی و بین الاقوامی حالات اور دنیا بھر میں ہونے والی تمام تر سیاسی ، مذہبی و سماجی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والے مفکر و دانشور بھی ہیں جنھوں نے پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی برسوں پہلے نشاندہی کردی تھی تاہم اس وقت کی حکومت اور تمام تر سیاسی و عسکری قیادت نے قائد تحریک الطاف حسین کے خدشات کو بے بنیاد کہہ کر مسترد کردیا تھا۔ صدر پاکستان اور وزیراعلیٰ سندھ نے باقاعدہ بیانات کے ذریعے قائد تحریک الطاف حسین کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں کوئی ’’طالبانائزیشن‘‘ نہیں ہورہی ہے ، تاہم وقت نے ثابت کردیا کہ قائد تحریک الطاف حسین کے خدشات سو فیصد درست تھے اور ملک میں طالبانائزیشن اس حد تک جڑ پکڑ چکی تھی کہ مسلح افواج کو اس کے خلاف باقاعدہ آپریشن کرنے پڑے جو آج تک جاری ہیں۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ جب کچھ عرصہ قائد تحریک الطاف حسین نے پاکستان میں داعش کی موجودگی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی نشاندہی کی تو تمام تر ارباب اختیار و اقتدار حتیٰ کہ میڈیا پر تجزیہ و تبصرہ کرنے والے ماہرین تک نے اس کا انکار کیا۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے تو یہ بیان تک دے دیا کہ پاکستان میں داعش کے وجود کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ انتہا یہ ہے کہ جب سانحہ صفورا گوٹھ میں داعش کے ملوث ہونے کے ثبوت تک مل گئے اور اس کے بعد مسلسل ہونے والے دہشت گردی کے درجنوں واقعات کی بھی داعش نے ذمہ داری قبول کرلی تب بھی ملک کے ارباب اختیار و اقتدار نے اس خطرہ کے بارے میں اپنی آنکھیں بند رکھیں اور اپنا سر ریت میں چھپا کر ملکی سا لمیت کو درپیش اس خطرہ سے آنکھیں چرالیں۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ انتہا یہ ہے کہ سچ بولنے کی پاداش میں قائد تحریک الطاف حسین کے خطابات و تصاویر کی کوریج پر پابندی عائد کردی گئی۔ جبکہ ملک کی سلامتی کی دشمن کالعدم جماعتوں اور گروہوں کی کھلم کھلا سرپرستی کی جاتی رہی۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ملکی سلامتی و بقاء کے لئے ضروری ہے کہ زمینی حقائق کا اعتراف کیا جائے، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہا جائے،قائد تحریک الطاف حسین کے نشری خطابات و خبروں کی کوریج پرعائد پابندی ختم کی جائے اور ایم کیوایم جیسی محب وطن، لبرل، سیکولر اور روشن خیال جماعت کے ساتھ مل کر پاکستان کو بچانے کی جدوجہد کی جائے۔

9/26/2016 2:03:15 PM