Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کاپاکستان ایساتھاکہ ہرخطے میں تمام قومیت کے لوگ پاکستانی بن کر رہیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار


قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کاپاکستان ایساتھاکہ ہرخطے میں تمام قومیت کے لوگ پاکستانی بن کر رہیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
 Posted on: 1/8/2016 1
قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کاپاکستان ایساتھاکہ ہرخطے میں تمام قومیت کے لوگ پاکستانی بن کر رہیں،ڈاکٹرمحمدفاروق ستار
آج اگر عالمی امن کو خطرہ ہے آج ہمیں پاکستان کو بچانا بھی ہے اور بنانابھی ہے اسی لیے قائدتحریک الطاف حسین نے یہ سیمیناربلایا ہے 
پا کستان کی معیشت آئی ایم ایف نے گر وی رکھی ہو ئی ہیں پو را پا کستان قر ضہ میں ڈوبا ہو اہے،آغا مسعود
ملک کے تعلیمی اداروں میں انتہاء پسند ذہنیت کے حامل لوگوں کو مضبوط کیاجنہوں نے نوجوانوں کے ذہن کونام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا،شہربانو
پاکستان ایک ایساملک ہے جہاں لوگوں کوان کے حقوق سے محروم رکھاجارہاہے اوریہ تصوردیاجاتاہے کہ پاکتان ایک دہشت گرد ملک ہے
سازش کے ذریعے مشرق وسطی کے تنازع پر ملک کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،فہمیدہ ریاض
سیمینارمیں رکن قومی اسمبلی کشورزہرانے معززمہمانوں کاقائدتحریک الطاف حسین کی جانب سے شکریہ اداکیا
کر اچی ۔۔۔8جنو ری 2016ء 
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سینئرڈپٹی کنوینرڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح ؒ کاپاکستان ایساتھاکہ ہرخطے میں تمام قومیت کے لوگ پاکستانی بن کر رہیں،آج پاکستان میں لسانی تقسیم اوردینی تقسیم ہے قائداعظم ؒ نے تصورمیں بھی نہیں سوچاہوگاکہ پاکستان ایسے تقسیم درتقسیم ہوگا۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے آج کہہ دیاہے کہ11اگست1948ء والاپاکستان چاہئے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے لال قلعہ گراؤنڈعزیز آبادمیں ایم کیوایم شعبہ خواتین کے تحت بین الاقوامی صورتحال پر’’تیزی سے بدلتا عالمی تناظراورہماراپاکستان کے عنوان سے منعقدہ سیمینارکے شرکاء سے خطاب کے دوران کیا۔سیمینارسے آغامسعودحسین، محترمہ زرین مجید،شہربانو،فہمیدہ ریاض ،ساجدہ پروین ،خوش بخت شجاعت اورکشورزہرانے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹرمحمدفاروق ستارنے کہاکہ قائد اعظم نے 11اگست 1948کی اپنی تقریرمیں واضح الفاظ میں کہہ دیاہے کہ سب اپنے اپنے مذہب کے مطابق آزاد ہیں اور جب باہر آئیں تو ملک تعمیر و ترقی کے لئے ایک ہوں۔انہوں نے کہاکہ آج اگر عالمی امن کو خطرہ ہے آج ہمیں پاکستان کو بچانا بھی ہے اور بنانابھی ہے اسی لیے قائدتحریک الطاف حسین نے یہ سیمیناربلایا ہے کہ اس کے آگے کا سفر اب بہنوں اور ماؤں کو لے کر جانا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم مشرق وسطی میں امن کے لئے کوشاں ہے اوریہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم نے اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین لسان بھی قائم کیا،05دسمبر کو ہم نے پاکستان کی بقا کی بنیاد رکھ دی ہے ، اب حکومت کو 34 رکنی اتحاد میں شامل ہونے سے پہلے بہت سوچنا پڑے گا۔