Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

محکمہ مردم شماری کو آزاد اور خود مختار محکمے کا درجہ دیاجائے اور کسی حاضر سروس سرکاری افسر کو مردم شماری کمشنر(چیف سنسز)مقرر کیاجائے ، حق پرست سینیٹرو چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق محترمہ نسرین جلیل


محکمہ مردم شماری کو آزاد اور خود مختار محکمے کا درجہ دیاجائے اور کسی حاضر سروس سرکاری افسر کو مردم شماری کمشنر(چیف سنسز)مقرر کیاجائے ، حق پرست سینیٹرو چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق محترمہ نسرین جلیل
 Posted on: 12/31/2015
محکمہ مردم شماری کو آزاد اور خود مختار محکمے کا درجہ دیاجائے اور کسی حاضر سروس سرکاری افسر کو مردم شماری کمشنر(چیف سنسز)مقرر کیاجائے ، حق پرست سینیٹرو چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق محترمہ نسرین جلیل 
مردم شماری کے آزاد محکمہ کے وفاقی شماریاتی اور زرعی شماریاتی اداروں میں ادغام سے کارکردگی اور شفافیت متاثر ہوگی، محترمہ نسرین جلیل 
محکمہ مردم شماری جن محکموں میں ادغام کرکے نیا ادارہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس بنایا گیا ہے اس میں صوبہ کے پی کے ، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو گورننگ کونسل اور فنکشنل ممبر ز میں نمائندگی حاصل نہیں ہے ، نسرین جلیل 
وزیراعظم نواز شریف مردم شماری مارچ 2016ء میں کرانے کے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، محترمہ نسرین جلیل 
کراچی ۔۔31 دسمبر2015 ء
متحدہ قومی موومنٹ رابطہ کمیٹی کی ڈپٹی کنوینر،حق پرست سینیٹر اور سینٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ نسرین جلیل نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ مردم شماری کو آزاد اور خود مختار محکمے کا درجہ دیاجائے اور کسی حاضر سروس سرکاری افسر کو چیف سنسز کمشنر (Chief Census Commissioner)مقرر کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف 18مارچ 2015ء کو کونسل آف کامن انٹرسٹ(CCI)کے اجلاس میں مارچ 2016ء میں مردم شماری کرانے کے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں حائل رکاوٹوں کو دور کریں ۔ایک بیان میں محترمہ نسرین جلیل نے کہا کہ محکمہ مردم شماری 1951ء سے آزاد محکمہ تھالیکن اس آزاد محکمہ کے وفاقی شماریاتی اور ایگریکلچر شماریاتی اداروں میں ادغام سے کارکردگی اور شفافیت متاثر ہوگی ۔ انہوں نے آزاد و خود مختار محکمہ مردم شماری کو وفاقی شماریاتی اور ایگریکلچر کے اداروں میں ادغام کرکے نئے نام سے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس(Pakistan Bureau Of Statistics)سے ادارہ بنایا گیا ہے جس میں صوبہ خیبر پختونخوا ، بلوچستان ، سندھ اور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو گورننگ کونسل اور فنکشنل ممبر ز میں نمائندگی حاصل نہیں ہے جس سے صوبے اور کئی بین الاقوامی ادارے ان کے اعداد و شمار کو ماننے سے گریز کریں گے کیونکہ شماریاتی ادارے میں صوبوں کو نمائندگی نہیں دی جارہی ہے اور نہ ہی بھرتی (Project)کی اسامیوں پر صوبوں کے کوٹے کا تعین کیا گیا ہے جس پر کئی سوالات جنم لیں گے اور اس سے صوبوں میں بد اعتمادی پیدا ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ گورننگ کونسل اورفنکشنل ممبر زکی تعیناتی میں بھی فاٹا اور دیگر صوبے (خیبرپختونخواہ ، بلوچستان ، سندھ ) کو نمائندگی نہیں دی گئی جبکہ گورننگ کونسل اور فنکشنل ممبرزبھی پھر سے ریٹارڈ اور من پسند افراد پر مشتمل ہے جبکہ ان کی تنخواہوں اور دیگر الاؤنس کی مد میں کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں جو تمام صوبوں کے (ڈویژنل پول ) سے وصول کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں صوبہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں متفقہ قرار داد پیش کی گئی ہے جس میں صوبے کی تمام پارٹیاں بشمول پی ایم ایل این سمیت اے این پی ، پی ٹی آئی ، جے یو آئی ، کیو ڈبلیو پی اور جماعت اسلامی شامل ہیں، نے سفارش ہے کی کہ یہ وفاقی حکومت تمام صوبوں سے گورننگ کونسل ، بھرتیوں میں کوٹا اور فنکشنل ممبرز کی موثر نمائندگی دے ۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرار داد پیش ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ 2011ء میں خانہ شماری کی گئی جس پر 3ارب روپے کی لاگت آئی جو تیکنیکی بنیاد پر ناکام ہوئی اور اس سے سرکاری خزانے کو ناقابل تلافی نقصان ہوا مگر اس کی بھی تحقیقات نہیں کی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ جس ادارے میں غیر قانونی کام ہورہا ہو اس کی شفافیت متنازعہ ہی ہوگی اور صوبوں میں آبادی پر اختلافات اور بڑ ھ جائیں گے ۔ مردم شماری کے اغراض و مقاصد انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، پاکستان بننے کے بعد ملک میں پانچ با رمردم شماری کی گئی ۔پہلی مردم شماری 1951 اور آخری مردم شماری 1998 میں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل نمبر 51(5 )کے تحت مردم شماری کابنیادی مقصدصوبائی اور قومی اسمبلی میں سیٹوں کی تعداد کا تعین کرنا ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل (2)160کے تحت مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہی قومی مالیاتی ایوارڈ(NFC)کی تقسیم ملک کے چاروں صوبوں اور فاٹا میں کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے اعداد و شمار کا مقصد (BPS.17& Above)کے سرکاری ملازمین کی بھرتی کے کوٹا کا تعین کرنا ہوتا ہے ، مردم شماری کی مد د سے کسی علاقے کے رہنے والوں کی کسی بھی وقت کے لحاظ سے رہنے سہنے کی حالت کا بھی اندازہ کیاجاتا ہے ، جس کی مدد سے انسانی معاشرتی و اقتصادی اور گھروں کی حالت اور ہر شخص کے گزر بسر کا اندازہ لگایاجاتا ہے جبکہ ان ہی اعداد و شمار کی بنیاد پر حکومت مستقبل کی ترقی کی منصوبہ بندی کرتی ہے ۔محترمہ نسرین جلیل نے مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ارباب و اختیار کو تجویز دی کہ محکمہ مردم شماری کو آزاد اور خود مختار محکمے کا درجہ دیاجائے اور کسی حاضر سروس سرکاری افسر کو چیف سنسزکمشنر مقرر کیاجائے تاکہ کوتاہی پر اس کا محاسبہ کیاجاسکے ۔ 

12/5/2016 4:34:18 AM