Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان چونتیس ممالک کے اتحاد کا حصہ نہ بنے اس اتحاد سے پاکستان کا تعلق نہیں، علماء و مشائخ


پاکستان چونتیس ممالک کے اتحاد کا حصہ نہ بنے اس اتحاد سے پاکستان کا تعلق نہیں، علماء و مشائخ
 Posted on: 1/4/2016 1
پاکستان چونتیس ممالک کے اتحاد کا حصہ نہ بنے اس اتحاد سے پاکستان کا تعلق نہیں، علماء و مشائخ 
روس امریکہ کی سرد جنگ سے اسلام کو فائدہ نہیں ہوااس سے عالم اسلام کیلئے بہت مسائل پیدا ہوگئے، سینیٹرمولانا تنویر الحق تھانوی
جناب الطاف حسین نے بروقت قدم اُٹھایا ہے ، اس وقت حقیقت میں امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے،علامہ عباس کمیلی
سانحہ پشاور کے بعد آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اور آج جناب الطاف حسین نے تمام 
علمائے حق کو بلاکر’’ ضرب حق‘‘ کا آغاز کیا ہے ، علامہ عباس کمیلی
ایم کیوا یم کے تحت لال قلعہ گراؤنڈ میں منعقدہ اتحا د بین المسلمین اجلاس میں مختلف علما ء کرام کا جناب الطاف حسین سے مکالمہ
کراچی ۔۔۔4جنوری2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے زیر اہتمام پیر کی شام لال قلعہ گراؤنڈ عزیز آباد میں اتحا دبین المسلمین کیلئے مختلف علماء و مشائخ کے اجلاس میں علماء کرام سے جناب الطا ف حسین سے براہ راست گفتگو کر تے رہے اور انکی جانب سے پوچھے جانے والے مختلف سوالات کا تفصیلی جواب دئیے ۔جناب الطاف حسین سے گفتگو کر تے ہوئے سینیٹر مولانا تنویر الحق تھانوی نے کہاکہ 90ء کی دہائی میں روس اور امریکہ کی سرد جنگ سے اسلام کو فائدہ نہیں ہوابلکہ اس سے مسلمانوں کیلئے بہت مسائل پیدا ہوگئے ،انہوں نے کہاکہ آج کی محفل کامضمون پاکستان اسلام اور دین محمدیؐ کو بچانے کا مضمون اور اتحاد بین المسلمین کا پیغام ہے۔معروف اہل تشیع عالم دین علامہ عبا س کمیلی نے کہاکہ آج کا اہم اجلاس طلب کرکے جناب الطاف حسین نے انتہائی متبرک اور بروقت قدم اُٹھایا ہے ، اس وقت حقیقت میں امت مسلمہ کو اتحاد کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو بلاکراجلاس کیا گیاا اور سب نے عہد کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہئے جس کے بعد آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اسی طرح آج آپ نے تمام علمائے حق کو بلاکر’’ ضرب حق‘‘ کا آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ شیعہ سنی علماء اور سیاسی نمائندوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے ، سعودیہ اور ایران کی کشیدگی میں فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار اداکرنا چاہئے ۔نظام مصطفی پارٹی کے رہنما محمد رفیع نے کہاکہ اس وقت ایران اور سعودی عرب کو لڑانے کی سازش کی جارہی ہے اگر ہم مسلما ن اس سازش کو نہ سمجھے تو ہم ایک دوسرے کا خون ناحق بہانے لگیں گے۔جعفریہ الائنس کے رہنما علامہ فرقان حیدر عابدی نے کہاکہ ہمیں محبت کے ساتھ رہنا ہے اور ایک دوسرے کو محبت کا پیغام دینا ہے ، دنیا میں جو دہشت گردی مچائی جارہی ہے اس صورتحال میں جہاں قتل عام ہورہاہے وہاں اتحاد پیدا کرنا انتہائی دشوار اور مشکل ہے اس صورتحال میں کسی سیاسی جماعت کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اتحادکا پیغام دے لیکن ایم کیوا یم نے اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے آج کا اہم اجلا س طلب کیا۔جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق کے رہنمامفتی حماد اللہ مدنی نے کہاکہ جب بھی اس قسم کے کوئی واقعات عالمی طور پر رونما ہوتے ہیں سب سے پہلے اس کا احساس جناب الطاف حسین اور ایم کیوا یم کو ہوتاہے ۔انہوں نے کہاکہ آپ جلا وطن ہیں اور ملک سے دور ہیں لیکن جو یہاں لیڈر ، قائدین موجود ہیں ان کو احساس نہیں ہوا، ہمیں وہ سوچنا ہے جو پاکستان کے مفاد میں ہو۔شہید حنیف بلو کے صاحبزادے عاطف بلو نے کہاکہ آپنے جتنی باتیں کہی ہیں تمام علماء اس کی بھر پور تائید کرتے ہیں ۔قراتہ العین عابدی نے کہاکہ میں آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کیونکہ آپ نے تمام علماء کو ایک چھت کے نیچے جمع کیا ۔مرزا یوسف حسین نے کہاکہ میں علمائے کرام کے موقف کی تائید کرتا ہوں، خلیجی ممالک کی کئی ریاستوں میں داعش کی فنڈنگ کی اور ان کو مسلم ممالک میں پھیلایا اور اس خطے میں فرقہ واریت کو فروغ دیکر پاکستان میں آپریشن ضرب عضب کو ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں۔قاری خضر حیات ساجد نے کہاکہ آپ کی آواز حق و سچ کی ہوتی ہے ، ہم بے حد مشکور ہیں آپ ہر معاملے میں ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتے ہیں ، جو آپ کا دل اورہمت ہے اللہ سب حکمرانوں کو دے دے ۔ خلیفہ مجاز جانشین گدی نشین اجمیر شریف ارمان اسد چشتی نے کہاکہ جب کبھی بھی اسلام ، سرکار ؐ کی عزت ، اہل بیت کی شان کے حوالے سے شیطان نے کوشش کی ہے آپ نے سب سے پہلے ان کے خلاف اپنا کردار ادا کیاہے ویسے تو ملک میں جتنی جماعتیں ہے سب کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں لیکن اگر یہ حقیقتاً جمہوریت ہے تو آ پ کے خطابات پر پابند ی کیوں لگائی گئی ہے؟۔جناب الطاف حسین پر پابندی سے متعلق بات پر ایک عالم دین نے کہاکہ آپ دلوں میں بسے ہوئے ، ٹی وی پرآپکی تقریرنشر کرنے کی پابندی سے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا آپ نے حق کا ثبو ت دیا ہے۔مفتی سید راشد علی قادری نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے اس موقف کی تائید یوں کروں گا کہ بجائے کسی کا فریق بننے کے پاکستان کو دونوں ممالک میں صلح کی کوشش کرنی چاہئے اورانہیں خیر کی طرف بلانا چاہئے ۔اس موقع پر ایک معروف عالم دین نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ عالمی ایشو پر مملکت خدادا پاکستان اور کراچی کو کسی بھی قسم کی افراتفری ، بدامنی ، فساد سے محفوظ رکھنے کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کا یہاں فقید لمثال اجمتاع قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہاکہ یہود اور نصارا کبھی نہیں چاہیں گے کہ امت ایک ہوسکے اور کلمہ سے وابستگی رکھنے والے باہم شیر و شکر ہوسکیں ۔اس موقع پر علما ء کرا م نے جناب الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان چونتیس ممالک کے اتحاد میں شامل ہے لیکن آج ہم تمام علماء کرام حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس اتحاد کا حصہ نہ بنیں کیونکہ اس اتحاد سے پاکستان کا تعلق نہیں یہ اتحاد صرف اپنی سپر میسی قائم رکھنے اور مفادات کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔

9/28/2016 10:19:23 PM