انہوں نے کہاکہ ہماری شمال مشرقی اور مغربی سرحدیں پہلے ہی غیر محفوظ ہیں اور ہم مزید کسی تنازعہ میں نہیں پڑسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی امن کے خطرے سے پاکستان کی بقا کو خطرہ ہے یہ بات الطاف حسین کئی سالوں سے کہہ رہے ہیں ، ایک اورعالمی جنگ ہونے کو ہے اور یہ کہیں نہیں بلکہ مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ قائدتحریک جناب الطاف حسین صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پورے مشرق وسطی کی بقا کی بات کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے غیرجانبدار رہتے ہوئے مظلوم کی نشاندہی بھی کرنی ہے ہم پہلے ہی اپنے ملک میں القاعدہ ،طالبان اور داعش سے ایک جنگ لڑرہے ہیں لہٰذا ہم کو کسی تنازعہ سے بچتے ہوئے اپنے ملک کے بارے سوچنا ہے ۔انہوں نے خواتین کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے علمائے مشائخ کااجلاس بلایاتاکہ وہ ملک میں امن کادرس دیں اور دوسر ااجلاس انہوں نے خواتین کابلایاکیونکہ ماں کی گودبھی ایک درس گاہ ہوتی ہے انہوں نے تمام خواتین سے کہاکہ اب وہ تیاررہیں اورامن کے حوالے سے قائدتحریک الطاف حسین کے پیغام کو گھرگھرپہنچائیں۔رکن رابطہ کمیٹی محترمہ زرین مجیدنے کہاکہ سعودی عرب میں ایران سے تعلق رکھنے والے ایک عالم سمیت47لوگوں کی گردنین کاٹی گئیں جس سے عالمی صورتحال کشیدہ ہوناشروع ہوگئی اورخصوصاًمسلم ممالک میں اس مسئلے کولیکرپریشانی کوبڑھتادیکھ کرقائدتحریک الطاف حسین نے علمائے کرام کااجلاس بلایااورامن وامان کی صورتحال کے حوالے سے بات کی ۔انہوں نے کہاکہ آج خواتین کایہ اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کامقصدقیام امن ہے۔سیمینارسے معروف تجزیہ نگارآغا مسعود حسین نے کہاکہ یہ پو رے یو رپ میں مسئلہ ہو ا ہے پا کستان کی معیشت آئی ایم ایف نے گر وی رکھی ہو ئی ہیں پو را پا کستان قر ضہ میں ڈوباہو اہے۔ سابقہ حکو مت نے اس ملک کے خزانہ کو لو ٹہ اور اس وقت کے وزیر اعظم بھی ان کے ساتھ شر یک تھے،ملک کے پڑھالکھانوجوان بیرون ملک اپنامستقبل تلاش کررہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کا کام صرف اپنے مفاد کے لئے سیاست کرنا ہی نہیں بلکہ ملک کے نظم و نسق کو بھی بہتر انداز میں چلانابھی ہے اور ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر ہونے والے معاملات پر بھی نظر ہونا چاہیئے ۔جہاں تک سعودی اور ایر ان کے تنازع کا تعلق ہے اس پر بھی سب سے پہلے آواز ایم کیو ایم کے قائدجناب الطاف حسین نے اٹھا ئی جناب الطاف حسین کی ہمیشہ بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر رہی ہے آج خطے کی سیاست میں جو تبدیلی آرہی ہے اور اس کے جو اثرات خطے اور خصوصاََ مشرق وسطی پر ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ ایشیا میں پاکستان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے آج ملک میں غر یب سے غریب ہو گیا اور امیر سے امیر تر ین ہو گیا ۔ہند وستان سے اچھے تعلقا ت ہو نے چاہیے کیو نکہ وہ پر وسی ملک ہے ہماری ہند وستان سے تجا رت ہو نی چاہیے۔معروف اسکالرشہر بانونے اسلام آباد میں لال مسجد سے داعش کی حمایت میں نکلنے والی ریلی کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو شرم آنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ جوکچھ آج دنیا میں ہو رہا ہے اس کی ابتداء بہت پہلے ہوچکی تھی ایک منظم سازش کے تحت ہمارے تعلیمی اداروں میں اس طرح کے لوگوں کو مضبوط کیا گیا جو کہ نوجوانوں کے ذہن کونام نہاد جہاد کی جانب راغب کرنے کی کوششوں میں لگے رہے اور ہم نے ان کوبدلنے کی کوشش بھی نہ کی۔