Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کو کسی کاحصہ نہیں بنناچاہیے ۔الطاف حسین


ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کو کسی کاحصہ نہیں بنناچاہیے ۔الطاف حسین
 Posted on: 1/3/2016 1
ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کو کسی کاحصہ نہیں بنناچاہیے ۔الطاف حسین
پاکستان کو کسی بھی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے غیرجانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے ۔الطاف حسین
پاکستان کو اپنی آزادی وخودمختاری اور سلامتی واستحکام کے بارے میں سوچنااورعمل کرناچاہیے
34ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل ہوناپاکستان کے مفاد میں نہیں ، کسی بھی فیصلے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیاجائے
ماضی کی حکومتوں نے پاکستان کومختلف بین الاقوامی طاقتوں کا اتحاد ی بنایا اور دوسروں کی جنگ کی آگ میں پاکستان کوجھونکاگیا 
ماضی کے غلط فیصلوں کے نتائج آج طالبان اور فرقہ پرست دہشت گرد تنظیموں کی صورت میں پورا پاکستان بھگت رہا ہے
ہمیں داعش کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کابھی سامنا ہے جس سے انکارنہیں کیا جاسکتا
خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کے گھر کی آگ بجھاتے ہوئے ہمارے اپنے ہی گھر میں آگ نہ لگ جائے
عوام بحیثیت پاکستانی آپس میں اتحادوبھائی چارے سے رہیں اورہم آہنگی کی فضاء کوکسی بھی قیمت پر خراب نہ ہونے دیں
شیعہ سنی علمائے کرام فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوراتحادویکجہتی کی فضاء کوبرقراررکھنے کیلئے اپناکرداراداکریں
ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواورانٹرنیشنل سیکریٹریٹ پربیک وقت منعقدہونے والے مشترکہ تنظیمی اجلاس سے خطاب
لندن ۔۔۔ 03؍ جنوری 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کوبین الاقوامی سطح پر کسی بھی قسم کی محاذآرائی اورکشیدگی کاحصہ نہیں بنناچاہیے ۔ پاکستان کو کسی بھی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے غیرجانبدارانہ کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک آزاد اور خودمختارملک کی حیثیت سے اپنی آزادی وخودمختاری اور سلامتی واستحکام کے بارے میں سوچنااورعمل کرناچاہیے ۔ تیزی سے بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کے تناظر میں حکومت پاکستان کسی بھی فیصلے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار آج ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرواورانٹرنیشنل سیکریٹریٹ پربیک وقت منعقدہونے والے مشترکہ تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں رابطہ کمیٹی پاکستان اور لندن کے ارکان کے ساتھ ساتھ سینیٹرز، ارکان اسمبلی اورتنظیمی شعبہ جات کے ذمہ داران نے بھی شرکت کی ۔اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں جناب الطاف حسین نے پاکستان کے سیاسی حالات، خطہ میں پیدا ہونے والی صورتحال ، سعودی عرب میں شیخ نمراوران کے ساتھیوں کودی جانے والی سزائے موت کے باعث ایران اورسعودی عرب کے مابین پیداہونے والی کشیدگی اورمشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان پرپڑنے والے اثرات کے بارے میں فکرانگیز خیالات کااظہارکیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے کہاکہ یمن میں جنگ اوربحرین کی صورتحال کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ تھی اوراب سعودی عرب میں ممتازشیعہ رہنماشیخ نمر اور دیگرافراد کودی جانے والی سزائے موت نے اس کشیدگی میں شدیداضافہ کردیاہے اور خطہ کی صورتحال مزیدسنگین ہوگئی ہے جس سے پاکستان بھی متاثرہوئے بغیرنہیں رہ سکے گا۔انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کی دن بدن سنگین سے سنگین ترہوتی صورتحال کسی بھی طرح خطے کے امن واستحکام کے مفادمیں نہیں ہے ۔آج یہ خطہ جس قسم کے حالات سے دوچارہے اور اس کے پیچھے جوعوامل کارفرما ہیں ، میں ان کے بارے میں کئی سال قبل قوم کوآگاہ کرچکاہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اس تیزی سے بگڑتی ہوئی اور نازک ہوتی ہوئی صورتحال کاتقاضہ ہے کہ پاکستان کو اس کشیدگی کاحصہ نہیں بنناچاہیے ۔ پاکستان کو کسی بھی ایک فریق کی حمایت کرنے کے بجائے غیرجانبدارملک کا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایک آزاد اورخودمختارملک کی حیثیت سے اپنی آزادی وخودمختاری اور سلامتی واستحکام کے بارے میں سوچنااورعمل کرناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ جب یمن میں فوج بھیجنے کی بات ہوئی تو صرف الطاف حسین نے علی لاعلان ملک کی قیادت و عوام کو یمن میں فوج بھیجنے کے مضمرات و خطرات سے بروقت آگاہ کیا کہ اس جنگ میں کودنے کے نتائج پاکستان کی سلامتی اور استحکام کیلئے خطرناک ہوں گے۔میںآج ایک بار پھر سول و فوجی قیادت کوبروقت آگاہ کررہا ہوں کہ وہ 34 ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل ہونے سے قبل لاکھوں بار سوچیں کہ آیا اس اتحاد میں شامل ہونا پاکستان کے مفاد میں ہے یا نہیں ۔ خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسروں کے گھر کی آگ بجھاتے ہوئے ہمارے اپنے ہی گھر میں آگ نہ لگ جائے۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم کا یہ واضح مؤقف ہے کہ 34ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل ہوناپاکستان کے مفاد میں نہیں ہے اور حکومت پاکستان کوچاہیے کہ اس حوالے سے کسی بھی فیصلے سے قبل پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے پاکستان کومختلف بین الاقوامی طاقتوں کا اتحاد ی بنایا اور دوسروں کی جنگ کی آگ میں پاکستان کوجھونکاگیا ، ماضی کے ان غلط فیصلوں کے نتائج آج طالبان اور فرقہ پرست دہشت گرد تنظیموں کی صورت میں پورا پاکستان بھگت رہا ہے اوراب القاعدہ، طالبان، فرقہ پرست دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہمیں داعش کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات کابھی سامنا ہے جس سے انکارنہیں کیا جاسکتا ۔ جناب الطاف حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بحیثیت پاکستانی آپس میں اتحادوبھائی چارے سے رہیں اورہم آہنگی کی فضاء کوکسی بھی قیمت پر خراب نہ ہونے دیں۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہوں اور گھروں کی حفاظت کریں۔انہوں نے رابطہ کمیٹی، ارکان اسمبلی اورعلماء کمیٹی سے کہاکہ وہ شیعہ سنی اورمختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام سے فوری طورپرملاقاتیں کریں اورانہیں میرایہ پیغام دیں کہ وہ موجودہ نازک بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر اتحاد بین المسلمین ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوراتحادویکجہتی کی فضاء کوبرقراررکھنے کے لئے اپناکرداراداکریں۔

9/26/2016 5:27:06 PM