جمہوریت اور بادشاہت میں بڑا فرق ہوتا ہے جمہوریت میں اختلاف کیا جاتا ہے تو نیلسن مینڈیلا کو35سال کے لئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہوئی لیکن بادشاہت میں ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے والے کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔ ہم کو آج اس تنازعہ میں نہیں پڑنا اگر ہم نے آج اس بات کو نہ سمجھا اور ایک دوسرے کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچتے رہے تو کوئی ہمارے پیرون کے نیچے سے زمین کھینچ لے گا ۔ اس بات کو اگر کسی نے محسوس کیاتو وہ جناب الطاف حسین ہیں اور سب سے بہترین کام یہ کیا کہ انہوں نے خواتین کو بلایا اور ان کی ذہن سازی کرنے کا اہتمام کیا۔ ایم کیوایم ہمیشہ ہر مرحلے میں پہل کرتی ہے مسئلہ چاہے یمن کا ہو یا سوات میں نظام عدل کا بل ہو ایم کیوایم نے کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔عرب عجم دونوں ہمارے دوست نہیں ہیں، ہم خود ملک میں اپنی جنگ لڑرہے ہیں ، ہم کسی اور کی جنگ لڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کے تنازعے کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ مفادات کی جنگ اور سیاسی کھیل ہے ۔ ہمیں انسانیت کوبچانا ہے ۔ہم کو ڈرایا جاتا ہے کہ عرب میں ہمارے پندرہ لاکھ افراد بے روزگار کردیاجائیگااورہم غلام بن رہے ہیں اس کے ذمہ دار بھی ہمارے حکمران ہیں انہوں نے اپنی معیشت بہتر کیوں نہ کی۔محترمہ فہمیدہ ریاض نے کہاکہ ایک سازش کے مشرق وسطی کے تنازع پر ملک کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس ملک میں تما م مسالک کے لوگ مل جل کررہتے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلہ شیعہ یا سنی کا نہیں ہے اور اس بات کو سب سے پہلے اگر کسی نے نوٹس کیا تو وہ جناب الطاف حسین ہیں اور فوری طور پر اس پر آگہی وینے کے لئے کام شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کے حالات کو دیکھنا ہے ،مشرق وسطی کی حالیہ صورت حال سے اس سے ہم کو دور رہنا ہے ہم نہ ایرانی ہیں نہ سعودی ہیں ہم پاکستانی ہیں اور ہمیں پاکستانی بن کر رہنا ہے۔ماہرتعلیم محترمہ ساجدہ پروین نے کہاکہ ملک میںآنیو الے خطرے سے قائدتحریک الطاف حسین نے آگاہ کیااورآج بھی ممکنہ خاطرات سے لوگوں کوآگاہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب بھی وقت ہے اگرالطاف حسین کے خدشات کوسنجیدگی سے نہ لیاگیاتوملک مزیدمسائل میں گھیرجائیگا۔سینیٹرخوش بخت شجاعت نے کہاکہ پاکستان ایک ایساملک ہے جہاں لوگوں کوان کے حقوق سے محروم رکھاجارہاہے اوریہ تصوردیاجاتاہے کہ پاکتان ایک دہشت گرد ملک ہے۔آخرمیں سیمینارسے ایم کیوایم شعبہ خواتین کی انچارج ورکن قومی اسمبلی محترمہ کشورزہرہ نے کہاکہ خو اتین کا یہ اجتما ع اس با ت کا ثبو ت ہیں ہما ری خاتو ن گھر کے کام کیلئے نہیں معیشت پہ بھی ہیں ہر کام میں آگے ہیں آج کی تا ریخ میں اس نے یہ ثا بت کر دیا عورتیں کسی بھی لحاظ سے کمزورنہیں ہیں تاریخ نے ثابت کیاہے کہ خواتین نے ہرطرح کے حالات میں ڈٹ کر مقا بلہ کیا ۔ایسے دانشور ہے جو کچھ ایم کیو ایم سوچ رہی ہیں اور قائد تحریک سوچ رہیں ہے ہر قومیت اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے لو گ ہے انہیں کبھی الگ نہیں سمجھا ۔انہوں نے معززمہمانوں کاقائدتحریک الطاف حسین کی جانب سے شکریہ اداکیا۔





تصاویر

9/29/2016 10:17:06 AM